(1) مکمل نماز

نام کتاب : ہدایة النبي المختار (المعروف مکمل نماز)

مؤلف : حضرت مولانا عبد الوہاب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

صفحات : ۴۴۸

طابع و ناشر : کتب خانہ اشاعت الکتاب والسنۃ۔ کراچی

طبع : پندرھویں (۱۳۸۸؁ھ)

قیمت : 5 روپے

پتہ : مالکان کتب خانہ اشاعت الکتاب والسنۃ۔ برنس روڈ۔ کراچی نمبر 1

مؤلف کتاب حضرت مولانا عبد الوہاب دہلویؒ (ف ۸ رجب ۱۳۵۱ھ) حضرت مولانا عبد اللہ غزنویؒ، حضرت مولانا حضرت محمد لکھنویؒ، حضرت مولانا منصور الرحمٰنؒ تلمیذ امام شوکانیؒ اور شیخ الکل حضرت سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہم اللہ تعالیٰ کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے۔ عقلی اور نقلی علوم میں بڑی دستگاہ رکھتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ''سنت رسول'' کے حد درجہ شیدائی تھے اور اس راہ میں بڑے مصائب برداشت کیے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ۔

بعض مسائل میں آپ کے تفردات مشہور ہیں ، تاہم ان کی علمی ثقاہت اور دیانت تقویٰ اور طہارت سب کے نزدیک مسلمہ تھی۔

زیرِ تبصرہ کتاب انہی کی تالیف ہے جس میں کچھ عقائد کے علاوہ، وضو، اس سلسلہ کی دعائیں نماز، اس کی اقسام، تعداد رکعت، بیان اوقات اور مسنون نماز کی پوری پوری تفصیل بیان کی گئی ہے۔ کتاب کے شروع میں حضرت مؤلف کے مختصراً سوانح بھی بیان کیے گئے ہیں۔

بعض مقامات میں اختلافی مسائل کی توضیح اور اس کے انداز بیان میں تعنّت پایا جاتا ہے جو مقامی اور عصری حالات کا رد عمل معلوم ہوتا ہے جو نہ ہوتا تو بہتر تھا۔

کتاب جہاں علمی اور تحقیقی ہے وہاں خاصی دلچسپ بھی ہے۔ شروع کر کے ختم کیے بغیر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ پڑھ کر شرح صدر ہوتی ہے اور سوز و گداز کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق ملتی ہے۔ کتاب کے جن جستہ جستہ مقامات کا مطالعہ کیا ہے روح نواز اور بصیرت افروز محسوس ہوئے ہیں۔

(2) نماز میں سورۂ فاتحہ

نام کتاب : نماز میں سورۂ فاتحہ

مؤلف : مولانا کرم الدین صاحب۔ مدرس دار الحدیث رحمانیہ کراچی نمبر ۳

صفحات : ۱۹۵

قیمت : دو روپے پچیس پیسے

پتہ : دار الحدیث رحمانیہ کراچی نمبر ۳

نماز میں سورہ فاتحہ کا کیا مقام ہے؟ رکن نماز ہے یا واجب، محدثین، امام شافعی اور حضرت پیر جیلانی فرماتے ہیں کہ رکن ہے احناف فرماتے ہیں واجب ہے فرض اور رکن نہیں ہے۔

دوسرا اختلاف اس میں ہے کہ نماز باجماعت میں مقتدی کے لئے سورۂ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں وہ مقتدی کے لئے بھی ضروری سمجھتے ہیں، جو رکن نہیں سمجھتے، وہ ضروری بھی نہیں کہتے۔ جو لوگ ضروری نہیں سمجھتے، ان میں سے کچھ تو کہتے ہیں کہ مستحسن ہے۔ بعض کے نزدیک صرف مباح ہے اور بعض کا ارشاد ہے کہ مکروہ یا ناجائز ہے۔

مندرجہ بالا کتاب میں اس موضوع پر سیر حاصل روشی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ اس سلسلہ میں مختلف ائمۂ دین، صحابہ، تابعین اور دوسرے اکابر کے اقوال و اعمال کا خاصہ مواد جمع کر دیا گیا ہے۔ جو اردو خواں اصحاب کے لئے خاصہ وجہ طمانیت ہے۔

مسئلہ کو نہایت سلیقہ کے ساتھ منقح کیا گیا ہے۔ جس سے قاری کتاب کو پوری شرح صدر ہو جاتی ہے۔ پہلے آیات قرآنیہ، پھر احادیث نبویہ، ان کے بعد آثار صحابہ و تابعین کو نمبروار بیان کیا گیا ہے۔

ایک دلچسپ واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت فقیہ مروزی نے خواب میں حضور سے پوچھا کہ حضور! آپ سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ: فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی، کیا یہ صحیح ہے، آپ نے فرمایا ہاں! چنانچہ امام مروزی نے ساتھ والے امام سے کہا کہ: اب مخالفت نہ کرنا، حضور ﷺ کے آمنے سامنے بات ہو گئی ہے۔ (ص ۶۷)

بہرحال یہ کتاب ہر محقق کے پاس ہونی چاہئے۔ بڑی معلوم افزا اور بصیرت افروز ہے خدا مؤلف کو جزائے خیر دے۔ آمین

(3) اللہ کے احکام

نام کتاب : اللہ کے احکام

مرتب : حافظ نذر احمد صاحب پرنسپل شبلی کالج

صفحات : ۹۶

قیمت : دو روپے

پتہ : مسلم اکادمی ۱۸/۲۹ محمد نگر اقبال روڈ لاہور

قرآن ہمارے دین اور دنیا کا ماخذ بھی ہے اور ضامن بھی اس لئے فرمایا:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جمیعا (قراٰن)

سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو تھام لو۔

جن لوگوں کو اپنی عاقبت عزیز ہے ان کے لئے قرآن کے بغیر چارہ نہیں۔ چونکہ سب لوگ پورے قرآن پر حاوی نہیں ہو سکتے۔ اس لئے مندرجہ بالا کتاب مرتب کی گئی ہے تاکہ سب لوگوں کو قرآن تک رسائی حاصل ہو جائے اور اپنی زندگی کو اس کی راہ نمائی میں دے کر دین و دنیا میں سرفراز ہو جائیں۔

اس میں چالیس اوامر ہیں اور چالیس نواہی، پھر اسلوب بیان عام فہم اور اس قدر جاذب کہ عام لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ اور غافل حضرات بھی بیدار ہو جائیں۔

ہائی کلاسز اور کالج کے طلبا کے اسلامیات میں اگر اس کو بطور نصاب شامل کر لیا جائے تو یہ ملک و ملت کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔

گورنمنٹ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس کو نصابِ اسلامیات میں شامل کرنے کے لئے ضرور ہمدردانہ غور کرے، اب تک اس موضوع پر جتنی کتابیں داخل نصاب ہیں وہ اتنی معیاری اور مفید نہیں ہیں جتنی یہ ہے۔

منتخب آیات نہایت مختصر مگر جامع، ترجمہ رواں، شستہ، تشریح و تفسیر دلپذیر۔ نوجوان طلباء کے مزاج کے مطابق اور حالات کے مناسب۔

(4) آؤ مدینہ چلیں

نام کتاب : آؤ مدینہ چلیں

مرتب : جناب حافظ نذر احمد صاحب پرنسپل شبلی کالج۔ لاہور

صفحات : ۱۱۲

قیمت : دو روپے

پتہ : مسلم اکادمی ۱۸/۲۹ محمد نگر اقبال روڈ لاہور

یہ کتاب بھی جناب حافظ نذر احمد صاحب کا سفر نامہ ہے اور دس سفر ناموں سے ماخوذ ہے۔

آؤ مدینہ چلیں پڑھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ قاری انہی گلیوں، وادیوں، راستوں اور مقامات مقدسہ میں پہنچ گیا ہے جو انبیاء کرام، صلحاء عظام، خلیل اللہ اور حضرت خاتم النبیین کے نقوش پاک کے امین ہیں۔ حافظ صاحب کو خدا نے سلیقہ سے مرتب کرنے کی جو استعداد عطا کی ہے یہ اس کا ایک دلچسپ نمونہ ہے۔

حج کیسے کیا جائے، اور اس سلسلہ میں اس کی ترتیب کیا ہے، کہاں کہاں کیا کرنا پڑتا ہے، کہاں کہاں سے گزرنا ہوتا ہے۔ پہلے کیا آتا ہے، اس کے بعد کیا۔ اس سفر میں کن امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے، انتظامی مشکلات کیا پیش آتی ہیں اور ان کا کیا حل ہوتا ہے۔ مقاماتِ مقدسہ کی پوری تفصیل ملتی ہے، حجاز مقدس کے لئے پاکستان سے بحری، بری اور فضائی راستوں اور متعلقہ امور کا پورا خاکہ درج ہے۔

الغرض! جو خوش نصیب حج کو چلے ہیں وہ اس کو اپنے پاس رکھیں گے تو ان کو یہ بہترین ر فیقِ سفر اور حج کا رہنما پائیں گے اور جو کسی مجبوری کی بنا پر نہیں جا سکتے وہ اسے پڑھ کر 'مکہ مدینہ' کی سیر کر سکتے ہیں۔ (عزیز زبیدی)

