فہرست مضامین

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

جنابِ موسیٰ علیہ السلام کی آخری وصیت میں بشارت۔

حضور نبی کریم ﷺ کی دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آمد۔

﴿وَالتّينِ وَالزَّيتونِ ﴿١﴾ وَطورِ‌ سينينَ ﴿٢﴾ وَهـٰذَا البَلَدِ الأَمينِ ﴿٣﴾ لَقَد خَلَقنَا الإِنسـٰنَ فى أَحسَنِ تَقويمٍ ﴿٤﴾... سورة التين

انجیر وار زیتون و طور سینا اور یہ امن والا شہر گواہ ہیں بے شک ہم نے انسان کو بہترین انداز پر پیدا کیا ہے، انجیر اور زیتون کتبِ انبیائے اسرائیل میں روحانیت و نبوت اور بادشاہت سے تعبیر کئے گئے ہیں۔ انجیر سے مراد قوم اسرائیل کی روحانیت اور نبوت ہے اور زیتون اس کی بادشاہت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ طورِ سینا وہ مقام ہے جہاں وہ تعلیم دی گئی۔ جس نے ان دونوں قسم کے ترقی کے معراج پر قومِ اسرائیل کو پہنچایا یہ امن والا شہر (مکہ) اور جو کچھ اس میں خدا کی شریعت دی گئی یہ سب گواہ ہیں اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین انداز پر پیدا کیا ہے۔ یہ تہذیب و ترقی کے بلند سے بلند مقام چڑھ سکتا ہے۔ طورِ سینا پر جو کچھ دیا گیا اس نے ایک غلام اور ذلیل قوم کو اس کی انتہائی ذلت سے اُٹھا کر نبوت اور حکومت کا وارث بنا دیا۔ امن والے شہر میں جو کچھ دیا اس نے ایک مفسد اور ضلال مبین میں غرق قوم کو بدل کر اقوام عالم کی روحانی اور سیاسی امن و سلامتی کا ضامن بنا دیا۔ اس سے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی وفات سے پہلے ایک نہایت ضروری وصیت کی اور فرمایا: عبرانی الفاظ ملاحظہ ہوں۔

.................... (استثناء باب ۳۳ آیت ۲) جن کا تلفظ یوں ہے:

دیو مر یہودہ مسینائی بادزارح مسعیر لاموہو فیو مہتر پاران دٰاتا مربیوث قودِش یمینو ایش واث لا موجن کا تلفظ یوں ہے:

ترجمہ: اور کہا خداوند سیناؔ سے آیا اور طلوع ہوا شعیر سے ان کے لئے وہ جلو گر ہوا فاران کے پہا۔ڑ سے اور وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آتا ہے۔ اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لئے آتشی شریعت ہے۔ (استثناء باب ۳۳ آیت ۲)

عبری زبان کا لفظی ترجمہ یہ ہے:

و۔ اور'' یومر۔ کہا ''یہودہ۔ خداوند'' مسینائی۔ سینا سے، (امن سینئی) با۔ آیا' و۔ اور، زارح طلوع ہوا'' مسعییر۔ شعیر سے (من شعیر) لامو۔ ان کے لئے، ہو۔ وہ فیو جلوہ گر ہوا۔'' مہتر پہہاڑ سے (من ھر) پاران۔ فاران کے' و۔ اور اٰتا۔ آتا ہے'' مر بیوث۔ ساتھ دس ہزار (من۔ دیوث) قودش قدسیوں کے، یمینو۔ داہنے ہاتھ پر اس کے (من یمنو) ''ایش۔ آتشی۔ واث۔ شریعت لامور ان کے لئے۔

خداوند طورِ سینا سے آیا:

طور سینا جو ازروئے بائیبل خداوند یہودہ کی تخت گاہ ہے اس کا جائے وقوع مختلف فرقہ ہائے یہود کے خٰالات اور حوالجات بائبل کی گونا گونی کی بنا پر مختلف ہوا کرے اور موجودہ آزاد خیال علماء مسیحی اسے اور کوہِ حورب کو سورج اور چاند کی پرستش کے مظاہر قرار دیتے ہیں رہیں (سین اور سینا۔ چاند۔ حورب چلچلاتی دھوپ یا سورج) لیکن متفقہ مذہبی نقطہ نگاہ سے یہ امر مسلم ہے کہ وہ مقام جہاں حضرت موسیٰؑ کو شریعت دی گئی یا قوم اسرائیل کی دینی اور دنیوی ارتقاء کی بنیاد رکھی گئی ہے، طور سینا ہے۔ انجیر سے مراد بنی اسرائیل کی روحانی ترقی اور نبوت ہے۔ زیتون ان کی بادشاہت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور طورِ سینا وہ مقام جہاں ان دونوں باتوں کی بنیاد قائم کی گئی جسے کتاب انبیاء میں شریعت کے ساتھ بھی تعبیر کیا گیا ہے۔

