القاعدہ کی قیادت کی تلاش کے بہانے امریکا خطے میں اپنے ہاتھ پاؤں مسلسل پھیلا رہا ہے۔ سات سال میں افغانستان کو کھنڈر بنادینے کے بعد پاکستان کے شمالی علاقوں کی باری آئی اور اب بلوچستان کو بھی اسی بہانے ہدف بنانے کے اعلانات کیے جارہے ہیں۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت بلوچستان میں روپوش ہے، اس لیے اب معدنی وسائل سے مالا مال اور رقبے میں دو تہائی پاکستان کے برابر اس صوبے تک ڈرون حملوں کے سلسلے کا پھیلایا جانا ضروری ہے۔

یہ بات حیرت انگیز ہے کہ جس طاقت کے سیٹلائٹ کیمروں کی نگاہ سے زمین کا ایک مربع انچ بھی چھپا ہوا نہیں، اُسے مبینہ طور پر ہر روز ٹھکانے بدلنے والے بن لادن اور ان کے ساتھی کیوں دکھائی نہیں دیتے!؟

دوسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نائن الیون کے جن حملوں کا الزام القاعدہ کی قیادت پر عائد کرنے کے بعد افغانستان پر فوج کشی کی راہ ہموار کی گئی تھی، اگرچہ ابتدا میں القاعدہ کی قیادت نے اس اِلزام کو تسلیم کرنے سے قطعی انکار کیا تھا مگر اب اس کے بعض رہنما علیٰ الاعلان نائن الیون حملوں کے بارے میں امریکا کی اس سرکاری کہانی کی مکمل توثیق کرنے لگے ہیں ، جسے خود امریکا کے سائنس دانوں اور محققین نے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ چنانچہ کچھ عرصہ پہلے القاعدہ کے ایک رہنما مصطفی ابو یزید عرف شیخ سعید اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں برملا امریکا کی سرکاری کہانی میں شامل ان مبینہ ۱9؍ہائی جیکروں کو اپنا ساتھی تسلیم کرتے ہوئے اس کارنامے پر ان کے لیے دعائے خیر کرچکے ہیں جسے بش حکومت نے ان سے منسوب کیا ہے۔ حالانکہ اس کہانی کے اندر اتنے داخلی تضادات ہیں اور اس کے سو فی صد جعلی ہونے کے اتنے یقینی ثبوت سامنے آچکے ہیں کہ کوئی بھی ہوش مند شخص اسے تسلیم نہیں کرسکتا۔

اس کہانی کے بارے میں خود امریکی تحقیق کاروں نے جو سوالات اُٹھائے ہیں ، ان میں سے چند یہ ہیں :
سب سے بنیادی سوال تو یہی ہے کہ طیاروں کے ٹکرانے سے ٹوئن ٹاورز چند سیکنڈ میں زمین بوس کیوں ہوگئے اور ان کا فولادی ڈھانچہ بتاشے کی طرح بیٹھتا کیوں چلاگیا۔ امریکی سائنس دانوں کے مطابق کنٹرولڈ ڈیمالیشن کا طریقہ اختیار کیے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا تھا جس کے لیے ان عمارتوں میں ڈائنامیٹ رکھا جانا ضروری تھااور یہ کام امریکی ایجنسیوں کی شرکت کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔

گیارہ ستمبر کو ان عمارتوں سے ایک بلاک آگے WTC7 نامی47 منزلہ عمارت بھی ٹوئن ٹاورز کی تباہی کے سات گھنٹے بعد بالکل اسی طرح محض پانچ چھ سیکنڈ میں زمین بوس ہوگئی جبکہ اس سے کوئی طیارہ نہیں ٹکرایا تھا۔ سرکاری طور پر اس واقعے کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی حتی کہ جولائی 2004ء میں 'نائن الیون کمیشن' کی جو نام نہاد تحقیقی رپورٹ آئی، اس میں اس واقعے کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ طیاروں کی ٹکر کے بغیر ہی یہ فلک شگاف عمارت کس طرح لمحوں میں زمین بوس ہوگئی اور امریکی حکومت اور مین اسٹریم میڈیا نے اسے چھپانے کی کوشش کیوں کی؟

گیارہ ستمبر سے عین پہلے چھ سات اور آٹھ ستمبر کو ان دونوں امریکی فضائی کمپنیوں کے شیئرز بہت بڑی تعداد میں مارکیٹ میں متعین قیمت پر فروخت کے لیے کیوں پیش کیے گئے جن کے جہاز نائن الیون حملوں میں استعمال ہوئے؟ اس کامطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ یہ امریکا کے طاقتور حلقوں کا بنایا ہوا پیشگی منصوبہ تھا ۔

پنٹاگون کی عمارت سے 757 جیسا دیوہیکل جہاز ٹکرایا مگر اس کی عمارت کو ٹوئن ٹاورزکے مقابلے میں برائے نام نقصان پہنچا۔ اگر جہاز ٹکرانے سے ٹوئن ٹاورز زمین بوس ہوسکتے تھے تو پنٹاگون کی عمارت کو اتنا معمولی نقصان کیوں پہنچا؟

امریکی انتظامیہ کو تحقیقات کے لیے جہازوں کے فولادی ڈھانچوں میں سے تو کچھ نہیں ملا اور کہہ دیا گیا کہ بے پناہ حرارت کے سبب وہ بخارات بن کر اُڑگئے، لیکن ڈی این اے ٹسٹ کے لیے مسافروں کے گوشت کے لوتھڑے مل گئے، یہ عجوبہ آخر کیسے رونما ہوا؟

ریکارڈ پر موجود حقائق کے مطابق افغانستان پر فضائی حملوں کے ذریعے طالبان حکومت کے خاتمے کا منصوبہ نائن الیون سے کئی مہینے پہلے بنایا جاچکا تھا۔ امریکا کی جانب سے کئی پڑوسی ملکوں کو اس کی اطلاع بھی کی جاچکی تھی۔ اس کارروائی کے لیے وسط اکتوبر کا تعین بھی کرلیا گیا تھا۔ آخر نائن الیون حادثہ کے وقوع سے پہلے ہی یہ ساری تیاری کیوں تھی؟

ایک مشتبہ کیسٹ کے سوا جسے ماہرین جعلی قرار دے چکے ہیں،نائن الیون حملوں میں بن لادن کی شمولیت کا کوئی ثبوت اب تک کیوں پیش نہیں کیا جاسکا ہے؟

امریکا کیسپین کے تیل کے ذخائر تک پہنچنے کے لیے طالبان حکمرانوں سے تیل اور گیس کی پائپ لانے بچھانے کی اجازت چاہتا تھا مگر وہ اس کے لیے ارجنٹائن کی ایک فرم سے معاہدے پر کام کررہے تھے۔ چنانچہ اُنہیں نائن الیون سے کئی ہفتے پہلے سونے یا بموں کی بارش میں سے کسی ایک کو قبول کرنے کی پیشکش کی گئی اور امریکی مطالبہ نہ ماننے کی پاداش میں آخرکار ان پر بموں کی بارش کردی گئی۔

واقعاتی حقائق پر مبنی یہ سوالات بنیادی طور پر امریکا کی بریگھم ینگ یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسر اسٹیون جونز اور سابق نائب وزیر خزانہ پال کریگ رابرٹس کے تحقیقی کام، پروفیسر ڈیوڈ رے گریفن کی کتاب 'ڈی بنکنگ نائن الیون ڈی بنکنگ'، فرانسیسی محققوں جین چارلس بریسارڈ اور گیلوم ڈاسکی کی کتاب' دی فاربیڈن ٹرتھ'،بی بی سی، گارڈین اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور جاپانی پارلیمنٹ کی دفاع اور اُمور خارجہ کمیٹی کو اس کے ایک رکن یوکی ہی سا فوتیجا کی جانب سے دی گئی بریفنگ سے ماخوذ ہیں ۔

ان کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ افغانستان پر فوج کشی اور قبضے کے طے شدہ منصوبے کی تکمیل کے لیے نائن الیون کا ڈرامہ خود امریکا کے طاقتور حلقوں نے رچایا تھا۔ ان حقائق کی موجودگی میں القاعدہ کی قیادت کی جانب سے نائن الیون کی ذمہ داری قبول کرنے کے اعلان سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ امریکی افواج کو زیادہ سے زیادہ بڑی تعداد میں خطے میں مصروف رکھ کر امریکی معیشت کو بالکل ہی زمیں بوس کردینے کی حکمت ِ عملی پر کاربند ہے۔

اس حکمت ِعملی کا ایک ثبوت چند روز پہلے امریکا میں اندھا دھند فائرنگ کے ایک واقعے کی ذمہ داری بیت اللہ محسود کی جانب سے قبول کیے جانے کی شکل میں بھی سامنے آچکا ہے مگر محسود کے اس دعوے کو ماننے سے خود امریکی حکومت نے انکار کردیا۔اس واقعاتی صورت حال سے گمان ہوتا ہے کہ اگر امریکا القاعدہ کی قیادت کی تلاش کے بہانے پاک افغان خطے میں اپنے ہاتھ پائوں پھیلا رہا ہے توالقاعدہ کی قیادت بھی اسے اُلجھائے رکھنے کے لیے کوشاں ہے، کیونکہ وہ اپنے خیال میں اس طرح امریکا کی مکمل بربادی کا سامان کررہی ہے۔ گویا القاعدہ اور امریکا دونوں ایک دوسرے کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں، آخری کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے، یہ وقت بتائے گا۔1

پاکستانی طالبان نے امریکہ کا کام آسان کردیا !
جنوبی اور وسطی ایشیا کی اسٹرٹیجک اہمیت اور اس کے بیش بہا قدرتی وسائل کی بنا پر اس علاقے پر تسلط کے لیے مغرب کی استعماری قوتیں امریکا کی قیادت میں ساڑھے سات سال پہلے افغانستان پر حملہ آور ہوئیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی کارروائی تھی جس کے لیے نائن الیون واقعات کا بہانہ تخلیق کیا گیا، جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں۔ چنانچہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر نے برطانوی دارلعوام کی لائیزن کمیٹی کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے خود کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ گیارہ ستمبر کو ہوا، ہمارے پاس افغانستان کے خلاف اچانک کارروائی شروع کرنے کے لیے رائے عامہ کی رضامندی حاصل کرنے کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ جبکہ اٹلی کے سابق صدر فرانسسکو کوسیگا نے30 نومبر 2007ء کواپنے ملک کے سب سے معتبر، قدیم اور کثیر الاشاعت اخبار 'کوریئر ڈیلا سیرا' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور یورپ کی تمام خفیہ ایجنسیاں اچھی طرح جانتی ہیں کہ اس ہولناک کارروائی کی منصوبہ بندی امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد نے صہیونی دنیا کے تعاون سے کی تھی تاکہ عرب ملکوں پر الزام عائد کرکے مغربی طاقتوں کے لیے مسلم ملکوں کے وسائل سے استفادے کی راہ ہموار کی جاسکے۔

اس کے علاوہ پروفیسر اسٹیون جونز ، پروفیسر ڈیوڈ رے گریفن اور سابق امریکی نائب وزیر خزانہ پال کریگ رابرٹس سمیت کئی مغربی محققین نے دلائل اور ثبوت و شواہد سے اس حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کردیا ہے کہ افغانستان پر فوج کشی کے لیے نائن الیون واقعات، بش انتظامیہ اور امریکی ایجنسیوں کا خود ساختہ خونی ڈراما تھے تاکہ افغانستان پر حملے اور قبضے کے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے لیے جواز مہیا کیا جاسکے۔

بڑی کھینچ تان کے باوجود نائن الیون کو عراق پر حملے کا جواز نہیں بنایا جاسکا تو اس کے لیے مہلک ہتھیاروں کا بہانہ تراشا گیا جس کے سو فی صد جھوٹ ہونے کا خود امریکی حکمران بھی اعتراف کرچکے ہیں۔ تاہم افغانستان پر اس بہانے چڑھائی کرڈالی گئی تاکہ اس وقت کی افغان حکومت کو ہٹایا جاسکے جو افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر سے کھربوں ڈالر کمانے کے لیے ترکمانستان سے پاکستان تک پائپ لائن ڈالنے کا ٹھیکہ امریکی کمپنی کو دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ افغانستان پر تسلط کے ذریعے چین کی نگرانی بھی مقصود تھی جس کی حیرت انگیز اقتصادی ترقی اور تیزی سے بڑھتی فوجی طاقت نے مغرب کو سخت تشویش میں مبتلا کررکھا ہے۔

اس خطے پر اپنے اثرات مستحکم کرکے اکیسویں صدی کو امریکا کے عالمی غلبے کی صدی بنانے کا خواب بھی دیکھا گیا تھا۔ یہ منصوبہ' پروجیکٹ فار دی نیو امریکن سنچری' نامی تھنک ٹینک نے بش ٹولے کے لیے اس کے اقتدار میں آنے سے چند سال پہلے تیار کیا تھا،اور افغانستان پر فوج کشی اس کے عین مطابق تھی مگر طالبان کی جس مزاحمت کے چند روز میں خاتمے کی اُمیدیں لگائی گئی تھیں ، ساڑھے سات سال میں بھی وہ ختم نہیں ہوئی۔

افغان طالبان کی حمایت میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی تحریک اٹھی جس نے افغانستان میں قابض افواج کے لیے سخت مشکل صورت حال پیدا کردی۔پاکستان پر دبائو پڑنا شروع ہوا کہ وہ اپنی سرزمین پر ایسی کوئی سرگرمی نہ ہونے دے جو افغانستان میں قابض مغربی فوجوں کے لیے مشکل کا سبب بن سکتی ہو۔ غیر مقبول فوجی آمرجنرل مشرف سے اس دبائو کا مقابلہ نہیں کرسکے اور اُنہوں نے آخرکار فاٹا میں فوجی آپریشن شروع کردیا۔ تاہم جمہوری حکومت کے قیام کے بعد پارلیمنٹ نے طے کیا کہ پاکستانی فوج اپنے ہم وطنوں سے نہیں لڑے گی اور معاملات بات چیت سے طے کیے جائیں گے۔ بالآخر یہ حکمت ِعملی سوات امن معاہدے اور اس کے تحت نظامِ عدل کے نفاذ کی شکل میں کامیابی کی منزل تک پہنچی اور یہ اِمکان روشن ہوگیا کہ خانہ جنگی میں اُلجھا کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش اب اپنی موت آپ مرجائے گی۔لیکن پاکستانی طالبان نے معاہدے کے مطابق مسلح سرگرمیاں ختم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کرکے اور تحریک ِ نفاذِ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد نے پاکستان کے آئین اور جمہوری نظام سب کو کافرانہ قرار دے کر اس سازش کو نئی زندگی بخش دی۔

چنانچہ آج امریکا کے خلاف مزاحمت کرنے والی قوتوں اور پاک فوج کے درمیان بھرپور جنگ کی شکل میں وہی کچھ ہورہا ہے جو امریکا چاہتا تھا۔ امریکا کی اس جنگ کو آج سب ہی 'پاکستان کی جنگ' کہہ رہے ہیں جبکہ اس میں دونوں طرف سے نقصان صرف پاکستان کا ہورہا ہے ۔ فوجیوں اور جنگجووں کی ہزاروں کی تعداد میں ہلاکت کے علاوہ، لاکھوں تباہ حال شہری گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اور یہ ملک عراق اور افغانستان کی طرح عدمِ استحکام کی راہ پر چل پڑا ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں قابض بیرونی افواج کے خلاف افغان مزاحمت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ صوفی محمد اور طالبان قیادت اگر سوات امن معاہدے کے بعد محتاط رویہ اپناتے تو استعماری ایجنڈے کی تکمیل کی راہ یوں ہموار نہ ہوتی۔ اس لیے شاید یہ کہنا غلط نہیں کہ پاکستانی طالبان میں گھسے ایجنٹوں نے امریکا کا کام آسان کردیا ہے !!2

مدیر 'محدث' کا مختصر تبصرہ
اس مضمون کے مصنف معروف ہفت روزہ تکبیر کے مدیر شہیر جناب صلاح الدین کے دست ِراست مشہور صحافی ہیں جو اُن کی شہادت کے بعد کافی عرصہ تکبیر کو شائع کرتے رہے ہیں۔ ان کا زیر نظر تجزیہ اور مشاہدہ خصوصیت سے قابل توجہ ہے، البتہ ان کا یہ سوال کہ ''القاعدہ اور امریکہ؛ کون کسے استعمال کررہا ہے؟'' ... اس کا جواب بعد کے واقعات سے بخوبی مل جاتا ہے۔اگر تو امریکہ پاکستان میں جاری جنگ میں خود شریک ہوجاتا تو اس کی ہلاکت وبربادی کے کچھ امکانات ہوسکتے ہیں، لیکن جب امریکہ محض پاکستانی حکومت اورپاکستانی طالبان ہر دو کی ڈور ہلا کر، محض ڈالروں اور کامیاب سفارتی چالبازیوں کے ذریعے پاکستانی قوم کو ہلاکت کا شکار کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہے، جس سے نظریاتی سطح پر اسلام کا بھی شدید نقصان ہورہا ہے، تو اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے واضح طور پر کہا جاسکتاہے کہ امریکہ ہی القاعدہ اور اس کے بیانات کو اپنی جارحیت اور ہمہ نوعیت کاروائیوں کے جواز کے لئے استعمال کررہا ہے، نہ کہ القاعدہ امریکہ کو !!

موصوف کا یہ کہنا کہ امریکہ اس خطے میں قدم جما کر چین کو علاقائی مسائل میں اُلجھانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بھارت کو شہ دینے اور ایٹمی معاہدوں کا مقصد بھارت سے محض کاروباری یا نظریاتی منفعت نہیں بلکہ اس کو چین کے مقابلے میں لانے کی تیاری اور ان دونوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ کروانا مقصود ہے اور اس قابل بنانا ہے کہ وہ چین کو اُلجھانے کی صلاحیت رکھ سکے۔ اسی مقصد سے امریکہ بھارت کی پاکستان سے ٹینشن کا خاتمہ کرنا بھی چاہتا ہے، تاکہ بھارت اس امریکی مقصد کے لئے یکسو ہوسکے۔ اسی تناظر میں بھارتی حکومت کے تازہ بیان کو دیکھنا چاہئے کہ ہمیں پاکستانی طالبان سے زیادہ چین سے خطرہ ہے!

صوفی محمد کے غیرحکیمانہ بیانات پر موصوف کے تبصرہ کے سلسلے میں واضح رہنا چاہئے کہ صوفی محمد کے یہ بے لاگ تبصرے اور کا ٹ دار خیالات سے اہل پاکستان عرصہ سے آگاہ ہیں، ان کے یہ خیالات کوئی نئے نہیں۔دراصل طالبان کے خلاف لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو تیار کرکے جب امریکہ کو مزعومہ نتائج حاصل نہیں ہوئے اور پاکستانی صدر پر معاہدئہ امن کو منظور کرنے کا دباؤ مزید بڑھ گیا تو میڈیا کے عناصر کو اسی طرح مغرب کے مہرے بنا کر صوفی محمد کے ان شدت پسندانہ خیالات کو عوام میں پھیلانے اور اس کے نتیجے میں ان کی اخلاقی حمایت ختم کرنے کا مشن سونپا گیا، جیسے اس سے قبل میڈیا کے ان غدار یا بصیرت سے عاری عناصر کو کوڑوں والی ویڈیو کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ آخر یہ سازش کامیاب ہوئی اور پاکستان کے مقبولِ عام ٹی وی چینل کے پھیلائے ہوئے ایسے سوالات ہر فرد کی زبان پر آئے، جس کے نتیجے میں معاہدئہ امن اخلاقی تائید سے محروم ہوگیا۔ میڈیا کے ذریعے ہونے والی اس سازش کا پتہ اس امر سے بھی لگتا ہے کہ صوفی محمد کے متنازعہ بیانات کو تو خوب مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا گیا، لیکن دوسری طرف انہی کے آئین پاکستان کو اسلامی قراردینے یا ملک میں حکومت کی رِٹ قائم کرنے کے مثبت اور مصدقہ بیانات کو سرسری انداز میں ذیلی سطروں میں شائع کردینے پر ہی اکتفا کیا گیا۔

ہمیں انتہائی چالاک اور مکار امریکی قوم سے واسطہ درپیش ہے جو اس قدر سفاک ہے کہ اپنے مزعومہ اہداف حاصل کرنے کے لئے اپنے اہل وطن اور افتخار کی علامتوں کو بھی نیست ونابود کرنے سے نہیں گریز کرتی تاکہ اپنے دشمن پر بہیمانہ جارحیت کا اسے جواز میسر آسکے، جیسا کہ ماضی قریب میں پرل ہاربر کے مشہور واقعہ کی بھی ایسی ہی امریکی سازش ہونے کی تحقیق سامنے آچکی ہے۔ 3

ایسے مکار دشمن کے مقابل جب تک ہماری قوم کے تمام عناصر انتہائی ذہانت اور عقلمندی وفراست کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور مل کر ایک سیسہ پلائی دیوار نہیں بنیں گے، اس کی مکاریوں کا سامنا نہیں کیا جاسکتا۔

یہ دشمن اب ہمارے گھر میں داخل ہوچکا ہے، اس کی ایجنسیاں ہماری گلی گلی میں دندنا رہی ہیں اور اس کے طیارے ہماری سرزمین سے پرواز کرتے ہیں۔ ماضی میں اسی دشمن نے طالبان کو افغانستان میں اپنے مقاصد کے لئے پروان چڑھایا تھا، لیکن اسلام کے نام لیواؤں کی یہ قوت آخر کار اسلام کی خادم بنی اور گذشتہ صدی کے اواخر میں اس خطے سے امریکی مفادات کا خاتمہ ہوا۔ اب اُسی نام سے طالبان نے پاکستان میں ظلم وستم کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کیا تو اس مکار دشمن نے ردّ عمل میں اُٹھنے والی اس تحریک میں اپنے ایجنٹ داخل کرکے ایک بار طالبان اور اسلام کے نام کو بدنام کرنے اور اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی سازش بڑے پیمانے پر پھیلا دی۔ ہمیں درپیش سازش کا یہ منظر نامہ ہے، جس میں اب محب دین وملت حضرات کو بھی زیادہ شبہ نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کے مقتدر وذمہ دار عناصر کو ان چالاکیوں کی سمجھ بوجھ دے اور اُنہیں فراست ِایمانی سے نوازے۔

حوالہ جات
1. روزنامہ جنگ:22؍اپریل 2009ء
2. روزنامہ 'جنگ':20؍مئی 2009ء
3. دیکھئے اُردو ڈائجسٹ بابت فروری 2009ء