مادیت کی حقیقت:

مادی ناز و نعم اور دنیوی ترقیات کو ایمان و اسلام کا ثبوت یا اس کے مقاصد میں سے تصور کرنا اسلام کی توہین ہے۔ اسی طرح یہ خیالات کہ کسی فرد یا جماعت کا ترفع یا حکومت و سلطنت، مال و جاہ، ایجادات و اختراعات اور علم و ہنر میں برتری حاصل کر لینا ہی اس کے مذہبی عقائد یا اخلاقی نظریات کے برحق ہونے کی دلیل ہے اور یا یہ خیال کرنا کہ جو لوگ مادی تفوّق کے اس مقام پر فائز ہیں وہی اسلامی اور قرآنی تعلیمات کے سچے پیرو ہیں اور اس کے برعکس جو اقوام دنیاوی اور مادی حیثیت سے پس ماندہ ہیں وہ قرآنی بصیرت کے سچے پیرو ہیں اور اس کے برعکس جو اقوام دنیاوی اور مادی حیثیت سے پس ماندہ ہیں وہ قرآنی بصیرت یا دین سے بیگانہ یا اسلامی طرزِ فکر سے عاری ہیں، قطعاً باطل ہیں۔ بلکہ اسلام یا قرآن کے بلند مقاصد سے فراری ذہنیت اور خود اسلام سے بےزاری کے غماض ہیں اور مشرکانہ، ملحدانہ یا کم از کم مادہ پرستانہ طرزِ فکر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اسلام امن و عافیت کوشی کا مذہب ہے اور انسانی زندگی کو مکمل طمانیتِ قلب کا درس دیتا ہے۔ اسلامی تمدّن نفوسِ مطمئنہ کی جولانگاہ ہے۔ نیز فتنہ و فساد، حرص و ہوا اور بغض و عناد جیسی خبیث خصائل کا دشمن ہے۔

اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام نے اطمینانِ قلب حاصل کرنے کے لئے کیا وسیلہ بنایا ہے اور پھر اطمینانِ قلب کیوں ضروری ہے۔ اس کے لئے قرآنِ حکیم کی دو آیتوں پر غور کیجئے:

﴿أَلا بِذِكرِ‌ اللَّهِ تَطمَئِنُّ القُلوبُ ﴿٢٨﴾... سورة الرعد

یعنی یاد رکھو کہ اللہ کی یاد باقی رکھنے سے دل مطمئن ہوتا ہے۔

اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے اغراض و مقاصد دینی یا دنیوی کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پیش نظر رکھے تو وہ کبھی ناکام نہ ہو گا۔ بلکہ ناکام ہونا اس کے لئے ناممکن ہو جائے گا۔ کیوں کہ کسی مدعا کے حصول کی تمنا اس مدعا سے ہٹ کر خوشنودیٔ مولا ہو گی تو وہ مدعا حاصل نہ ہونے کے باوجود اصل مدعا یعنی خوشنودیٔ حق سے ہرگز محروم نہیں ہو سکتا۔ صحت و توانائی کا حصول، فراوانیٔ مال کی طلب، عزت و جاہ و منصب کی خواہش، اولاد کی تمنا، حوائجِ زندگی کی سہولت۔ غرض بے شمار تمنائیں ہیں، اگر ان کے حصول کے لئے انسان اس طرح کوشش کرے کہ ہر حال میں اللہ کا تصور باقی رہے اور سعی و عمل کے کسی شعبہ میں اللہ کی ہدایات اور اس کے متعین دائرۂ حدود سے تجاوز روا نہ رکھے اور باوجود اس کے اپنی جدوجہد میں ناکام رہے، تب بھی اس کا دل مطمئن رہے گا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل مقصود تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا تصور تھا جسے اس نے کسی لمحہ بھی فراموش نہیں کیا اور اس مقصد میں وہ ناکام نہیں رہا۔ رہیں ظاہری ناکامیاں تو وہ ناکامی کی تعریف ہی میں نہیں آتیں کیونکہ فی الواقع وہ کوئی مقصد ہی نہ تھا۔ یہی وہ نفوس مطمئنہ ہیں جن کا اجر جنت یا لا زوال نعمت ہے۔

﴿يـٰأَيَّتُهَا النَّفسُ المُطمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾ ار‌جِعى إِلىٰ رَ‌بِّكِ ر‌اضِيَةً مَر‌ضِيَّةً ﴿٢٨﴾... سورة الفجر

یعنی اے نفسِ مطمئنہ اب اپنے رب کی آغوش میں آجا کہ یہی تجھے پسند ہے اور تیرے لئے یہی پسند کیا گیا ہے۔

قرآنِ حکیم نے نفسِ مطمئنہ کا یہ انعام بیان فرما کر اطمینان یہ نہیں ہے کہ خوب پیٹ بھر کر کھاؤ، ڈکار لو اور مر جاؤ۔ اور نہ یہ مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طرح دولتِ فراواں حاصل کرو یا کابینہ حکومت کی رکنیت ملے یا کوئی عہدۂ وزارت حاصل ہو یا کسی کارخانہ کا اجرا کر سکو یا کسی زمین یا مکان پر قبضہ جما سکو، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ دنیا میں مطمئن رہو اور آخرت میں دائمی راحت سے بہرہ یاب ہو جاؤ۔

قرآنِ حکیم نے جوہری ، برقی، دخانی، آبی، ارضیاتی اور فلکیاتی قوتوں سے بہرہ مندہ ہونے کی تمام صلاحیتیں انسان کو عطا فرمائی ہیں لیکن اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اس نے اطمینانِ قلب کے مقصد کو فراموش نہ کرنے کی تائید فرمائی ہے۔ دین کے لئے تمام مادی یا عنصری قوتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھانا ہی فوز و فلاح کا واحد ذریعہ ہے، جس سے اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔

اس وقت بین الاقوامی بے چینی اور خلفشار (جس سے غالباً عالمِ انسانیت کا کوئی گوشہ خالی نہیں) کا سبب صرف یہ ہے کہ یہ تمام ترقی یافتہ یا ترقی پذیر قومیں اپنی برتری کے اقدامات میں ذکر اللہ سے خالی ہیں، بلکہ اللہ کے تصور سے بیزار ہیں۔ جوہری تباہ کن ہتھیاروں کی دوڑ اس لئے ہے کہ ہر قوم اپنے پاس زیادہ سے زیادہ سامان مہیا کر کے اس عافیت کو تباہ و برباد کرنا چاہتی ہے۔

اس مقام پر سب سے زیادہ پیچیدہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فی الواقع صورتِ حال یہی ہے تو کیا یہ اندیشہ نہیں کہ اسلام دشمن طاقتیں اپنے تباہ کن آلات کے ذریعہ اسلام کو صفحۂ ہستی سے نابود کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور مسلمان جستجوئے امن کے خوابِ خرگوش میں ہی پڑے رہیں لیکن قرآنِ حکیم نے مسلمانوں کے خلاف کفر کی ان چیرہ دستیوں سے دفاع کی ہدایت بھی فرما دی ہے:

﴿وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ كَفَر‌وا سَبَقوا ۚ إِنَّهُم لا يُعجِزونَ ٥٩ وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ وَمِن رِ‌باطِ الخَيلِ تُر‌هِبونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُم...٦٠﴾... سورة الانفال

یعنی کافر یہ خیال نہ کریں کہ وہ سبقت لے گئے، وہ (اسلام اور اہل اسلام کو) عاجز نہیں کر سکیں گے۔ تم کو چاہئے کہ ان کے مقابلہ کے لئے حتی المقدور قوت فراہم کرو اور لشکر تیار رکھو۔ جس سے اللہ کے دشمن اور تمہارے دشمنوں پر خوف طاری رہے اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں تم نہیں جانتے، انہیں اللہ جانتا ہے۔

اس آیت میں لفظِ ''قوت'' یا ''خیل'' وہی مفہوم رکھتا ہے جو فوجی اصطلاح میں Force کا ہے۔ قوت سے محض انفرادی صلاحیت مراد نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا مفہوم ذرائع قوت خیال فرماتے ہوئے لفظِ قوت کی تفسیر تیر اندازی سے فرمائی ہے اور مدعا یہ ہے کہ قوت کے اسباب کا فراہم کرنا قوت ہے۔ اور اس بنا پر اس لفظِ ''تیر'' میں عہد حاضر کے وہتمام آلاتِ حرب شامل ہیں جو دشمن کے لئے باعثِ ہیبت ہوں۔

گویا یہ آیت مسلمانوں کو دشمنانِ دین کا مقابلہ کرنے کے لئے جوہری توانائی یا آتش و فولاد سے کام لینے کی ہدایت کرتی ہے اور فی الواقع اس کا مقصد ایسے سامان کا فراہم کرنا ہے۔ جو تخریبی قوتوں اور فتنہ برداریوں کے شر سے محفوظ رکھ سکے۔ قرآنِ حکیم اعدائے دین کی ان جنگی تیاریوں کے پیش نظر مسلمانوں پر بھی یہ فرض عائد کرتا ہے کہ وہ علومِ ریاضی و طبیعات و کیمیاوی میں دوسری اقوام سے گوئے سبقت نکال لے جانے کی کوشش کریں۔

راقم الحروف کے خیال میں اب یہی وہ وقت ہے کہ مسلمانوں کے نوجوانوں کی تمام فکری اور عملی قوتوں کو علومِ حاضرہ کے حصول میں لگا دیا جائے۔ افکار انسانی کے فکری تقاضوں کی اس طرح پر تکمیل تقاضائے زندگی سے گزر کر مقصدِ زندگی بن جاتی ہے اور اس طرحاعمالِ انسانی میں قلب ماہیتِ شریعتِ اسلامیہ کی خصوصیت میں سے ہے جس کا طریقہ الفاظ حدیث «إِنَّمَا الْأعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ» میں بتا دیا گیا ہے یعنی عمل کا مقصود و مقام اس کے مخلصانہ تعین پر منحصر ہے۔ مقصد کی تبدیلی سے عمل کی حقیقت بلکہ اس کا اثر بھی بدل جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی مسلمہ نفسیاتی حقیقت ہے جس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ تمدنی اور اخلاقی تقاضوں کے تحت جو قانون بھی مرتب کیا جائے گا اس سے شعبۂ تعزیرات میں ارتکاب جرائم کے تحقق کا بیشتر انحصار تعین مقصد ارتکاب عمل پر رکھنا ہو گا۔ اس طرح تمام مادی ترقیات میں بھی کسی قوم کا انہماک ایمان اور نیتِ صدق کے ساتھ ہو تو عبادات میں شمار کیا جاتا ہے بلکہ حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ ایمان باللہ کے ساتھ وابستہ ہو کر عمل صالح کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ قرآن حکیم کسی عمل کو خواہ وہ بظاہر نتائج کے اعتبار سے کتنا ہی جاذبِ نظر کیوں نہ ہو۔ ایمان باللہ کے بغیر حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ کا مصداق قرار دیتا ہے۔

لہٰذا خدا نا آشنا قوموں کی تمام خیرہ کن ترقیات اللہ کے نزدیک پرکاہ کی حقیقت نہیں رکھتیں اس کے برعکس احکامِ الٰہی یا شریعتِ اسلامیہ کے پیشِ نظر تمام بلند عزائم اور اعلیٰ مقاصد انسانیت کے مدارجِ کمال پر پہنچانے کا یقینی راستہ ہیں۔﴿ذ‌ٰلِكَ الكِتـٰبُ لا رَ‌يبَ ۛ فيهِ...٢﴾... سورة البقرة