ہو سعیا نبی قوم اسرائیل کی اس حالت کو جب وہ شریعت پر پہلے پہل عامل ہوئی ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

''میں نے اسرائیل کو ان انگوروں کی مانند جو بیابان میں ہوں پایا۔ جیسا کہ انجیر کا پہلا پکا ہوا پھل جو پہلی مرتبہ لگے ویسا تمہارے باپ دادوں کو دیکھا۔'' (ہوسعیا ۱۰:۹)

یسعیاہ نبی سماریہ والوں کی خوبصورتی کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے:

''انجیر کے پہلے پھل کی مانند ہو گا جو گرمی کے ایام سے پیشتر لگے جس پر کسی کی نگاہ پڑے اور وہ اسے دیکھتے ہی اور ہاتھ میں لیتے ہی چھٹ کھا جاتا۔'' (ایسعیاہ ۴:۲۸)

نیز دیکھو ہوسعیا ۱۲:۳ پرمیا ۲:۲۴ سلاطین اول ۲۵:۴ یسعیاہ ۴:۳۴ یرمیا ۸: ۱۳۔ ۲۴ اور ۸،۳،۲۔ ۲۹: ۱۷ زکریا ۱۰:۳

زیتون کا درخت حکومت کے مترادف ہے۔ زبور میں حضرت داؤد فرماتے ہیں:

''لیکن میں خدا کے گھر میں زیتون کے ہرے درخت کی مانند ہوں۔'' ۸:۵۲

یرمیاہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہتا ہے:

''خداوند نے تیرا نام ہرے زیتون کا درخت جس کا پھل خوشنما ہے، رکھا ہے۔'' یرمیاہ ۱۱: ۱۶ نیز دیکھو ہوسعیا ۱۴: ۶ وغیرہ۔

غرض تینؔ اور زیتونؔ سے مراد بائیبل میں روحانیت نبوت اور حکومت ہے۔ ان دو نعمتوں کے دینے کا وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی معرفت جناب اسحٰق اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کی اولاد میں سے کیا گیا تھا۔ یہ دونوں قسم کا وعدہ پورا ہوا بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل دونوں سلسلوں میں حکومت و نبوت قائم ہوئی۔ حضرت اسحٰق علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ حضرت یعقوب اور جناب عیسوؔ ان دونوں سلسلوں میں پھر نبوت اور حکومت چلی عیسوؔ اگرچہ بڑا تھا مگر نبوت کی وراثت چھوٹے بھائی کو ملی۔ البتہ حکومت دونوں کی اولاد کے حصہ میں آئی۔ ایک حکومت حضرت یعقوبؑ کے منجھلے بیٹے یہودہ کے نام سے موسوم ہوئی اسی کی نسل میں انبیاء بھی ہوئے۔ البتہ حضرت موسیٰؑ حضرت یعقوب کے ایک اور بیٹے لادیؔ کی اولاد میں سے تھے جن کے ساتھ طور سینا پر اللہ تعالیٰ کا مکالمہ ہوا اور ان کو ایک مفصل شریعت دی گئی جس نے بنی اسرائیل میں زندگی پیدا کی خداوند یہودہ کا سینا پر آنا اسی سے عبارت ہے۔

خداوند کا کوہِ شعیر پر طلوع:

ہمارے بعض علماء نے خداوند کے شعیر پر طلوع سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام کو شریعت دیا جانا لیا ہے۔ نہیں معلوم ان بزرگوں کے علم میں کتابِ مقدس کا کونسا حوالہ تھا۔ مجھے افسوس ہے باوجود تلاش کے ایسا کوئی حوالہ نہیں ملا۔ اس بارہ میں بائیبل کی صراحت یہ ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیسو کا بیٹا اورمؔ تھا اس کی اولاد کوہِ شعیر میں آباد ہوئی ہے۔ یہ شخص ارومی قوم کا باپ کہلاتا ہے۔ آہستہ آہستہ ان لوگوں نے اسی کوہِ شعیر میں اپنی سلطنت قائم کر لی۔ جس کی یہودہ کی سلطنت سے ہمیشہ جنگ رہتی تھی۔ یہ سلطنت جھیل مردار کی جانب جنوب عرابہ سے مشرقی سمت میں بیس میل کے فاصلہ پر واقع تھی۔ کوہِ شعیر شعر بمعنی بال سے مشتق ہے۔ روئیدگی اور سبزی کی وجہ سے اس پہاڑ کا یہ نام رکھا گیا تھا۔ موجودہ زمانے میں زیادہ تر حصہ پہاڑ خشک سے ہے۔ اگرچہ اس کے بعض قطعات اب بھی سرسبز ہیں۔ حسبِ دعا اسحٰق علیہ السلام مندرجہ پیدائش ۲۷: ۳۹ – ۴۰ عیسو اور اس کی اولاد کو یہ نصیحت ملی کہ:

''دو دیکھ زمین کی چکنائی سے اور آسمان کے اُپر اُوس سے تیرا قیام ہو گا اور تو اپنی تلوار سے زندگی بسر کرے گا اور اپنے بھائی کی خدمت کرے گا اور یوں ہو گا کہ جب تو تردد میں پڑے گا تو اس کی حکومت کا جوا اپنی گردن سے توڑ کر پھینک دے گا۔''

جناب اسحاقؑ کی اس دعائے خیر اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریّت کے حق میں دعائے برکت دونوں نے مل کر اس نسلِ ابراہیمی کی چھوٹی سی شاخ کو بھی نعمتِ الٰہی سے محروم نہیں رکھا۔ کہتے ہیں حضرت ایوب علیہ السلام اسی قوم میں سے نبی ہوئے (نوحہ یرمیاہ ۲۱:۴) اور تہذیب و خرد مندی کا بہرہ وافر اس قوم کو ملا۔ بائیبل کی کتاب عبدیاہ آیت ۸ اور یرمیاہ ۷:۴۹ میں اس کا ذِکر موجود ہے۔ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے۔ اس سے زیادہ ہم کوہِ شعیر پر طلوع خداوندی کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔

خداوند فاران کی چوٹیوں پر جلوہ گر ہوا:

1. فاران بعض مسیحی اور یہودی علماء کے خیال میں وہ میدان ہے۔ جو برسبع کی شمالی حد کوہِ سینا تک چلا گیا ہے، جس کے شمال میں کنعان۔ جنوب میں کوہ سینا۔ مغرب میں ملک مصر اور مشرق میں کوہِ شعیر ہے۔

2. بعض کے نزدیک قادیش اور فاران ایک ہے۔

3. کچھ علماء اسے کوہِ سینا کی مغربی نشیب پر قرار دیتے ہیں۔

لیکن عرب کے قدیم جغرافیہ نویس اور بعض علماء مسیحی کی تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ مکہ معظمہ کے پہاڑوں کا نام فاران ہے۔ چنانچہ تورات سامری کا عربی ترجمہ سے آرکیونن نے ۱۸۵۱ء میں شائع کیا۔ اس میں پیدائش ۲۱:۲۱ کے ترجمہ میں فاران کو حجاز میں بتایا ہے۔ ترجمہ کے اصل الفاظ عربی یہ ہیں: ''وتکن برية فاران (الحجاز) وأخذت له أمّه امرأة مِنْ أرض مصر'' (تکوین ۲۱:۲۱)

''اسمٰعیل بیابانِ فاران واقع حجاز میں سکونت پذیر ہوا اور اس کی ماں نے اس کے لئے مصر سے ایک عورت لی۔''

