تدبّرِ قرآن:

قرآنِ حکیم نے انسانی زندگی کے دو شعبے قرار دیئے ہیں ان میں سے ایک کو ہم تقاضائے حیات سے اور دوسرے کو مقاصدِ حیات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ فکری الجھنیں محض اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم نے ان تقاضا ہائے حیات کو مقاصدِ حیات تصور کر لیا ہے۔ کھانے پینے کی خواہش، جنسی میلانات، عیش و آرام کی طلب، خوب سے خوب تر کی تلاش، جمالیاتی ذوق، مکارہ سے بے زاری، حادثات سے تحفظ، زندگی سے محبت، مرض اور موت سے نفرت اور ہمہ جہتی ارتقائی رجحانات انسانی زندگی کے لوازمات یا تقاضوں میں سے ہیں۔

کیسی غلطی ہو گی اگر ہم ان تمام امور کو یا ان میں سے کسی ایک تقاضائے حٰات کو عین مقصدِ حیات تصور کریں مثلاً شکم پُری جو تقاضائے حیات میں سے ہے، اسی کو زندگی کا مقصدِ محض قرار دے لیا جائے۔ اور انسان اپنی تمام جدوجہد صرف اسی مقصد پر مرکوز رکھے کہ کسی نہ کسی طرح پیٹ بھر کر روٹی مل جائے، تو کیا ہماری زندگی کو حشرات الارض یا جانوروں کی زندگی سے ممتاز سمجھا جا سکتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی فلسفۂ حیات یہ کہتا ہے کہ انسان محض نفسانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی تمام تر مساعی کا اعلیٰ تقاضے کی تسکین کے لئے صرف ہوا عین فلاح و کامرانی سے تو کیا کوئی بصیرت اس کی تائید کر سکتی ہے؟

سکم اور نفس کے ان فلسفوں کو عہدِ حاضر میں جو مقبولیت حاصل ہوئی ہے اس کا سبب وہی فکری کج روی ہے کہ ہم نے زندگی کے تقاضوں کو عین مقاصد قرار دیا۔ مسلمانوں کے بعض دانشور طبقے جو ادہ پرست اقوام کے زیرِ اثر ہیں، اسی خلفشار میں مبتلا ہیں۔ اسی خلفشار کی تسکین کے لئے قرآنی آیات کی معنوی تحریف کی جاتی اور اسی مقصد کے لئے مسلمانوں کی بعض با اثر ہستیوں کو آلہ کار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس کی ایک واضح مثال وہ ہے جو آج کل اقبال کے ایمانی عقائد کی تعبیر، قوم پرسانہ نظریات سے کی جا رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کو محض مادی ترقیات کا نصاب بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

یہاں پر ہم قرآنِ حکیم کے ان ارشادات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں جن سے بنیانانِ غلط ہیں، یا دانش مندانِ بے دین نے مادی ترقی کے انہماک ہی کو قرآنی تعلیم کا مقصد قرار دیا ہے اور اس کے لئے آیتِ تسخیر کو دلیل لاتے ہیں یعنی:

﴿سَخَّرَ‌ لَكُم ما فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ...١٣﴾... سورة الجاثية

''اس اللہ نے تمہارے لئے زمین و آسمان کی تمام اشیاء کو مسخر کیا ہے۔''

﴿وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ‌ وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ‌...١٢﴾... سورة النحل

''اور اس نے تمہارے لئے رات، دن، سورج اور چاند کو مسخر کیا۔''

﴿وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الأَنهـٰرَ‌ ٣٢﴾... سورة ابراهيم

''اس نے تمہارے لئے نہروں کو مسخر کیا۔''

اس قسم کی متعدد آیات ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے بلا شبہ یہ فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز انسان کے لئے ہے۔ اس کی ترجمانی کرتے ہوئے اقبال نے کہا ہے:
؎ جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لئے

اور اسی خیال کو سعدی نے دُہرایا ہے کہ:
؎ ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرمانبردار

کہ چاند، سورج اور عناصر سب انسان کے کام میں لگے ہوئے ہیں، لیکن ان سب کا منشاء یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے انسان کے فطری اور ارتقائی تقاضوں کی تکمیل میں سرگرم ہے گویا تخلیقِ کائنات کا اصل مقصد انسانیت کی تکمیل ہے۔ بد قسمتی سے اس کا یہ اُلٹا مطلب لیا گیا کہ انسانی زندگی کا مقصد ان تقاضوں کی تکمیل ہے۔ اس بنیادی کج فہمی کی بنا پر قرآنی تعلیمات کے اصل مقصد کو نظر انداز کر دیا گیا اور ہر وہ فرد یا ملّت جس نے انسانیت کے ارتقائی منازل کی طرف قدم بڑھایا، اس کو قرآنِ حکیم کی آیات و ارشادات الٰہی پر کاربند تصور کر لیا گیا۔ تسخیرِ کائنات کی اصطلاح کو انسانی زندگی کے مقاصد عالیہ میں شمار کیا جائے گا۔

اس عہد کے بے شمار ادیب، شاعر اور فلسفی تسخیرِ کائنات کے قصائد مرتب کرنے میں مصروف ہیں اور یہ کسی نے نہ سمجھا کہ تسخیر کائنات تو بڑی چیز ہے۔ صحرائے اعظم کے ایک ذرّے اور بحرِ محیط کے ایک قطرے کو بھی انسان مسخر نہیں کر سکتا۔

کیونکہ عملِ تسخیر صرف اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہے۔ تسخیر کا لفظ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے لئے استعمال فرمایا ہے مثلاً:

﴿سَخَّرَ‌ الشَّمسَ وَالقَمَرَ‌ كُلٌّ يَجر‌ى إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى...٢٩﴾... سورة لقمان

یعنی چاند اور سورج اللہ تعالیٰ کے تابعِ فرمان ہیں، یہ سب ایک مقررہ عرصہ تک جاری رہیں گے۔

﴿سُبحـٰنَ الَّذى سَخَّرَ‌ لَنا هـٰذا...١٣﴾... سورة الزخرف" وہ کیسی پاک ذات ہے جس نے اس کو اپنا تابع فرمان بنایا تاکہ ہم مستفید ہوں۔

﴿وَسَخَّرَ‌ لَكُم ما فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ جَميعًا مِنهُ...١٣﴾... سورة الجاثية

اس نے آسمان و زمین کی ہر شے کو تابع فرمان بنایا تاکہ ہم اس سے مستفید ہوں۔

یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہے۔

ان آیات سے واضح ہے کہ تسخیر کائنات ہمارا کام نہیں۔ یہ تو اسی کا کام ہے۔ البتہ اس کی تسخیر جس طرح پر اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے ہم اس سے جس قدر چاہیں مستفید ہو سکتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ہر جگہ تسخیر کا مقصد، اشیائے کائنات میں ان کی خصوصیات و صلاحیات کی جکڑ بندی ہے۔ آگ اگر حرارت کی خاصیت میں جکڑی ہوئی نہ ہوتی تو آخر کوئی شخص اس سے روٹی کیوں کر پکا سکتا۔ اسی طرح ہر چیز کے اجزاء مل کر خالق کائنات کی خصوصی اور مقررہ کردہ خاصیتوں کے حامل ہیں۔ کان سے دیکھنے کا کام نہیں لیا جا سکتا اور آنکھ سننے کی قوت نہیں رکھتی اور یہ پابندی اس لئے ہے کہ انسان کے لئے تقاضا ہائے حیات کی تکمیل میں سہولت ہو۔ اگر اشیاء و اجزاء اشیاء اپنے خواص کی جکڑ بندی میں نہ ہوتے تو انسان کا کوئی ترقیاتی اور فطری تقاضا کبھی پرا نہ ہو سکتا۔ لیکن تسخیرِ کائنات کی اس مصلحت کو انسانی زندگی کی غرض و غایت سے کوئی تعلق نہیں۔

قرآنِ حکیم میں اس کی نہایت واضح دلیل ہے:

﴿الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَر‌ضَ فِر‌ٰ‌شًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَر‌ٰ‌تِ رِ‌زقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ﴿٢٢﴾... سورة البقرة

یعنی اللہ وہی ہے جس نے زمین کو تمہارا فرش اور آسمان کو تمہاری چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس کی تاثیر سے پھل پیدا ہوئے تاکہ تمہارے لئے خوراک حاصل ہو۔ تو اب جان بوجھ کر کسی اور کو اس کا شریک نہ بنانا۔

یہ آخری کا فقرہ ہی دراصل حیاتِ انسانی کا مقصد ہے اور سعدی نے بھی یہی کہا ہے:
؎ ابر و باد و ہ و خورشید و مملک درکار اند      تاتو نانے بکف آری و بغفلت نخوری
ہمہ از بہر تو سر گشتہ و فرمانبردار       شرط انصاف نہ باشد کہ تو فرمان نبری

یعنی تمام کائنات انسانی زندگی کی بحالی کے لئے ہے تو انسان کو بھی لازم ہے کہ وہ وحدانیتِ الٰہی سے سرتابی نہ کرے۔ اقبالؔ کا کہنا بھی یہی ہے کہ:
؎ نہ تو زمیں کے لئے ہے، نہ آسماں کے لئے          جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں ک لئے

جہان کا انسان کے لئے ہونا یہی ہے کہ انسان جہان بھر سے اپنی زندگی کے تقاضے پورے کرے لیکن یہ ہرگز مراد نہیں کہ زندگی کے تقاضوں کے ان اسبابِ تکمیل ہی کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دے اور جہان ہی کا ہو کر رہ جائے۔

انسان اور کائنات کا باہمی تعلق:

انسان اور کائنات کے باہمی تعلقات کا یہی پہلو شعر اقبال میں فلسفۂ خودی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن عہدِ حاضر کے اہلِ دانش نے خودی کے اس وسیع اور ہمہ رس نظریے کو نائے شکم کے دائرے میں محدود کر دیا۔ شارحینِ اقبال میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے خودی کے تصور کو تسخیر کائنات کی بے مصرف اصطلاح سے نہ جوڑ دیا ہو، ان کے درسِ خودی کو انسانی صلاحیتِ عمل و فکر کا درس قرار دے کر تمام مادی ترقیات کا مرکزِ ثقل نہ سمجھ لیا ہو۔

بلاشبہ اقبال کے اپنے الفاظ میں خودی کا مفہوم محض احساسِ نفس با تعینِ ذات ہے۔ لیکن اس احساسِ نفس کی تعبیر وہی ہے کہ انسان، جس کے لئے تمام جہان بنا ہے، خود جہاں کے لئے وقف ہو کر نہ رہ جائے۔ نفسِ انسانی کے تقاضے کو نفسِ انسانی کا مقصد تصور کر لینا ہی خودی کے مقام سے گر جانا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن اشیاء کو انسان کی خدمت پر مامور فرمایا ہے انسان اپنے ان اقدام کے آگے سجدہ ریز ہو۔

قرآن حکیم میں ایک ایسی قوم کا ذِکر ہے جس نے غیر اللہ کی پرستش کر کے گویا اپنی خودی کو کھو دیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل دریائے نیل کو عبور کر کے ایک ایسے مقام پر پہنچی جہاں کے لوگ بتوں کی پرستش میں مصروف تھے۔ انہیں دیکھ کر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے کہا کہ ''یہ لوگ اصنام کی پرستش کرتے ہیں، اسی طرح کا کوئی معبود ہمارے لئے بھی بنا دیجئے۔'' حضرت موسیٰؑ نے عاکفینِ اصنام کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

﴿أَغَيرَ‌ اللَّهِ أَبغيكُم إِلـٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُم عَلَى العـٰلَمينَ ١٤٠﴾... سورة الاعراف

یعنی کیسے ممکن ہے کہ میں معبودِ حقیقی کے علاوہ کوئی اور معبود تمہارے لئے تلاش کروں، حالانکہ تم کو خود سارے جہاں پر فضیلت حاصل ہے۔

انسان کا سارے جہاں سے افضل ہونا ہی اس امر کا متقاضی ہے کہ وہ کسی شے کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔ غیر اللہ سے یہی تفاوت خودی ہے اور اسی کا نام کفر بالطاغوت ہے:

﴿فَمَن يَكفُر‌ بِالطّـٰغوتِ وَيُؤمِن بِاللَّهِ فَقَدِ استَمسَكَ بِالعُر‌وَةِ الوُثقىٰ...٢٥٦﴾... سورة البقرة

یعنی جس نے شیطان سے کفر کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے مضبوط ستاویز کو پکڑ لیا۔

کلامِ اقبال میں ہر جگہ خودی سے کفر بالطاغوت ہی عبارت ہے لیکن مادی ترقیات کی چاشنی نے بہت سے لوگوں کو خودی کے صحیح مفہوم سے بیگانہ رکھا اور اس سے ہر شخص نے یہی سمجھا کہ اقبال نے انسان کی اعلیٰ صلاحیتیوں کو کام میں لا کر حصولِ ترقیات کا درس دیا ہے۔ حالانکہ حصولِِ ترقیات خواہ کس قدر بھی جاذبِ نظر ہو، اس کا نتیجہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ؎ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟

یہ مقام صرف اسی کا حق ہے جو تمام جہاں سے بغاوت کر کے اللہ کا ہو رہے۔ دنیا کی کوئی سر بلندی ایسی نہ ہو جس کے لئے انسان اپنا سر جھکائے اور اپنی خودی کو اپنے ہاتھوں برباد کرے۔ اقبال کے نزدیک مرگِ خودی کے لئے سوا اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ انسان غیر اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو۔ ہر چند کہ دانشورانِ اسلام نے توحید کی عظمت اور شرک کی مذمت میں بے شمار تالیفات کیں۔ عقائد کی کتابیں ایسے مضامین سے پُر ہیں جن میں وحدانیتِ الٰہی کا درس اور شرک بیزاری کی تلقین فرمائی گئی ہے۔

لیکن اس مدعا کے حصول کا وہ نصاب جو اقبال نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہے۔ علمائے اسلام، مشائخ اور صوفیائے کرام نے مظاہر کائنات سے فقط باری تعالیٰ کے دلائل کو اخذ فرمایا ہے۔ پہلے منطقی براہین سے فقط باری تعالیٰ کو ثابت کیا۔ پھر باری تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کے واسطے سے شرک کی نفی کی، لیکن اقبال کے مکتبہ فکر نے سب سے پہلے شرک سے بیزاری کی تلقین فرمائی۔ اور اس کے دلائل کو معرفتِ نفس یا خودی کے تصور سے وابستہ کیا۔

اقبال کا فلسفہ بڑی حد تک امام غزالیؒ کے اس نظریہ سے ناخوذ ہے کہ اللہ کی معرفت نفس کی معرفت پر موقوف ہے۔ امام غزالیؒ کے نزدیک معرفتِ نفس ہی سے اللہ کی ہستی کا سراغ ملتا ہے۔ اقبال معرفتِ نفس سے محض وجودِباری تعالیٰ کا استدلال نہیں کرتے بلکہ نہایت سیدھے سادھے دلائل کے ناگزیر نتائج کی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ:

''جو شخص اپنی ہستی کی حقیقت جان لے گا وہ کبھی کسی کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو گا۔''

اور یہی معرفتِ خویش یا احساسِ نفس یا خودی ہے۔ اس کی قرآنی دلیل یہ ہے کہ:

''اللہ تعالیٰ نے انسان کو من حیث النوع اشرف و احسن و افضلِ خلائق فرمایا ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ ایک اشرف ہستی ادنیٰ کے آگے سر بسجود ہو۔''

اقبال کے نزدیک بجا طور پر شناعتِ شرک کفر سے زیاد ہے۔ خدا کا مطلق انکار بلا شبہ بد ترین معصیت ہے۔ لیکن غیر خدا کو خدا بنا لینا اس سے بڑی معصیت ہے۔
؎ منکر حق نزدِ ملّا کافراست
منکرِ خود نزدِ من کافر تراست

منکرِ خود سے ان کی مراد وہی شخص ہے جس نے غیر اللہ کے آگے سر جھکا کر اپنی خودی کے شرف سے انکار کر دیا ہے۔ کیونکہ خودی کے اعتراف کی صورت یہی ہے کہ انسان شرک باللہ سے نجات حاصل کر لے۔ جس طرح قرآنِ حکیم نے بھی کفر بالطاغوت کو ایمان باللہ کی شرط اوّلین قرار دیا ہے (جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں) اسی طرح اقبال بھی خودی کے استحکام کو وحدانیت کی بنیاد مقرر کر تے ہیں۔
؎ مصطفےٰ اندر حرا خلوت گزید
مدتے خبر خویشتن کس رانزید

کے معنی یہ ہیں کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کو بھی رسومِ مشرکانہ کے ترک یعنی احساسِ خودی ہی سے معرفتِ حق حاصل ہوئی اور درسِ خودی سے اقبال کا مقصد بھی یہی ہے۔

انسان کا مقصدِ زندگی:

بد قسمتی سے ہم اقبال کے درسِ خودی کا پیوند انسان کی ایسی اولو العزمانہ صلاحیتوں سے جوڑتے ہیں جس سے محض مادی مدارج حاصل ہوں۔ اقبال کے مداحوں کے نزدیک خودی کا زیادہ سے زیادہ اور بلند سے بلند مقصد یہ ہے کہ انسان تسخیرِ کائنات کی قدرت حاصل کرے۔ حالانکہ یہ امر بجائے خود تحصیلِ حاصل کا مصداق ہے۔ دنیا میں کون سا انسان ایسا ہے جو تسخیرِ کائنات کے عمل میں منہمک نہ ہو۔ ایک بے خبر جاہل انسان خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان اپنے کھیت سے غلہ کی پیداوار کے لئے آسمانی، زمینی اور فضائی قوتوں سے بھرپور استفادہ کرتا ہے۔ ہمارے گھر کی ماوا آگ اور پانی کے عناصر ہی سے کام لے کر کھانا پکاتی ہے اور کائنات سے یہ استخدام بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک ماہر جواہرات اپنے دار التجربہ میں بیٹھا ہوا جوہری توانائی سے استفادہ کی راہیں سوچ رہا ہو یا ماہرِ برقیات بجلی سے چلنے والی کلیں تیار کرنے میں مصروف ہو۔ لیکن کوئی دانش مند یہ نہیں کہہ سکتا کہ انسانی زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ کھیتی باڑی کرے روٹی پکائے یا جوہری اور برقی قوتوں سے ایجادات و اختراعات کرتا رہے۔ اب اگر کوئی ذہن خودی کے اس اعلیٰ مقصد کو نر انداز کر کے تکمیل خودی کی یہ غایت سمجھے کہ:

''جب انسان کو اس حقیقت کا علم حاصل ہو جائے گا کہ میں اگر کوشش کروں تو کائنات پر حکمران ہو سکتا ہوں۔''

تو لا محالہ اس کے اندر اپنی خودی کی تربیت کا جذبہ پیدا ہو ا۔ اس لئے احساسِ خودی کے بعد اقبال نے تربیتِ خودی کا مفصل پروگرام پیش کیا ہے۔ جیسا کہ بعض مستند دانشمندوں نے فرمایا ہے۔ گویا احساسِ خودی تربیتِ خودی کی اصل غایت کائنات پر حکمرانی ہے۔ اول تو کائنات پر حکمرانی یا تسخیرِ کائنات بجائے خود ایک بے معنی تصور اور یا ایک آرزوئے بے محال ہے کیونکہ خالقِ کائنات کے سوا کائنات پر حکمرانی کسی کی ہو ہی نہیں سکتی۔ ہاں اگر اس کا یہ مقصدہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کائنات سے مستفید ہونے کا سب سے زیادہ اہل بنایا ہے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس لحاظ سے ہر انسان کافر یا مسلمان، مشرق کا ہو یا مغرب کا ہو۔ خواہ وہ احساسِ خودی یا تربیت خودی کے مفہوم سے بھی نا آشنا ہو، کائنات پر حکمرانی کر رہا ہے۔ گلستان سعدی کا آغاز ہی اس طرح ہوتا ہے کہ:

''ہر نفسے کہ فرومے رود عمدِ حیات ست و چوں برمے آید مفرِّ ذات پس در ہر نفسے دو نعمت موجود و بر ہر نعمتے فکرے واجب۔''

یعنی ہر سانس جو اندر جاتا ہے وہ زندگی بخش، اور جب باہر آتا ہے تو فرحت بخش ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک بار سانس لینے پر دو نعمتیں ہیں اور ہر نعمت پر شکر واجب ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متنفس دم بدم تسخیر کائنات کرتا ہے لیکن سعدیؔ نے زندگی کے اس عملِ تسخیر کو مقصدِ زندگی نہیں بتایا بلکہ زندگی کا مقصد شکرانِ نعمت ہے۔

اس طویل بحث کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ انسانی زندگی کا مقصد سخیر کائنات قرار دیتے ہیں یا وہ لوگ جو اسلام اور قرآن کی تعلیمات کا نچوڑ ہی یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کا مادی ترقیات میں گوئے سبقت لے جانا ہی قرآن اور اسلام کی تعلیم ہے، وہ سخت ظالم ہیں۔ ان کا یہ ظلم اسلام پر بھی ہے اور قرآن پر بھی۔

کیونکہ نہ اسلام ایسے روی مقاصد کا علمبردار ہے اور نہ قرآن چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اشرف ترین مخلوقات کو مادیات کے مزبلہ میں پھینک دے۔ اسلام اور قرآن دونوں ان سے کہیں بلند مقاصد کی رہنمائی کراتے ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا ارشاد ہے:

«اَلْدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْکَافِرِ»

یعنی دنیا ایمان دار کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان دنیا میں ذلت، محنت کشی اور بے بسی کے لئے ہے اور کافر کو ناز و نعمِ دنیا سے بہرہ ور ہونے کے لئے پیدا کیا گیا ہے بلکہ اس ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایماندار کی دنیوی زندگی خواہ کتنی ہی شاندار ہو آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں قید خانے کی زندگی سے کم نہیں۔ لیکن کافر کی زندگی خواہ کتنی ہی خستہ حالی اور مصائب میں بسمر ہو آخرت کی ذلت آمیز اور پُر عذاب زندگی کے مقابلہ میں گویا بہشت کی زندگی ہے۔
؎ حورانِ بہشتی راد و زخ بود اعراف         از دوز خیاں پرس کہ اعراف بہشت است

لہٰذا قرآن کریم جن مقاصدِ عالیہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ وہ مادی ترقیات نہیں بلکہ روحانی برتری کا حصول ہے اور یہی اعظم المقاصد اور غایت المرام ہے۔ (جاری ہے)