مولانا مرحوم نے یہ تقریر اپنے وصال سے صرف تین روز قبل رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع میں کی تھی اور آپ کی زندگی کی یہ آخری تقریر تھی۔

اُمت مسلمہ بڑی مشقت سے بنی ہے، اس کو امت بنانے میں حضور ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے بڑی مشقتیں اُٹھائی ہیں اور اُن کے دشمنوں یہود و نصاریٰ نے ہمیشہ اس کی کوششیں کی ہیں کہ مسلمان ایک امت نہ رہیں بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوں۔ اب مسلمان اپنے اُمّت ہونے کی صفت کھو چکے ہیں۔ جب تک یہ اُمّت بنے ہوئے تھے چند لاکھ ساری دنیا پر بھاری تھے۔ ایک پکّا مکان نہیں تھا۔ مسجد تک پکی نہیں تھی۔ مسجد میں چراغ تک نہیں جلتا تھا، مسجد نبوی میں ہجرت کے نویں سال چراغ جلا تھا۔ سب سے پہلا چراغ جلانے والے تمیم داریؓ ہیں۔ وہ 9 ؁ھ میں اسلام لائے اور 9 ؁ھ تک نہ صرف قریب قریب سارا عرب اسلام میں داخل ہو چکا تھا بلکہ آپ ﷺ کی دعوت عرب کے باہر بھی پھیل چکی تھی اور مختلف قومیں، مختلف زبانیں، مختلف قبیلے ایک اُمت بن چکے تھے۔ پھر یہ اُمت دنیا میں اُٹھی جدھر کو نکلی ملک کے ملک پیروں میں گرے۔ یہ اُمت اس طرح بنی تھی کہ ان کا کوئی آدمی اپنے خاندان، اپنی برادری، اپنی پارٹی، اپنی قوم، اپنے وطن، اپنی زبان کا حامی نہ تھا۔ مال و جائیداد اور بیوی بچوں کی طرف دیکھنے والا بھی ہ تھا۔ بلکہ ہر آدمی صرف یہ دیکھا تھا کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کیا فرماتے ہیں۔ اُمت جب ہی بنتی ہے جب اللہ و رسول ﷺ کے حکم کے مقابلہ میں سارے رشتے اور سارے تعلقات کٹ جائیں۔ جب مسلمان ایک اُمت تھے تو ایک مسلمان کے کہیں قتل ہو جانے سے ساری اُمت ہل جاتی تھی۔ اب ہزاروں لاکھوں کے گلے کٹتے ہیں اور کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

اُمت کسی ایک قوم اور ایک علاقہ کے رہنے والوں کا نام نہیں ہے بلکہ سینکڑوں ہزاروں قوموں اور علاقوں سے جڑ کر اُمت بنتی ہے جو کوئی کسی ایک قوم یا ایک علاقہ کو اپنا سمجھتا ہے اور دوسروں کو غیر سمجھتا ہے، وہ اُمت کو ذبح کرتا ہے اور اُس کے ٹکڑے کرتا ہے اور حضور ﷺ کی اور صحابہؓ کی محنتوں پر پانی پھیرتا ہے۔ اُمت کو ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پہلے خود ہم نے ذبح کیا ہے۔ یہود و نصاریٰ نے تو اس کے بعد کٹی کٹائی اُمت کو کوٹا ہے۔ اگر مسلمان اب پھر اُمّت بن جائیں تو دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی ان کا بال بیکا نہیں کر سکتیں۔ ایٹم بم اور راکٹ ان کو ختم نہیں کر سکیں گے۔ لیکن اگر وہ قومی اور علاقائی عصبیتوں کی وجہ سے باہم اُمت کے ٹکڑے کرتے رہے تو خدا کی قسم تمہارے ہتھیار اور تمہاری فوجیں تم کو نہیں بچا سکیں گی۔

