استعمار اور تبشیر کے جدید ہتھکنڈے اقتصادی لالچ، مذہبی اور سیاسی تفریق ہیں

انسان دوستی اور علم و ادب کی خدمت کی آڑ میں متعدد تحریکیں صہیونیت اور استعمار کی آلہ کار ہیں

(بسلسلہ مسلمان ریاستوں میں اسلامی قانون سازی کے قابل غور مسائل)

( قسط ۳)

سیاسی آزادی کے باوجود مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کے باعث عیسائی مبشرین کی ہمت کتنی بڑھ گئی ہے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ کویت میں پہلی بار ایک بڑا گرجا تعمیر ہو رہا ہے، جس کا مینار تمام مساجد کے میناروں سے اونچا ہے۔ اس سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہنوز مغربی قوموں کے غلام ہیں اور قدرتی ذخیرے جو ان کے حصے میں آئے ہیں خود ان سے فائدہ اُٹھانے اور انہیں اپنے تصرف میں رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ جب یہ قدرتی ذخیرے مغربی ترقی یافتہ قوموں کے تصرف میں چلے جاتے ہیں تو وہ اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر متعلقہ مسلم ممالک کی حکومتوں کو اپنے زیر اثر رکھتی ہیں، ظاہر میں کچھ بھی وضع ہو، اندر ہی اندر فوجی طاقت اور بین الاقوامی اثر و نفوذ کمزور کو دبائے رکھنے کے کافی ہوتا ہے، پھر وہی بات آتی ہے کہ مغربی طاقتیں جو اندرونِ ملک کلیسا سے بے تعلق اور بیزار رہتی ہیں، بیرونِ ملک مبشرین کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ حد ہو گئی کہ ایک جہاز خاص طور پر تبشیر یا عیسائیت کے پرچار کی غرض سے تیار کیا گیا اور اسے جزیرۂ عرب کے گرد سطح سمندر سے کارروائی کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ خدا نے شاہِ فیصل کو یہ توفیق دی کہ انہوں نے بروقت اس کا سدِّباب کیا۔

آسٹریلیا کے ایک نوجوان ڈینس واکر نو مسلم ہیں۔ عربی سیکھی ہے، ملبورن یونیورسٹی میں اسلامیات کے اسکالر ہیں۔ زلفِ بنگال کے اسیر ہیں۔ بیوی اس خطہ سے تعلق رکھتی ہے جو کبھی مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں عیسائی مشنریوں کی اسلام دشمن کارروائیوں پر مقالہ پڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں حکومت پاکستان یا تو غافل رہی یا وہ بے بس تھی۔ جب سارے غیر ملکی اخباری نمائندے ملک سے نکال دیئے گئے اس وقت بھی یہ عیسائی مشنری معمولی پاسپورٹ پر بلا روک ٹوک آتے جاتے رہے۔ حکومت کی طرف سے ان پر کوئی نگرانی نہ تھی اور پاکستان کے ٹکڑے کرنا ان کا مقدس فریضہ تھا جس کے لئے انہوں نے کوئی کوشش کوئی مکر و حیلہ اُٹھا نہیں رکھا۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ وہ شروع ہی سے اس مقصد کے لئے کام کر رہے تھے۔

جس شام ڈینس واکر نے مقالہ پڑھا اسی روز صبح حکومت الجزائر کی طرف سے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا اعلان ہوا تھا۔ ڈینس واکر نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ مسلم ممالک کی بے تعلقی بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو یتیم بنا کر تبشیر اور دوسرے اسلام دشمن اثرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی۔ لیکن یہ بات اہمیت سے خالی نہیں کہ گو مقالہ نگار نے مقالہ سے ہٹ کر الجزائر کے فیصلہ کی تائید میں پورا زور لگایا لیکن مندوبین میں سے تقریباً سبھی نے اس پر تبصرہ کرنے سے احتراز کیا۔

