رسول اللہ ﷺ کی سیرت و کردار کا نام سنّت ہے اور اِسی کے بیان کا نام حدیث، گویا دونوں معنیً ایک ہیں۔ البتہ اعتباری فرق ہے۔ لیکن بعض نادان دوستوں نے اس نام کے اختلاف کو اتنی اہمیت دی ہے کہ اس پر مستقل فرقے بنا دیئے ہیں حالانکہ یہ لوگ اگر فرقہ بندی جسے قرآن، شرک﴿وَلا تَكونوا مِنَ المُشرِ‌كينَ ٣١ مِنَ الَّذينَ فَرَّ‌قوا دينَهُم...٣٢﴾... سورة الروم" اور بن سی بے گانگی ﴿إِنَّ الَّذينَ فَرَّ‌قوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا لَستَ مِنهُم فى شَىءٍ...١٥٩﴾... سورة الانعام" قرار دیتا ہے۔ کے چکروں سے اجتناب کرتے ہوئے اعتقاداً و عملاً سنّت و حدیث کو اپناتے تو صحیح مسلمانی کا نمونہ پیش کرتے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ اہل سنت اور اہل حدیث نام کی ان تحریکوں کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ فکری اور اجتہادی سلامتی کی غرض سے ہی اُٹھی تھیں اور دونوں کا مطمح نظر یہ تھا کہ اعتقادی اور فقہی طور پر اُمّت انتشار کا باعث نہ ہو، افسوس کہ آج یہی نام تفریقِ اُمّت کا سبب ہیں۔

زیر نظر چند اعتراضات اور ان کے جوابات پر مشتمل ہے۔ ادارہ کے نام، تحریری جوابات لکھنے والے ہمارے محترم لکھتے ہیں کہ یہ سوالات کافی عرصہ سے میرے پاس آئے ہوئے تھے، لیکن عدیم الفرضی، پھر سائل کی کئی لغویات کی وجہ سے بھی، جوابات نظر انداز کرتا رہا۔ واقعی سوالات مفروضوں پر مبنی ہیں، لیکن ایسی غلط فہمیوں کا ازالہ اس لحاظ سے بعض دفعہ مفید بھی رہتا ہے کہ متعصب لوگوں کی طرف سے ایسی غلط فہمیاں عام پھیلائی جاتی ہیں اور ان سے کچھ مخلص اور پڑھے لکھے لوگ بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس طرح نفرت کے جذبات بڑھ کر مزید انتشارِ امت کا سبب بنتے ہیں۔ (ادارہ)

اعتراض:

1. کسی کا اہل حدیث ہونا یا عامل بالحدیث ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے دو نقیضیں یا دو ضدیں جمع ہونا ناممکن ہے۔

حدیث کے لغوی معنی ہیں بات، گفتگو یا کلام۔ قرآنِ پاک میں ربِّ ذوالجلال فرماتے ہیں:

''قرآن کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے اچھا کلام نازل فرمایا۔ بعض لوگ وہ ہیں جو کھیل کی باتیں و ناول قصے خریدتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکا دیں۔''

اس تیسری آیت میں ناول قصے کہانیوں کو حدیث فرمایا گیا ہے۔ اصطلاحِ شریعت میں حدیث اس کلام کا نام ہے جس میں حضور سید عالم ﷺ کے اقوال یا (۲) اعمال، اسی طرح صحابہؓ کرام کے اقوال و اعمال (۳) بیان کیے جاویں۔

عامل بالحدیث فرقہ سے سوال ہے کہ تم کون سی حدیث پر عامل ہو؟ لغوی پر یا اصطلاحی (۴)پر ؟ اگر لغوی حدیث پر عامل ہو تو چاہئے کہ ناول گو، قصہ خواں اہل حدیث ہو کہ وہ ''حدیث'' یعنی باتیں کرتا ہے۔ ہر سچی جھوٹی بات پر عمل کرتا ہے اور اگر اصطلاحی حدیث پر عامل ہو تو پھر سوال یہ ہو گا کہ ہر حدث پر عامل ہو یا بعض پر (۵)؟ اول تو غلط (۶) ہے کیونکہ حضور (۷) کے کسی نہ کسی فرمان پر ہر شخص ہی عامل ہے۔ حضور فرماتے ہیں سچ نجات دیتا ہے، 'جھوٹ ہلاک کرتا ہے۔ ہر مشرک و کافر اس کا قائل ہے' وہ سب ہی اہل (۸) حدیث ہو گئے۔ تم حنفی (۹)، شافعی، مالکی اور حنبلی مسلمانوں کو اہل حدیث کیوں نہیں مانتے۔ یہ تو ہزار ہا حدیثوں پر عمل کرتے ہیں اور اگر اہل حدیث کے معنی (۱۰) ہیں، حضور کی ساری حدیثوں پر عمل کرنے والے تو یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ بعض حدیثیں منسوخ (۱۱) ہیں اور بعض ناسخ۔ بعض حدیثوں میں حجور ﷺ کے وہ خصوصی (۱۲) اعمال شریف بیان ہوئے ہیں جو حضور ﷺ کے لئے مباح یا فرض تھے، ہمارے لئے حرام ہیں۔ جیسے منبر (۱۳) پر نماز پڑھنا، اونٹ پر طواف فرمانا، حضرت حسین سید الشہداء رضی اللہ عنہ کے لئے سجدہ دراز فرمانا، حضرت امام بنت ابی العاص کو کندھے پر لے کر نماز پڑھنا، نو بیویاں نکاح میں رکھنا، بغیر مہر نکاح ہونا، ازواج میں عدل و مہر واجب نہ ہونا۔

بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ کلمہ یوں پڑھتے تھے:

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ (۱۴) إِنِّي رَسُوْلُ اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں)

غیر مقلد اسی حدیث پر عمل کر کے اس طرح (۱۵) کلمہ کا ورد کریں۔

غرضیکہ حدیث میں حضور ﷺ کے ایسے اقوال و اعمال بھی ذکر ہیں جو حضور ﷺ کے لئےکمال ہیں اور ہمارے لئے کفر (۱۶)۔

اسی طرح حضور ﷺ کے وہ افعالِ کریمہ جو نسیان (۱۷) یا اجتہادی خطا سے سرزد ہوئے، حدیث (۱۸) میں مذکور ہیں۔ غیر مقلدوں کو چاہئے کہ وہ ان پر بھی عمل کریں۔ ہر حدیث پر جو عامل ہوئے۔

بہرحال کوئی شخص ہر حدیث پر عمل نہیں کر سکتا (۱۹)۔ جو اس معنے میں اپنے کو اہل حدیث یا عامل بالحدیث کہے وہ جھوٹا ہے۔ جب نام میں ہی جھوٹ ہے تو اللہ کے فضل سے کام بھی سارے کھوٹے ہی ہوں گے۔

اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا، ''لازم پکڑو میری اور خلفاء راشدین کی سنت (۲۰) کو۔'' یہ نہ فرمایا کہ میری حدیث (۲۱) کو لازم پکڑو۔ کیونکہ ہر حدیث لائقِ عمل نہیں، ہر سنت (۲۲) لائقِ عمل ہے۔

حضور کے وہ اعمالِ طیبہ جو منسوخ بھی نہ ہوئے ہوں، حضور سے خاص بھی نہ ہوں، خطاءً، نسیاناً بھی سرزد نہ ہوں بلکہ امت کے لئے لائقِ عمل ہوں، انہیں سنت (۲۳) کہا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمارا نام اہل سنت (۲۴) بالکل حق اور درست ہے کہ ہم بفضلہ تعالیٰ حضور ﷺ کی ہر سنت پر عامل ہیں۔ اہل حدیث نام بالکل غلط ہے کیونکہ ہر حدیث پر عمل ناممکن ہے۔

اب حدیثوں کی یہ چھانٹ کہ کون سی حدیث منسوخ (۲۵) ہے، کون سی محکم۔ کونسی حدیث حضور کے خصائص میں سے ہے اور کون سی سب کی اتباع کے لئے، کون سا فعل اقتداء کے لئے ہے اور کون سا نہیں، کس فرمان کا کیا منشا ہے، کس حدیث سے صراحتہً کیا مسئلہ ثابت ہے اور کس سے اشارۃً، کون سا دلالۃً، کون اقتضاءً۔ یہ سب کچھ امام مجتہد ہی بتا سکتا ہے، ہم جیسے عوام وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔ جیسے قرآن پر عمل کرانا حدیث کا کام ہے ایسے ہی حدیث پر عمل کرانا امام مجتہد کا کام ہے۔ یوں سمجھو کہ حدیث شریف رب تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ اور امام مجتہد اس راستہ کا توڑ۔ جیسے بغیر روشنی راہ طے نہیں ہوتی، بغیر امام مجتہد حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل ناممکن ہے۔ اسی لئے علماء فرماتے ہیں:

''بغیر مجتہد قرآن و حدیث گمراہی کا باعث ہیں۔''

رب تعالیٰ قرآنِ کریم کے متعلق فرماتا ہے:

''(اللہ تعالیٰ) قرآن کے ذریعے بہت کو گمراہ کرتا ہے اور بہت کو ہدایت دیتا ہے۔''

چکڑالویؔ اس لئے گمراہ ہیں کہ وہ قرآن شریف کو بغیر (۲۶) حدیث کے نور کے سمجھنا چاہتے ہیں۔ براہِ راست رب تک پہنچتے ہیں۔ غیر مقلدؔ اس لئے راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں کہ یہ حدیث کو بغیر علم کی روشنی اور بغیر امام (۲۷) مجتہد کے نُور کے سمجھنا چاہتے ہیں۔ مقلدین اہل (۲۸) سنت کا بیڑا پار ہے (ان شاء اللہ) کہ ان کے پاس کتاب اللہ بھی ہے، سنتِ رسول اللہ بھی اور سراجِ امت امامِ مجتہد کا نُور بھی۔

