سب اہل حشر انہیں اشکبار دیکھیں گے
سروں پر جن کے گناہوں کے بار دیکھیں گے

نہ جانے حال دل بے قرار کیا ہوگا
نظر کے سامنے جب کوئے یار دیکھیں گے

فراز دار پہ کتنا حَسیں سماں ہوگا
ہم اپنے آپ کو جب زیب دار دیکھیں گے

کس خبر تھی سرِراہ اہل شرم و حیاء
ادائے شرم و حیا تار تار دیکھیں گے!

عمل جو ہوتے ہیں اہل جہاں سے چھپ چھپ کر
کل اہل حشر انہیں آشکار دیکھیں گے

بیاں ہوا ہے جو قرآں میں سب کا سب حق ہے
جو سن رہے ہیں وہ روز شمار دیکھیں گے

ہمارے دیدہ و دل فرش ِ راہ رہنے دو
کبھی تو ان کو سِر رہ گزار دیکھیں گے

وہ دل جو مرضئ مولا پہ ہوگئے راضی
خزاں کے ہاتھ میں جام بہار دیکھیں گے

بوقت نفخہ اولیٰ سب اہل ارض و سماء
زمیں سے تابفلک انتشار دیکھیں گے

ہزار بار اسے روکیں گے عزم و ہمت سے
کوئی بھی کام جو ہم ناگوار دیکھیں گے

ڈرا رہے ہیں جو راہ وفا کی سختی سے
وہ ہر قدم پہ ہمیں کامگار دیکھیں گے

حجابِ زندگی مستعار اٹھتے ہی
مال زندگئ مستعار دیکھیں گے

عمل کثیر ہیں جن کے مگر ریاء آلود
انہیں وہ حشر میں مثل غبار دیکھیں گے

جو آج ڈرتے ہیں شام ِ سیاہ سے عاجز
وہ کیسے قبر کا تاریک غار دیکھیں گے؟