اس ترجمہ سے ظاہر ہے کہ فاران حجاز میں ہے۔ اور جب تک مسلمانوں نے اس پیشن گوئی کو مسیحی حضرات کے سامنے پیش نہیں کیا۔ اس وقت تک فاران حجاز میں رہا۔ جوں ہی علمائے اسلام نے مسیحی دوستوں کی توجہ اس طرف دلائی وہ اس فاران کو اُٹھا کر سینا میں لے گئے تاکہ بشارت رسول اللہ ﷺ کے حق میں ثابت نہ ہو۔ مگر جس طرح پہاڑ کو اُٹھانا مشکل ہے اسی طرح فاران کا حجاز سے ٹلنا بھی ناممکن ہے۔ اس لئے ہم اس جگہ اس پر مختصر مگر مدلل بحث کرتے ہیں۔

فاران مکہ معظمہ کے پہاڑ کا نام ہے:

تورات کے مندجہ بالا آیت پیدائش ۲۱:۲۱، بخط عربی یوں ہے:

''ویرشلیب بمد برپاران وتقه لو امرایشه مارض مصریئیم'' پیدائش (۲۱:۲۱)

''اور سكونت كی وادی غير ذی زرع فاران ميں اور اس كی ماں نے اس کے لئے ملکِ مصر سے ایک عورت لی۔''

1. اس آیت میں جملہ ''مدبر پاران'' قابل غور ہے۔ عبری زبان میں مدبر کے معنی ہیں زمین غیر ذی زرع لغت میں لکھا ہے۔

Unintiabited tract or region untilled. مدبر

A desert a saterite and solitary region.

بطور استعارہ اس کا استعمال بانجھ عورت کے لئے بھی ہوتا ہے گویا اس میں بھی روئیدگی نہیں ہتی دیکھو ہوسیع ۵ یرمیاہ ۲: ۳۱ یسعیا ۲۷: ۱۰ وغیرہ

دنیا جانتی ہے کہ یہ وادی غیر ذی زرع صرف مکہ کی تعریف ہے:

2. سائیکلو پیڈیا ببلیکا میں پاران کے متعلق لکھا ہے:

Et is not eaoy to undersaned oll the ot passages relatives to paran.

''یعنی بائیبل کی وہ آیات جو فاران سے متعلق ہیں ان کا سمجھنا آسان نہیں ہے۔''

بائیبل کے متضاد بیانات سے ظاہر ہے کہ وہ فاران کا صحیح جائے وقوع بتانے سے قاصر ہے۔ لیکن پیدائش ۲۱:۲۱ مندرجہ بالا آیت سے ثابت ہے کہ حضرت اسمٰعیل وادی فاران میں آباد ہوئے اور ایک امر واقعہ ہے کہ جناب اسمٰعیل علیہ السلام کے بارہ ۲۱ بیٹے عرب کے مختلف قطعات میں آباد ہوئے پس فاران وہی جگہ ہے جہاں حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد اس وقت سکونت پذیر تھی۔ جب بائیبل لکھی گئی وہ بلاشک و شبہ عرب ہے۔

پولوس نامہ گلایتون میں لکھتا ہے۔ ''یہ باتیں تمثیلی بھی جانی جاتی ہیں اس لئے کہ یہ دو عورتیں عہد میں ایک تو سیناؔ پہاڑ پر سے جو ہوا وہ نرے غلام حبشی ہے یہ حاجرہ ہے کیونکہ حاجرہ عرب کا کوہ سینا ہے۔ اور اب کے یروشلم کا جواب ہے اور یہی اپنے لڑکوں کے ساتھ غلامی میں ہے۔ پر اُپر کا یروشلم آزاد ہے سو ہی ہم سب کی ماں ہے (۴: ۲۴۔ ۲۶)

پولوس (یعنی موجودہ عیسائیت کا بانی) اس جگہ دو کوہِ سینا قرار دیتا ہے۔ ایک سارا کا کوہِ سینا اور دوسرا ہاجرہ کا کوہِ سینا، سائرہ شریعت سے آزاد بچے جنتی ہے اور ہاجرہ شریعت کے پابند اسی طرح یروشلم بھی دو ہیں۔ ایک نیا اور دوسرا دُور کا پرانا ہے۔ مگر ہاجرہ کا یروشلم نیا ہے اس حوالہ کا مطلب یہ ہے کہ سینا فاران اور یروشلم وغیرہ الفاظ بطور مجاز و استعارہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اور اس سے مراد دو قومیں ہیں ایک حضرت اسحاق اور سارا کی اولاد اور دوسری حضرت اسمٰعیل اور حاجرہ کی اولاد۔

پس خداوند کا کوہِ سینا پر آنا دو طرح پر ہے ایک سارا کی اولاد سے موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور سینا پر شریعت کا دیا جانا اور دوسرے ہاجرہ کی اولاد میں مثل موسیٰ علیہ السلام حضرت محمد ﷺ کو کامل شریعت کا دیا جانا یہی عرب کوہِ سینا ہے جس پر خدا اترا ہے۔ اسی طرح ایک فاران شاید وہ بھی ہو جس پر بنی اسرائیل کے کوچ کے وقت بدلی جا ٹھہری تھی۔ اور ایک فاران وہ ہو جس پر ایک عظیم الشان روحانی بارش کی بدلیاں اُمنڈ آئیں اور یہی خداوند کا فاران پر جلوہ گر ہونا ہے۔

1. وہ لوگ جو فاران کو بیابان سینا میں قرار دیتے ہیں وہ ان امور پر غور کریں۔

2. کتاب شمارہ ۱۲:۱ کی بنا پر بیابانِ سینا اور بیابانِ فاران الگ الگ دو بیابیان ہیں ایک سے چلتے اور دوسرے میں پہنچتے ہیں۔

3. کتاب پیدائش ۶:۱۴ کی بنا پر کوہِ شعیر اور فاران دو (۲) جدا جدا پہاڑ ہیں۔

4. کتاب شمار ۱۲: ۱۶ ۲ ۱۳: ۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامِ ہیروت سے آگے بڑھ کر فاران ملتا ہے۔

5. کتاب شمار ۲۶،۲۵:۱۳ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنعان کی واپسی پر پہلے فاران پڑتا ہے۔ اور پھر قاویش گویا کاویش شمالی سرحد فاران پر واقع ہے۔

6. کتاب اول سلاطین ۱۱: ۱۸ سے معلوم ہوتا ہے۔ مدین اور مصر کے رستہ میں فاران پڑتا ہے اور مدین حجاز میں واقع تھا۔ ص ۱۲۴، ص ۱۶۳

7. جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ فاران اور قاویس ایک ہیں وہ مندرجہ ذیل حوالجات پر غور کریں پیدائش ۶:۱۴ و ۷ سے قاویش اور فاران کا علیحدہ علیحدہ ہونا ثابت ہے۔

8. وہ مسیحی دوست جن کا خیال ہے کہ فاران کوہِ سینا کے مغرب نشیب میں واقع تھا، یہ اس لئے غلط ہے کہ اولاد اسمٰعیل وہاں آباد ہی نہیں ہوئی۔

9. بائیبل میں ہاجیریوں سے مراد اولادِ ہاجرہ ہے جن کے ساتھ بنی اسرائیل کی جنگ ہوئی تو اریخ اوّل ۵: ۱۰۲ ۲۰ اس کے بعد کے زمانہ میں یہی نام مسیحیوں کی طرف سے مسلمانوں کو دیا گیا اور اسی لفظ ہاجر سے ایریا والوں نے اخگر یا انگر فعل بنا کر مسلمان ہونے والوں کے لئے استعمال کیا اور اسی زبان میں مسلم کو مخگرایا کہتے ہیں۔ اور یونانیوں نے مگر تھیس، مگریوموس، مگر یزین مسلمانوں کے لئے الفاظ بنائے۔ کتاب باروق جو تورات کے نسخہ مبصینیہ میں ایک صحیفہ ہے اس کے ۸: ۳۳ میں حاجرین کا ذکر ایل تیما کے ساتھ آیا ہے اور اس سے مراد وہ لوگ لئے ہیں جو حکمت اور دانائی کے جویاہوں مختلف زبانوں کی اس شہادت سے ثابت ہے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام عرب میں آباد ہوئے اور ہاجرہ کی اولاد کا نام مسلمان خود مسیحیوں سے رکھا جانا بھی اس امر کی تصدیق کرتا ہے۔

حبقوق نبی ؑ نے اس پیشن گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا خدا جنوب سے اور وہ جو قدوس ہے کوہ فاران سے آیا حبقوق ۳:۳ یہاں صاف طور پر فاران کا جنوب میں ہونا بیان کیا گیا ہے۔ اور حجاز شام کے جنوب میں ہے۔

دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آمد:

نبی کریم ﷺ کے اس مخصوص اور روشن نشان کے متعلق ہم حضرت حنوک یا ادریس علیہ السلام کی پیشن گوئی میں بحث کر چکے ہیں۔ اور وہاں ہم یہ بھی دکھا چکے ہیں کہ اس بشارت کا انتظار ابتداء عالم سے کل انبیاء کو تھا۔ یہاں تک کہ حضرت مسیح کی ۳۳ سال کے بعد بھی یہودہ نے اپنے خط میں اس پیشنگوئی کے پورا ہونے کی تمنا ظاہر کی ہے۔ پس جناب مسیحؑ کے بعد صرف ایک ہی نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ ان کے حق میں یہ بشارت عظمےٰ پوری ہوئی ایک عرصہ دراز سے بائیبل کے ترجمہ میں دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ خداوند کے آنے کا ذکر موجود ہے۔ مگر کچھ عرصہ سے نئے ترجموں میں اس پیشن گوئی کو مبہم بنانے کے لئےاس کا ترجمہ ''لاکھوں قدوسیوں کے ساتھ'' کیا جانے لگا ہے۔ اس لئے عربی الفاظ پر مختصر سی بحث کی ضرورت ہے۔ دراصل دس ہزار قدوسیوں کی معیّت نہ صرف فاران کی جائے وقوع کے متعلق فیصلہ کر دیتی ہے۔ بلکہ پیشن گوئی کے اصل مصداق کے ناقابلِ تردید شہادت دیتی ہے۔

کیونکہ صرف انبیاءبنی اسرائیل اسرائیل کی تاریخ میں نہیں بلکہ دنیاکی تاریخ میں دس ہزار قدوسیوں کا قدوس ساتھی صرف حضرت نبی کریم ﷺ ثابت ہوتے ہیں۔ جناب موسیٰ نے دو ہزار سال بیشتر موعود دیان کا یہ نشان بتایا۔ ایسا نہیں بلکہ جناب آدم کی صرف ساتویں پشت میں حضرت ادریس علیہ السلام یہی روشن نشان بیان فرماتے ہیں۔ اور ہندو مت کی کتابوں پر آن وغیرہ پر اعتبار کر لیا جائے تو ہزاروں نہیں لاکھوں برس بیشتر دیدوں کے رشیوں نے موعود کا یہی نشان بتایا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا واقعہ دنیا کی تاریخ میں صرف ایک ہی ہو ا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک ہی رہے گا۔ دس ہزار قدوسی بنانا تو ایک بے نظیر قدوس کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ انبیائے عام میں سے تو کوئی نہ ہوا جس نے اپنی زندگی میں اس قدر شدید مخالفت کے باوجود دس ہزار انسان اپنے ساتھ جمع کر لیے ہوں۔

عبرانی کے اصلی الفاظ پر بحث:

آیت زیر بحث کے عبری الفاظ میں ایک لفظ ربوثؔ ہے جس کے معنی ہم نے دس ہزار کیے ہیں۔ یہ لفظ کئی جگہ کتب انبیاء میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مادہ ربث ہے اور معنی دس ہزار دیکھو نجمیا ۷۱:۷ اور ولیم جیٹسن کی عبری انگریزی لغت میں ربوث کے معنی لکھے ہیں:

A MYRAID TEN THOUSANDS (ربوث)

TWICE TEN THOUSANDS )شیشی ربوث)

کبھی کبھی ربوث کا آخری ثاگرا کو بھی انہیں معنوں میں استعمال کرتے ہیں، جیسے تواریخ اوّل ۲۹: ۷ غدر ۲۴:۲۱ نجمیا ۶۶:۷ زبور ۱۸:۶۸۔

پس مسیحیوں کا نیا ترجمہ لاکھوں ملائک محض پیشگوئی کو مبہم بنانے کے لئے ہے۔ دوسرا لفظ قودش ہے جس کا ترجمہ اب ملائکہ کر دیا ہے۔ یہ مطلق پاکیزہ اور پاک کے معنی رکھتا ہے۔ اور ہر ایک پاک مقدس شے قوم اور جگہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً

''آدمہ قودش'' خروج ۳:۵ = مقدس سرزمین

''مقوم ہقودیش '' احبار ۱۷:۱۵، ۱۴: ۱۳ = مقدس جگہ

''ہرقادیشی زبور ۶:۲ = میرا مقدس پہاڑ

''عم قودیش دانیال ۷:۱۲ مقدس لوگ

پس جملہ ''مربیوث قودیش'' کے معنی ازروئے لغت و محاورات بائیبل ''دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ ہیں۔''

اس کے داہنے ہاتھ پر آتشیں شریعت ہے:

یہ آیت زیرِ بحث کا اخر حصہ ہے۔ عبری اور عربی دونوں زبانوں میں یمین (داہنے ہاتھ) کا محاورہ برکت، بندگی، حکومت اور طاقت کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے داہنے ہاتھ میں شریعت کی آگ ہے۔ یعنی اسے مذہبی جنگ کرنے پڑیں گے۔ رسولِ کریم ﷺ پر مسیحیت کا سب سے بڑا اعتراض جہاد اور مذہبی جنگ کرنے کا ہے۔ اس اعتراض کو انبیاء کے صحف نے کبھی یوں رد کیا ہے کہ اس (نبی موعود) کی کمان بدلی سے باہر نہ ہو گی یعنی اس کی جنگ رحمت کی بدلی میں یا رحم مجسم (دیکھو بشارت نوحؑ) اور کبھی یوں جواب دیا کہ وہ جب دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا ۔ تو اپنا ہتھیار رکھ دے گا (وید) یعنی اس کی فتح خونریزی سے نہ ہو گی بلکہ امن و صلح سے ہو گی اور کبھی اس رنگ میں جہاد کے اعتراض کی تردید کی کہ اس کا آنا خداوند کا آنا ہو گا یعنی اس وقت انصاف و عدل کامل ہو گا کسی پر ظلم نہ ہو گا (حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشن گوئی یوں پوری ہوئی)

یہ پیشن گوئی جناب مسیح علیہ السلام کے متعلق نہیں:

حضرت مسیحؑ کے متعلق یہود اور مسیحی دونوں کے دلوں میں تمنا تھی کہ وہ ان کے دشمنوں کو سزا دے گا مگر نہ تو مسیحؑ یہود کے خیال کے مطابق آیا اور نہ صدور اولیٰ کے مسیحیوں کی آرزو پوری ہوئی۔ گو اسی خیال سے حضرت موسیحؑ نے خود فرمایا کہ میں آگ لگانے آیا ہوں۔ مگراس آتشزنی میں ان کی زندگی بھر کچھ کامیابی نہ ہوئی اور مسیحیوں نے بھی مایوس ہو کر درد مندوں کو یوں تسلی دی کہ وہ آسمان پر خدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھ کر لوگوں کی عدالت کرے۔ یہ پیشینگوئی چونکہ مسیح کے حق میں نہ تھی، اس لئے شریعت کی آگ مسیحؑ کے داہنے ہاتھ میں نہ دی گئی۔ بلکہ مسلمات مسیحی اور خیالات یہود کی رو سے شریعت کی آگ اس کے ہاتھ میں دی گئی۔ کیونکہ مجرم کو اس کا فتویٰ بائیں ہاتھ میں دیا جاتا ہے۔ داہنے ہاتھ میں آتشِ شریعت صرف حضرت نبی کریم ﷺ کو دی گئی۔ اس لئے کہ الیاس نبیؑ نے سچ فرمایا تھا میں تو تمہیں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں...... پر میرے بعد جو آتا ہے وہ تمہیں آگ سے بپتسمہ دے گا (متی کی انجیل ۱۲:۳) مسیح تو الیاس کے زمانہ میں موجود تھا۔ نیز اس نے بھی پانی سے بپتسمہ دیا۔ لیکن آگ کا بپتسمہ صرف حضرت محمد ﷺ نے دیا۔ جو لوگ حق کی خاطر آتشِ جنگ میں کودے وہی مسلم کہلائے اور یہی آگ کا بپتسمہ تھا جو مسلمانوں کو دیا گیا۔ پس یہ پیش گوئی ایک عظیم الشان پیش گوئی ہے جو اپنے تمام اجزا کے لحاظ سے صرف حضرت محمد ﷺ کے حق میں پوری ہوئی اور جہاد کرنے والا نبی ﷺ ہونے کی وجہ سے مماثلت موسیٰؑ کو بھی پوری کر گئی۔ وما علینا إلا البلاغ المبین
حاشیہ

جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم ﷺ کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے۔ آپ ﷺ جاہ و جلال کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