مسلمان ساری دنیا میں اس لئے پٹ رہا اور مر رہا ہے کہ اُس نے اپنی اُمتی حیثیت کو ختم کر کے حضور ﷺ کی قربانی پر پانی پھیر دیا ہے۔ ساری تباہی اس وجہ سے ہے کہ اُمت اُمت نہ رہی بلکہ یہ بھی بھول گئے کہ اُمت کیا ہے اور حضور ﷺ نے کس طرح اُمت بنائی تھی۔

اُمت ہونے کے لئے اور مسلمانوں کے ساتھ خدائی مدد ہونے کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ مسلمانوں میں نماز ہو، ذکر ہو، مدرسہ ہو اور مدرسہ کی تعلیم ہو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاتل ابن ملجم ایسا نمازی اور ایسا ذاکر تھا کہ جب اُس کو قتل کرتے وقت غصہ میں بھرے لوگوں نے اُس کی زبان کاٹنی چاہی تو اُس نے کہا سب کچھ کر لو لیکن میری زبان مت کاٹو تاکہ زندگی کے آخری سانس تک میں اس سے اللہ کا ذکر کرتا رہوں لیکن حضور نے فرمایا کہ علیؓ کا قاتل میری اُمّت کا سب سے زیادہ شقی اور بد بخت ترین ہو گا اور مدرسہ کی تعلیم تو ابو الفضل اور فیضی نے بھی حاصل کی تھی اور ایسی حاصل کی تھی کہ قرآن پاک کی تفسیر بے نقط لکھ دی۔ حالانکہ اُنہوں نے ہی اکبر کو گمراہ کر کے دین کو برباد کیا تھا، تو جو باتیں ابن ملجم اور ابو الفضل، فیضی میں تھیں وہ اُمت بننے کے لئے اور خدا کی غیبی نصرت کے لئے کیسے کافی ہو سکتی ہیں؟

حضرت شاہ اسمٰعیل شہیدؒ اور حضرت سید احمد شہیدؒ اور اُن کے ساتھی دینداری کے لحاظ سے بہترین نمونہ تھے، وہ جب سرحدی علاقے میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں نے اُس کو اپنا بڑا بنا لیا تو شیطان نے وہاں کے کچھ مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ یہ دوسرے علاقے کے لوگ، اُن کی بات یہاں کیوں چلے۔ اُنہوں نے اُن کے خلاف بغاوت کرائی، اُن کے کتنے ہی ساتھی شہید کر دیئے گئے اور اس طرح خود مسلمانوں نے علاقائی بنیاد پر اُمت کو توڑا، اللہ نے اس کی سزا میں انگریزوں کو مسلط کیا۔ یہ خدا کا عذاب تھا۔ یاد رکھو ''میری علاقہ'' اور ''میری برادری'' یہ سب اُمّت کو توڑنے والی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کو یہ باتیں اتنی ناپسند ہیں کہ حضرت سعدؓ بن عبادہ جیسے بڑے صحابی سے اس بارہ میں جو غلطی ہوئی (جو اگر دب گئی ہوتی تو اس کے نتیجہ میں انصار اور مہاجرین میں تفریق ہو جاتی) اِس کا نتیجہ حضرت سعد کو دُنیا ہی میں بھگتنا پڑا، روایات میں یہ ہے کہ اُن کو جنات نے قتل کر دیا اور مدینہ میں یہ آواز سنائی دی اور بولنے والا کوئی نظر نہ آیا۔

قتلنا سید الخزرج سعد بن قتادة رمیناہ بسھم فلم یخط فوادہ

اس واقعہ نے مثال قائم کر دی اور سبق دیا کہ اچھے سے اچھا آدمی بھی اگر قومیّت یا علاقہ کی بنیاد پر اپنی اُمتّی حیثیت کو توڑے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کو توڑ کے رکھ دے گا۔

اُمّت جب بنے گی جب اُمت کے سب طبقے بلا تفریق اُس کام میں لگ جائیں جو حضور ﷺ دے کے گئے ہیں۔ اور یاد رکھو اُمّت کو توڑنے والی چیزیں معاملات اور معاشرت کی خرابیاں ہیں۔ ایک فرد یا طبقہ جب دوسرے کے ساتھ نا انصافی اور ظلم کرتا ہے اور اُس کا پورا حق اُس کو نہیں دیتا یا اُس کو تکلیف پہنچاتا ہے یا اس کی تحقیر اور بے عزتی کرتا ہے تو تفریق پیدا ہوتی ہے اور اُمت ٹوٹتی ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ صرف کلمہ اور تسبیح سے اُمت نہیں بنے گی۔ اُمّت معاملات اور معاشرت کی اصلاح سے اور سب کا حق ادا کرنے اور سب کا اکرام کرنے سے بنے گی بلکہ جب بنے گی جب دوسروں کے لئے اپنا حق اور اپنا مفاد قربان کیا جائے گا۔ حضور ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ نے اپنا سب کچھ قربان کر کے اور اپنے پر تکلیفیں جھیل کے اس اُمّت کو اُمّت بنایا تھا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک دِن لاکھوں کروڑوں روپے آئے اُن کی تقسیم کا مشورہ ہوا، اُس وقت اُمت بنی ہوئی تھی، یہ مشورہ کرنے والے کسی ایک ہی قبیلہ یا ایک ہی طبقہ کے نہ تھے بلکہ مختلف طبقوں اور قبیلوں کے وہ لوگ تھے، جو حضور ﷺ کی صحبت کے اعتبار سے بڑے اور خواص سمجھے جاتے تھے، اُنہوں نے مشورہ سے باہم طے کیا کہ تقسیم اس طرح پر ہو کہ سب سے زیادہ حضور ﷺ کے قبیلے والوں کو دیا جائے اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ کے قبیلہ والوں کو، پھر حضرت عمرؓ کے قبیلہ والوں کو اِس طرح حضرت عمرؓ کے اقارب تیسرے نمبر پر آئے۔ جب یہ بات حضرت عمرؓ کے سامنے رکھی گئی تو آپ نے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا اور فرمایا کہ اس اُمت کو جو کچھ ملا ہے اور مل رہا ہے حضور ﷺ کی وجہ سے اور آپ کے صدقے میں مل رہا ہے، اس لئے بس حضور ﷺ ہی کے تعلق کو معیار بنایا جائے جو نسب میں آپ ﷺ سے زیادہ قریب ہوں اُن کو زیادہ دیا جائے جو دوم، سوم، چہارم نمبر پر ہوں اُن کو اُسی نمبر پر رکھا جائے۔ اس طرح سب سے زیادہ بنی ہاشم کو دیا جائے، اس کے بعد بنی عبد المناف کو، پھر قصی کی اَولاد کو، پھر کلاب کو، پھر کعب کو، پھر مرّہ کی اولاد کو، اس حساب سے حضرت عمرؓ کا قبیلہ بہت پیچھے پڑ جاتا تھا اور اُس کا حصہ بہت کم ہو جاتا تھا۔ مگر حضرت عمرؓ نے یہی فیصلہ کیا اور مال کی تقسیم میں اپنے قبیلہ کو اسی قدر پیچھے ڈال دیا۔ اور اس طرح اُمّت بنانے کی خاطر آپ نے اپنا مفاد دوسروں پر قربان کر دیا۔

اُمت بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ سب کی یہ کوشش ہو کہ آپس میں جوڑ ہو، پھوٹ نہ پڑے۔ حضور ﷺ کی ایک حدیث کا مضمون ہے کہ قیامت میں ایک آدمی لایا جائے گا جس نے دنیا میں نماز، روزہ، حج، تبلیغ سب کچھ کیا ہو گا مگر وہ عذاب میں ڈالا جائے گا، کیونکہ اُس کی کسی بات نے اُمت میں تفریق ڈالی ہو گی اُس سے کہا جائے گا پہلے اپنے اس ایک لفظ کی سزا بھگت لے جس کی وجہ سے اُمت کو نقصان پہنچا اور ایک دوسرا آدمی ہو گا جس کے پاس نماز، روزہ، حج وغیرہ کی بہت کمی ہو گی اور وہ خدا کے عذاب سے بہت ڈرتا ہو گا مگر اس کو بہت ثواب سے نوازا جائے گا۔ وہ خود پوچھے گا کہ یہ کرم میرے کس عمل کی وجہ سے ہے؟ اُس کو بتایا جائے گا کہ تُو نے فلاں موقع پر ایک بات کہی تھی جس سے اُمت میں پیدا ہونے والا ایک فساد رُک گیا اور بجائے توڑ کے جوڑ پیدا ہو گیا۔ یہ سب تیرے اُسی لفظ کا صلہ اور ثواب ہے۔

