(۱):

''کیا فرماتے ہیں علمائے دین (شرع مبین) اس مسئلہ میں کہ مولانا مولوی حاجی خیر محمد صاحب سکنہ موضع پتل منا تحصیل کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ موجود ہے۔ آپ لاولد فوت ہوئے ہیں مگر ان کے مندرجہ ذیل وارثان موجود ہیں۔ بلحاظِ شریعت یہ جائیداد وارثان میں کس قدر تقسیم ہونی مناسب ہے۔ مسئلہ سے مطلع فرماویں۔

وارثان: بیوی     ہمشیرہ    بھتیجگان

ایک ایک ------''

محمد عاشق ولد اللہ بخش صاحب بلوچ

قذافی سٹیڈیم لاہور۔ 24, 1/73

الجواب بشرطِ صحّتِ سوال:

صورتِ مسئولہ میں متوفی کی جائیداد میں سے قرض اور وصیت (اگر کوئی ہو) منہا کر کے باقی جائیداد کے چار (۴) حصص کیے جائیں جن کو ورثاء میں مندرجہ ذیل نسبت سے تقسیم کی جاوے:

۴ = ۱ : ۲ : ۱

وضاحت يوں ہے کہ:

۴ حصص

(۱) بیوی (۲) ہمشیرہ (۳) بھتیجگان

1. بیوی کو جائیداد کے چار حصوں میں سے (اصحاب الفروض میں سے ہونے کی وجہ سے) ۱ حصہ، قرآنِ کریم نے خاوند کے لاولد ہونے کی صورت میں اسے چوتھائی کا مستحق قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:

﴿وَلَهُنَّ الرُّ‌بُعُ مِمّا تَرَ‌كتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ...١٢﴾... سورة النساء

2. ہمشیرہ کو چار (۴) حصص میں سے ۲ حصے (یہ بھی اصحاب الفروض سے ہے)

قرآن کریم میں ہے:

﴿يَستَفتونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فِى الكَلـٰلَةِ ۚ إِنِ امرُ‌ؤٌا هَلَكَ لَيسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُختٌ فَلَها نِصفُ ما تَرَ‌كَ...١٧٦﴾... سورة النساء

یعنی کلالہ (جس کے والدین نہ ہوں۔۔۔۔) لا ولد مر جائے جبکہ اس کی ایک بہن ہو تو بہن کو کل ترکہ کا نف ملے گا۔

3. باقی (۴-ا-۲: ۱) ایک حصہ عصبہ کا ہے۔ صورت مسئولہ میں قریبی عصبہ بھتیجگان (بھائی کے لڑکے) ہیں۔ ایک حصہ ان میں برابر بانٹ دیا جائے۔ حدیث میں ہے:

«فَمَا بَقِيَ فَھُوَ لِأوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ» (متفق علیہ عن ابن عباس)

یعنی جو اصحاب الفروض سے بچ جائے وہ قریب ترین (عصبہ) مرد کے لئے ہے۔

ھذا ما عندي واللہ عندہ حسنُ الصواب

حافظ عبد الرحمٰن مدنیؔ!

۱۸؍ ذی الحجہ ۱۳۹۲ھ

(۲):

''محترم المقام حضرت مولانا مدنیؔ صاحب، مدظلہ العالی!

سلام مسنون کے بعد عرض ہے، آج ایک شیعہ دوست سے باتوں باتوں میں 'متعہ' پر بحث چل نکلی۔ وہ 'متعہ' کو حلال اور جائز کہتے تھے۔ میں حرام اورناجائز کہتا تھا۔ آخر طیش میں میرے منہ سے یہ کلمات نکل گئے جو میں نقل کرتا ہوں:

'اگر اسلام میں 'متعہ' جائز اور حلال ہے تو میں اسلام سے باز آیا۔' (نعوذ باللہ)

اتنے میں ایک بزرگ آگئے، انہوں نے کہا کہ 'متعہ' حرام اور ناجائز ہے۔ اب آپ میری راہنمائی کریں۔ میں اپنے کلمات سے سخت پریشان اور نادم ہوں۔ تمام احباب کو السلام علیکم۔ فقط''

محمد اشرف طارق خریداری نمبر 1156

جواب:

(سائل کو اسی روز بذریعہ ڈاک بھیج دیا گیا تھا۔ برائے افارہ عام قارئین، ''محدث'' میں بھی شائع کیا جا رہا ہے)

گرامی نامہ ملا! آپ کے انتظار و اضطراب کے پیش نظر فوری جواب حاضر ہے۔

آپ کے الفاظ فطرتِ سلیمہ اور حمیّتِ اسلامیہ کی دلیل ہیں۔ آپ کی مراد یہ تھی کہ اسلام ایسا نہیں ہو سکتا کہ 'متعہ' جیسی قبیح چیز کو حلال قرار دے اور اگر 'متعہ' جیسی چیز اسلام میں ہو تو ایسے اسلام سے آپ متفق نہیں ہو سکتے۔ اس کی مثال قرآن مجید میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو کافروں سے کہنے کے لئے فرمایا:

﴿إِن كانَ لِلرَّ‌حمـٰنِ وَلَدٌ فَأَنا۠ أَوَّلُ العـٰبِدينَ ٨١﴾... سورة الزخرف

يعنی ''اگر رحمٰن کے لئے لڑکا ہو تو سب سے پہلے اس (لڑکے) کی عبادت کروں''

مطلب یہ ہے کہ ایسا ہو نہیں سکتا۔ ورنہ آپ ﷺ کسی صورت غیر اللہ کی پوجا کرنے والے نہ تھے۔ آپ بے فکر رہیے۔تاہم جوش میں آن کر ایسے الفاظ آئندہ ادا کرنے سے پرہیز کریں۔ جوش میں انسان چونکہ حواس کھو بیٹھتا ہے اس لئے غلط بات منہ سے نکلنے کا امکان ہوتا ہے۔ بہر صورت جو الفاظ آپ نے کہے وہ قطعاً قابلِ گرفت نہیں ہیں۔ باقی رہا 'متعہ' کی حرمت کا مسئلہ۔ وہ جیسا کہ کسی بزرگ نے اس مجلس میں بیان فرمایا، بالکل ٹھیک ہے۔ کسی مناسبت سے یہ مسئلہ محدث میں بھی تحقیق سے شائع کر یا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔

(۳)

حضرت علیؓ اور سیاست

مزید وضاحت

مضمون خلیفہ ''بلا فصل اور وصی رسول اللہ'' (محدث ماہِ محرم الحرام 1393ھ) کے بعض مندرجات کے سلسلہ میں بعض احباب نے مزید تشریح و توضیح کی فرمائش کی ہے، جو حاضر ہے:

سوال:

(الف) آپ کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟

(ب) ''یہ بات کہ حضرت علیؓ سیاسی سے زیادہ اہل علم تھے۔'' سے کیا مراد ہے؟

جواب:

(الف) حضرت علیؓ خلیفۂ ارشد تھے۔ اپنی باری پر مہاجرین و انصار کے منتخب کردہ، السابقون الاوّلون میں سے تھے، فاتحِ خیبر، صاحبِ ذوالفقار، عظیم مجاہد، اقضیٰ اُمت (اقضاھم علی) دامادِ رسولﷺ، شوہرِ بتولؓ، والدِ حسنینؓ اور شہید فی سبیل اللہ تھے۔

تقرّب اور اختصاص کی وجہ سے حضور ﷺ کے خصوصی تربیت یافتہ، مفسرِ قرآن، بلند پایہ مجتہد، ملتِ اسلامیہ کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور کتاب و سنت کے اسرار و رموز کے راز داں تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

(ب) یہ ایک اضافی بات ہے، مقصد یہ ہے کہ شیخین (حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ) آپ سے بڑھ کر سیاست دان تھے۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ باب سیاست میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی مقام اور مرتبہ ہی نہ تھا بلکہ آپ صاحبِ سیاست بھی تھے۔ ہاں آپ کی علمی حیثیت آپ کی سیاسیات سے بھاری تھی۔ تقابل وہاں ہوتا ہے جہاں دونوں کا وجود مسلم ہو، ورنہ تقابل کے کوئی معنی نہیں رہتے۔

نیز اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ آپ بالکل فیل رہے کیونکہ خارجی میدان میں بظاہر جس ناکامی اکا آپ کو سامنا کرنا پڑا تھا وہ راصل ان اہل ترین رفقاء کے فقدان کا نتیجہ تھا جو شیخین کو حاصل تھے اور یہ ان کی ذاتی کمزوری کا نتیجہ نہیں تھا۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ:

''حضرات شیخین کو ہم جیسے مشیر ملے تھے اور مجھے تم جیسے مشیر ملے۔'' (کتب تاریخ)

''سیاسی تفوّق سے عاری انسان'' کا ذِکر ایک عام اصول کے طور پر ذکر کیا ہے جس کا ائمہ نے ذکر فرمایا ہے اس جملہ کا تعلق آپ کی ذات گرامی سے نہیں ہے کیونکہ آپ سیاسیات سے عاری نہیں تھے بلکہ صاحبِ سیاست تھے۔

اس اضافی نسبت میں جر قدرتی فرق محسوس ہوتا ہے، ہم سمجھتے ہیں وہ بھی دراصل حکمتِ الٰہیہ پر مبنی ہے کیونکہ بعد میں آپ کی ذاتِ گرامی کے سلسلہ میں جو غلو ہونے والا تھا، دراصل جواب کے طور پر قدرت کی طرف سے یہ ''تقابلی مرتبت'' کی گنجائش رکھ دی گئی تھی تاکہ آنکھوں والے دیکھ سکیں اور آپ کے سلسلہ میں کوئی غلط مفروضہ قائم نہ کرنے پائیں۔ مگر افسوس! قدرت کی اس فیاضی سے بہت کم لوگوں نے استفادہ کیا۔ ؎
تہی دسانِ قسمت راچہ سود از رہبرِ کامل
کہ خضراز آبِ حیواں تشنہ مے آرد سکندر را