خلاصہ یہ کہ اہل حدیث بننا ناممکن اور جھوٹ، اور اہل سنت بننا حق اور درست ہے۔ اہل سنت وہی ہو سکے گا جو کسی امام کا مقلّد ہو گا۔ قیامت کے دن رب تعالیٰ اپنے بندوں کو اماموں (۲۹) کے ساتھ پکارے گا۔ (قرآن حکیم)

خیال رہے کہ قرآن و سنت کا سمندر ہم مقلّد بھی عبور کرتے ہیں اور غیر مقلد وہابی بھی۔ لیکن ہم تقلید (۳۰) کے جہاز کے ذریعہ سے جس کے ناخدا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ (۳۱) رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ان کی ذمہ داری (۳۲) پر سفر کر رہے (۳۳) ہیں، لہٰذا ہمارا بیڑا پار ہے اور غیر مقلدّ وہابیوں کا انجام غرقابی ہے کیونکہ وہ خود اپنی ذمہ داری پر (۳۴) اس سمندر میں چھلانگ لگا رہے ہیں۔

عامل بالحدیث ہونا ممکن بلکہ ضروری ہے

الجواب:

1. یہ آپ کی غلط فہمی ہے ورنہ اہل حدیث اور عامل بالحدیث ہونا عین ممکن ہے کیونکہ نبی ﷺ کی اتباع اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دی ہے اور اللہ تعالیٰ تکلیف مالا یطاق کو یعنی غیر ممکن کو فرض قرار نہیں دیتے اور نبی ﷺ جن کی شان ﴿عَزيزٌ عَلَيهِ ما عَنِتُّم حَر‌يصٌ عَلَيكُم بِالمُؤمِنينَ رَ‌ءوفٌ رَ‌حيمٌ ١٢٨﴾... سورة التوبة" ہے، امت کے لئے غیر ممکن بلکہ حتی الامکان مشکل بھی پسند نہیں فرماتے۔ پھر حدیث جو آپ ﷺ کے اقوال، اعمال، احوال اور تقریرات کا نام ہے، پر عمل کرنا اور اہل حدیث ہونا ناممکن کس طرح ہوا؟ یہ تو بزعم آپ کے اللہ نے نقیضین اور ضدّین کو جمع کر دیا، حالانکہ یہ ذی عقل سے محال ہے۔ نیز جب یہ مسلمہ بات ہے کہ دین کے چار ادلّہ ہیں یعنی قرآن، حدیث، اجماع اور صحیح قیاس، اور چاروں کی اتباع امت کے لئے فرض ہے، تو پھر عمل بالحدیث غیر ممکن کس طرح ہوا، جب کہ اس کی اتباع فرض ہے؟

نیز یہ مسلمہ امر ہے کہ حدیث قرآن کی تفسیر ہے، جب قرآن پر عمل ممکن اور فرض ہے تو تفسیر (حدیث) پر کیوں ممکن اور فرض نہیں؟

نیز وحی کی دو قسمیں ہیں ''متلوّ'' یعنی قرآن اور ''غیر متلو'' یعنی حدیث اور دین کے معاملہ میں اللہ نے اپنے نبی کا ذمہ لیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نہیں بولتے بلکہ جو بولتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے:﴿وَما يَنطِقُ عَنِ الهَوىٰ ٣ إِن هُوَ إِلّا وَحىٌ يوحىٰ ٤﴾... سورة النجم" تو ایک وحی (قرآن) کی اتباع فرض ہو اور دوسری وحی (حدیث) کی اتباع ناممکن ہو، عقل کے خلاف ہے۔ لہٰذا اہلحدیث ہونا اور عامل بالحدیث ہونا عین ممکن ہے، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف صالحین پورے عامل بالحدیث تھے اور یہ بات تاریخ دانوں پر مخفی نہیں۔ ہاں آپ کو معلوم نہ ہو تو یہ آپ کے علم کا قصور ہے۔

نیز اس دعوےٰ میں کہ آپ ﷺ کی ساری حدیثوں پر عمل کرنا ناممکن ہے، آپ منفرد ہیں آپ سے پہلے کسی شخص نے یہ دعویٰ نہیں کیا اور ناممکن ہونے کے جو وجوہ آپ نے بیان کئے ہیں اس میں بھی آپ منفرد ہیں، کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ''چونکہ بعض حدیثیں منسوخ ہیں اور بعض خاصے وغیرہ ہیں لہٰذا ساری حدیثوں پر عمل کرنا ناممکن ہے۔''

2. حدیث کی تین قسمیں ہیں: قولی، فعلی اور تقریری، آپ نے صرف قولی اور فعلی کا ذکر کیا ہے لیکن تقریری چھوڑ گئے ہیں جو آپ کی کم علمی پر دالّ ہے۔

3. صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال و اعمال موقوف حدیث کہلاتے ہیں، ان پر عمل اس وقت جائز ہے جب کہ صحیح مرجوع حدیث کے خلاف نہ ہوں، مخالفت کی صورت میں ان پر عمل کرنا جائز نہیں کیونکہ انسانوں میں سے دین کے معاملہ میں صرف نبی ﷺ ہی معصوم ہیں باقی سب سے غلطی ممکن ہے چنانچہ ''المجتھد یخطئ ویصیب'' سب کا مسلمہ ہے کہ مجتہد غلطی بھی کرتا ہے اور گاہے صحیح بھی کہتا ہے۔ مثلاً عبد اللہ بن مسعودؓ بوقت رکوع تطبیق کرتے تھے یعنی گھٹنوں میں ہاتھ رکھتے تھے اور معوذ تین کو قرآن کی سورتیں نہیں مانتے تھے بلکہ آنحضرت ﷺ کی دعائیں خیال کرتے تھے۔ چونکہ یہ دونوں باتیں ان کی، صحیح مرفوع حدیث کے خلاف ہیں، لہٰذا ان کا ماننا جائز نہیں۔

4. ہم اہلحدیث اصطلاحی حدیث پر عامل ہیں، لہٰذا ناول گو اور قصہ خواں اہلِ حدیث نہیں کہلا سکتے کیونکہ وہ لغوی حدیث پر عامل ہیں۔

5. ہم اہل حدیث کل احادیث مرفوعہ صحیحہ قابلِ عمل پر عامل ہیں، لہٰذا ہم اہلحدیث ہیں۔

6. جب سب حدیثوں پر عمل ممکن ہے بلکہ فرض جیسا کہ (۱) میں ثابت کر چکا ہوں، تو پھر غلط کس طرح ہوا۔

7. یہاں دلیل اور مدلول میں مطابقت نہیں، یعنی اول تو غلط ہے یعنی ''ہر حدیث پر عامل ہونا غلط ہے۔'' مدلول ہے اور ''کیونکہ حضور ﷺ کے کسی نہ کسی فرمان پر ہر شخص ہی عامل ہے۔'' دلیل ہے۔ ان میں مطابقت کس طرح ہوئی؟ یعنی دعویٰ یہ کہ ہر حدیث پر کوئی عامل نہیں ہو سکتا اور دلیل یہ ہے کہ آپ ﷺ کے کسی نہ کسی فرمان پر ہر شخص عامل ہے۔ کیا آپ ﷺ کے کسی نہ کسی فرمان پر ہر شخص کا عامل ہونا ہر حدیث پر عمل کرنے سے مانع ہے۔ فتفکر و تدبر

8. وہ سب اہل حدیث نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ حقیقتاً آپ ﷺ کی اتباع کے قائل نہ ہوں، کیونکہ وہ نبی کی اتباع اس حیثیت سے نہیں کرتے کہ آپ ﷺ نبی ہیں اور نبی کی اتباع فرض ہے، بلکہ جس فرمان میں ان کو اپنا کوئی فائدہ نظر آتا ہے اس پر عمل کر لیتے ہیں، اس لئے وہ اہل حدیث نہیں ہو سکتے۔

نیز اہل حدیث وہ ہے جو آپ کی تمام احادیث کا قائل ہو جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔ ہم اہل حدیث آپ ﷺ کی تمام حدیثوں کے قائل ہیں اگرچہ ہمارے عمل میں بھی قصور ہے لیکن ہم آپ ﷺ کی سب حدیثوں کے قائل ہیں اور سب کو واجب العمل جانتے ہیں۔ عمل میں قاصر ہونا اور عمل میں کوتاہی دوسری چیز ہے۔ فافہم

9. مقلدین اہل حدیث اس لئے نہیں کہ وہ حدیث کو تقلید کے آئینہ میں دیکھتے ہیں۔ اگر حدیث رائے امام کے مطابق ہو تو مانتے ہیں ورنہ نہیں۔ ان کا اصل مطاع و متبوع رائے امام ہے نہ کہ حدیث۔ اگر کسی وجہ سے ان کے امام کو حدیث نہیں پہنچی یا کسی وجہ سے ان کے امام نے حدیث پر عمل نہیں کیا تو وہ صحیح مرفوع قابلِ عمل حدیث کو چھوڑ دیں گے یا اس کی غلط سلط تاویل کر کے امام کے قول پر عمل کریں گے، اس لئے وہ اہل حدیث کہلانے کے مستحق نہیں۔ بایں ہمہ اگر وہ اہل حدیث کہلائیں تو ہمیں کوئی بخل بھی نہیں بلکہ ہمیں بڑی خوشی ہو گی مگر وہ خود ہی اہل حدیث کہلانے کو برا سمجھتے ہیں اور مقلد کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور آپ کا بھی یہی حال ہے۔ جیسا کہ تحریرِ ہذا سے ظاہر ہے۔

ہاں ائمہ اربعہ بلکہ کل سلف متقدمین اہل حدیث تھے، نہ وہ کسی کے مقلد تھے نہ تقلید شخصی ان کا مذہب تھا۔ وہ قرآن و حدیث پر عمل واجب جانتے تھے لہٰذا وہ سب اہل حدیث تھے۔

10. ہاں اہلحدیث کے یہی معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی کل احادیثِ صحیحہ مرفوعہ قابلِ عمل پر عمل کرنے والے، ورنہ اہل حدیث نہیں کہلا سکتے اور کل احادیث پر عمل کرنا ناممکن نہیں جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔

11. اس طرح تو بزعم آ پ کے قرآن پر بھی عمل ناممکن ہو گا کیونکہ قرآن میں بھی ناسخ منسوخ موجود ہیں، پھر تو کوئی شخص بھی جنتی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ سارے قرآن پر کسی نے عمل نہ کیا، پھر نجات کہاں؟

یہ آپ اپنی کم علمی اور ۔۔۔۔۔ کی بنا پر اعتراض کر رہے ہیں ورنہ اللہ کے علم میں ہر ایک حکم پر عمل کے لئے ایک وقت معین ہوتا ہے منسوخ پر قبل از نسخ عمل ہوتا ہے اور ناسخ پر بعد از نسخ۔ اس طرح سب پر عمل ہو گیا، کوئی بھی غیر عمل نہ رہا۔

12. جب آپ ان کو آپ ﷺ کا خاصہ مانتے ہیں تو دوسرے کو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہو گا کیونکہ خاصہ کی تعریف ہے: ''ما لا یوجد في غیرہ'' نیز دوسرا ان کا مکلف ہی نہیں ہو گا کیونکہ وہ آپ ﷺ کا خاصہ ہے۔

پھر یہ بات بھی ہے کہ آپ ﷺ کے خاصے صرف حدیث میں ہی مذکور نہیں بلکہ بہت سے خاصے قرآن مجید میں بھی مذکور ہیں، مثلاً بیک وقت چار سے زائد ازواج مطہرات نکاح میں رکھنا، اور ان میں عدل و فرض نہ ہونا وغیرہ جیسا کہ سورہ احزاب میں مذکور ہے تو پھر بقول آپ کے سارے قرآن پر بھی عمل ناممکن ہو گیا۔ آپ نے سوچا تک نہیں، خواہ مخواہ اعتراض کرنے بیٹھ گئے۔

13. اس میں بھی آپ غلطی کھا رہے ہیں، منبر پر آپ نے ساری نماز ادا نہیں فرمائی چنانچہ مشکوٰۃ ص ۹۹ میں بحوالہ بخاری موجود ہے:

حاصل ترجمہ یہ ہے کہ جب منبر بنایا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے اور قبلہ کی طرف منہ کیا، لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کہی اور قرأت پڑھی اور رکوع کیا۔ لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے رکوع کیا۔ جب رکوع سے سر اُٹھایا تو پچھلے پاؤں لوٹے اور زمین پر سجدہ کیا اسی طرح دوسری رکعت میں بھی کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ساری نماز منبر پر نہیں پڑھی، بلکہ رکوع کے بعد باقی نماز زمین پر پڑھی۔ پھر فرمایا یہ میں نے اس لئے کیا کہ تم میری اقتداء کرو اور نماز کا طریقہ سمجھ جاؤ۔

چنانچہ یہ تعلیم کے لئے اب بھی جائز ہے اور امام نوویؒ نے اس کے جواز کا باب منعقد کیا ہے، فرماتے ہیں:

باب جواز الخطوة والخطوتین في الصلوٰة وأنه لا کراھة في ذلك إذا کان لحاجة وجواز صلوٰة الإمام علی موضع أرفع من المأمومین للحاجة کتعلیمھم الصلوٰة أو غیر ذلك

یعنی یہ باب دو چیزوں کے بیان میں ہے، ایک تو نماز میں قدم دو قدم چلنا بلا کراہت جائز ہے جبکہ ضرورت کے لئے ہو، دوسرا امام کا مقتدیوں سے بلند جگہ پر کھڑا ہونا جائز ہے جبکہ تعلیمِ نماز وغیرہ کے لئے ہو۔

اور شرح میں لکھتے ہیں:

وفیه جواز صلوٰةالإمام علي مضع إلٰي من موضع المؤمنين ولٰكنه يكره ارتفاع الإمام علي المأمومين وارتفاع المأموم علي الإمام بغير حاجة فإن كان لحاجة بأن أراد تعليمھم أفعال الصلوٰة لم يكره بل يستحب لھذا الحديث (نووی جلد ۱ ص ۲۰۶)

یعنی امام کا تعلیم کے ارادہ سے بلند کھڑا ہونا جائز ہے بلکہ مستحب ہے جیسا اس حدیث سے ثابت ہے۔

اونٹ وغیرہ پر طواف بوقت ضرورت اب بھی جائز ہے اس کی ممانعت کہیں نہیں آئی، چنانچہ مشکوٰۃ کے حاشیہ میں ہے:

«وأما الطواف راکبا لغیرہ جائز أیضا والأفضل المشي» (لمعات مشکوٰۃ ص ۲۲۷)

یعنی آپ ﷺ کے علاوہ دوسرے شخص کے لئے بھی سوار ہو کر طواف کرنا جائز ہے۔ لیکن پیدل طواف کرنا افضل ہے۔

امام نوویؒ نے بھی لکھا ہے: باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ الخ

اس میں حضرت کے سواری پر طواف کرنے کے علاوہ حضرت امّ سلمہ کے سواری پر طواف کرنے کی حدیث بھی ذکر کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

«عن أم سلمة أنھا قالت شکوت إلی رسول اللہ ﷺ إني أشتکي فقال طوفي من وراء الناس وأنت راکبة الحدیث»

حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا، ''سوار ہو کر طواف کر لے لیکن لوگوں کے پیچھے ہو کر'' (مسلم۔ ج ۱ ص ۴۱۳)

امام بخاریؒ نے بھی صحیح بخاری میں لکھا ہے: باب المریض یطوف راکبا اور دوسرا باب إدخال البعیر في المسجد للعلة ان ہر دو ابواب میں یہ دونوں واقعے آنحضرت ﷺ نیز حضرت ام سلمہؓ کے سوار ہو کر طواف کرنے کے بیان کئے ہیں۔

بچے کی خاطر یا کسی اور سبب سے سجدہ یا نماز دراز کرنا یا ہلکی کرنا اب بھی جائز ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ:

''جب میں بچوں کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز ہلکی کر دیتا ہوں کہ ان کی مائیں پریشان نہ ہوں۔'' چنانچہ مشکوٰۃ ص ۱۰۱ میں باب ما علی الماموم میں صاف حدیثیں موجود ہیں۔

اسی طرح جب کفار مکہ نے آپ ﷺ کی پشتِ مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی تھی تو آپ ﷺ نے سجدہ دراز کیا۔ (مشکوٰۃ ص ۵۳۳)

علاوہ ازیں جب آپ ﷺ نے حسنؓ و حسینؓ کو گرتے پڑتے دیکھا تو خطبہ جمعہ چھوڑ کر منبر سے نیچے جا کر ان کو اُٹھا لائے اور فرمایا خدائے تعالیٰ نے ٹھیک فرمایا ہے کہ مال اور اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں:

جب میں نے ان دونوں بچوں کو گرتے پڑتے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا حتیٰ کہ خطبہ چھوڑ کر ان کو اُٹھا لایا۔ (ترمذی، ابو داؤد، نسائی، مشکوٰۃ ص ۵۷۱)

غرض بچوں کی خاطر بہت کچھ جائز ہے۔ جب بچے کو اُٹھا کر نماز پڑھنا جائز ہے تاکہ بچہ پریشان نہ ہو، جیسا کہ آگے آرہا ہے، تو بچے کی خاطر سجدہ یا نماز دراز کرنا یا ہلکی کرنا کیوں کر منع ہو سکتا ہے؟

کندھے پر بچے کو اُٹھا کر نماز پڑھنا بوقت ضرورت اب بھی جائز ہے۔ چنانچہ امام نوویؒ نے صحیح مسلم میں ایک مستقل باب اس کے لئے منعقد کیا ہے فرماتے ہیں:

باب جواز حمل الصبیان في الصلوٰۃ اور شرح میں فرماتے ہیں:

ففیه دلیل لصحة صلوٰة من حمل ادميا أو حيوانا طائرا من طير وشاة وغيرھما

یعنی یہ باب اس بارہ میں ہے کہ بچے کو اُٹھا کر نماز پڑھنا جائز ہے اور شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں دلیل ہے اس پر کہ جو شخص آدمی یا پاک حیوان اور جانور بکری وغیرہ اُٹھا کر نماز پڑھئے۔ اس کی نماز صحیح ہے اور مانعین کا سخت ردّ کیا ہے۔

آپ نووی جلد ۱ ص ۲۰۵ ملاحظہ فرمائیں، تسلی ہو جائے گی۔ إن شاء اللہ۔ اسی طرح بخاری میں ہے: باب إذا حمل جارية صغیرة علی عنقه في الصلوٰة یعنی اس باب میں یہ بیان ہے کہ چھوٹے بچے کو اپنی گردن پر بٹھا کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ آپ پتہ نہیں کس دنیا میں بستے ہیں کہ کچھ بھی خبر نہیں۔ جب آپ کے علم کا یہ حال ہے کہ جائز ناجائز کا علم نہیں تو اہلحدیث پر خوا مخواہ اعتراض کرنے بیٹھ گئے۔ پہلے علم تو پڑھ لیں پھر اعتراض بھی کر لیجئے گا۔

14. لا الٰه الا اللہ کی قرآن و حدیث میں مختلف صورتیں آئی ہیں، مثلاً لا إله إلّا اللہ، لا إلٰه إلّا أنت، لا إلٰه إلا ھو، لا إلٰه إلّا أنا۔ انسان ہر طرح پڑھ سکتا ہے صرف آخری صورت یعنی لا إله إلا أنا نہیں پڑھ سکتا۔ کیونکہ انسان معبود نہیں ہے نہ اس کی عبادت جائز ہے۔ عبادت صرف خدائے واحد کا ہی حق ہے۔ لہٰذا خدا ہی لا إلٰه إلا أنا کہہ سکتا ہے۔ انسان بلکہ ساری مخلوق نہیں کہہ سکتی۔

اسی طرح جز و دوم محمد رسول اللہ کی بھی کئی صورتیں آئی ہیں مثلاً محمد رسول الله، إنك لرسول الله، إنك لرسوله، ھو رسول الله اور إني رسول الله امت کے لئے پہلی سب صورتیں جائز ہیں، صرف آخری صورت انی رسول اللہ جائز نہیں۔ کیونکہ یہ رسول کا خاصہ ہے۔ آپ ﷺ رسول ہیں ہم رسول نہیں لہٰذا ہم انی رسول اللہ نہیں کہہ سکتے جس طرح آپ ہم سے کہتے ہیں کہ ہم انی رسول اللہ کا ورد کریں۔ اسی طرح ہم آپ سے عرض کرتے ہیں کہ آپ لا إله الّا أنا کا ورد کریں کیونکہ وہ بھی قرآن مجید میں آیا ہے۔ جب آپ لا الٰه الّا أنا کا ورد نہیں کرتے اور نہیں کر سکتے کیونکہ آپ معبود نہیں ہیں۔ معبود صرف خدا کی ذات ہے لہٰذا لا إلٰه إلّا أنا وہی کہہ سکتا ہے۔ کیونکہ عبادت اسی کا حق ہے۔ اسی طرح ہم إني رسول اللہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ رسول کا خاصہ ہے اور ہم رسول نہیں ہیں۔ الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔
شرم و حیا ندامت اگر کہیں بکتی
تو ہم بھی لیتے اپنے مہربان کے لئے

15. ورد کے لئے آپ ﷺ نے لا إله إلّا الله إنّي رسول الله یا لا إلٰه إلّا الله محمّد رسول الله نہیں بتایا بلکہ وردکے لئے صرف لا إله إلّا الله بتایا ہے جیسا کہ ارشاد ہے:

عن جابر قال قال رسول اللہ ﷺ أفضل الذکر لا إلٰه إلا الله وأفضل الدعاء الحمد لله رواه الترمذي وابن ماجة (مشكوٰة ص ۲۰۱)

یعنی جابرؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: سب ذکروں سے افضل لا الٰہ الا اللہ ہے اور سب دعاؤں سے افضل الحمد للہ ہے۔

دوسری حدیث میں ہے:

عن أبي ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ لأن أقول سبحان الله والحمد لله ولا إلٰه إلا الله والله أكبر أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، رواه مسلم (مشكوٰة ص ۲۰۰)

یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں سبحان اللہ والحمد للہ ولا إله إلا اللہ واللہ أکبر کہوں تو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔

تیسری حدیث میں ہے:

قال رسول اللہ ﷺ أفضل الکلام أربع

اور ایک روایت میں ہے:

أحب الکلام إلی اللہ أربع سبحان اللہ والحمد للہ ولا إله إلا اللہ واللہ أکبر۔ رواہ مسلم (مشکوٰۃ ص ۲۰۰)

یعنی آپ ﷺ نے فرمایا سب کاموں سے افضل میرے لئے سبحان اللہ والحمد للہ ولا الٰه إلا اللہ واللہ أکبر کہنا ہے اور دوسری روایت میں ہے: سب کلاموں سے اللہ کو زیادہ محبوب چار کلمے ہیں۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا إلٰه الا اللہ واللہ اکبر۔ اس کو مسلم نے روایت کیا۔ اسی طرح جب موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کہ کہ یا اللہ مجھے کوئی ورد بتایا جائے جو میں کیا کروں:

فقال یموسیٰ قل لا إلٰه إلا الله فقال يا رب كل عبادك يقول ھٰذا إنما أريد شيئا تخصني به الحديث وفي آخره لمالت بھن لا إلٰه إلا الله رواه في شرح السنة (مشكوٰة ص ۲۰۱)

تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! لا إلٰه الا اللہ پڑھا کر، موسیٰؑ نے عرض کیا یا اللہ یہ تو سب لوگ پڑھتے ہیں۔ میں تو کوئی خاص وظیفہ چاہتا ہوں، تو اللہ نے فرمایا اے موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور ان کی آبادی، میری ذات کے علاوہ، اور ساتوں زمینیں ترازو میں ایک طرف رکھ دیئے جائیں اور لا إلٰه إلّا اللہ دوسری طرف رکھ دیا جائے تو ان سب پر لا إلٰه إلّا اللہ غالب آجائے۔

غرض ان سب حدیثوں میں اور ان کے علاوہ ورد کی سب حدیثوں میں آنحضرت ﷺ نے ورد کے لئے صرف لا إلٰه إلا اللہ ارشاد فرمایا ہے۔ میری نظر سے کوئی ایسی حدیث نہیں گزری جس میں ورد کے لئے لا إلٰه إلّا اللہ کے ساتھ ''محمد رسول اللہ'' یا ''إني رسول اللہ'' بھی آیا ہو اور صوفی لوگ بھی صرف نفی اثبات کا ہی ورد کراتے ہیں۔

پس جب کسی حدیث سے انی رسول اللہ یا محمد رسول اللہ ورد کے لئے ثابت ہی نہیں تو پھر آپ خواہ مخواہ اہل حدیث پر طعن کرتے ہیں کہ انی رسول اللہ کا ورد کیوں نہیں کرتے۔ یہ بھی آپ کی سراسر غلطی ہے۔ ہاں اگر آپ کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت کر دیں کہ آپ ﷺ نے إني رسول اللہ یا محمد رسول اللہ کا ورد کرنے کا ارشاد فرمایا ہے تو ہم اہل حدیث فوراً مشکور ہوں گے اور اسی کا ورد کرنا شروع کر دیں گے۔ کیونکہ اہل حدیث کا مطلب ہی یہ ہے کہ حدیث پر ''عمل کرنے والے'' ورنہ وہ اہل حدیث کہلانے کے حقدار ہی نہیں رہیں گ۔

تنبیہ:

محدثین رحمہم اللہ اجمعین نے پورا کلمہ ''لا إلٰه الا اللہ محمد رسول اللہ'' کی احادیث کتاب الایمان میں ذکر کی ہیں جیسا کہ کتب حدیث مشکوٰۃ وغیرہ میں ہے اور ورد کے ابواب میں ذکر نہیں کیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر مسلم مسلمان ہونا چاہئے تو اس کو پورا کلمہ ''لا إلٰه إلا اللہ محمد رسول اللہ'' پڑھے بغیر چارہ نہیں کیونکہ توحید کے ساتھ رسالت کا اقرار بھی فرض ہے ورنہ مسلمان نہیں ہو سکے گا۔ ہاں ورد کے لئے آپ نے ''محمد رسول اللہ'' نہیں فرمایا، ویسے کوئی اپنی مرضی سے لا إلٰه إلا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ بھی پڑھ لے تو اس کی مرضی، ہم منع نہیں کرتے۔

16. آپ نے آپ ﷺ کے ایسے اعمال و اقوال کی کوئی ایک بھی مثال ایسی پیش نہیں کی جو آپ ﷺ کے لئے کمال ہو اور ہمارے لئے کفر۔ یہ آپ نے زبانی جمع خرچ ہی کیا ہے۔ آپ کوئی مثال پیش کرتے تو اس پر غور کیا جاتا۔ ممکن ہے مثال میں آپ روزہ وصال کو پیش کریں، تو جواب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے روزہ وال سے ہمیں خود منع کر دیا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ آپ ﷺ کا خاصہ ہے۔ خاصہ آپ ﷺ کے ساتھ ہی خاص رہے گا ہمیں اس کی اجازت نہیں ہو سکتی، چنانچہ حدیث میں ہے عن أبي ھریرة قال نھی رسول اللہ ﷺ عن الوصال فقال رجل إنك تواصل یا رسول اللہ قال وأیکم مثلي أی أبیت یطعمني ربي ویسقیني متفق علیه (مشکوٰۃ ص ۱۷۵)

یعنی ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے وصال کے روزہ سے منع فرمایا، ایک شخص نے کہا آپ ﷺ تو وصال فرماتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تم مجھ جیسے نہیں ہو، یعنی تمہارا اور میرا مقام ایک نہیں، مجھے تو میرا رب رات کو کھلاتا پلاتا ہے۔ (باقی آئندہ)
حاشیہ

سنا ہے کہ معوذتین کے بارہ میں ان کا رجوع ثابت ہے۔