سورة البقرة مدنية وھی مائتان وست وثمانون اٰية واربعون رکوعاً

سورۂ بقرہ مدنی ہے، اسکی آیتیں 286، رکوع 40 ہیں۔ (کل کلمے 6221) حروف 25500 ہیں۔ (خازن)

منظر اور پسِ منظر:

دنیا ہرجائی تھی، بظاہر محسوس ہوتا تھا کہ وہ سبھی کے ہیں مگر ٹٹولو تو کسی کے بھی نہ تھے۔ خدا رکھتے تھے پر ان کا خدا ان کے نرغے میں تھا، گو وہ انسان تھے مگر انسانیت کے بہت بڑے دشمن تھے، اس لئے مکی دَور میں ان کو خدا فہمی، خدا جوئی، پاسِ وفا اور انسانیت کا درس دیا گیا اور کوشش یہ کی گئی کہ ''مئے توحید'' کا مزہ چکھا کر ان کو یوں مست کر دیا جائے کہ اب ماسوا کا ان کو ہوش نہ رہے۔ ہوش آئے تو اسی کا، جائے تو اسی کے لئے۔ ایک جان چیز ہے کیا، ہزار جانیں پائیں تو لٹادیں کہ لازوال زندگی ملے۔ کٹ مریں کہ ربّ ملے۔

بس مکی دور میں زیادہ تر اسی ''بے داغ ذوقِ عبدیت اور پاک حوصلہ'' کی تخلیق پر قناعت کی گئی۔ یہاں تک کہ وہ بول اُٹھے:

''ہم رہیں نہ رہیں، رہے نام اللہ کا۔''

جب قلب و نگاہ کی وہ اساس تیار ہو گئی، جس پر ملتِ اسلامیہ اور دینِ برحق کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے تو حکم ہوا۔ آگے چلئے!

مکی دور کی یہ کمائی، مدنی دور میں کام آئی، اب ملکی اور ملّی حیثیت سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا اور خالصۃً تمدنی مسائل کی بسم اللہ بھی ہو گئی۔ فرد، ریاست، بین الاقوامی اور بین الانسانی امور سے پالا پڑا۔

یہ صورتِ حال آنے والے دور کے سلسلہ میں اور اس سے متعلقہ ذمہ داریوں کے بارے میں ایک لطیف تلمیح تھی۔ اس لئے ان کو بات سمجھ میں آگئی کہ وہ اب کہاں کھڑے ہیں۔
چوں میگویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلاتِ لا الٰہ را

سورۂ بقرہ میں خلافتِ ارضی اور یہودیوں کے تمدنی مسائل کو بالخصوص ذکر کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کو یہ احساس ہو جائے کہ حضرتِ آدمؑ س جس خلافتِ ارضی کا آغاز کیا گیا تھا۔ اب اس کے وارث وہ ہیں۔ ترمذی شریف میں ہے کہ:

''حضور علیہ السلام نے فوج کا ایک رستہ روانہ کیا اور ان سے قرآن سنانے کی خواہش کی۔ سنتے سنتے جب آپ ﷺ ایک نوجوان کے پاس تشریف لائے تو پوچھا، تمہیں کیا آتا ہے؟ اس نے کہا فلاں فلاں اور سورہ بقرہ، آپ نے پھر سوال کیا: ''امعك سورة البقرۃ؟'' (کیا تمہیں سورہ بقرہ آتی ہے؟) قال ''نعم'' (ہاں! آتی ہے) قال ''اذھب فأنت أمیرھم'' (جائیے! اب آپ ان کے سپہ سالار ہیں) (حدیث حسن) ترمذی أبواب فضائل القراٰن۔ ابو ھریرہ)

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک انسان باخدا ہو تو سورۂ بقرہ کا فہم اس کو قیادت کا اہل بنا دیا ہے۔ کیونکہ اس میں تقریباً تقریباً وہ سب باتیں آگئی ہیں جو ملکی اور ملّی مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لئے مفید ہو سکتی ہیں۔ مثلاً:

* قیادت کاروبار نہیں، عبادت ہے۔

* سیادتِ جاہلیہ نہیں، خدمت ہے۔

امیر: طاغوت کا محکوم نہیں، بندۂ خدا ہے۔

* نفس، قوم اور گروپ کا غلام نہیں، میزان اور برہانِ الٰہی کا پابند ہے۔

* طہارتِ نفس، احساسِ آخرت، خدا خوفی اور فہمِ دین اہلیت کے ثبوت کے لئے بنیادی شرائط ہیں۔

سورۂ بقرہ کی اہمیت اور اس کے اندر مدفون خزائنِ علمیہ، دینیہ اور سیاسیہ کا آپ اس سے اندازہ فرما سکتے ہیں کہ صرف سورۂ بقرہ کی تعلیم و تربیت اور فہم کے لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دس سال اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو آٹھ سال صرف کرنا پڑے۔ (مؤطا امام مالکؒ)

اگر یہ کہا جائے کہ حکومتِ الٰہیہ کے قیام اور استحکام کے سلسلہ میں حضرت عمرؓ کی کامیابی کا راز، سورۂ بقرہ کی یہی تعلیم تھی تو کافی حد تک بجا ہو گا۔

احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ سورۂ بقرہ کے علم و عمل کے سلسلہ میں جو لوگ جتنے راسخ ہوتے ہیں۔ اتنا ہی وہ شیطان کی شیطنت سے دُور اور خدا سے قریب تر ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ شیطان نے خود اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ جو شخص سوتے وقت سورۂ بقرہ کی صرف آیۃ الکرسی کی تلاوت کا التزام رکھتا ہے۔ وہ رات بھر شیطان کے تصرف سے محفوظ رہتا ہے۔

«فإنك لن یزال علیك من اللہ حافظ ولا یقربك شیطان» (بخاری)

حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس گھر میں اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ شیطان اس سے بھاگ جاتا ہے:

«''إن الشیطان ینفر من البیتِ الذي یقرء فیه سورة البقرة» (مسلم)

تلاوت سے جہاں غرض برکت ہے وہاں اس سے رہنمائی حاصل کرنے کا جذبہ اور اس کی تعلیمات کو ملحوظ رکھنے کا عزم صمیم بھی ہوتا ہے۔ یہاں تلاوت سے مراد ایسی ہی تلاوت ہے۔