مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف اپنے دور کے عظیم انسان ہیں بلکہ برصغیر ہند و پاک کے علمائیں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ دیگر متعدد خوبیوں کے علاوہ اُن کی خوش بیانی اور مناظرہ کی مہارت کے تو غیر بھی معترف ہیں، تقسیم ہند سے قبل تقریباً نصف صدی تک غیر مسلموں اور گمراہ فرقوں سے ان کی ٹھنی رہی اور مہارت فن اور عظیم الشان کامیابیوں کی بنا پر رئیس المناظرین اور شیر پنجاب کے لقب سے معروف ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا موصوف اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں بہت حساس واقع ہوئے تھے، اور ایسے فتنوں کو ابتداء ہی میں بھانپ لیا کرتے تھے۔ جو اس سلسلہ میں بعد میں نقصان کا سبب بن سکتے ہوں، جس کسی نے ان کے خلاف زبان کھولی یا قلم اُٹھایا اس کا حملہ روکنے کے لئے شمشیر بے نیام ہوتے تھے، آج سے پچاس سال قبل قادیانی، اُمت مسلمہ میں نقب لگا رہے تھے، آریہ سماجی مسلمانوں کے دین و ایمان کے در پے تھے اور مسیحی مشنری، حکومت کی سرپرستی میں صلیبیں گاڑ رہے تھے، مولانا مرحوم نے ان گروہوں سے چومکھی لڑائی لڑی اور ایسے تابڑ توڑ حملے کئے کہ مخالفین کو اپنی کمین گاہوں میں پناہ لیتے ہی بنی۔ افسوس مولانا کی سعی و جہد کا اسلامی سطح پر خاکہ کھینچنے کے لئے ہنوز کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی، ورنہ مولانا کی خدمات کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ اس صحبت میں ہم مولانا کی ردّ عیسائیت کے سلسلہ میں کی گئی چند مساعی جمیلہ کا مختصر تذکرہ کریں گے۔

جیسا کہ اُوپر بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مولانا مرحوم کو مناظرے کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ ان کے بارے میں بلا شائبہ تردید کہا جا سکتا ہے۔ ؎ عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں۔

ان کے طریقِ مناظرہ میں ایسی خصوصیات تھیں جو بمشکل ہی کسی مناظر میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔

1. موصوف نے فریق مخالف کی کبھی تذلیل نہ کی۔

2. رفع اعتراض کے لئے جواب میں ہمیشہ مختصر مگر با معنی و پُر مغز گفتگو کرتے تھے۔

3. دوران گفتگو شعروں کے بر محل استعمال سے کلام کو رنگین بناتے تھے۔

4. موصوف ہمیشہ موضوع مناظرہ پر گفتگو مرتکز رکھتے تھے اور فریقِ مخالف کو بھی ادھر ادھر نہ جانے دیتے تھے۔

5. شرائط مناظرہ میں وہ ہمیشہ فراخدلی سے کام لیتے اور فریقِ مخالف کی ہر جائز و ناجائز شرائط قبول کر لیتے تھے۔ تاکہ مخالف کو بھاگنے کا موقع نہ مل سکے۔

6. ہر بات حوالے اور سند سے پیش کرتے تھے۔

7. حاضر جوابی ان پر ختم تھی۔ ایک بار فریق ثانی نے کہا کہ آج میرے مدِّ مقابل ثناء اللہ ہے، جو مسلمانوں کا مناظر بن کر آیا ہے۔

حالانکہ مسلمانوں کے تمام فرقے ان کے 'کفر' کے قائل ہیں' میں 'کافر' سے نہیں 'مسلمان' سے گفتگو کروں گا۔ مولانا موصوف سنتے رہے۔ بزعمِ خود پادری صاحب نے میدان مار لیا تھا کہ مناظرہ سے بچ جائیں گے۔ مولانا نے یہ کہہ کر پادری کو زِچ کر دیا کہ آج مناظرہ ضرور ہو گا۔ اسلام قبول کرتے ہوئے نو مسلم کو کلمہ طیبہ پڑھنا پڑتا ہے۔ لیجئے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ اب میں مسلمان ہوں آئیے! پادری صاحب مناظرہ کیجئے!

عیسائی پادریوں سے مناظرے:

مولانا موصوف نے پادریوں سے ان گنت مناظرے کئے اور برصغیر کے طول و عرض میں اسلام کی حقانیت کا ڈنکا بجایا۔ ذیل میں ایک مناظروں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

1. 1910ء کی بات ہے کہ لاہور میں پادری جوالا سنگھ سے مولانا کا مناظرہ ہوا۔ مناظرہ 'الوہیتِ مسیح' کے موضوع پر تھا۔ پادری صاحب جو دلیل دیتے مولانا بدلائل قویہ اسے کاٹ دیتے۔ آخری پادری صاحب جھلاکر بولے کہ مولانا میری کسی دلیل کو تو رہنے دیجئے۔ سامعین پادری کی اس التجاء پر ہنس پڑے اور ایک عیسائی خاندان حلقۂ اسلام میں شامل ہو گیا۔

2. پادری عبد الحق عیسائی حلقوں میں اپنی منطق اور قرآن و حدیث پر حاوی ہونے کا شہرہ رکھتے تھے۔ مولانا موصوف سے پادری نے کئی مناظرے کئے' مولانا نے عبد الحق کو لاہور میں ایسی شکست دی کہ دوبارہ عبد الحق کو مولانا کے سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔

3. 27-28 فروری 1926ء کو انجمن اہل حدیث گوجرانوالہ کے سالانہ جلسہ میں اہل صلیب سے مناظرہ ہوا۔ مولانا نے 'توحید' پر تقریر کرتے ہوئے اہل صلیب کو دعوت دی کہ بالمشافہ گفتگو کریں۔ ان کی طرف سے پادری محمد سلطان پال مناظر تھے۔ آٹھ دس ہزار کے مجمع میں شکست کھائی اور ایک مسیحی نوجوان نے اسلام قبول کیا۔

4. 6 ستمبر 1916ء کو پادری جوالا سنگھ سے ہوشیار پور میں سامنا ہوا۔ پادری صاحب کو اپنی منطق فلسفہ پر ناز تھا۔ مگر میدانِ مناظرہ اسلام کے حق میں رہا۔

5. 2-3 ستمبر 1928ء کو حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ میں پہلے روز پادری سلطان محمد پال سے مناظرہ ہوا، دوسرے روز پادری عبد الحق پروفیسر این۔ آئی۔ یو آئی کے ساتھ سٹیج پر آئے مناظرے کا موضوع 'اسلامی توحید' اور 'الوہیت مسیح' تھا۔ پادری صاحبان بے بس ہو گئے۔ اہالیان حافظ آباد کی جانب سے مناظرے کی رپورٹ شائع ہوئی۔ جس پر حافظ آباد کے ہندوؤں اور سکھوں نے بھی دستخط کئے اور پادری صاحبان کے شکست پر ثالثانہ دستخط ثبت ہوئے۔

6. 4-5 اگست 1937ء کو اثباتِ توحید و ردّ تثلیث کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔ عیسائی پادریوں کی جماعت لاجواب رہی اور میدانِ مناظرہ مولانا کے ہاتھ رہا۔

مولانا موصوف نے عیسائیت کی تردید میں قلم سے بھی خوف کام لیا۔ ہفت روزہ 'اہلحدیث' میں ان کے قلم سے بیسیوں مضامین شائع ہوئے اور مندرجہ ذیل کتابیں شائع ہوئیں۔

1. تقابلِ ثلاثہ:

پادری ٹھاکروت نے ایک کتاب موسوم بہ 'عدم ضرورت قرآن' لکھی جس کے جواب میں موصوف نے تقابل ثلاثہ یعنی (تورات، انجیل اور قرآن کا مقابلہ) لکھی۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر اس قدر جامع اور عمدہ ہے کہ اس موضوع پر لکھی گئی جملہ تحریروں سے بے نیاز کر دیتی ہے۔

کتاب کا انگریزی ترجمہ ایک قادیانی شمس نامی نے کیا مگر مترجم نے مولانا ثناء اللہ کا نام ظاہر نہیں کیا۔

2. اسلام اور عیسائیت:

ہندوستانی پادریوں میں پادری برکت اللہ تصنیف و تالیف کی بدولت نسبتاً زیادہ مشہور ہیں، پادری صاحب نے عیسائیت کی تائید میں ہزاروں صفحات لکھے اور تاحال لکھ رہے ہیں۔ پادری صاحب نے جا و بے جا اسلام اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں معاندانہ اور منافرت انگیز انداز اختیار کیا ہے۔ پادری صاحب کی تین کتابیں شائع ہوئیں، (الف) عالمگیر اسلام ہے یا عیسائیت (ب) دینِ فطرت اسلام ہے یا عیسائیت (ج) أصول البیان في توضیح القرآن۔

ان تینوں کے جواب میں مرحوم نے ''اسلام اور عیسائیت'' کے نام سے جامع کتاب لکھی۔ اگرچہ یہ کتاب پادری برکت اللہ کی کتابوں کا جواب ہے، لیکن اسلام پر غیر مسلموں کی طرف سے عام طور پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں، تقریباً سب ہی کا جواب اس میں موجود ہے۔

3. توحید و تثلیث:

اثباتِ توحید کے موضوع پر اچھی تحریر ہے۔