الم ﴿١﴾ ذ‌ٰلِكَ الكِتـٰبُ لا رَ‌يبَ ۛ فيهِ...٢﴾... سورة البقرة


الف، لام، میم، یہ وہ کتاب ہے جس (کے کلامِ الٰہی ہونے) میں کچھ بھی شک نہیں۔

(۱) الٓمّٓ (الف، لام، میم) یہ حروف بقرۃؔ، آلِ عمرانؔ، عنکبوتؔ، رومؔ، لقمانؔ اور سجدہؔ کے شروع میں آئے ہیں۔ ان کا نام 'حروفِ مقطعات' ہے۔ ۱۱۴ سورتوں میں سے (۲۹) سورتوں کا آغاز حروفِ مقطّعات سے ہوا ہے۔ وہ کل یہ ہیں: ا، ج، ر، س، ص، ع، ق، ک، ل، م، ن، ہ، ی۔

ان کے معنے کیا ہیں؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ حضرت امام ابنِ حزمؓ نے ان کو مشتبہات میں شمار کیا ہے ۔ بعض اکابر نے ان کے کچھ معنے بیان کیے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح کا رواج دوسری زبانوں میں بھی ہے اور عربی میں بھی۔ مگر صحیح یہ ہے کہ یہ سب ان کی نکتہ آفرینیاں ہیں۔ یہ ان کے لغوی اور شرعی معنے نہیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ اسرارِ الٰہیہ میں سے ہیں جن کو وہ خود ہی بہتر جانتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ان کے معنی أَنَا اللہُ أَعْلَمُ (میں اللہ ہی بہتر جانتا ہوں) کر کے ان کا صیغۂ راز اور اسرارِ مخفیہ ہونا واضح فرمایا ہے، مگر بہت سے اکابر نے 'اسے' ہی ان کے معنے تصور کر لیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ ان کو ''کوڈ ورڈز'' کی حیثیت دے سکتے ہیں بشرطیکہ آپ اس کے حق میں ہوں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ ان کو جانتے تھے۔

اس صیغۂ راز اور سرِّ الٰہی سے ہمیں کیا فائدہ؟ ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان حروفِ مقطعات کے ذریعے بندوں کو 'تفویض و تسلیم' کی تعلیم دی گئی ہے کہ آپ صرف اس لئے ان کو 'حق اور برحق' مانیں کہ یہ خدا کا کلام ہے 'والحکمة فيه ھو كمال الانقياد والطاعة ' تفویض و تسلیم مقامِ عبدیت کے عظیم شعائر میں سے ہیں۔ اس لئے ایمان بالغیب کو مکارمِ ایمان میں ایک اہم اور عظیم مقام حاصل ہے، جب تفویض و تسلیم کے باب میں کوئی راسخ ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ باتیں اور اسرار دل کی آواز بن جاتے ہیں۔

(۲) ذٰلک (ووہ) ذا اشارۂ قریب، ذاک اشارۂ متوسط اور ذٰلک اشارۂ بعید کے لئے آتا ہے۔ اشارۂ بعید سے مقصود کبھی معہود و ذہنی ہوتا ہے یعنی مشارٌ الیہ متکلّم اور مخاطب کے ذہن میں ہوتا ہے۔ کبھی تحقیر اور کبھی واقعۃً بُعدِ زمانی اور بُعدِ مکانی ملحوظ ہوتا ہے اور کبھی اس کا محرّک ''علوِّ شان'' کا احساس ہوتا ہے جیسے ایک عظیم انسان جو گو سامنے ہوتا ہے مگر آنجناب کر کے اس کی بات کی جاتی ہے۔ یہاں بھی (ذٰلک) ''الکتاب'' کے علوِّ شان (اونچی شان) کے لئے استعمال ہوا ہے اور یہ اس وقت آپ محسوس کریں گے جب آپ 'وہ' کو لمبی آواز میں اور کھینچ کر 'ووہ' کر کے بولیں گے۔ کتاب سے قرآنِ پاک مراد ہے اور یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جس سے قرآن ہی مقصود ہوتا ہے یہ شریعت اور دینِ مبین کا اوّلین اور بنیادی ماخذ ہے۔ سنت، اجماع اور قیاس سبھی اسی کے شارح ہیں۔