(5) شرعی ڈاڑھی

نام کتاب : شرعی ڈاڑھی

مؤلف : حضرت مولانا عبد القادر عارف حصاری

صفحات : ۹۶

قیمت : دو روپے

پتہ : (۱) مکتبہ دار الحدیث، راجو وال ضلع ساہیوال

(۲) مکتبہ سلفیہ۔ شیش محل روڈ لاہور

ڈاڑھی سنت انبیاء، شعار اتقیاءِ معیار شرافت، دین فطرت اور ملت حنیفیہ کی علامت ہے۔ مگر آہ! جتنی یہ اہم ہے اتنی ہی اس کی تحقیر بھی کی جا رہی ہے۔ ڈاڑھی ملت اسلامیہ کی ایک سادہ مگر پروقار (مؤطا مالک) اور مردانہ نشانی ہے۔ جو مختلف ملل و اقوام کے مختلف جرافیائی اور مقامی خصوصیات کے باوجود ایک آسان اور قدرتی تشخص کا ذریعہ ہے۔ لیکن ان لوگوں کو اس سے کیا، جو ملی تشخص کی ضرورت کے بھی قائل ہیں ہیں۔ بہرحال یہ ایک قدرتی یونیفارم ہے۔ اگر مسلم کو اپنی مسلمانی عزیز ہے تو پھر اپنے لئے اس کو بطور ظاہری علامت کے بھی قبول کرنا چاہئے۔!

اس کے علاوہ مسلم ایک وصف غیر متکلف مد بھی ہے جہاں یہ تصنع اور تکلف پر نہیں مار سکتا۔

اس میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ انبیاء اور صلحاء سے ایک گونہ مماثلت بھی ہے، ہو سکتا ہے کہ ویسے کردار و عمل کی توفیق بھی نصیب ہو جائے اور اپنی بگڑی بھی بن جائے۔

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ:

یہ 'حکمِ رسول' بھی ہے۔ کہتے ہیں ایک انگریز مسلمان ہو گیا اور ڈاڑھی رکھ لی۔ کسی نے ان سے کہا کہ ڈاڑھی کوئی اتنی ضروری تو نہیں، کاروبار مسلمانی تو اس کے بغیر بھی چل سکتا ہے۔ اس نے جواب دیا۔

میں ضروری اور غیر ضروری کی تقسیم نہیں جانتا۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ پیغمبر نے اس کا حکم دیا ہے۔ جب میں نے پیغمبر کی اطاعت قبول کر لی تو حکم بجا لانا میرا فرض ہے۔ کسی ما تحت کا یہ کام نہیں کہ افسر بالا کے احکام میں کسی کو غیر ضروری قرار دے۔ (ترجمان القرآن ستمبر اکتوبر ۴۳ء)

مولانا حصاری کو اللہ جزائے خیر دے انہوں نے یہ رسالہ لکھ کر دین کی ایک بہت بڑی خدمت کی ہے۔ انہوں نے اس کے مختلف پہلوؤں پر خوب روشنی ڈالی ہے اور اس امر کی وضاحت فرمائی ہے کہ جو لوگ اس کو ایک ملکی رواج اور عادت تصور کرتے ہیں یا اس کی کوئی حد اور مقدار نہیں مقرر فرماتے غلطی پر ہیں لہٰذا واضح دلائل کے ساتھ ان کے معقول اور علمی جوابات دیئے ہیں۔

حضرت حصاری نے صحابہ کو طرزِ عمل سے استدلال کرنے والوں کو بھی شافی جواب دیئے ہیں کہ وہ خاص مواقع پر موقوف ہے اور اس لئے ان سے استدلال صحیح نہیں ہے۔ (ادارہ)

(6) تعرّف

نام کتاب : تعرّف

مؤلف : امام ابو بکر بن ابو اسحاق البخاری الکلا باذی

مترجم : اکٹر پیر محمد حسن

صفحات : ۲۶۴

قیمت : ۱۵روپے

پتہ : المعارف داتا گنج بخش روڈ لاہور

عربی زبان میں تصوف کے اصول و مبادی پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر مقبولیت قشیری کے رسالہ اور ابو عبد اللہ عمرو بن عثمان مکی کی ''قوۃ القلوب'' کے بعد سب سے زیادہ ''تعرف'' کو حاصل ہوئی۔ یہ کتاب چوتھی صدی ہجری کے پہلے ربع میں لکھی گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جس میں غلط کار اور جعلی صوفیوں نے تصوف کو بدنام کر رکھا تھا۔ وہ اپنے غیر شرعی اعمال اور الحاد و زندقہ کو تصوف کی آڑ میں پیش کرتے تھے۔ اور اپنے ظاہری زہد و عبادت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہے تھے۔ اس زمانے میں منصور حلاج قتل ہوا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ تصوف حلقۂ علماء میں خلاف شریعت قرار دیا جائے گا ان حالات میں امام ابو بکر کلا باذی نے 'تعرف' لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تصوف نہ صرف الحاد و زندقہ سے کوسوں دور ہے بلکہ صوفیاء کے عقائد و نظریات بعینہ وہی ہیں جو اہل سنت کے ہیں۔