اُمت کے بنانے اور بگاڑنے میں جوڑنے اور توڑنے میں سب سے زیادہ دخل زبان کا ہوتا ہے۔ یہ دلوں کو جوڑتی بھی ہے اور پھاڑتی بھی ہے، زبان سے ایک بات غلط اور فساد کی نکل جاتی ہے تو اس پر لاٹھی چل جاتی ہے اور ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے اور زبان سے نکلی ہوئی ایک ہی بات جوڑ پیدا کر دیتی ہے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو ملا دیتی ہے۔ اس لئے سب سے زیادہ ضرورت اس کی ہے کہ زبانوں پر قابو ہو اور یہ جبھی ممکن ہے کہ بندہ ہر وقت یہ خیال رکھے کہ خدا ہر وقت اور ہر جگہ اس کے ساتھ ہے اور اس کی ہر بات کو سُن رہا ہے۔

مدینہ میں انصار کے دو قبیلے تھے، اوسؔ اور خزرجؔ، ان میں پشتوں سے عداوت اور لڑائی چلی آرہی تھی۔ حضور ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ پہنچے اور انصار کو اسلام کی توفیق ملی تو حضور ﷺ کی اور اسلام کی برکت سے اُن کی پشتوں کی لڑائیاں ختم ہو گئیں اور اوسؔ اور خزرجؔ شیر و شکر ہو گئے۔ یہ دیکھ کر یہودیوں نے اسکیم بنائی کہ کسی طرح اُن کو پھر سے لڑایا جائے۔ ایک مجلس میں جس میں دونوں قبیلوں کے آدمی موجود تھے۔ ایک سازشی آدمی نے ان کی پرانی لڑائیوں سے متعلق کچھ شعر پڑھ کر اشتعال پیدا کر دیا۔ پہلے تو زبانیں ایک دوسرے کے خلاف چلیں، پھر دونوں طرف سے ہتھیار نکل آئے۔ حضور ﷺ سے کسی نے جا کر کہا۔ آپ فوراً تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے ہوتے ہوئے تم آپس میں خون خرابہ کرو گے! آپ ﷺ نے بہت مختصر مگر درد سے بھرا ہوا خطبہ دیا جس سے دونوں فریقوں نے محسوس کر لیا کہ ہمیں شیطان نے ورغلایا، دونوں روئے اور گلے ملے پھر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ﴿ـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَلا تَموتُنَّ إِلّا وَأَنتُم مُسلِمونَ ﴿١٠٢﴾...سورة البقرة " اے مسلمانو! خدا سے ڈرو جیسا اُس سے ڈرنا چاہئے اور مرتے دم تک پورے پورے مسلم اور خدا کے فرمانبردار بندے بنے رہو''

جب آدمی ہر وقت خدا کا خیال رکھے گا اُس کے قہر و عذاب سے ڈرتا رہے گا اور ہر دم اس کی تابعداری کرے گا تو شیطان بھی اُسے نہیں بہکا سکے گا اور اُمّت پھوٹ سے اور ساری خرابیوں سے محفوظ رہے گی۔

﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّ‌قوا ۚ وَاذكُر‌وا نِعمَتَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ كُنتُم أَعداءً فَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِكُم فَأَصبَحتُم بِنِعمَتِهِ إِخو‌ٰنًا وَكُنتُم عَلىٰ شَفا حُفرَ‌ةٍ مِنَ النّارِ‌ فَأَنقَذَكُم مِنها...١٠٣﴾... سورة آل عمران