یہ موضوع ایسا تھا کہ پاکستان کے عروج و زوال اور اس کے اس باب پر تبصرہ کا دروازہ کھل گیا۔ ایک مصری کرم فرما کو یاد آیا کہ عرب لیگ کے ایک معزز عہدیدار نے قائد اعظم کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان کی بنیاد کمزور ہے۔ مشرق کا سرا مغرب سے ملانا آسمان زمین کے قلابے ملانے سے کم نہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ پاکستان پر اصرار کرنے سے پہلے قائد اعظم ایک مرتبہ اور غور کر لیں۔ ازہر کے علماء نے بڑے اخلاص اور دلسوزی سے پاکستان کے سانحہ کو سارے عالمِ اسلام کا سانحہ قرار دیا، لیکن اس کی ذمہ داری تمام تر پاکستان کی حکومت، انتظامیہ اور فوجی قیادت پر ڈالی۔ حکام کے بدکردار، شراب نوشی، رقص، فسق و فجور کا کھلے الفاظ میں ذکر کیا۔ استاذ محمد عبد اللہ عنان بلند پایہ مورخ ہیں، گفتگو میں وقار، افکار سلجھے ہوئے۔ بات دو ٹوک کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے گناہوں اپنی تقصیروں سے کسے انکار؟ لیکن یہ تاریخی حقیقت بھی تو واشگاف ہے کہ روس اور ہندوستان (ہندو قوم اور ہندوستان کی حکومت) اسلام کے ازلی دشمن ہیں، انہوں نے مکر و حیلہ سے، سیاسی چالبازی سے ایسے حالات پیدا کیے جن سے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں فائدہ اُٹھا سکیں، پھر ان دونوں نے فوجی گٹھ جوڑ کیا اور ننگی طاقت اور کھلی جارحیت کے ذریعہ ایک مسلم مملکت کے دو ٹکڑے کر کے اسے ادھ مرا کر دیا۔ جو کچھ ہوا وہ محض پیش خیمہ ہے اور بہت سے واقعات کا جو ہنور پردۂ ایام میں ہیں۔ کانفرنس ہال سے ہم سیدھے رات آٹھ بجے ہوٹل پہنچے، الاؤنج میں داخل ہوتے ہی کیا دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ٹیلی ویژن پر افغانستان کے انقلاب کی خبریں آرہی ہیں۔ سب ساتھیوں نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا، میں نے جواباً انگلی سے استاذ محمد عبد اللہ عنان کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے بعد میں پاکستان کے نام سے کترتا تھا اور دوسروں نے بھی نہ جانے کیوں پاکستان کا ذکر چھوڑ دیا۔

استاذ محمد عبد اللہ عنان کی ایک اور بات یاد آتی ہے۔ بے تکلفانہ نجی محفل تھی۔ خلیج فارسی کا ذکر آیا، ایک صاحب بولے 'خلیج عربی' (جمال عبد الناصر سمجھتے تھے کہ نام بدل کر وہ عرب قومیت کی جنگ جیت لیں گے) اور ایران کے ڈاکٹر شہیدی سے داد کے طالب ہوئے۔ انہوں نے کہا، قدیم عرب جغرافیہ نویس اور مورخ کیا کہتے ہیں؟ محمد عبد اللہ عنان بولے: ''خلیج فارسی'' اور ''بحرِ عرب''۔ عربی اور عجمی سب نے کہا۔ ''بالکل صحیح''۔

تبشیر اور استعمار کے ذیل میں ان فرقوں کا بھی ذکر آیا جو دورِ جدید میں مسلمانوں میں پیدا ہوئے اور جنہیں استعماری طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ استعماری طاقتوں نے ایک طرف تو عیسائیت کے پرچار کے ذریعہ اسلام پر باہر سے حملہ کیا، دوسری طرف مسلمانوں کو اندر سے کمزور کرنے کے لئے نئے نئے فرقوں کی سرپرستی کر کے اسلام کو گندا کیا اور مسلمانوں کی یک جہتی ختم کی۔ اس کی سب سے نمایاں مثال ''بہائیت'' ہے۔ چنانچہ ایران کی تاریخ بتاتی ہے کہ دین میں تحریف ہونے کے ساتھ ساتھ یہ فرقہ ایران کی سلامتی کے لئے ایک سیاسی خطرہ ثابت ہوا۔ بہائیت کے بعد دوسرا نام قادیانیت کا آیا۔ ایک نہیں متعدد مندوبین نے تفصیلی معلومات کے ساتھ اور بڑے جذباتی انداز میں بہائیت اور قادیانیت کو ایک ہی خانہ میں رکھا اور کہا کہ قادیانیت پاکستان (باقی ماندہ پاکستان) کے لئے ویسا ہی خطرہ ہے جیسا بہائیت ایران کے لئے۔ میرے لئے یہ چیز خاص تعجب انگیز تھی اس لئے کہ آٹھ نو برس پہلے کا میرا تجربہ یہ تھا کہ عربوں کو قادیانیت سے نہ دلچسپی تھی نہ اس کی بابت معلومات۔

جب میں نے سراغ لگایا تو اندازہ ہوا کہ یہ سب مولانا ابو الحسن علی ندوی کی تحریروں اور تقریروں کا اثر ہے۔

جو حکومتیں بین الاقوامی تعلقات میں ایک پیشہ ور فارن سروس پر تکیہ کرتی ہیں ان کے لئے اس میں ایک سبق ہے۔ فارن سروس نہ تو دوسرے ملکوں کی زبان جانتی ہے، نہ ان کی تاریخ سے واقفیت رکھتی ہے) نہ ان کے حال سے باخبر ہوتی ہے۔ ایک مقررہ ضابطہ کے مطابق انگریزی زبان میں دوسرے ملکوں کی وزارتِ خارجیہ سے تعلق رکھتی ہے اور بس۔ یہ کام علماء کا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے علماء اور عوام سے رابطہ قائم رکھیں۔ وہ حکومتیں جنہیں اپنے ملک کا مفاد عزیز ہوتا ہے وہ علماء کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے مشورے سے فائدہ اُٹھاتی ہیں۔ خدا کرے ہماری حکومت قادیانیت کے بارے میں عرب علماء اور عوام کے بڑھتے ہوئے جذبات سے باخبر ہو۔ حقائق کا علم ہر شعبۂ زندگی میں مفید ہوتا ہے۔ آٹھ نو سال پہلے سر محمد ظفر اللہ کی ان خدمات کا ذکر ہوتا تھا جو انہوں نے اقوام متحدہ میں عربوں کی حمایت کے لئے انجام دی تھیں، آج اس کے ساتھ ساتھ قادیانیت پر بھی تبصرہ ہوتا ہے۔ حکومتیں ڈپلو ماسی زبان بندی اور احتیاط پر عمل پیرا ہیں۔ اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔

بات آگے بڑھی اور ان تحریکات تک جا پہنچی جن سے انسان دوستی کا پردہ چاک ہو چکا ہے اور تخریب کاری عیاں ہو چکی ہے۔ ان میں سرفہرست ماسونیت (Masonic) تحریک اور اس کے بعد روٹری کلب، لائنز کلب اور بعض نام نہاد علمی اور ادبی تحریکیں سب شامل تھیں۔ پاکستان میں کم لوگ جانتے ہیں کہ چند سال پہلے عرب ادیبوں نے فرینکلن فاؤنڈیشن کے خلاف شور اٹھایا تھا کہ امریکی بخشش کے سہارے جینے کا عادی بنانے اور عرب ضمیر کو مردہ کرنے کی ایک سازش ہے۔ یہ ادارہ جو ترجمے کراتا ہے اس میں سے کچھ پروپیگنڈے کے کام آتے ہیں۔ باقی ردی میں جاتے ہیں اور کوئی انہیں مفت بھی نہیں دیا۔ اس سب سے صرف اتنا مقصد حاصل ہوتا ہے کہ ادیب امریکہ کے نمک خوار بن جاتے ہیں اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں ٹھٹھر کر رہ جاتی ہیں۔ اسی طرح کچھ اور علمی ادبی تحریکیں ہیں جو ''فکرِ مستعار'' کو ''فکر نو'' سمجھتی ہیں اور باہر سے آنے والے وحی اور بسا اوقات ''حقِ خدمت'' کی منتظر رہتی ہیں۔ خیر! الجزائر کے اجتماع میں علمی ادبی تحریکوں کا محض ضمنی طور پر ذکر ہوا، اصل موضوع ماسونیت، روٹری کلب، لائنز کلب تھا۔ تمام مندوبین کی متفقہ رائے تھی کہ مسلم حکومتوں کو اس سلسلے میں تاخیر نہیں کرنا چاہئے۔ اور ان سب تحریکوں کے خلاف سخت اقدام کرنا چاہئے۔ میں نے جب اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ حکومت پاکستان نے ماسونی (Masonic) تحریک پر پابندی لگا دی ہے، اسے خلافِ قانون قرار دے دیا ہے اور اس کی تمام املاک ضبط کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے تو سارا ہال تالیوں سے گونج اُٹھا، پیچھے بیٹھے ہوئے نوجوان طالبعلموں نے تحسین و آفرین کے نعرے بھی بلند کیے۔ تقریر کے بعد مندوبین نے دلی مسرت کا اظہار کیا، ساتھ ہی ساتھ افسوس بھی کیا کہ اس قسم کی خبریں ان تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ جن کا کام ہے کہ خبریں پہنچائیں وہ بھی نہیں پہنچاتے۔ بعض کا مشورہ تھا کہ جب حکومتِ پاکستان نے یہ اقدام کیا ہے تو اس کے سامنے ضرور اس تحریک سے متعلق ٹھوس حقائق ہوں گے۔ حکومت پاکستان کیوں ان حقائق سے دوسرے ممالک کو آگاہ نہیں کرتی؟ یہ کام خالص ڈپلوماسی طریقوں سے ہی انجام پا سکتا ہے۔ بعض مندوبین کا اصرار تھا کہ اتنا کافی نہیں، جو لوگ اس تحریک سے وابستہ رہے ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ خلافت عثمانیہ کے زوال میں ماسونیت کا جو حصہ ہے اور عالمی صیہونیت سے اس کا جو رشتہ ہے اس کے پیش نظر اس تحریک کے ساتھ وابستگی کو دین و وطن کے غدّاری کے مترادف قرار دیا جانا چاہئے۔ اس پر سب کا اتفاق تھا کہ اتنی آنکھیں کھل جانے کے بعد روٹری اور لائنز کے ساتھ نرمی برتنا حماقت ہے، بلکہ اندیشہ ہے کہ جو لوگ بغیر سزا پائے ماسونیت سے نکلیں گے وہ روٹری اور لائنز میں پناہ لیں گے اور ان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔

تبشیر و استعمار کی بحث شاخ در شاخ پھیلتی چلی گئی۔ بہت سے پہلو اجاگر ہوئے جو عام نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں اور جن کا صحیح اندازہ صرف علماء ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن آخر میں جب پیشہ ور اسلامی مبلغین شریک ہوئے تو یکایک بحث کا معیار گرا اور محض سطحی اور جذباتی ہو گیا۔ ایسا معلوم ہونے لگا کہ مناظرہ ہو رہا ہے۔ اور عیسائی پادریوں کو ان کی عدم موجودگی میں شکست پر شکست دے کر پسپا کیا جا رہا ہے۔ میں نے توجہ دلائی کہ مناظروں کا زمانہ کب کا لد چکا۔ اب تبشیر نے بالخصوص اسلامی ممالک کی نام نہاد سیاسی آزادی کے بعد سے اپنی تکنیک یکسر بدل دی ہے۔ اب مبشرین 'اقناع' یعنی دلیل اور حجت سے قلب کو مطمئن کرنے کے بجائے 'اغراء' کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اغراء یہ ہے کہ وہ مسلم عوام کے فقر و افلاس سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں اورمادی منافع اور دنیاوی جاہ و عزت کا لالچ دے کر انہیں عیسائی بناتے ہیں۔ مسلم ممالک کو مغربی قوموں سے جو مختلف قسم کی امداد ملتی ہے اور ناگہانی آفات ارضی و سماوی، طوفان و سیلاب میں ان کی طرف سے انسانی ہمدردی کے نام پر جو کام کیے جاتے ہیں، ان سب میں سیاسی مقاصد تو پنہاں ہوتے ہی ہیں۔ تبشیری ادارے بھی کسی نہ کسی شکل میں حصہ لگاتے ہیں اور اپنے مقاصد کو فروغ دیتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ بیس پچیس سال کے عرصہ میں عیسائیت کو جو غیر معمولی فروغ ہوا ہے وہ اسی طریقے سے ہوا ہے۔ مناظرہ ایک بھی نہیں ہوا۔

اور اغراء کا عمل شہر کے نچلے طبقوں میں اور گاؤں گاؤں مصیبت زدہ لوگوں میں ہوتا رہا جس کے نتائج آج آنکھوں کے سامنے ہیں (کراچی میں جب خاکروب اسٹرائک کرتے ہیں و اس کے پیچھے پیرانِ کلیسا کا ہاتھ ہوتا ہے) کبھی کبھی جب عیسائی مشنریوں کی کار روائیاں سیاسی رنگ اختیار کر لیتی ہیں تو ہندوستان کی حکومت بھی ان کے خلاف اقدام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں نے بھی عیسائیوں کی دیکھا دیکھی اور بالکل کلیسا کے نمونہ پر پیشہ ور اسلامی مبلغین کی ایک جماعت تیار کی ہے جسے جائز اور ناجائز طریقوں سے دولت اکٹھا کرنے والے سیٹھ مال فراہم کرتے ہیں۔ یہ اسلامی مبلغین اپنے گھر کو بلا مزاحمت عیسائی مشنریوں کے حوالہ کر کے افریقہ جیسے دور دراز ممالک کے دورے کرتے ہیں، نہ تو عیسائی منشریوں کی طرح مقامی زبانیں سیکھتے ہیں، نہ جنگلی غیر متمدن علاقوں میں رہنے کے لئے اپنی عمر وقف کرتے ہیں۔ بس چند دن میں دین اور دنیا کی بھلائی کما کر واپس آجاتے ہیں۔ اس عمل کی اپنی جگہ جو بھی وقعت ہو، کیا اسلام کی خدمت میں اس کو اولیت اور اہمیت حاصل نہیں کہ اسلامی معاشرہ سے فقر، افلاس، جہل اور مرض کا خاتمہ کیا جائے جس سے مشنریں کو ''اغراء'' کے سراسر غیر اخلاقی عمل سے روکنے کے لئے سخت سے سخت اقدام کریں۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہے کہ اسلامی معاشرہ کا والفقر یکون کفرا (فقر اور کفر میں بہت تھوڑا فرق ہتا ہے) کی تفسیر بنا ہوا ہے۔ کیا یہ بھی تقدیر کا لکھا ہے جو بدل نہیں سکتا۔

استاذ عثمان الکعاک نے بھی اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ پہلے درجہ میں اسلامی معاشرہ کو صحیح اسلامی بنیادوں پر استوار کیا جائے اور مسلمانوں میں صحیح اسلامی تعلیم رائج کی بجائے، جب ایسا ہو گا تو اسلام آپ اپنا اعلان و اشتہار ہو گا، اسے کسی پروپیگنڈے کی ضرورت نہ ہو گی اور اس کی خوشبو خود بخود پھیلے گی۔ اس کے بعد ہی دوسرے درجہ میں تبلیغ موثر و فعال ہو گی اور آسان بھی۔

اقتصادی بدحالی سے دین اسلام کو بڑے پیمانہ پر مستقبل قریب میں کیا خطرہ لاحق ہے۔ اس کی نمایاں مثال انڈونیشیا ہے۔ سارے اجتماع میں اس کا بڑا چرچا رہا اور گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ عیسائی تبشیری اداروں نے مل کر دس سے بیس سال کے عرصہ میں انڈونیشیا کو عیسائی بنانے کا ایک زبردست جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ ''اندیشہ ہائے دور دراز'' نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے جو ضبطِ تحریر میں آچکی ہے اور جس پر انڈونیشیا کی موجودہ حکومت کی مجبوریوں اور کمزوریوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ استاد علال فاسی نے تاریخ پس منظر کے ساتھ صورتِ حال کی عالمانہ تحلیل کی اور تفصیل کے ساتھ پورے وثوق سے لکھا:

پہلی عالمی جنگ سے قبل ہی ہالینڈ نے انڈونیشیا کے باشندوں کو بالکل الگ تھلک کر دیا اور عالمِ اسلامی سے ان کا تعلق منقطع کر دیا حتیٰ کہ اسلامی لٹریچر بھی ان تک پہنچنا دشوار کر دیا۔ اس طرح استعمار نے عیسائیت کے حملہ کی راہ ہموار کی۔ طویل جہاد کے بعد انڈونیشیا آزاد ہوا۔ جمہور نے اکثریت کے ساتھ مسجومی پارٹی کو چنا، جو اسلامی وطنی بنیاد پر قائم تھی اور جس کے صدر محمد ناصر تھے۔ فوراً ہی ہندوستان اور ہالینڈ نے سو کارنو کو آگے بڑھایا اور ان کی زبردست مالی امداد کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے انتخابات میں اکثریت حزب وطنی کو حاصل ہوئی جس کے صدر حتّا ہیں۔ گو حّا اپنی ذات سے نیک دل مسلمان ہیں لیکن سوکارنو کے طرزِ عمل نے مخلص مسلمانوں اور اشتراکیوں کو بغاوت پر مجبور کر دیا۔ اور وہ ان مسلمانوں سے جا ملے جو پہاڑوں میں اپنا مرکز قائم کیے ہوئے اسلامی حکومت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مسجومی پارٹی سے نمٹنے کے لئے سوکارنو نے عوامی چین کی حکومت سے ایک معاہدہ کیا۔ جس کی رو سے کئی ملین انڈونیشیا میں بسنے والے چینیوں کو انڈونیشی جنسیت (نیشنلٹی) سے نوازا گیا اس سے انڈونیشی کمیونٹ پارٹی کو اتنی تقویت ہوئی کہ وہ ملک کی تیسری پارٹی شمار ہونے لگی۔ سوکارنو نے ادھر کمیونسٹوں سے سز باز کی، ادھر جمعیۃ العلماء کے نام سے ایک اسلامی جماعت قائم کی۔ اس طرح یہ تین جماعتیں حکومت کی مالک بن بیٹھیں اور انہوں نے حزبِ اشتراکی اور دیگر جماعتوں کو کالعدم کر دیا اور حفظِ امن کے بہانے اسلامی جماعتوں اور اداروں کا گلا گھونٹ دیا۔

بالآخر اسلامی حمیت رکھنے والے طلبہ سوکارنو اور ان کے حلیف کمیونسٹوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ جمہور کو ایک مرتبہ پھر نئی حکومت منتخب کرنے کا حق دیا جاتا، لیکن ہوا یہ کہ چونکہ فوجی جنرل طلبہ کی بغاوت میں شامل تھے اور اس وقت سوہار تو کو طلبہ کا اعتماد حاصل تھا اس لئے وہ بآسانی صدارت پر قابض ہو گئے۔ انہوں نے ملک میں ایسی حکومت بنائی جو دائیں بازو کی ہے نہ بائیں بازو کی۔ البتہ اس پرامریکہ اور مغربی طاقتوں کی دخل اندازی کا خوف چھایا ہوا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اس نے آزادیٔ عقیدہ کے نام پر عیسائی مشنریوں کو ہر قسم کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہے کہ آج انڈونیشیا پر عیسائیت کا حملہ کہیں زیادہ قوی اور شدید ہے بہ نسبت اس کے جو ہالینڈ کی حکومت کے دور میں تھا۔ مندرجہ ذیل تفاصیل قابلِ لحاظ ہیں۔

ویٹیکان (پاپائے روم) نے ایک کارڈ ینال اور ۲۱ پادری اس عیسائیت کے حملہ کی نگرانی کے لئے تعینات کیے ہیں۔ کتھولک کلیسا نے حال میں اپنے حملہ کا آغاز ان علاقوں میں کیا ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس حملہ میں مغربی ممالک کے فراہم کیے ہوئے زبردست مادی اور مالی وسائل سے کام لیا جا رہا ہے۔ پروٹسٹنٹ فرقہ نے الگ اپنا ایک جامع ۱۰-۲۰ سالہ منصوبہ بنایا ہے جسے ایک کتاب کی شکل میں شائع بھی کر دیا ہے۔ کتاب کا عنوان ہے ''ہمارا آج کا فرض انڈونیشیا میں۔'' اس منصوبہ کی تیاری میں علمی تجربات، مسلمانوں سے متعلق دینی و اجتماعی معلومات، نیز سائنس کی ایجادات سے کام لیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق جا بجا کلیسا، مدرسوں اور ہسپتالوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمت یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ عیسائیت کا پرچار کرنے والے مردوں کی عدم موجودگی میں مسلمانوں کے گھروں میں جا کر عورتوں کو ہر طرح کا لالچ دیتے ہیں اور اپنے دام میں گرفتار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

استاذ مصطفےٰ الزرقاء نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ شام اور آس پاس کے عرب ممالک میں عیسائیت کا پرچار کرنے والوں نے مقامی حالات کے پیش نظر یہ کیا ہے کہ بعض دلچسپ عام موضوعات پر (مثلاً مہمانوں کے استقبال کے آداب، قواعد صحت، گھر کی آرائش) خوبصورت چھوٹی چھوٹی کتابیں شائع کی ہیں جو بظاہر بے ضرر معلوم ہوتی ہیں لیکن ان میں اول آخر کہیں نہ کہیں عیسائیت کا پرچار ہوتا ہے۔ کلیسا کے لوگ وقت بے وقت گھر گھر جا کر یہ کتابیں فروخت کرتے ہیں اور اچھی خاصی قیمت وصول کرتے ہیں، گویا مسلمانوں سے پیسہ لے کر انہیں عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔

ہاں! تو انڈونیشیاء کی بابت یہ ہے کہ وہاں تبشیری ادارے کسی بھی بڑی سے بڑی مہم کے لئے تیار ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور داخلی معاملات میں دخل دیتے ہیں، آریانا میں جب حق خود ارادی کے ذیل میں رائے شماری ہو رہی تھی تو انہی کلیسا والوں نے انڈونیشی حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش کی جو پکڑی گئی۔

استاد علال فاسی آگے چل کر لکھتے ہیں:یہ بھی یاد ہو گا کہ سوکارنو کے عہد میں جب کمیونسٹوں کا زور تھا تو انڈونیشیا اقتصادی طور پر دیوالیہ ہو گیا تھا۔ یہ ایک معجزہ سے کم نہیں کہ انڈونیشیا نے اپنے آپ کو کمیونسٹوں کے چنگل سے چھڑایا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ امریکہ نے کیا کیا؟ وہی امریکہ جس نے ویت نام میں کمیونزم کو پسپا کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اس نے اور دیگر مغربی طاقتوں نے انڈونیشیا سے ناک چنے چبوائے، اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ تب جا کر قرضوں کی ادائیگی میں مہلت دی اور ناکافی بعد از وقت اقتصادی امداد دی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس اقتصادی امداد میں تبشیری اداروں کو باقاعدہ شریک کیا گیا۔ اس اقتصادی امداد کے ذیل میں بہت سے پروگرام ایسے ہیں جن کی نگرانی براہِ راست مبشرین کو سونپی گئی ہے۔ مثلاً بون کی حکومت نے جو اٹھارہ ملین مارک کی رقم دی ہے وہ مبشرین کے تصرف میں ہے۔

انڈونیشیاء کے وہ علاقے جہاں کے باشندے ہر دین سے نا آشنا ہیں۔ مثلاً کالیمانتان کے دایاک قبائل وہاں کلیسا کے لوگ ''اغراء'' یعنی مادی فوائد کا لالچ بیش از بیش لئے ہوئے پوری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ کالیمانتان کے علاقہ میں حمل و نقل نہروں کے ذریعہ ہوتا ہے جس میں خاصی دشواری ہوتی ہے اور بہت وقت لگتا ہے۔ کلیسا کے کارندے چھوٹے ہوئے جہازوں کے مالک ہیں اور ہر قسم کی مشینیں اور آلات رکھتے ہیں۔ جولائی ۱۹۷۲ء میں جاکارتا کے اخباروں نے یہ خبر شائع کی تھی کہ کیتھولک مشن نے انڈونیشی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کی رُو سے کیتھولک مشن کو یہ حق ہو گا کہ غذائی مواد اور دوائیں ڈیوٹی سے مستثنیٰ درآمد کرے اور کالیمانتان کے علاقہ میں پہنچائے۔ پنجسالہ منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں بھی کلیسا نے اپنے 'تعاون' کی پیش کش کی ہے۔

کب کبھی مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں اور وہ اسلام کے دفاع کا حق استعمال کرتے ہیں تو تبشیری ادارے ساری دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ مذہبی رواداری نہیں اور آزادیٔ ضمیر اور انسانی حقوق کا خون ہو رہا ہے۔ یہ آزادیٔ ضمیر کا نعرہ وہی لگاتے ہیں جو بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے انسانی ضمیر خریدتے پھرتے ہیں۔ لیکن انڈونیشی حکومت اس پروپیگنڈے سے ڈرتی ہے۔ اور یہی اصل کمزور ہے۔

انڈونیشیا اس شد و مد سے موضوع بحث بنا رہا اور انڈونیشیا کے نمائندے مہر بلب بیٹھے رہے۔ (باقی آئندہ)