'تعرف' کا عربی متن کئی بار شائع ہوا۔ برصغیر پاک و ہند میں مطبع نولکشور سے ۱۹۱۲ء میں مع شرح شائع ہوا۔ غیر مسلم مستشرقین میں سے آربری نے اپنی تصحیح و تحشیہ کے ساتھ ۱۹۳۳ء میں اصل متن شائع کیا اور پھر خود ہی انگریزی ترجمہ شائع کیا جو ۱۹۳۵ء میں کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہوا۔ ابھی تک اردو زبان کا دامن اس گوہر بے بہا سے خالی تھا۔ ڈاکٹر پیر محمد حسن صاحب نے اردو ترجمہ کر کے یہ خلا پر کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے آربری کے نسخہ مطبوعہ نولکشور کے تقابلی مطالعہ کے بعد اردو ترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ تصحیح متن میں آبری سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔

آغازِ کتاب میں آربری کا لکھا ہوا مقدمہ ہے۔ مترجم ڈاکٹر محمد حسن نے آربری کی بعض فروگزاشتوں پر گرفت کی ہے اور حقائق کے نئے گوشے سامنے لائے ہیں۔

ابوبکر کلا بازیؒ نے پہلے تیس ابواب میں صوفیا کے عقائد پیش کئے ہیں۔ باب ۳۱ تا ۵۱ میں صوفیا کے مسائل و احوال کا تذکرہ ہے۔ باب ۵۲ تا ۶۳ میں ان کی بعض عبارتوں اور اصطلاحوں کی تشریح ہے اور باب ۶۴ تا ۷۵ میں دوسرے متفرق مسائل پر گفتگو کی ہے۔

تصوف کے موضوع پر یہ کتاب واقعی ایک اہم دستاویز ہے۔ مترجم موصوف اس سے پہلے کئی کتابوں کا ترجمہ کر چکے ہیں اور اس میدان میں خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ترجمہ شگفتہ اور رواں ہے۔ کتاب کے آخر میں اشاریہ منسلک ہے۔ جس سے کتاب کی اہمیت میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ (ابو شاہد)

نام کتاب : طبِّ نبوی

مؤلف : حافظ نذر احمد

صفحات : ۲۴۰

قیمت : ۵۰/۳-۵۰/۴

ملنے کا پتہ : مسلم اکادمی نذر منزل ۱۸/۲۹ محمد نگر لاہور

رسول مقبول ﷺ کی حیات مقدسہ نوع انسانی کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے جو کچھ فرمایا اور جو کچھ عملاً کر کے دکھایا دنیا نے آخر کار اسی کو معیار ٹھہرایا۔ آج جبکہ زندگی سے متعلق مختلف پہلوؤں کو الگ الگ نام دے کر تحقیق و انکشافات کے پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔ ماہرین حضور سرور کونین ﷺ کے ارشادات و فرمودات کو حرفِ آخر تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ سیاست، معاشرت، ہیئت اور طبّ و صحت غرض ہر علم پر انتہا حضور ﷺ کے ارشادات کی تصدیق کرتی ہے۔

طبِّ نبوی میں رسول مقبول ﷺ کے ان ارشادات و معمولات کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ جو صحت و حفظان سے متعلق ہیں اور اس ایمان و ایقان کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ اس کو اپنانے سے نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی، روحانی امراض بھی دور ہو جاتے ہیں۔ طبّ نبوی کے ابواب پر نظر ڈالنے سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

صحت و حفظان صحت، بیمار اور بیماری کا فلسفہ، علاج و معالجہ اور پرہیز، معالجاتِ نبوی، کھانا اور کھانے کے آداب، پانی پینے کے آداب، آنحضرت ﷺ کی غذا، نشست و برخاست کے اصول، عیادت۔ ہرباب میں قرآنِ کریم اور احادیث، رسول ﷺ کی روشنی میں بڑی تفصیل سے متعلقہ معلومات جمع کر دی گئی ہیں۔ طبِّ نبوی کوئی طب کی کتاب نہیں اور نہ ہی رسول مقبول ﷺ کے منصب کے پیش نظر ایسی جسارت کی جا سکتی ہے بلکہ یہ کتاب حضور ﷺ کی سیرت کے ایک خاص پہلو سے متعلق ہے اور اسی حیثیت سے اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ حافظ نذر احمد صاحب نے بڑی محنت اور بڑے سلیقے سے مرتب کیا ہے۔