اور اللہ کی رسّی کو یعنی اس کی کتابِ پاک اور اُس کے دین کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو، یعنی پوری اجتماعیت کے ساتھ اور اُمت ہونے کی صفت کے ساتھ سب مل جل کر دین کی رسی کو تھامے رہو اور اس میں لگے رہو اور قوم کی بنیاد پر یا علاقہ کی بنیاد پر یا زبان کی بنیاد پر، یا کسی اور بنیاد پر۔ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو اور اللہ کے اُس احسان کو نہ بھولو کہ اُس نے تمہارے دلوں کی وہ عداوت اور دشمنی ختم کر کے، جو پشتوں سے تم میں چلی آرہی تھی، تمہارے دلوں میں اُلفت پیدا کر دی اور تمہیں باہم بھائی بھائی بنا دیا اور تم (آپس میں لڑتے وقت) دوزخ کے کنارے پر کھڑے تھے، بس گرنے ہی والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو تھام لیا اور دوزخ سے بچا لیا۔''

شیطان تمہارے ساتھ ہے جو ہر آن تمہیں بہکاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ تم میں ایک گروہ ایسا ہر جس کا موضوع ہی بھلائی کی اور نیکی ی طرف بُلانا اور ہر برائی اور فساد سے روکنا ہو ﴿وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ‌ وَيَأمُر‌ونَ بِالمَعر‌وفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ‌ ۚ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ١٠٤﴾... سورة آل عمرن" اُمت میں ایک گروہ وہ ہو جس کا کام اور موضوع ہی یہ ہو کہ وہ دین کی طرف اور ہر قسم کی خیر کی طرف بلائے۔ ایمان کے لئے اور خیر اور نیکی کے راستہ پر چلنے کے لئے محنت کرتا رہے، نمازوں پر محنت کرے، ذکر پر محنت کرے۔ حضور کے لائے ہوئے علم پر محنت کرے، برائیوں اور معصیتوں سے بچانے کے لئے محنت کرے اور محتنوں کی وجہ سے اُمت ایک اُمت بنی رہے۔

﴿وَلا تَكونوا كَالَّذينَ تَفَرَّ‌قوا وَاختَلَفوا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ البَيِّنـٰتُ ۚ وَأُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ عَظيمٌ ﴿١٠٥﴾...سورة آل عمران

''جو لوگ ان ہدائتوں کے بعد بھی شیطان کی پیروی کر کے اور الگ راہوں پر چل کے اختلاف پیدا کریں گے اور اُمت کی حیثیت کو توڑیں گے، تو اُن پر خدا کی سخت مار پڑے گی۔ ﴿وَأُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ عَظيمٌ﴾

دین کی ساری تعلیم اور ساری چیزیں جوڑنے والی ہیں۔ نماز میں جوڑ ہے، روزہ میں جوڑ ہے۔ حج میں قوموں اور ملکوں اور مختلف زبان والوں کا جوڑ ہے، تعلیم کے حلقے جوڑنے والے ہیں۔ مسلمانوں کا اکرام اور باہم محبت اور تحفہ تحائف کا لین دین یہ سب جوڑنے والی اور جنت میں لے جانے والی چیزیں ہیں اور قیامت میں ان اعمال کے لئے محنتیں کرنے والوں کے چہرے نورانی ہوں گے اور ان کے برخلاف باہم بعض و حسد، غیبت، چغلخوری، توہین و تحقیر اور دل آزاری یہ سب پھوٹ ڈالنے والے اور توڑنے والے اور دوزخ میں لے جانے والے اعمال ہیں اور ان اعمال والے آخرت میں رُو سیاہ ہوں گے۔