(۳) لَا (بالکل نہیں) یہ حرف عدمِ محض کے معنے دیتا ہے یعنی جس لفظ یا جملہ پر داخل ہوتا ہے اس کی جنس کی بالکل نفی کر دیتا ہے۔ اس شے کی نفی کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ بالکل ہے ہی نہیں یہ اس کے اصلی معنے ہیں۔ یا یہ کی جیسی چاہئے تھی ویسی نہیں ہے، یہ اس کے مجاز ی معنے ہیں۔ اس کا فیصلہ قرائن، پیرائیہ بیان، عرف اور اصول کے سیاق و سباق کو دیکھ کر کیا جاتا ہے کہ یہاں اصلی معنے مراد ہیں یا مجازی۔

(۴) رَیْب (شک، تردّد اور قلق) اس سے مراد شک اور تردّد ہے جو وجہِ اضطراب بنتا ہے۔ (حقیقتا قلق النفس واضطرابھا قاله زمخشري وقال البیضاوي: سمي بد الشاك لإنه یقلق النفس ویزیل الطمانية، بیضاوي)

ریب کا علق قلب کے علم اور عمل سے ہے، لیکن شک کا تعلق صرف علمِ قلب سے ہے۔ اس

لئے جب تک دل علم و عمل کی حد تک مطمئن نہ ہو جائے اس وقت تک اس کو یقین سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا:

الریب یکون في علم القلب وفي عمل القلب بخلاف الشك فإنه لا یکون إلا في العلم ولھذا لا يوصف باليقين إلا من اطمأن قلبه علما وعملاً (كتاب الايمان ص ۱۱۲)

مقصد یہ ہے کہ اس کتابِ مبین کے منجانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں، ہاں اس کے مضامین اور عجائبات مقامِ حیرت تو ضرور ہیں لیکن خلجان اور اضطراب کا سبب نہیں ہیں۔ یہ ایک کریم رہنما، مشفق رفیقِ سفر اور نورانی مشعلِ راہ ہے۔ جس سے سالک ایک گونہ طمانیت اور سکینت ہی محسوس کرتا ہے کیونکہ جہاں اجالا ہی اجالا ہو وہاں اضطراب کہاں اور تردّد کیسا؟ اس کے باوجود اگر کسی صاحب کو اس سلسلہ میں تردّد اور شکوک و شبہات کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں تو اس اپنا ہی جائزہ لینا چاہئے۔ حضرت امام ابن القیمؒ آیت﴿لا يَمَسُّهُ إِلَّا المُطَهَّر‌ونَ ٧٩﴾... سورة الواقعة" کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

اس آیت سے معلوم ہوا ہے کہ قرآن حمید کے مضامین اور معانی سے صرف انہی کو مناسبت حاصل ہو سکتی ہے، جن کا دل پاک ہو اور وہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو اسے کلامِ خدا تصور کرتے ہیں، جو قرآن کے ظاہر کے برعکس اس کے مخالف باطنی معنوں پر یقین رکھتا ہو، جو قنوطی اور وہمی بندہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ اونچا کلام ہے، ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، بس حق ماننا ہی کافی ہے یا جو اس کو اپنے مسلک اور مشرب کے تابع رکھنا چاہتا ہے اور اپنے گروؤں کے اقوال کی ترازو میں تول تول کر اس سے کسبِ فیض کی کوشش کرتا ہے اور جو شخص دل و جان سے اپنے ظاہر اور باطن پر اس کی حکمرانی کو قبول نہیں کرتا یا اس کے اوامر، نواہی اور اخبار کا امتثال نہیں کرتا، ان سب لگوں کے دلوں کی یہ گھٹن، قرآنِ حکیم سے کسبِ فیض اور مناسبت کے حصول میں مانع ہے۔صحابہؓ اور تابعینؒ نے اس سے جوچاشنی پائی تھی، یہ لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔

کل ھٰؤلاء لم تمس قلوبھم معانیه ولا یفھمونه کما ینبغي أن یفھم ولا یجدون من لذة حلاوته وطعمه ما وجدہ الصحابة ومن تبعھم (اقسام القراٰن ملخصا وملتقطا)

﴿فيهِ ۛ هُدًى لِلمُتَّقينَ ٢ ﴾... سورة البقرة

پرہیز گاروں کی رہنمائی ہے۔

(۱) فیه (اس میں) فیہ کے دائیں بائیں نقطوں کے جو نشان ہیں۔ وہ اس بات کی علامت ہیں کہ فیہ کا تعلق دائیں لفظ سے بھی ہو سکتا ہے اور بائیں والے لفظ سے بھی۔ وقف فیہ پر کریں اور ﴿لَا رَیْبَ فِیْه﴾ پڑھیں یا وقف ﴿لَا رَیْب﴾ پر کریں اور فیهِ کو ھُدیً کے ساتھ ملا کر﴿فيهِ ۛ هُدًى لِلمُتَّقينَ﴾ پڑھیں، دونوں درست اور جائز ہیں۔

لَا رَیْبَ فِیْه کی صورت میں معنےیہ ہوں گے کہ: 'اس میں کچھ بھی شک نہیں' اور جب﴿فيهِ ۛ هُدًى لِلمُتَّقينَ﴾ پڑھیں گے تو معنے یوں کریں گے کہ 'متقی لوگوں کے لئے ہدایت صرف اسی میں ہے۔' دوسری صورت کو اختیار کیے بغیر بھی بات وہی ہے جو بیان کی گئی ہے، لیکن سیاقِ کلام کے لحاظ سے صورت پہلی راجح ہے یعنی فیه کو لَا رَیْبَ سے ملا کر پڑھنا چاہئے! امام ابن کثیر (ف 774) نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے اور ھُدًی کو کتاب کی صفت قرار دیا ہے کیونکہ دوسرے مقامات پر ایسا ہی واقع ہوا ہے۔

(۲) ھُدًی (ہدایت) ہدایت کے دو معنے ہیں (۱) راہ رکھانا اور (۲) راہ پر لا دینا۔ پہلی ہدایت تو عام ہے مسلم اور کافر سبھی کے لئے کھلی ہے اور سب پر واضح کر دی گئی ہے دوسری ہدایت خاص ہے، کامل اور خدا کا خاص انعام ہے۔ مگر اس کے حصول کے لئے تین شرطیں اور فضائلِ حمیدہ ضروری ہیں:

۱۔ مطلوب واحد ہو (۲) طلب واحد ہو (۳) اور طریق (راہ) واحد ہو۔ مطلوب واحد سے حق، طلب واحد سے جذبۂ اتباع اور طریق واحد سے سنت مراد ہے یعنی صرف حق سامنے ہو، اس کی غلامی کا جذبہ کار فرما ہو اور سنت کے مطابق اس کے حصول کی کوشش ہو۔ حضرت امام ابن القیمؒ فرماتے ہیں:

والھدي التام يتضمن توحيد المطلوب وتوحيد الطلب وتوحيد الطريق الموصلة والانقطاع (اقسام القراٰن ص ۲۶)

اس کے باوجود اگر گوہرِ مقصود ہاتھ نہ لگے تو پھر سمجھ لیجئے کہ ان میں سے کسی ایک میں یا سب میں کوئی بے جا آمیزش ہو گئی ہے۔ مطلوب میں آمیزش سے توحید اور اخلاص نہیں رہتا۔ طلب میں آمیزش، صدق اور عزمِ صمیم کو متزلزل کر دیتی ہے اور طریق میں آمیزش سے امتثالی امر ممکن نہیں رہتا۔ پہلی صورت سے انسان شرک اور ریاء میں پڑ جاتا ہے۔ دوسری سے معصیت کا شکار ہو جاتا ہے اور تیسری کی وجہ سے بدعت میں مبتلا ہو جاتا ہے:

وتخلف الوصول یقع من الشركة في ھذہ الأمور أو في بعضھا فالشركة في المطلوب تنافي التوحيد والإخلاص والشركة في الطلب تنا في الصدق والحزيمة والشركة في الطريق تنافي اتباع الأمر فالأول يوقع في الشرك والرياء والثاني يوقع في المعصية والبطالة والثالث يوقع في البدعة ومفارقة السنة فتوحيد المطلوب يعصم من الشرك وتوحيد الطلب يعصم من المعصية وتوحيد الطريق يعصم من البدعة والشيطان (اقسام القراٰن ص ۲۶)

ہدایت، دل کی دولتِ ایمان ہے اور یہ جنسِ بازار نہیں ہے کہ کوئی کہیں سے ڈھونڈ کر لائے۔ یہ تو صرف خدا کے بس کی بات ہے۔ جس دل کو چاہتا ہے اس دولت سے مالا مال کر دیتا ہے:

یطلق الھدی ویراد به ما یقر في القلب من الإیمان وھذا لا یقدر علی خلقه في قلوب العباد إلا الله عزوجل قال الله تعاليٰ (اِنَّكَ لَا تَھْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ) وقال (لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰھُمْ) وقال (مَنْ يُّضْلِلِ اللهُ فَلَا ھَادِيَ لَه) وقال (ومن يھدي الله فھو المھتد ومن يضلل فلن تجد له وليامر شدا) (تفسير ابن كثير)

ہاں وہ اعمال اور افکار، حصولِ ہدایت کے لئے ایک بہانہ یا کشش کا ذریعہ بن سکتے ہیں جن کی نشاندہی کتاب و سنت نے کی ہے۔

(۳) لِلْمُتَّقِیْنَ (متقی لوگوں کے لئے) ''ہدایتِ کامل'' کے بیان میں جو تین خصائلِ حمیدہ اور اوصاف بیان کئے گئے ہیں، ان کے حامل دراصل یہی 'متقی' لوگ ہیں اور یہی ان کا جامع تعارف بھی ہے، اس لئے 'کامل ہدایت' کے اعزاز سے سرفراز بھی یہی بندگانِ خدا ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعبؓ سے تقویٰ کی حقیقت دریافت کی تو وہ بولے: کیا کبھی خار دار راستہ سے بھی آپ گزرے؟ فرمایا: کیوں نہیں! پھر پوچھا، تو پھر کیا کرتے ہو؟ بولے: بس بچ بچا کر دامن سمیٹتے گزر جاتا ہوں۔ حضرت کعبؓ نے فرمایا: 'یہی تقویٰ ہے۔''

حدثنا عن التقویٰ فقال ھل أخذت طریقا ذا شوك قال نعم قال فما عملت فیه؟ قال حذرت وتشمرت قال كعب وذلك التقوي (بغوي وغيره) ابن كثير ميں كعب كے بجائے ابی بن كعب ہے۔

بعض علماء لکھتے ہیں کہ تقویٰ کے تین درجے ہیں: پہلاؔ یہ کہ عذابِ جاوداں سے بچ جائے یعنی شرک سے محفوظ رہے، دومؔ مزید معاصی اور سیئات سے بھی پرہیز کرے۔ شریعت کی زبان میں تقویٰ سے مراد یہی درجہ ہے اور تیسراؔ یہ کہ شبہات تک سے پرہیز کرے اور ان مباح اُمور کو بھی ترک کر دے جو معاصی کا سبب بن سکتے ہیں۔ باطن کو غیر حق کی دل چسپیوں سے بالکل پاک کر دے اور اپنے اعضاء و جوارح کو باری تعالیٰ کی جناب کے لئے یکسو رکھے وَاتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِه میں اسی مرتبہ کا ذکر ہے ۔ اس کے علاوہ عرف شرح میں لفظ تقویٰ کئی ایک معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ مثلاً بمعنے ایمان ﴿وَأَلزَمَهُم كَلِمَةَ التَّقوىٰ﴾ بمعنے توبہ ﴿وَلَو أَنَّ أَهلَ القُر‌ىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا﴾ بمعنے اطاعت ﴿لا إِلـٰهَ إِلّا أَنا۠ فَاتَّقونِ ﴿٢﴾... سورة النحل بمعنے تركِ گناه ﴿وَأتُوا البُيوتَ مِن أَبو‌ٰبِها ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ﴾ بمعنے اخلاص ﴿فَإِنَّها مِن تَقوَى القُلوبِ ﴿٣٢﴾... سورة الحج بمعنے خوف ﴿وَسيقَ الَّذينَ اتَّقَوا رَ‌بَّهُم﴾ بمعنے بچاؤ ﴿أَفَمَن يَتَّقى بِوَجهِهِ سوءَ العَذابِ﴾ (مفردات) الغرض جو خدا سے ڈرتے ہیں وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اور دھڑکتے دل کے ساتھ سفرِ حیات کی منزلیں طے کرتے ہیں۔ انہی سلیم الفطرۃ اور سنجیدہ لوگوں کے لئے قرآنِ حمید مشعلِ راہ بھی ہے اور رفیقِ سفر بھی۔ صحیح معنےٰ میں یہی لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں اس لئے بالخصوص ان کا ذِکر کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآنِ حکیم کا صحیح مصرف، عمل ہے، باقی رہی اس کی تلاوت۔ سو یہ بھی گو ایک کارِ ثواب ہے تاہم مطلوب وہی عمل اور طرزِ حیات ہے جو لے کر وہ ہم پر نازل ہوا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ بندۂ مومن ہاتھ نہیں آتا جس کو خدا کا پورا پورا اعتماد حاصل ہو۔

﴿الَّذينَ يُؤمِنونَ﴾

جو غیب پر ایمان لائے

یُؤْمِنُوْنَ (ایمان لاتے ہیں) سچے دل سے خدا کی بات ماننے اور اس کی تصدیق کرنے کا نام ایمان ہے۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ کبھی تنہا استعمال ہوا ہے اور کبھی اسلام کے ساتھ۔ تنہا کی صورت میں تو ایمان قلبی اور اعمالِ صالحہ (اسلام) دونوں مراد ہوتے ہیں اور جہاں ایمان اسلام کے ساتھ آیا ہے وہاں اسلام سے مراد ظاہری اعمال اور ایمان سے مراد ایمان باللہ ہے۔

فلما ذکرا لإیمان مع الإسلام جعل الإسلام ھو الأعمال الظاھرة کالشھادتین ۔۔۔۔۔ وجعل الإيمان ما في القلب من الإيمان بالله ۔۔۔۔۔ وإذا ذكر اسم الإيمان مجردا دخل فيه الإسلام والأعمال الصالحة (كتاب الايمان ص ۵)

بعض نيك كاموں كے نہ ہونے پر ايمان کی نفی کر دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ یہ فرض ہے جیسے لا صلوٰۃ الّا بام القراٰن (فاتحہ کے بغیر نماز ہی نہیں ہے) اگر اعمال خیر کی بنا پر فضیلت کا ذکر آیا ہے مگر ایمان کی نفی نہیں کی گئی تو اس کا مطلب ہے کہ یہ چیز مستحب ہے اور جو لوگ اس سے نفی کمال مراد لیتے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ایساکمال جس ترک کر دینے سے انسان سزا کا حقدار ہو جاتا ہے تو یہ ٹھیک ہے لیکن اگر نفی کمال سے مستحب کی نفی مراد ہے تو یہ غلط ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کا استعمال نہیں ملتا۔ ثم إن نفي الإیمان عند عدمھا دلّ أنھا واجبة وإن ذکر فضل صاحبھا (أی أعمال البر) ولم ینف إیمانه دلّ علی أنھا مستحبة ۔۔۔۔ فمن قال إن النفي ھو الكمال فإن أراد أنه نفي الكمال الذي يذم تاركه ويتعرض للعقوبة فقد صدق وإن أراد أنه نفي الكمال المستحب فھذا لم يقع قط في كلام الله ورسوله ولا يجوز أن يقع (كتاب الايمان ص ۵-۶)

باقی رہے وہ لوگ جو اہلِ ایمان ہونے کے باوجود 'عمل میں خام' ہیں کیا ان کو مومن کہہ سکتے ہیں؟ امام ابن تیمیہؒ (ف 768ھ) فرماتے ہیں، مطلقاً تو نہیں، ہاں ناقص الایمان ان کو کہہ سکتے ہیں:

فالمؤمن لابد أن یحب الحسنات ولابد أن یبغض السیئات ولابد أن يسرّه فعل الحسنة ويسوءه فعل السيئة ومتي قدر أنه في بعض الأمور ليس كذٰلك كان ناقص الإيمان (كتاب الايمان ص ۲۰)

لیکن شرط یہ ہے کہ جو خامی پیدا ہو گئی ہے، اسے وہ دل سے ناپسند ہی کرتا ہو۔ ولکن لابد أن یکون کارھا لھا ۔۔۔۔ فمن لم یکرہ۔۔۔۔ لم یکن منھم (کتاب الایمان ص ۲۰)

ایمان اور اسلام میں فرق واضح ہے۔ ایمان دل کی بات کا نام ہے جیسے تصدیق، اقرار اور معرفت اور اسلام ایمان کے عملی مظاہر کا نام ہے یعنی دل اور جوارح کے اعمال کا نام ہے جیسے اللہ کے حضور، تذلّل اور عبودیت کے ساتھ حاضری دینا:

الإسلام ھو الاستسلام وھو الخضوع له والعبودية له ۔۔۔ فالإسلام في الأصل من باب العمل عمل القلب والجوارح وأما الإیمان فاصله تصدیق وإقرار ومعرفة فھو من باب قول القلب المتضمن عمل القلب والأصل فيه التصديق والعمل تابع له (كتاب الايمان)

ہاں قرآن میں صرف 'اسلام' کی بنیاد پر دخولِ جنت کا ذِکر نہیں آیا کیونکہ بظاہر ایسا ایک منافق بھی کر سکتا ہے ہاں صرف ایمان کے ساتھ جنت کا ذکر ملتا ہے۔

وأما الإسلام المطلق المجرد فلیس في کتاب اللہ تعلیق دخول الجنة به كما في كتاب الله تعليق دخول الجنة بالإيمان المطلق المجرد (ايضاً ص ۱۰۴)

اس بارے میں اختلاف ہے کہ اسلام افضل ہے یا ایمان۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اسلام افضل ہے، ایک اور گروہ کا نظریہ ہے کہ دونوں برابر ہیں، تیسرا قول یہ ہے کہ ایمان ہی افضل اور اکمل ہے اور یہی حق بھی ہے۔

والقول الثالث إن الإیمان أکمل وأفضل وھذا ھو الّذي دل عليه الكتاب والسنة في غير موضع (ايضاً ص ۱۶۸)

بعض ئمہ نے یُؤْمِنُوْنَ کے معنے یَخْشَوْنَ (ڈرتے ہیں) کیے ہیں (ومنھم من فسرہ بالخشية۔ ابن کثیر) اس کی تائید دوسری آیات سے بھی ہوتی ہے۔

صحف سماوی کے ذکر میں فرمایا:

﴿وَلَقَد ءاتَينا موسىٰ وَهـٰر‌ونَ الفُر‌قانَ وَضِياءً وَذِكرً‌ا لِلمُتَّقينَ ﴿٤٨﴾... سورة الانبياء

اور ہم نے (حضرت) موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو فرقان، روشنی اور نصیحت پرہیز گاروں کے لئے عنایت کی۔

اس کے بعد متقی لوگوں کا تعارف کرایا:

﴿الَّذينَ يَخشَونَ رَ‌بَّهُم بِالغَيبِ...٤٩﴾... سورة الانبياء

جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

سورہ فاطر میں ہے:

﴿إِنَّما تُنذِرُ‌ الَّذينَ يَخشَونَ رَ‌بَّهُم بِالغَيبِ وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ...١٨﴾... سورة الفاطر

آپ تو بس ان ہی لوگوں كو ڈرا سکتے ہیں جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔

سورۂ ملک میں ہے:

﴿إِنَّ الَّذينَ يَخشَونَ رَ‌بَّهُم بِالغَيبِ لَهُم مَغفِرَ‌ةٌ وَأَجرٌ‌ كَبيرٌ‌ ١٢﴾... سورة الملك

جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر ہے۔

جن بزرگوں نے بِالْغَیْبِ کے معنے لوگوں سے غائب رہ کر کیے ہیں یہ آیات ان کی تائید کرتی ہیں (اَلقْراٰن یفسر بعضه بعضًا) اس لئے اگر یہاں پر یُؤْمِنُوْنَ کے معنے یَخْشَوْنَ کیے جائیں تو یہ قرآن تفسیر ہو گی۔

دراصل ایمان (خدا اور اس کی بات ماننے) کے ضمن میں سبھی کچھ آجاتا ہے۔ بیم بھی اور رجاء بھی، ڈر بھی، امید بھی۔ حسنِ ظن بھی اور عقیدت بھی، جوہ شناسی بھی اور قدر دانی بھی۔ اس لئے ہمارے نزدیک یہ سب امور ایمان کے خواص، مقتضیات اور مکارمِ مزاج میں داخل ہیں۔ بناء بریں تفسیر یہ بھی صحیح اور وہ بھی (فکل ھذہ متقاربة في معنی واحد۔ ابن کثیر)
حوالہ جات

الاحکام

خازن

تفسیر عزیزی

ايضاً