نام کتاب : خزینة الأصفیاء (جلد اول)

مؤلّف : مفتی غلام سرور لاہوریؒ

مترجمین : محمود عالم ہاشمی، اقبال احمد فاروقی

ضخامت : 328 صفحات

قیمت : 15 روپے

ناشر : 'المعارف' داتا گنج بخش روڈ لاہور

برصغیر پاک و ہند میں صوفیائے کرام کے حالات میں کئی تذکرے لکھے گئے مگر شرفِ قبولیت صرف 'اخبار الاخیار' اور خزینۃ الاصفیاءہی کو حاصل ہوا۔ 'اخبار الاخیار' جہانگیر کے عہد میں شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ نے لکھا اور خزینۃ الاصفیاء' مفتی غلام سرور لاہوریؒ کی تالیف ہے۔ خزینۃ الاصفیاء کو 'اخبار الاخیار' پر اولاً اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ یہ تذکرہ زیادہ جامع اور تفصیلی ہے اور خاص طور پر پنجاب کے صوفیاء کے حالات کا بہترین مرقع ہے جب کہ 'اخبار الاخیار' میں شیخ علی ہجویریؒ عرف داتا گنج بخش تک کا ذکر نہیں۔ ثانیاً 'خزینۃ الاصفیاء' میں صوفیائے کرام کا سنِ وفات اہتمام سے درج کیا گیا ہے۔ مفتی صاحب چونکہ بے مثال شاعر اور تاریخ گو تھے، اس لئے انہوں نے قطعاتِ وفات لکھ کر تذکرے کو وسیع تر بنا دیا ہے۔

'خزینۃ الاصفیاء' میں گیارہ سو صوفیائے کرام کے حالات درج ہیں۔ مؤلف نے اس ضخیم تذکرہ کو سات حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں آنحضرت ﷺ خلفائے راشدینؓ اور ائمہ دینؒ کے حالات درج ہیں۔ دوسرا حصہ قادری مشائخ کے لئے مختص ہے۔ تیسرے چوتھے اور پانچویں حصہ میں ترتیب وار چشتی، نقشبندی اور سہر وردی صوفیاء کا ذِکر ہے۔ چھٹے حصہ میں متفرق سلسلوں کے صوفیاء کے حالات لکھے گئے ہیں، ساتواں حصہ ازواجِ مطہرات اور دوسری عارفات کے بارے میں ہے آخر میں محانین و مجاذیب کا ذِکر ہے۔

مفتی غلام سرور لاہوریؒ بالغ نظر عالم دین اور بلند پایہ شاعر تھے، ان کی ساری عمر تصنیف و تالیف میں گزری تھی، ان کا نام ہی دلکش انداز بیان کی ضمانت ہے۔ صوفیاء کے حالات والہانہ انداز سے لکھے گئے ہیں۔ اور از دلِ خیز دو بر دل ریزد کے مصداق ہیں۔ اگرچہ اکثر واقعات اصولِ روایت، درایت پر پورے نہیں اُترتے۔

ادارہ 'المعارف' مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے 'خزینۃ الاصفیاء' کا ترجمہ شائع کرنے کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔ فی الحال زیرِ تبصرہ جلد اوّل شائع ہوئی ہے جس میں کتاب کے پہلے دو حصے شامل ہیں اور اس میں 180 افراد کا تذکرہ ہے۔ مترجم مفتی محمود عالم ہاشمی نے آغازِ کتاب میں مؤلّف کے حالاتِ زندگی اور اُن کی علمی خدمات پر وقیع مضمون لکھا ہے۔ جس سے کتاب کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ترجمہ سادہ اور پُر اثر ہے۔ نیز حواشی خاصے معلومات افزا ہیں۔

اس کتاب کا ہر باذوق شخص کی نگاہ سے گزرنا ضروری ہے۔ اعلیٰ کتابت و طباعت اور مضبوط و خوبصورت جلد کے پیش نظر قیمت واجبی ہے۔ ایسی کتابوں کی زائد از زائد خریداری ہی علم کی سرپرستی ہے اور اہل علم کے تعاون ہی سے ناشرین اعلیٰ درجے کی کتابیں پیش کر سکتے ہیں۔