﴿يَومَ تَبيَضُّ وُجوهٌ وَتَسوَدُّ وُجوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذينَ اسوَدَّت وُجوهُهُم أَكَفَر‌تُم بَعدَ إيمـٰنِكُم فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُر‌ونَ ﴿١٠٦﴾ وَأَمَّا الَّذينَ ابيَضَّت وُجوهُهُم فَفى رَ‌حمَةِ اللَّهِ هُم فيها خـٰلِدونَ ﴿١٠٧﴾... سورة آل عمران ''جنہوں نے پھوٹ ڈال کے اور پھوٹ والے اعمال کر کے اُمت کو توڑا ہو گا، وہ قیامت کے دن قبروں سے کالے منہ اُٹھیں گے اور اُن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان و اسلام کے بعد کفر والوں کا طریقہ اختیار کیا، اب تم یہاں دوزخ کا عذاب چکھو اور جو ٹھیک راستہ پر چلتے رہے ہوں گے اُن کے چہرے نورانی اور چمکتے ہوئے ہوں گے۔ اور وہ ہمیشہ اللہ کی رحمت میں اور جنت میں رہیں گے۔''

میرے بھائیو دوستو! یہ سب آیتیں اس وقت اُتری تھیں، جب یہود نے نصاریٰ میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی اور اُن کے دو قبیلوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا تھا۔ اِن آیتوں میں مسلمانوں کی باہمی پھوٹ اور لڑائی کو کفر کی بات کہا گیا ہے اور آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔ آج ساری دُنیا میں اُمت کو توڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں' اس کا علاج اور توڑ یہی ہے کہ تم اپنے کو حضور ﷺ والی محنت میں لگا دو، مسلمانوں کو مسجدوں میں لاؤ، وہاں ایمان کی باتیں ہوں، تعلیم اور ذکر کے حلقے ہوں دین کی محنت کے مشورے ہوں، مختلف طبقوں کے اور مختلف برادریوں کے اور مختلف زبانوں والے لوگ مسجد نبوی کے طریقہ پر ان کاموں میں جُڑیں۔ ان باتوں سے بچیں جن سے شیطان کو پھوٹ ڈالنے کا موقع ملے، جب تین بیٹھیں تو اس کا خیال رکھیں کہ چوتھا ہمارے ساتھ اللہ ہے۔ چار پانچ بیٹھیں تو ہمیشہ یاد رکھیں کہ پانچواں یا چھٹا اللہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے۔ اور وہ ہماری ہر بات سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ ہم اُمّت بنانے کی بات کر رہے ہیں یا اُمت توڑنے کی۔ ہم کسی کی غیبت اور چغل خوری تو نہیں کر رہے، کسی کے خلاف سازش تو نہیں کر رہے۔ یہ اُمّت حضور ﷺ کے خون اور فاقوں سے بنی تھی۔ اب ہم اپنی معمولی معمولی باتوں پر اس کو توڑ رہے ہیں، یاد رکھو نماز جمعہ چھوڑنے پر اتنی پکڑ نہیں ہو گی جتنی اُمت کے توڑنے پر ہو گی۔ اگر مسلمان پھر سے اُمت بن جائیں تو وہ دنیا میں ہرگز ذلیل نہ ہوں گے، رُوس اور امریکہ کی طاقتیں بھی اُن کے سامنے جھکیں گی اور اُمّت تب بنے گی جب ﴿اَذِلَّةٍ عَلَيْ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾ پر مسلمانوں کا عمل ہو۔ یعنی ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے مقابلہ میں چھوٹا بننے اور ذلّت و تواضع اختیار کرنے کو اپنائے۔ جب مسلمانوں میں یہ صفت آجائے گی تو وہ دنیا میں 'اَعِزَّة عَلَى الْكفِرِينَ' یعنی کافروں کے مقابلہ میں زبردست اور غالب ضرور ہوں گے چاہے وہ کافر یورپ کے ہوں یا ایشیا کے۔

میرے بھائیو دوستو! اللہ و رسول ﷺ نے ان باتوں سے شدت اور سختی سے منع فرمایا ہے جن سے دلوں میں فرق پڑے اور پھوٹ کا خطرہ بھی ہو، دو دو چار چار الگ الگ کانا پھوسی کریں، اس سے شیطان دلوں میں بدگمانی پیدا کر سکتا ہے۔ لہٰذا اس سے منع فرمایا اور اس کو شیطانی کام بتایا۔ ﴿نَّمَا النَّجوىٰ مِنَ الشَّيطـٰنِ لِيَحزُنَ الَّذينَ ءامَنوا وَلَيسَ بِضارِّ‌هِم شَيـًٔا إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ...١٠﴾... سورة المجادلة" اسی طرح تحقیر اور استہزاء اور تمسخر سے منع فرمایا گیا۔﴿لا يَسخَر‌ قَومٌ مِن قَومٍ عَسىٰ أَن يَكونوا خَيرً‌ا مِنهُم...١١﴾... سورة الحجرات" نیز اگر دوسرے کی کوئی برائی کسی کو معلوم ہو گئی ہو تو اس کو دوسروں کے سامنے ذکر کرنے سے منع فرمایا، غیبت کو حرام قرار دیا۔ غیبت یہ ہے کہ جو واقعی برائی کسی کو معلوم ہو اُس کا ذکر کسی سے کیا جائے۔ ........ ﴿وَلا يَغتَب بَعضُكُم بَعضًا﴾ یہ تحقیر اور تمسخر اور تجسس اور غیبت، سب وہ چیزیں ہیں جو آپس میں تفرقہ پیدا کر کے اُمت کو توڑتی ہیں لہٰذا ان سب کو حرام قرار دیا گیا۔ اور ایک دوسرے کا اکرام و احترام کرنا جس سے اُمت بنتی نہیں بگڑتی ہے۔ اُمت جب بنے گی جب ہر آدمی یہ طے کرے کہ میں عزت کے قابل نہیں ہوں اور دوسرے سب لوگ اس قابل ہیں کہ میں اُن کی عزت کروں اور اُن کا احترام کروں۔

اپنے نفسوں اور اپنی ذاتوں کو قربان کیا جائے گا تو اُمت بنے گی اور اُمت بنے گی تو عزت ملے گی، عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے اور اُس کے ہاں اُصول اور ضابطہ ہے، جو شخص، قوم، خاندان یا طبقہ، چمکانے والے اُصول اور اعمال لاوے گا اُس کو چمکا دیا جائے گا جو مٹنے والے کام کرے گا اُس کو مٹا دیا جائے گا، یہود نبیوں کی اولاد ہیں لیکن اُصول توڑے تو اللہ نے ٹھوکر مار کر اُن کو توڑ دیا۔ صحابہ کرامؓ بت پرستوں کی اولاد تھے، اُنہوں نے چمکانے والے اُصول اختیار کیے تو اللہ نے اُن کو چمکا دیا۔ اللہ کی رشتہ داری کسی سے نہیں ہے اُس کے ہاں اُصول اور ضابطہ ہے۔

دوستو! اپنے کو اس محنت پر جھونک دو کہ حضور کی اُمت، اُمت بن جائے، اس میں ایمان و یقین آجائے۔ یہ ذکر و تسبیح اور تعلیم والی، خدا کے سامنے جھکنے والی، خدمت کرنے والی، برداشت کرنے والی اور دوسروں کا اعزاز و اکرام کرنے والی اُمت بن جائے۔ نجویٰ نہ کرنے والی، نافرمانی نہ کرنے والی، اپنے بھائیوں اور ساتھیوں کی تحقیر اور اُن سے تمسخر نیز تجسس و غیبت نہ کرنے والی اُمّت بن جائے۔ اگر کسی ایک علاقہ میں بھی یہ محنت اس طرح ہونے لگے جس طرح ہونی چاہئے تو ساری دُنیا میں بات چل پڑے۔ اب اس کا اہتمام کرو کہ مختلف قوموں، علاقوں اور طبقوں اور مختلف زبان والوں کو جوڑ جوڑ کر جماعتوں میں بھیجو اور اُصول کی پابندی کراؤ۔ پھر انشاء اللہ اُمت بننے والا کام ہو گا اور شیطان اور نفس، خدا نے چاہا تو کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔'