خدا خدا کر کے ملک کو وفاقی جمہوری اور اسلامی دستور مل گیا۔ اور یہ 'بے آئین سر زمین' دستور سے ہمکنار ہو گئی۔ لیکن شروع سے جو چیز ہمارے لئے وجہ حيرت بنی رہی۔ وہ یہ تھی کہ جو پارٹی، وفاقی، جمہوری اور اسلامی نعرے لگاتی رہی جب وقت آیا تو وہ اس کے لئے بآسانی تیار کیوں نہ ہو سکی اور سب سے بڑھ کر جس بات نے اس کو فاش کر دیا وہ یہ تھی کہ روٹی، کپڑا اور مکان اس پارٹی کا گمراہ کُن اور بنیادی نعرہ تھا۔ لیکن جب ''متحدہ جمہوری محاذ'' نے یہ ترمیم صدر بھٹو کے سامنے رکھی کہ:

'حکومت روٹی، کپڑا، مکان، علاج، تعلیم اور روزگار کی ضمانت دے، خواہ اس کے لئے کسی مدت کا تعین کیوں نہ کر دیا جائے' تو اس کو بالخصوص اُنہوں نے ٹھکرا دیا۔' (ملاحظہ ہو نوائے وقت ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۳ء)

اسی طرح 'عوام' کا نام لے لے کر وقت پاس کرنے والوں کے سامنے جب یہ ترمیم رکھی گئی کہ:

'ہر شہری کو اس بات کا حق حاصل ہو کہ عدالتِ عالیہ میں کسی قانون کی اس بنیاد پر چیلنج کر سکے کہ وہ قانونِ اسلامی احکامات کے خلاف ہو' تو اس کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ (ملاحظہ ہو نواے وقت ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۳ء)

اس سے زیادہ لچسپ یہ لطیفہ رہا کہ انہی خصوصی مصلحتوں کی بنا پر اپوزیشن کی حکومت بڑی منتوں اور وعدوں کے ساتھ منا کر لائی مگر ۱۶ اپریل کو صدر بھٹو نے متحدہ جمہوری محاذ پر یہ الزام لگایا کہ:

'عوام کے دباؤ کی وجہ سے اس نے بائیکاٹ ختم کیا تھا۔' اس کے بعد انہوں نے ان کے اس تعاون کا مذاق بھی اُڑایا (ریڈیو پاکستان) جس کی اُنہوں نے داد بھی دی تھی۔

بہرحال دستور بن جانے کے بعد دستور کا تفصیل نفاذ بھی انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ جنہوں نے 'روپیٹ' کر ترمیمیں قبول کیں اور قوم کو دستور دیا۔ اس لئے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ عملی میدان میں ل اس کا کیا حشر ہو۔ کیونکہ دستور کی رُوح کا تحفظ، دستور کے الفاظ اور دفعات کے ذریعے بہ مشکل ہوتا ہے، اس کو اگر امان مل سکتی ہے تو وہ صرف 'نیک نیتی، خدا خوفی اور ملک دوستی' کے ذریعے ہی مل سکتی ہے۔ دستور کے الفاظ اور دفعات کو ایچ پیچ اور شاطرانہ تاویلوں ک ذریعے شکار کرنا کچھ زیادہ مشکل بات نہیں ہوتی اور یہ خطرہ اور اندیشہ بدستور باقی ہے۔ کیوں کہ اس دستور کی جان جن لوگوں کے قبضہ میں ہے، وہ نہیں بدلے۔ یہ وہی ہیں جو منشور دے کر پوری قوم کے سامنے اُڑ گئے ہیں کہ روٹی، کپڑا اور مکان کی ضمانت کی باتیں قبول کرنا مشکل ہے۔ جو اپنے منشور کو پسِ پشت ڈال سکتے ہیں۔ وہ اس دستور کے ساتھ کیا کچھ نہیں کریں گے جو بڑی مشکل سے اُن سے اگلوایا گیا ہے۔

اگر پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے تو اُس کے فرمانرواؤں کو اسلامی علم و حکمت اور کردار کا حامل ہونا چاہئے۔ ورنہ 'زبانِ یار من تر کی ومن ترکی نمی دانم' والی بات رہے گی۔ وہ بھلے آدمی جن پر ایک اسلامی حکومت بھروسہ کر سکتی ہے، اُن کی سیرت کا جلی عنوان اور پاک زندگی کی شہ سُرخی 'اقامتِ نماز' ہے جو لوگ اس سلسلہ میں خام ہوتے ہیں۔ وہ کاروبار حکومت کے اور کسی شعبہ میں بھی قابلِ اعتماد نہیں رہتے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مملکت کی کلیدی اسامیوں کے حکمرانوں کو تحریر فرمایا تھا کہ:

«إن أھم أمورکم عندي الصلوٰة من حفظھا وحافظ عليھا حفظ دينه ومن ضيعھا فھو لما سواھا ضيع» (موطا مالك)

''تمہارے سب کاموں سے میرے نزدیک جو بات سب سے اہم ہے وہ نماز ہے، جس نے اس کو یاد رکھا اور اس کا کما حقہ تحفظ کیا اس نے اپنے دین کو محفوظکر لیا اور جس نے اس کو ضائع کر دیا تو اس کے علاوہ اور ہر شے کے لئے اس کو غارت گر تصور کیا جائے گا۔''

کیونکہ نماز خدا کے قرب کا باعث ہے:

﴿وَاسجُد وَاقتَرِ‌ب ١٩﴾... سورة العلق" سجدہ کر (یعنی نماز پڑھ) اور قریب ہو جا!

سرکاری مذہب رکھنے والی مملکت کے سربراہ کو 'خدا کا مقرب' ہونا چاہئے تاکہ اس کے ملک میں صحیح نیابت کا فریضہ انجام دے سکے۔ نماز اسلامی سیرت کی تشکیل میں بڑی معاون ثابت ہوتی ہے۔ ان بے حیائیوں اور منکرات سے روکتی ہے جو 'بندۂ مومن' کی سیرت کو کھوکھلا کر دیتی ہے:

﴿إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ تَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ‌...٤٥﴾... سورة العنكبوت ''یقین کیجئے! نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔''

شراب کی لت بتدریج چھوٹی جاتی ہے، کیونکہ حکم ہے کہ:

﴿لا تَقرَ‌بُوا الصَّلو‌ٰةَ وَأَنتُم سُكـٰر‌ىٰ...٤٣﴾... سورة النساء 'نشہ میں نماز کے قریب نہ جایا کرو۔''

حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو تارکِ نماز ہے اس کا حشر

«کان یوم القیٰمه مع قارون و ھامان وأبي بن خلف» (مشکوٰۃ)

قیامت کے دن قارون، ہامان اور (رئیس المنافقین) ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔

ظاہر ہے جن لوگوں کا سفر 'قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف جیسے جبابرہ اور منافق لوگوں کی طرف جاری رہتا ہے وہ جمہوری لیڈر نہیں بن سکتے اور نہ ملک و ملت کے لئے (ظل اللہ) اللہ کا سایۂ رحمت ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہمارے برحق خلفاء نماز کی حالت میں شہید ہوئے یا نماز کی تیاری کرتے ہوئے محرابِ مسجد میں شہادت پائی یا تلاوتِ قرآن کرتے ہوے خنجر کا نشانہ بنے۔ حضرت عمرؓ نے نماز کی تکبیر کہی تو خنجر کا نشانہ بنے۔ حضرت عثمانؓ تلاوت کرتے ہوئے جب آپ 'فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم' پر پہنچے تو سر تن سے جدا ہوا، حضرت علیؓ مسجد میں داخل ہوئے۔ نمازیوں کو جگا رہے تھے کہ خنجر چلا اور محراب مسجد میں جا گرے۔ اور بقول شیعان علی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سجدہ میں ہی جان، جان آفریں کے حوالے کی۔

ہمیں پاکستان جیسی اسلامی مملکت کے لئے وہ حکمران نہیں چاہئیں، جن کا دل مسجد سے زیادہ میخانے میں لگتا ہو۔ قسمت سے مسجد میں جائیں تو کیمرے اُن کی مدد کو پہنچیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے سامنے اُن حکمرانوں کے ایک دو پہلو اور چند حالات رکھے جائیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلامی مملکت کا چارج سنبھالا اور پھر اس کا حق ادا کر دیا۔ تاکہ آپ اندازہ کر سکیں کہ وہ اسلامی مملکت، جس کے لئے اسلام کو سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے، کی دستور ساز اسمبلی کے اراکین، وزراء اور صدر کیسے ہونے چاہئیں؟

قرآن و حدیث کے علم میں ان سب کا مقام بہت اُونچا تھا۔ کیونکہ یہ دونوں اسلامی مملکت کی بناد ہیں، مملکت کا سرکاری مذہب اسلام ہو، اور مملکت کا سربراہ قرآن و حدیث سے بے بہرہ ہو، اس کی نا اہلیت کی سب سے بڑی دلیل سمجھی جاتی تھی۔

دارمی میں ایک روایت ہے کہ مکہ کے ایک گورنر اطلاع دیئے بغیر اچانک حضرت عمرؓ کی خدمت میں عسفان میں تشریف لے آئے۔ پوچھا کہ 'پیچھے کس کو مقرر کر کے آئے؟'' عرض کی کہ ''فلاں غلام کو کیونکہ وہ قرآن حکیم کا بڑا عالم ہے۔'' بس پھر کیا تھا حضرت عمر جھُوم اُٹھے اور فرمایا حضور ﷺ نے سچ فرمایا تھا:

«إن اللہ یرفع بھذا الکتاب أقواما ویضع به اخرین» (مختصراً دارمی ص ۴۴۲)

کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب (پاک) کے ذریعے بہت سی قوموں کو فعت دیتا ہے اور بہت سی اقوام کو پستی میں گرا دیتا ہے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بصرہ کے گورنر تھے، حافظِ قرآن تھے اور جب تلاوت کرتے تو محوّیت طاری ہوجاتی۔ (الاستیعاب)

حضرت ابو بکرؓ نے گھر میں ایک چھوٹی سی مسجد بنا رکھی تھی۔ جس میں (قبل ہجرت) نماز اور تلاوتِ قرآنِ پاک کیا کرتے تھے۔ آپ جب تلاوت کرتے تو بہت گریہ کرتے۔ (کان أبو بکر رجلا بکاء لا یملك عینیه إذا قرء القرآن۔ بخاری) کفار مکہ اس سے گھبراتے تھے کہ ان کا یہ نظارہ دیکھ کر ہمارے بچے مسلمان ہو جائیں گے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ جب حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اُن سے فرماتے۔ ہم کو خدا کا شوق دلاؤ یعنی قرآن سناؤ اور پھر پوری محوّیت سے سنتے۔ (ابن سلام)

مؤرخین نے تصریح کی ہے کہ حضرت عمرؓ قرآن حکیم سے استدلال کرنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔

حضرت عثمانؓ کے شغف بالقرآن کا اندازہ صرف اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ تلاوت کرتے وقت ان کا سر قلم کیا گیا تھا۔ (استیعاب)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تفسیر اور قرآنی علوم میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔ اُن کا یہ دعویٰ تھا کہ میں بتا سکتا ہوں کہ یہ آیت کہاں، کیوں اور کس شخص کے بارے میں نازل ہوئی تھی (ابن سلام)

خوفِ خدا کا یہ عالم تھا کہ اگر کبھی اچھی چیز کھانے پینے کے لئے سامنے آگئی تو وہاں رہ گئی، بس رو رو کر گزار دی۔ کانٹا دیکھا تو بول اُٹھے کہ کاش میں کانٹا ہوتا، جانور کھاتے اور اس طرح میں اُن کے کام آجاتا۔ پرندہ دیکھا تو تڑپ اُٹھتے کہ ان کو قیامت کے حساب کتاب کی تو فکر نہیں، مجھ سے تو یہی اچھے۔ مرنے کا وقت آیا تو کہا کہ میرے گھر کا سب سامان سرکاری بیت المال میں جمع کر دینا اور میرے تن بدن کے انہی کپڑوں کو دھوکہ انہی میں مجھے کفنانا۔

ایک صحابی حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

أبو بکر لم یرد الدنیا ولم تردہ وأما عمر فأرادته ولم یردھا (البدایہ)

کہ حضرت ابو بکرؓ نے دنیا کی خواہش کی نہ دُنیا نے ان کو چاہا۔ ہاں دنیا نے حضرت عمرؓ کی طرف رُخ ضرور کیا مگر انہوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔

باقی رہے ہمارے فوجی؟ سو اُن کے متعلق ایک دشمنِ دین کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں کہ وہ کیا کہتے تھے۔ ہرقل (ہرکلیس) رومی کو جب شکست ہوئی تو اس نے اس کے بارے میں رپورٹ طلب کی۔ چنانچہ ایک بوڑھے رُومی نے ان سے کہا:

'من أجل أنھم یقومون اللیل ويصومون النھار ويوفون بالعھد ويأمرون بالمعروف وينھون عن المنكر و يتناصفون بينھم ومن أجل إنا نشرب الخمر و نزني ونركب الحرام وننقض العھد وتفصب ونظلم ونأمر بالسخط وننھي عما يري الله ونفسد في الأرض' فقال 'أنت صدقتني' (البدایہ)

اس لئے کہ وہ (یعنی اسلامی لشکر) رات کو تہجد پڑھتے ہیں، دن بھر روزہ رکھتے ہیں، ایفائے عہد کرتے ہیں بھلے کاموں کا حکم کرتے ہیں برے کاموں سے روکتے اور باہم انصاف سے کام لیتے ہیں (لیکن ان کے برعکس) ہم شراب نوش، بدکار او بدکوش ہیں۔ بد عہدی کرتے ہیں، لوٹ کھسوٹ اور ظلم و عدوان ہمارا شیوہ ہے۔ خدا کو ناراض کرنے والی باتوں کی تلقین کرتے ہیں اور جن اُمور سے رب راضی ہوتا ہے اُن سے روکتے ہیں اور فساد فی الارض کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ سن کر ہرقل نے کہا، 'تم نے سچ کہا۔'

جب حکام اپنی سرکاری حیثیت میں بھی مذکورہ بالا کردار اور سیرت کے حامل تھے۔ تو ان کے زیر سایہ جو معاشرہ تیار ہوا تھا، اس کی تصویر کھینچتے ہوئے حضرت حسن بصریؒ (ف ۱۱۰ھ) فرماتے ہیں:

لقد صحبت أقواما يبيتون لربھم في سواد ھذا الليل سجدا وقياما يقومون ھذا الليل علي أطرافھم تسيل دموعھم علي خدودھم فمرة ركعا ومرة سجدا يناجون ربھم في فكاك رقابھم (قيام الليل)

کہ میں ایک ایسی جماعت میں رہا ہوں جو اس کالی رات میں سجدوں اور رکوع میں رات گزار دیا کرتی تھی اور یں کہ اُن کے رخساروں پر آنسو جاری ہوتے تھے اور اپنے رب کو پکارے جاتے کہ وہ ان کی خلاص کر دے۔

تختِ حکومت نے ان کے مزاج کو نہیں بگاڑا تھا بلکہ اور بڑھ کر خدمت گزار ہو کر چمکے تھے۔

مدینہ منورہ سے باہر ایک نابینا خاتون رہتی تھی۔ حضرت عمرؓ ان کی خدمت کیا کرتے تھے، کچھ دنوں کے بعد محسوس کیا کہ کوئی اور شخص بھی یہ خدمات انجام دے جاتا ہے۔ آخر ایک دن اُسے دیکھ ہی لیا کہ وہ خلیفۂ اوّل حضرت صدیقِ اکبؓر تھے۔ (کنز العمال)

حضرت عمرؓ کا یہ حال تھا کہ آٹے کی بوری اُٹھائے خود بڑھیا کے ہاں لے چلے ہیں۔ (کنز العمال)

بندوں کی خدمت اور اُن سے ہمدردی کی بات تو بڑی چیز ہے۔ انہوں نے چرند پرند کے معاملہ میں بھی انتہائی دل سوزی کے نمونے چھوڑے ہیں۔

کسی شخص کی چادر پر حرم کا ایک کبوتر بیٹھ گیا۔ اُس نے اُس کو اُڑا دیا۔ وہ یہاں سے اُڑ کر وہاں جا بیٹھا اور سانپ نے اُس کو کاٹ لیا اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ چلا تو انہوں نے کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا کہ اگر یہ اس کو نہ اُڑاتے تو اُس کو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ (مسند شافعی مختصراً)

مسکین نوازی حضرت علی کرم اللہ وجہ کا خصوصی نشان تھا۔ بھُوکے رہتے، اپنے بچوں تک کو بھُوکا رکھتے مگر سوالی کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے تھے (قرآن و حدیث)

علم کے لحاظ سے اُن کے تمام علوم و فنون کا مرجع قرآن و سنت تھا۔ زہد اور تقویٰ کے اعتبار سے ان کی زندگی کے ہر پہلو سے خوفِ خدا اور عشقِ رسول کی احتیاط اور ادب کا رنگ جھلکتا تھا۔ اُن کے دیکھے سے خدا یاد آتا تھا اُن کی سیاسی بصرت اور سوجھ بوجھ سے قیصر و کسرےٰ لرزہ براندام رہتے تھے۔ مگر اُن کے علم اور خدا ترسی کی وجہ سے وہ اپنے عوام کی اُمیدوں کی آماجگاہ تھے۔ ان کی قیادت میں جو معاشرہ تیار ہوا تھا، انتہائی پاکیزہ، باہوش، سخت کوش، ملک و ملت کا وفادار اور حد درجہ باضمیر تھا۔

وہ اپنی قوم کو گمراہ کر کے اس کا استحصال کرنے کو بہت بڑی کافری تصور کرتے تھے۔ وہ اپنا یہ بنیادی فریضہ تصور کرتے تھے کہ عوام کو صحیح سیاسی شعور، آنکھیں، دماغ اور دل کی وافر دُنیا عطا کی جائے۔ انہوں نے سیاسی رشوت کی کھیر کبھی نہیں بانٹی تھی۔ کیونکہ اس کو وہ قوم اور ملک سے پہلی اور سب سے بڑی غدّاری خیال کرتے تھے، بلکہ ملک و ملت کے لئے اہل ترین ایماندار اور دیانتدار لوگ انتخاب کرتے تھے۔ اِسلامی خصوصیات اور متعلقہ شعبہ کے سلسلہ میں خصوصی اہلیت اُن کا معیارِ انتخاب تھا۔ فوج کے لئے صرف فوج صلاحیت ڈھونڈتے تھے۔ سیاست و انتظام کے لئے سیاسی بصیرت کے حکام کو مقدم رکھتے تھے۔ اور مقدمات اور قضایا کے لئے 'اہل قضا' افراد کو آگے لاتے تھے۔

وہ کسی بھی شعبے میں کسی عیاش افسر اور ملازم کو برداشت نہیں کیا کرتے تھے۔ نعمان بن عدیؓ نیسان کے حاکم تھے، دولت و نعمت کے مروے میں پڑ کر اُنہوں نے اپنی بیوی کو ایک خط لکھا، جس میں یہ شعر بھی تھا۔

لَعَلَّ أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ يَسُوْءُه

تَنَاد مُنَا بِالْجَوْسَقِ الْمُتَھَدِّم

غالباً امیر المؤمنینؓ کو خبر پہنچے گی تو وہ برا مانیں گے کہ ہم لوگ محلوں میں رندانہ صحبتیں رکھتے ہیں۔

حضرت عمرؓ کو کسی طرح اس کی خبر ہو گئی تو اُں کو معزول کر دیا اور لکھا کہ 'ہاں! مجھ کو تمہاری یہ حرکت ناگوار ہوئی (اسد الغابہ۔ الفاروق)

افسروں اور گورنروں کے انتخاب کے لئے علاقے کے سنجیدہ افراد اور عوام کی طرف رجوع کیا جاتا تھا، جن کو وہ پسند کرتے ان کو مقرر فرماتے۔ نہ چاہتے تو معزول کر دیتے۔ (کتاب الخراج)

وہ براہِ راست عوام کے دکھ درد میں شریک رہتے تھے۔ اُن کی روٹی، کپڑے اور مکان اور بنیادی ضروریات کا خیال خیال رکھتے تھے۔ بھیس بدل کر اندھیروں میں گھوم پھر کر حالات کا پتہ چلاتے۔ اگر کوئی مصیبت زدہ فاقوں مر رہا ہوتا تو اُس تک اُں کی ضرورت کی چیزیں پہنچا کر دم لیتے۔ اسی قسم کے بے شمار واقعات کنز العمال میں درج ہیں۔

ان سطور کی تسوید سے عرض یہ بتانا ہے کہ جب کسی ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہوتا ہے تو ان کے حکمران بھی اُس کے مناسب حال اور شایانِ شان ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں۔ ورنہ بے جوڑ ٹانکا، اسلام کو بدنام کر دے گا یا وہ خود برے انجام سے دو چار ہوں گے اور ملک و ملت کو سب سے خطرناک ابتلاؤ آزمائش میں ڈال کر قوم کا برا کریں گے۔

اگر آپ نے نیک نیتی کے ساتھ ملک کے لئے اسلام کو سرکاری مذہب تسلیم کیا ہے تو قوم کو وہ ہاتھ بھی مہیا کیجئے جن میں قرآن سجے، جو نہ صرف خود نمازی ہوں بلکہ پیش امام ہونے کے اہل بھی ہوں۔ دوسری متعلقہ صلاحیتوں کے علاوہ جو خاص سرٹیفکیٹ اس باب میں ضروری اور مطلوب ہے، وہ اسلامی کیریکٹر قرآنی علم و عمل اور سنتِ رسول ﷺ کی شرم ہے، جو ان سے عاری ہے، وہ اس مملکت کا چپڑاسی بھی نہیں بن سکتا۔ چہ جائے کہ صدر وغیرہ کے عہدہ پر فائز کیا جائے۔

میزائل بنانے کے لئے مٹی کے برتن ساز کمہار کی تقرری مضحکہ خیز ہوتی ہے۔ بیمار کا علاج کرنا ہو تو جلا ہے کی طرف رُخ کرنا موت کو دعوت دینا ہوتا ہے، جراحی کے لئے مستند اور سپیشلسٹ ڈاکٹر درکار ہوتا ہے۔ اس کے لئے جلّاد کی خدمات کبھی کسی نے حاصل نہیں کیں۔ اگر حجامت کرانا ہو تو نای کو بلایا جاتا ہے۔ اُس کے لئے کبھی کسی نے لوہار کو عوت نہیں دی۔ مگر افسوس! اسلامی مملکت کے کاروبارِ حکومت کے لئے اہل کاروں کے انتخاب میں اتنی بھی احتیاط نہیں برتی جاتی جتنی اپنی حجامت کے لئے ایک نائی کے بارے میں ملحوظ رکھی جاتی ہے۔

دستور ساز وہ ہیں جو نہیں جانتے کہ دستور کیا ہے اور جو جانتے ہیں اُن میں اکثریت ان ارکان کی ہوتی ہے۔ جنہیں یہ معلوم نہیں کہ قرآن کیا ہے، سنت کس مقدس اسوۂ حسنہ کا نام ہے۔ اسلام کے کیا تقاضے ہیں، اسلاف کا طرزِ عمل کیا تھا اور اُن کے فرائض کیا ہیں؟

عموماً صدر اور وزراء کی ٹیم، اقتدار کا جھولا جھولنے والے شاطروں کا ایک ٹولہ ہوتا ہے، جن کو وحی الٰہی کی شرم ہوتی ہے اور نہ اس کا فہم، نہ غیرت، نہ احساس، نہ ہوش اور نہ فکر۔ آخر ان سے وہ قوم کیا توقع کر سکتی ہے جو ملک کو اسلامی مملکت بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ایک کمہار اُن کو میزائل بنا دے گا۔ یا ایک جولاہا، لبِ گور مریض کے لئے کوئی مسیحائی دکھائے گا؟

ملک کے پورے دستور میں سبھی کچھ ملے گا، اگر نہیں ملے گا تو صرف خود 'دستور سازوں اور حکمران ٹولے' کے لئے اسلامی معیارِ انتخاب کے اصول اور دستور، کیوں؟ صرف اس لئے کہ یہ لوگ اس لحاظ سے اَن فِٹ اور نا اہل ثابت ہو جائیں گے اور اگر یہی بات ہے تو اُن کو کس حکیم نے بتایا تھا کہ مملکت کے لئے اسلام کو سرکاری مذہب قرار دیں؟ لیکن اگر قرار دیا ہے تو پھر یہ جوانمردی نہیں کہ خود کو چھپاتے پھریں؟ اگر چھپیں گے تو بھی تابکے؟

ہمارا ایمان ہے کہ، قوم کو وفاقی جمہوری اور اسلامی دستور دینے والوں نے اگر جرأت سے کام لے کر قوم کو مملکت کے لئے اربابِ اقتدار اور حکمران گروہ بھی شایانِ شان اور مناسب مہیا کر دیئے تو نہ صرف ملتِ اسلامیہ کی قدیریں بدل جائیں گی، بلکہ تاریخ کی نگاہ میں یہ خود بھی لازوال ہو جائیں گے۔ کیا کوئی ہے جو اس دولت کا خریدار ہو؟

جائزے

(۱)

عرب اپنا جائزہ لیں:

عرب کو اسرائیل کی زیادتیوں کا شکوہ ہے اور بجا ہے۔ اسی طرح اُن کو یہ بھی گلہ ہے کہ بعض سپر طاقتیں اس کی پشت پناہی کر کے عرب کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ہمارے نزدیک اُن کا یہ الزام بھی درست ہے اور بجا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ گلہ کن سے ہے؟ اُں سے جوا گریہ زیادتیاں نہ کرتے تو حیرت ہوتی؟

دراصل ہمیں اصل گلہ خود عربوں سے ہے جو اپنی نجی مصلحتوں کی بنا پر، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے میں ناکامرہے، گلہ ان عرب حکمرانوں سے ہے جنہوں نے شخصی اور خاندانی اقتدار کو مقدم رکھا اور عوامی اقتدار کو پوران چڑھنے دیا۔ شکوہ ان عرب راجدلاروں سے ہے جنہوں نے ملک و ملت کو اس نظامِ اسلامی سے ابھی تک محروم رکھا جو ہماری دنیوی اور اخروی فوز و فلاح کا ضامن ہے۔ ہمیں گلہ ان عرب بھائیوں سے ہے جو نبی عربی ﷺ کے نظامِ سیاست کو چھوڑ کر مغربی اقوام کے چبائے ہوئے نوالوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ یقین کیجئے۔ ہمیں شکوہ ان عرب لیڈروں اور قوم کے ان بہی خواہوں سے ہے جنہوں نے باہم سر جوڑ کر اپنے مسائل حل کرنے کے بجائے ان بڑی طاقتوں کی ثالثی اور بندر بانٹ پر قناعت کرنے کو اپنا شعار بنا لیا ہے، جو کبھی نہیں چاہتے، کہ عرب قوم ایک ملتِ اسلامیہ کی حیثیت سے بیدار ہو۔

عرب بھائیو! قرآن تمہارے پاس ہے۔ رسول ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی امین بھی تمہاری یہی عرب سر زمین ہے۔ حضرت خلیلؑ، حضرت ذبیحؑ اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جیسے عظیم انبیاء کرام کا مسکن بھی یہی عرب خطے ہیں۔ اتنی عظیم دولت کے وارث ہو کر پھر کیوں 'غیر کے در' کی آس لگائی ہے اور اس کے بڑے نتائج کا مزہ چکھنے کے بعد بھی ابھی تک آپ ہوش میں نہیں آرہے؟

جب عرب یہ شکوہ کرتے ہیں کہ اسرائیلیوں نے ہمیں گھر میں آکر مارا ہے تو شرم سے ہماری گردنیں جھُک جاتی ہیں۔ خاص کر جب اس کا گلہ ان ظالم اور بخواہ طاقتوں کے پاس لے کر جاتے ہیں، جو یہ سبھی کچھ خود کرا رہی ہیں، تو عزتِ نفس کے خلاف ہمیں شدید جھٹکے محسوس ہونے لگتے ہیںَ آخر عرب خود کیوں بیدار اور منظم نہیں ہوتے؟ ابلیسی طاقتوں کی طرف رجوع کرنے کے بجائے قرآن و سنت کی طرف رُخ کیوں نہیں کرتے، استغفار اور توبہ سے کام کیوں نہیں لیتے؟ عرب تو خود ثالث رہا ہے۔ آج کسی غیر کی ثالثی کی بھیک مانگنے کے لئے کیوں اُٹھ دوڑا ہے۔ اقوام کے مسائل تمہارے پاس آتے تھے۔ آج اغیار کے دروازہ کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہوئے تمہیں غیرت کیوں نہیں آتی؟

(۲)

یہ صاحب مرکزی وزیرِ اطلاعات ہیں:

راولپنڈی ۷ء اپریل (پ پ ۱) مرکزی وزیر اطلاعات، نشریات، اوقاف و حج جناب کوثر نیازی آل پاکستان سگریٹ فروشان یونین کے کنوینشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ یہ کنوینشن جس کی صدارت وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو کریں گے، ۸ اپریل؍ کو ہوٹل میٹرول پول کراچی میں ہو گا۔ (روزنامہ وفاق لاہور ۸ء اپریل)
؎ با مسلماں اللہ اللہ بابرہمن رام رام

کبھی آنجناب فلمی ستاروں کو رونق بخشے ہیں، کبھی شیعہ دوستوں کے ماتمی جلسوں کی زینت بنتے ہیں۔ کبھی پاکپٹن تشریف لے جا کر بہشتی مورمی سے گزار کر قوم کو بہشت کا سرٹیفکیٹ مہیا کرتے ہیں۔ کبھی کسی عظیم ہستی کے عرس میں شرکت کرتے ہیں۔ ترنگ اُٹھتی ہے تو کعبہ کو بھی اُٹھ دوڑتے ہیں۔ قبروں کو غسل دینے والے کعبے کے غسل میں بھی شرکت فرماتے ہیں اور ملک میں عموماً ععظیم مقابر کی یاترا کو جاتے رہتے ہیں، دوسری طرف یہ روایت صدر بھٹو سات حج بھی کر ڈالے ہیں۔
؎ معشوق ما بشیوۂ ہرکس برابر است
ماما شراب خورد با زاہد نماز کرد

سیرت النبی اور میلاد شریف کے جلسوں کی قیادت بھی فرماتے ہیں اور خود تقریریں بھی کرتے ہیں۔ گو ان سے بھی پیپلز پارٹی کے مقاصد کی تکمیل کے لئے جواز ہی ڈھونڈتے ہیں۔ تاہم تقریر فرمایا ہی کرتے ہیں۔ دوسری طرف جناب نے اعلان فرمایا ہے کہ وہ صدر بھٹو کے سوانح مرتب فرمائیں گے۔ یا دوستوں نے سنا تو کہا:
جناب! تسلی رکھئے! صدر بھٹو کو آپ یاد ہیں!

(۳)

ملکی آئین کی توثیق کے بعد:

ملکی آئین کی توثیق اور منظوری کے موقعہ پر، حزبِ اقتدار اور اپوزیشن کے مابین جو خوشگوار فضا پیدا ہو گئی ہے، صدر بھٹو اور اُن کی اس پارٹی نے جو لاؤوڈ سپیکر کا کام دیتی ہے۔ جشن آئین کے آغاز ہی میں حزبِ اختلاف کے خلاف اچانک مہم چلا کر فضا کو پھر سے مکدّر کر دیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس خوشگوار فضا سے پیپلز پارٹی سے زیادہ اپوزیش کے وقار میں اضافہ ہوا ہے جو نئے انتخابات کے سلسلہ میں پیپلز پارٹی کے لئے وجہ پریشانی ہو سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک پیپلز پارٹی کی یہ وہ غیر جمہوری ذہنیت ہے، اپوزیشن ن کی مدتوں سے نشاندہی کرتی آرہی ہے۔

(۴)

ملکی آئین ہماری نگاہ میں:

حالیہ آئین کی حیثیت وہی ہے جو صرف ایک عام بے عمل کلمہ گو کی ہوتی ہے کہ ہم اس کو گو کافر نہیں کہہ سکتے تاہم اس کو کامل مومن اور پورا مسلم بھی نہیں کہہ سکتے۔ یہی حال ہمارے ملکی آئین کا ہے۔ گوہم اس کو کافرانہ دستور نہیں کہہ سکتے تاہم پورا مومنانہ ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ قرآنِ حکیم کا مطالبہ پورا پورا اسلام قبول کرنا ہے۔

﴿ادخُلوا فِى السِّلمِ كافَّةً...٢٠٨﴾... سورة البقرة

اجمالی طور پر آئین کے جو پہلو خام یا محل نظر ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں۔

(۱) قرآن و سنت کے مطابق قوانین بنانے کے لئے اس امر کی تشریح نہیں کی گئی کہ قرآن و سنت کی تعبیر کی نوعیت کیا ہو گی؟ سلفی یا خلفی؟ اس لئے ضروری ہے کہ اس امر کی ضمانت دی جاتی کہ قرآن و سنت کی تعبیر صرف وہی قبول کی جائے گی، جس کو اسلاف کی تعبیر سے مناسبت ہو گی۔ اس قید کے بغیر وہی ہو گا جو قرآن و سنت کے نام پر آج ہو رہا ہے۔

(۲) جمہوریت کی نوعیت بھی متعین کی جاتی کہ اسلام میں اس کی کیا نوعیت ہے؟

(۳) صدر اور وزراء اعظم کی علیحدگی کے لئے صرف چند نفوس کے عدم اعتماد کی قید پر انحصار نہ کیا جاتا بلکہ یہ بات بھی ان کی علیحدگی کے لئے کافی ہوتی کہ اُن میں سے کوئی 'کفر بواح' کا مرتکب ہو یا اُن کے مساعی اور ذاتی حیثیت کی وجہ سے اسلام اور شعائر دین کی بے حرمتی کے سامان عام ہو گئے ہوں اور ملک میں ان کی بدولت اسلام کے مستقبل کو کوئی تقویت نہ ملی ہو یا وہ کبائر کے مرتکب ہوئے ہوں۔

(۴) آزادیٔ رائے مشروط ہو کہ اسلام۔ ہاں وہ اسلام جس کا تصور اسلاف نے پیش کیا تھا، کے خلاف نہ ہو۔

(۵) صدر، وزراء اور ارکانِ اسمبلی کے لئے صرف مسلمان ہونا ہی کافی نہ ہو، بلکہ ضروری ہے کہ اُن کی مسلمانی پر اُن کا عملِ صالح شاہد ہو۔

(۶)وزراء کے لئے ضروری ہے کہ اُن کو متعلقہ شعبہ سے مناسبت حاصل ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا خاص خیال رکھا کرتے تھے (الفاروق) رنہ 'سیاسی رشوت' سے زیادہ اس کی حیثیت نہ ہو گی۔

(۷) تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کے لئے انہی معنوں میں مسلمان ہونا ضروری ہے، جن معنوں میں صدر اور وزیر اعظم کا مسلم ان ہونا ضروری ہے۔

(۸) غیر اسلامی تحریکوں کے لئے 'مسلمانوں' کو اپنے افکار کی تبلیغ کر کے مرتد کرنے کی اجازت نہ ہو۔

(۹) انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدوار کو (الف) مناسب صلاحیت (ب) قابلِ ذکر خدمات (ج) اور اسلامی اخلاق اور کیریکٹر کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ضروری ہو۔ بدنام اور کبائر کے مرتکب کے لئے الیکشن لڑنا ممنوع ہو۔ جو لوگ پہلے ممبر رہ چکے ہوں، اُن کا ریکارڈ چیک کیا جائے، اگر اُس نے واقعی قابلِ ذکر خدمات انجام دی ہوں اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ سے ملک و ملت کو ایک مقام وپا ہو تو بہتر، ورنہ دوبارہ اس کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ مٹی کے مادھؤوں اور دوسروں کے دم چھلوں اور ضمیموں کو نااہل قرار دیا جائے۔

(۱۰) جو قومی نمائندہ، وزیر، در یا سرکاری حکام، کسی کو نجی رقابت اور ذاتیات کی بنا پر ناحق نقصان پہنچانے کی کوشش کریں اور عدالت عالیہ میں اُن کا یہ عناد ثابت ہو جائے تو اُس کو اپنے منصب کے لحاظ سے نا اہل قرار دیا جائے۔

(۱۱) بعض سرکاری حکام اور حکومت کے بعض پہلوؤں کو عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر رکھنا، عدلیہ کے مقام و مرتبۂ آزادی اور حقوق کے منافی ہے۔ یہ حربہ غیر اسلامی بھی ہے اور غیر جمہوری بھی۔

(۵)

مولانا ہزاروی قابلِ رحم ہیں:

مولانا غلام غوث ہزاروی نے مولانا مفتی محمود پر زور دیا ہے کہ: یا تو وہ متحدہ جمہوری محاذ سے الگ ہو جائیں یا محاذ کے تمام عہدوں سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو ہٹا دیں۔ نیز کہا کہ محاذ کے تمام عہدے ایسے لوگوں کو دیئے گئے ہیں جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، انہوں نے اس صورت حال پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس سے جماعت اسلامی اور اس کے راہنماؤں کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید کہا کہ اگر محاذ نے جماعت اسلامی کی شرکت پر اصرار جاری رکھا تو میں محاذ سے تعاون نہیں کروں گا۔ نئے انتخابات میں متحدہ محاذ کے جس اُمیدوار کا تعلق جماعت اسلامی سے ہو گا میں اس کی مخالفت کروں گا۔ اور خیال رکھوں گا کہ جماعت اسلامی کا کوئی اُمیدوار کامیاب نہ ہونے پائے۔'' (وفاق۔ مختصراً)

اللہ مغفرت کرے، علامہ اقبالؒ پر، کیا خوب کہہ گئے ہیں:
گلۂ جفائے وفانما کہ حرم کو اہل حرم سے ہے
کسی بُت کدے میں بیان کروں تو کہے صنم بھی 'ہری ہری'
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی' نہ حریفِ پنجہ فگن نئے
وہی فطرت اسد اللٰہی وہی مرحبہی وہی عنترمی

مولانا ہزارومی اب عمر کی ایسی سٹیج پر پہنچ گئے ہیں، جہاں پہنچ کر عموماً لوگ اِسی طرح کی ہانکا کرتے ہیں۔ اس لئے سنجیدہ حضرات سے ہم یہ اپیل کریں گے کہ وہ اُن کی ایسی باتوں کا برا نہ مانا کریں۔ پسِ پردہ اگر ڈور کوئی اور ہلا رہا ہے تب بھی بات یہی ہے کہ یہ جناب کی عمر کا تقاضا ہے۔

مولانا مودودی سے جن اُمور میں ان حضرات کو اختلاف ہے، ہو سکتا ہے دوسرے اہل فکر بھی بعض اُمور میں ان سے متفق ہوں، لیکن اس کی حیثیت خالص علمی اور حقیقی ہے۔ وہ رنگ نہیں ہے جس کی مولانا ہزاروی نمائش فرما رہے ہیں۔

باقی رہی یہ بات کہ اگر محاذ نے جماعت اسلامی کی شرکت پر اصرار کیا تو وہ محاذ سے تعاون نہیں کریں گے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، کیونکہ جس طرح وہ محاذ سے تعاون کر رہے ہیں، وہ روز اوّل سے ہی سب کے سامنے ہے۔ بہرحال ہم حیران ہیں کہ حضرتِ والا، مجیب، بھٹو، کمیونسٹ، مرزائی نواز اور مرزائیوں کی موجودگی کے باوجود تو اپنا تعاون جاری رکھ سکتے ہیں لیکن اگر اپنا تعاون جاری نہیں رکھ سکتے تو وہ صرف جماعت اسلامی کی موجودگی کی صورت ہے۔
خود بدلتے ہیں، قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق