حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺتک اللہ کا دین ''اسلام'' ہی رہا ہے او راللہ تعالیٰ ہی نے اس کے ماننے والوں کانام مسلمان رکھا ہے۔ (إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّـهِ الإِسلـٰمُ هُوَ سَمّىٰكُمُ المُسلِمينَ)لیکن اس ارشاد کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ اس دین کے نام لیواؤں کو کسی اور وصفی نام سے پکارنا منع ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں مختلف مناسبتوں سے انبیاؑء او ران کی امتوں کو دوسرے ناموں سے بھی پکارا گیا ہے۔ جیساکہ زیر نظر مضمون سے واضح ہوگا۔ ان شاء اللہ! اگرچہ یہ بھی درست ہے کہ اسلام میں علاقائی ، نسلی، لسانی، پیشہ اور فرقہ وارانہ تعصبات سے روکا گیاہے، لیکن قرآن مجید کے علاوہ، رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں صہیب رومیؓ، طفیل دوسیؓ، سلمان فارسیؓ اور ابوطیبہ الحجامؓ صحابہ کے نام معروف تھے۔ اسی طرح ایسے مذہبی نام، جو غیر رسول اللہ ﷺ کی زلف گیری اور رواجی رسومات کا مظہر ہوں، قطعی پسندیدہ نہیں۔ لیکن جن ناموں سے اعلیٰ دینی اقدار کی بحالی اور فتنوں سے خلاصی کی نشاندہی ہوتی ہو، ان کی تحسین سے انکار کرنا بھی مشکل ہے۔ اہل سنت او راہل حدیث اسی قسم کے نام ہیں۔ یہاں کتاب اللہ کی مکمل اور واحد تعبیر، سنت رسول اللہ ﷺ سے تمسک اور اس کے اسوہ حسنہ ہونے کا اعلان ہے، کسی غلط عقیدت کا اظہار نہیں۔ لہٰذا اس نام کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے مسجدوں میں سے بیت الحرام او ربیت المقدس وغیرہ کی۔ ان دونوں میں مسجد ہونے کے علاوہ ان کے اوصاف کا بھی بیان ہے۔ ورنہ اصل نام تو دونوں کا مسجد ہے۔ لہٰذا دینی اداروں اور تنظیموں کو خصوصی اہمیت اور اعلیٰ مقاصد کے اظہار کے لیے اگر کسی اور نام سے بھی موسوم کیا جائے تو کوئی حرج نہیں خواہ وہ بعد میں ان کاامتیازی نام ہی بن جائے۔ کراچی میں ایک گروپ نے اگر ''اہلحدیث'' نام چھوڑ کر اپنا نام ''جماعت المسلمین'' رکھا لیا ہے تو اس سے فرقہ واریت کا مسئلہ حل نہیں ہوگیا۔ کیونکہ عملاً یہاں دھڑے بندی ہورہی ہے اگر انہیں بعض اہلحدیث میں کوئی ایسی کمی محسوس ہوئی ہو کہ وہ اہلحدیث کہلانے کے باوجود فرقہ وارانہ رجحانات کا شکار ہوگئے ہوں، تو کوشش یہ کرنی چاہیے تھی کہ انہیں سنت و حدیث کے ذریعہ فرقہ بندی کی جکڑ سے نکالنے کی دعوت دیتے، جو اختلاف و انتشار کا اصل او رواحد حل ہے۔ ورنہ اب ''جماعت المسلمین'' نام رکھ کر آدمؑ سے لے کر تاقیامت مسلمانوں کو اس دھڑے کا رکن نہیں بنایا جاسکتا اوریہ محض طفل تسلی ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو کتاب اللہ پر عمل پیرا ہوکر سنت رسولؐ پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ( ادارہ)


...................................


نجات کا دارومدار نام پر نہیں، عمل پر ہے۔ آج وہ لوگ جو رفع الیدین کرتے او رآمین بالجہر کہتے ہیں، عموماً ان کو وہابی کہہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک بالکل کھلی حقیقت ہے کہ ان لوگوں کا نہ نجد سے کوئی تعلق ہے، نہ محمد بن عبدالوہاب سے۔ بلکہ اکثر لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ لوگ مقلد حنبلی ہیں، جب کہ ہمارے ہندوپاک میں اونچی آمین کہنے والے غیر مقلد ہیں۔ ان کی مثال بالکل اسی طرح ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ کو لوگ صابی کہتے تھے۔ حالانکہ صابی ایک لا مذہب فرقہ تھا، جو ستاروں وغیرہ کی پوجا کرتاتھا اور یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو صابی کہتے ہی اس لیے تھے کہ بقول مشرکین مکہ، آپؐ نے ان کا او ران کے باپ دادوں کا طریقہ چھوڑ کر ایک نیا طریقہ جاری فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ کہنے کو تو تم لوگ رسول اللہ ﷺ کو خواہ کچھ کہو، لیکن مدار نجات نام نہیں، بلکہ عمل ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواوَٱلَّذِينَ هَادُواوَٱلنَّصَـٰرَ‌ىٰ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ وَعَمِلَ صَـٰلِحًا فَلَهُمْ أَجْرُ‌هُمْ عِندَ رَ‌بِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢...سورۃ البقرۃ
''بے شک وہ لوگ جو مومن ہوں اور وہ جو یہودی ، عیسائی او رصابی ہوں ، جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور قیامت پر ایمان لائے او راچھے عمل کرے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس اجر ہوں گے او رانہیں کوئی خوف اور غم نہ ہوگا۔''

آج جو لوگ اہل سنت والجماعت کہلاتے ہیں، اگرچہ یہ نام بڑا پیار انداز فکر دیتا ہے کہ صرف رسول اللہ ﷺ کی سنت اور جماعت صحابہؓ کے پیروکار ہیں۔ لیکن اگر اسی نام کو عملاً بھی اپنایا جائے اور صرف رسول اللہ ﷺ کی سنت اور صحابہؓ کے اس مسئلہ کو اپنایا جائے جس پر انکا اجماع ہو تو میرا خیال ہے ، آج ان پر کسی کو انگشت نمائی کی جرأت نہ ہوتی۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ آج اہل سنت کہلانے والے ہی عملاً و اعتقاداً، ظاہراً و باطناً سب سے زیادہ سنت کے مخالفت کرنے والے ہوتے ہیں۔اس لیے اہل سنت کہلانے میں نجات نہیں بلکہ سنت رسولؐ کو اپنانے اور اس پر عمل کرنے میں نجات ہے۔

آج کراچی کے چند حضرات اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صرف ''مسلم'' کہلانا چاہیے کچھ او رلوگ ہیں جو کہتے ہیں، صرف ''حزب اللہ'' کہلانا چاہیے۔ اگر یہ بات صرف نام اور کہلانے کی حد تک محدود رہے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص عملاً ان لوگوں کا ہمنوا بھی ہو، اعتقاد و اعمال وغیرہ سب باتوں میں ان سے مکمل اتفاق رکھتا ہو، سنت پر عمل میں بھی کوئی فرق نہ ہو لیکن صرف ایک نام کے اختلاف کی وجہ سے یہ لوگ اس سے اتنا سخت بائیکاٹ کریں کہ اس کے پیچھے نمازیں پڑھنا ترک کردیں، اس سے سلام و کلام بند کردیں، اس کی مسجد میں اس کے ساتھ نماز ادا کرنا بھی ممنوع قرار دیں، دوسرے لفظوں میں اس کےساتھ بالکل کافروں کا سا سلوک کریں او راپنے آپ کو ''مسلم'' کہلا کر صرف نام کی حد تک اختلاف رکھنے والوں کو غیر مسلم یعنی کافر قرار دیں، تو میرے نزدیک یہ ایک ظلم اور صریح ظلم ہے۔اختلاف تو صرف نام کا ہے ورنہ عمل میں ایک سرمو بھی فرق نہیں اور صرف نام کے اختلاف کی وجہ سے اگر یہ سب کچھ کیا جارہا ہے تو میرا خیال ہے کہ ایسے لوگوں کو تو شاید اللہ تعالیٰ بھی معاف نہ فرمائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان میں جب خامیاں، کمزوریاں او رعملی کوتاہیاں آجاتی ہین اور تبلیغ دین کا صحیح جذبہ اور ولولہ ختم ہوجاتا ہے تو اس وقت وہ غلو فی الدین جیسی مبغوض فضولیات میں اپنا وقت ، پیسہ اور دماغ برباد کرنے لگ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل چیز اخلاص، للہیت اورسنت رسول اللہ ﷺ پر عمل ہے او ربس ۔ نام تو صرف تشخص و تعارف اور دوسروں سے اپنے تئیں ممتاز کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ نیز ان سے مسمٰی حضرات کی صفات، عقیدت اور وابستگی و ربط کا اظہار ہوتا ہے۔ فقط یہ اسماء وجہ قرب ہرگز نہیں ہیں۔ اس لیے ایک گروہ و جماعت کو متعدد اوصاف کی بناء پر متعدد ناموں سے موسوم و ملقب کیا جاسکتا اور پکارا جاسکتا ہے۔اس میں کوئی قباحت اور وجہ ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ بعض مواقع پر کثرت اسماء مسمیٰ کے شرف و منزلت پر دلالت کناں ہوتی ہے۔ عندالعرب:
''کثرة الأسمآء تدل علیٰ شرف المسمیٰ و فضله و مجده''
مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے اسماء گرامی وغیرہ۔

چنانچہ قرآن مجید میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی امتوں کو ان کے اوصاف کی بناء پر متعدد طبقوں او رناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔ جن کی تفصیل آئندہ آرہی ہے۔

کراچی شہر میں چند افراد نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اپنے آپ کو صرف ''مسلم'' یا ''مسلمین'' ہی کہلایا جاسکتا ہے اور دوسرے کسی بھی نام سے اپنے آپ کو موسوم، یالقب سے ملقب کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے ایک دو پمفلٹ بھی شائع کیے ہیں۔ جن میں قرآن مجید کی ان آیات کو پیش کیا ہے جہاں کسی نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) اور اس کے متعبین کے متعلق، مسلم یا مسلمین کا لفظ آیا ہے۔ اس میں انہوں نے دیانتداری سے کام ہر گز نہیں لیا بلکہ اہل ہوا کی طرح صرف اپنے مطلب برآری کے لیے آیات کو بطور استشہاد پیش کیاہے۔ کیونکہ جس نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) اور اس کےمتعبین کو مسلم یا مسلمین کہا گیاہے ، انہی کو قرآن مجید ہی میں دوسرے القابات سے بھ ملقب کیا گیاہے۔پھر ان القابات سے پکارا جانا کیوں ناجائز ہوگیا او رایسی آیات کا کیوں ذکر نہ کیا گیا؟

تمام کلمہ گو یان اسلام اوّلین اپنے آپ کو مسلم یا مسلمین کہتے ہیں، لکھتے ہیں، کہلواتے ہیں۔اس لقب سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔ کیونکہ دین اسلام میں داخل ہونے کا یہی ظاہری دروازہ ہے۔ تاہم اس کے بعد ان مسلمین کو دوسرے اوصاف سے متصف ہونے کی وجہ سے دیگر اسماء سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔

اسلام اور ایمان، یہ دونوں لفظ عموماً ایک دوسرے کے مترادف استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن بعض مواقع پر اسلام سے ظاہری اعمال او رایمان سے اعتقادی اعمال مراد ہوتے ہیں۔ فتح الباری میں ہے:
''والحق أن بینھما عموما و خصوما فکل مؤمن مسلم ولیس کل مسلم مؤمنا'' 1
یعنی ''حق بات یہ ہے کہ دونوں لفظوں میں عموم و خصوص کی نسبت ہے۔ ہر مومن ، مسلم (ضرور) ہے ، لیکن ہر مسلم لازماً مومن نہیں ہوتا۔''

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قَالَتِ ٱلْأَعْرَ‌ابُ ءَامَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُواوَلَـٰكِن قُولُوٓا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ ٱلْإِيمَـٰنُ فِى قُلُوبِكُمْ...﴿١٤﴾...سورۃ الحجرات
یعنی '' اعرابیوں نے کہا کہ ''ہم ایمان لے آئے''(اے محمدﷺ)آپ فرما دیجئے، ''تم ایمان نہیں لائے اس لیے کہو کہ ''ہم اسلام لے آئے (مسلمین ہوگئے)'' کیونکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔''

کراچی کے ان دعوے داروں نے سب سے اوّل حضرت نوح ؑ کےمتعلق یہ آیت پیش کی ہے:
وَأُمِرْ‌تُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ﴿٧٢...سورۃ یونس
''اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں مسلمین (فرمانبرداروں) میں رہوں''

حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کے متعلق ہی دوسرے مقام پر یوں بھی فرمایا:
إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿٨١...سورۃ الصافات
''بیشک وہ ہمارے ''مومنین'' بندوں میں سے تھے۔''

اس آیت سے معلوم ہوا کہ آپؑ ''مومن'' بھی پکارے گئے، نہ کہ صرف مسلم۔ جیسا کہ ان حضرات نے یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اب نوح ؑ کے متبعین کو دیکھئے۔ قرآن مجید نے سورۃ الشعراء، آیت 114 میں ان کو ''مؤمنین'' کے لقب سے ملقب کیا ہے:
وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِ‌دِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿١١٤...سورۃ الشعراء
''(نوحؑ نے فرمایا) ''مومنین'' (ایمانداروں)کودور کرنے والا نہیں ہوں۔''

اسی سورہ کی آیت 118 میں ہے، نوح ؑ نے دعا کی :
فَٱفْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِى وَمَن مَّعِىَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿١١٨...سورۃ الشعراء
''( اے اللہ) آپ میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردیجئے او رمجھے اور ''مومنین'' کو ، جو میرے ساتھ ہیں، بچا لیجئے۔''

حضرت نوح ؑ کے ان ایماندار ساتھیوں کو قرآن مجید میں ''اصحاب السفینة'' کا نام بھی دیا گیاہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَأَنجَيْنَـٰهُ وَأَصْحَـٰبَ ٱلسَّفِينَةِ...﴿١٥﴾...سورۃ العنکبوت
''ہم نے نوحؑ کو اور ''اصحاب سفینۃ'' (کشتی والوں) کو نجات دی''

حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قرآن مجید میں بہت سے اوصاف سےمتصف کیا گیا ہے۔ تفصیل ملاحظہ ہو۔

1۔ امام:
قَالَ إِنِّى جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا...﴿١٢٤﴾...سورۃ البقرۃ
''(اللہ رب العزت نے فرمایا، اے ابراہیم ؑ) ہم آپ کو لوگوں کا ''امام'' بنا دیں گے۔''

2۔ صالح :
وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ لَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ﴿١٣٠...سورۃ البقرۃ
''اور آخرت میں بھی وہ (ابراہیم ؑ) ''صالحین'' میں سے ہوں گے۔''

4،3۔ حنیف
(جویکسو اللہ کا ہو او راللہ ہی کے لیے رہے) مسلم :
قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَ‌ٰ‌هِـۧمَ حَنِيفًا...﴿١٣٥﴾...سورۃ البقرۃ
''کہہ دیجئے، بلکہ ہم ابراہیم ''حنیفؑ '' کی ملت اختیار کئے ہوئے ہیں''

وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا...﴿٦٧﴾...سورۃ آل عمران
''لیکن وہ (ابراہیم ؑ ) ''حنیف، مسلم'' تھے۔''

فَٱتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ حَنِيفًا...﴿٩٥﴾...سورۃ آل عمران
''پس ابراہیم ''حنیفؑ '' کی ملت کی اتباع کرو۔''

وغیرھا من الآیات!

5۔ خلیل :
جس کے تن من پر اللہ کی محبت چھائی ہو
وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ خَلِيلًا ﴿١٢٥...سورۃ النساء
''اور اللہ نے ابراہیم ؑ کو اپنا ''خلیل'' بنایا ہے۔''

7،6۔ اوّاہ، حلیم :
إِنَّ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ لَأَوَّ‌ٰهٌ حَلِيمٌ ﴿١١٤...سورۃ التوبہ
''ابراہیم ؑ''اوّاہ، حلیم'' (بڑے نرم دل اور متحمل) تھے۔''

9،8۔ امت، قانت :
إِنَّ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا...﴿١٢٠﴾...سورۃ النحل
''بیشک ابراہیم ؑ ''امت'' (لوگوں کے) امام (اور) خدا کے لیے ''قانت'' (فرمانبردار) تھے جو حنیف تھے۔''

10۔ شاکر :
شَاكِرً‌ا لِّأَنْعُمِهِ...﴿١٢١﴾...سورۃ النحل
''اللہ کی نعمتوں پر ''شاکر'' تھے۔''

11۔ صدیق :
(حق و صداقت کے پابند)
وَٱذْكُرْ‌ فِى ٱلْكِتَـٰبِ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ﴿٤١...سورۃ مریم
''اور کتاب میں ابراہیم ؑ کو یاد کیجئے ، بیشک وہ ''صدیق'' پیغمبر تھے۔''

ان کے علاوہ کچھ اور اوصاف بھی مذکور ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جہاں رسول اللہ ﷺ کوملت ابراہیمؑ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، وہاں خصوصی طور پر''حنیف'' کا ذکر ہے، جیساکہ فرمایا:
قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَ‌ٰ‌هِـۧمَ حَنِيفًا...﴿١٣٥﴾...سورۃ البقرۃ
''آپ ؐ فرما دیجئے ( ہم یہودی یا نصرانی نہیں بنیں گے،) بلکہ ابراہیم ''حنیف'' کی ملت اختیار کریں گے۔''

نیز فرمایا:
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ ٱتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ حَنِيفًا...﴿١٢٣﴾...سورۃ النحل
''پھر ہم نے آپؐ کی طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم ''حنیف'' کی اتباع کیجئے۔''

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''بعثت بالحنیفیة السمحة'' 2
کہ '' مجھے حنیفیہ سمحہ (ایک طرفہ آسان دین) کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔''

جن سے معلوم ہوگیا کہ صرف ایک لفظ ''مسلم'' کو بطور استدلال اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا اور باقی کو چھوڑ دینا انصاف نہیں ہے اور نہ ہی دیانتدارانہ تحقیق۔

حضرت ابراہیم ؑ کے متبعین کے متعلق قرآن مجید میں''مسلمون'' اور ''مؤمنین'' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے:
فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٣٢...سورۃ البقرۃ
''(ابراہیمؑ اور یعقوب ؑ نے بھی، اپنے بیٹوں کو یہی وصیت فرمائی کہ)...... مرنا تو ''مسلمان'' ہی مرنا''

اس سے اگلی آیت میں فرمایا:
وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٣...سورۃ البقرۃ
''(یعقوبؑ کے بیٹوں نے اقرار کیا کہ ) ہم اسی (اللہ) کے لیے ''مسلمون'' (فرمانبردار) ہیں''

سورہ ابراہیم آیت 41 میں ہے، ابراہیم ؑ نے دعا کی:
رَ‌بَّنَا ٱغْفِرْ‌ لِى وَلِوَ‌ٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ ﴿٤١...سورۃ ابراھیم
''اے ہمارے پروردگار، میری، میرے ماں باپ اور ''مؤمنین'' کی حساب (کتاب) کے دن مغفرت فرمائیے گا''

حضرت موسیٰ ؑ کے متبعین کے متعلق درج ذیل نام قرآن مجید میں موجود ہیں:
1۔ یہود :
وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ...﴿١١٣﴾...سورۃ البقرۃ3
''اور ''یہود'' نےکہا.....ۃۃ

وَلَن تَرْ‌ضَىٰ عَنكَ ٱلْيَهُودُ...﴿١٢٠﴾...سورۃ البقرۃ
''(اے نبیؐ) ''یہود'' آپؐ سے ہرگز راضی نہ ہوں گے....''

وغیرھا من الاٰیات!

2۔ بنی اسرائیل:
يَـٰبَنِىٓ إِسْرَ‌ٰٓ‌ءِيلَ ٱذْكُرُ‌وانِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ...﴿٤٧﴾...سورۃ البقرۃ
''اے ''بنی اسرائیل'' ، اپنے اوپر میری نعمتیں یاد کرو...'''

وغیرھا من الآیات!

3۔ مسلمین :
رَ‌بَّنَآ أَفْرِ‌غْ عَلَيْنَا صَبْرً‌ا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ﴿١٢٦...سورۃ الاعراف
''(موسیٰ ؑ کے مقابل آنے والے جادوگروں نےبالآخر کہا)....... ''اے ہمارے رب، ہم پر صبر و استقامت کے دہانے کھول دے او رہمیں (ماریو تو) مسلمان '' ہی ماریو''

سورہ قصص آیت 53 میں بھی موسیٰ ؑ کے متبعین کو ''مسلمین'' ہی کا نام دیا گیا ہے۔

4۔ اہل کتاب :
قُلْ يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ تَعَالَوْاإِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ...﴿٦٤﴾...سورۃ آل عمران
''اے ''اہل کتاب''جو بات ہمارے او رتمہارے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے، اس کی طرف آؤ''

وغیرھا من الاٰیات!

5۔ اصحاب موسیٰ ؑ :
فَلَمَّا تَرَ‌ٰٓ‌ءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَ‌كُونَ ﴿٦١...سورۃ الشعراء
'' جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے آئیں تو اصحاب موسیٰ ؑ کہنے لگے، ہم تو پکڑ لیے گئے۔''

6۔ اہل الذکر :
وَمَآ أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِ‌جَالًا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۚ فَسْـَٔلُوٓاأَهْلَ ٱلذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٤٣...سورۃ النحل
تھوڑے سے اختلاف الفاظ کے ساتھ یہی آیت سورۃ الانبیاء میں بھی ہے۔ (ملاحظہ ہو، آیت :47)
''اور ہم نے آپؐ سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کربھیجا تھا، جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے، اگر تم لوگ نہیں جانتے تو ''اہل الذکر'' (اہل کتاب) سے پوچھ لو''

سورہ نساء آیت 47 میں انہیں ''اصحاب السبت'' کا نام بھی دیا گیا ہے۔ جبکہ خود موسیٰ ؑ کے متعلق ارشاد ہوا:

فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَـٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿١٤٣...سورۃ الاعراف
''جب موسیٰ ؑ کو افاقہ ہوا تو کہنے لگے، تیری ذات پاک ہے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں او رمیں ''مؤمنین'' میں سب سے اوّل ہوں۔''

3،2،1۔ حواریون، انصار اللہ، مسلمون:
فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ ٱلْكُفْرَ‌ قَالَ مَنْ أَنصَارِ‌ىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِ‌يُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ‌ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿٥٢...سورۃ آل عمران
''جب عیسیٰ ؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی دیکھی تو کہنے لگے، ''کوئی ہے جو خدا کا طرفدار او رمیرا مددگار ہو؟'' ''حواری'' بولے، ہم ''انصار اللہ'' ہیں اور آپ گواہ رہئیے کہ ہم ''مسلمون'' (فرمانبردار) ہیں۔''

وغیرھا من الاٰیات!

4۔ نصاریٰ :
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواوَٱلَّذِينَ هَادُواوَٱلنَّصَـٰرَ‌ىٰ4۔ الاٰیۃ
''بیشک ایمان والے ، یہودی یا نصاریٰ.....''

وغیرھا من الآیات!

5۔ اہل الانجیل :
وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ...﴿٤٧﴾...سورۃ المائدہ
''اور ''اہل انجیل'' کو چاہیے کہ جو احکام اللہ رب العزت نے اس میں نازل فرمائے ہیں، ان کے مطابق حکم دیا کریں۔''

6۔اہل الذکر:
(النحل آیت 43، الانبیاء آیت 7۔ کما سبق)

7۔ اہل کتاب :
يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِىٓ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوْرَ‌ىٰةُ وَٱلْإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعْدِهِۦٓ ۚ...﴿٦٥﴾...سورۃ آل عمران
''اے ''اہل کتاب'' تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو، حالانکہ توراۃ اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟''

8۔ مؤمنین:
إِنَّ فِى ذَ‌ٰلِكَ لَءَايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٤٩...سورۃ آل عمران
''(عیسیٰ ؑ نے اپنے معجزات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا) اگر تم ''مؤمنین'' ہو تو ان باتوں میں تمہارے لیے (خدا کی قدرت کی)نشانی ہے''

حضرت لوط ؑ کے متبعین کو بھی ''مؤمنین'' اور ''مسلمین'' کےالقاب دیئے گئے ہیں:

فَأَخْرَ‌جْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿٣٥...سورۃ الذاریات
''وہاں جتنے ''مؤمنین'' تھے، انہیں ہم نے نکال لیا''

فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ‌ بَيْتٍ مِّنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ﴿٣٦...سورۃ الذاریات
''او رہم نے اس میں ایک گھر کے سوا ''مسلمین'' کا کوئی گھر نہ پایا''

واضح رہے کہ نام نہاد جماعت المسلمین کے پمفلٹ میں صرف آیت 36 کا ذکر ہے، لیکن اس سے پہلی آیت 35 سے دانستہ اغماض کیا گیاہے ۔ حالانکہ اللہ رب العزت نے ان کو پہلے مؤمنین کہا، بعد میں مسلمین! ''أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ ٱلْكِتَـٰبِ وَتَكْفُرُ‌ونَ بِبَعْضٍ۔ الاٰیۃ'' (البقرہ:85)

جبکہ حضرت محمد ﷺ کے متبعین کے لیے مؤمنین کے لفظ سے قرآن مجید بھرا پڑا ہے۔ مسلمون کا لفظ بھی ا ن کےلیے بارہا استعمال ہوا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ میں فرمایا:
''قُولُوٓاءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا........وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ'' (آیت:136)
''کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ کے ساتھ او راس چیز کے ساتھ جو ہماری طرف اتاری گئی..... ...او رہم اسی (اللہ) کے لیے '' مسلمون'' (فرمانبردار) ہیں۔''

سورۃ الصف میں ان کو انصار اللہ بھی کہا گیا ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواكُونُوٓا أَنصَارَ‌ ٱللَّهِ...﴿١٤﴾...سورۃ الصف
''اے ایمان والو، ''انصار اللہ'' بن جاؤ''

اور سورہ مجادلہ میں حزب اللہ بھی :
أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿٢٢...سورۃ المجادلہ
''خبردار ''حزب اللہ'' (اللہ کا شکر) ہی فلاح پانے والا ہے۔''

صحابہ کرامؓ کی دو جماعتوں کے لیے مہاجرین و انصار کے لقب کا ذکر بھی ہوا ہے:
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَـٰجِرِ‌ينَ وَٱلْأَنصَارِ‌ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَـٰنٍ رَّ‌ضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا۟ عَنْهُ...﴿١٠٠﴾...سورۃ التوبہ
''او رجن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) ''مہاجرین'' میں سے بھی اور ''انصار'' میں سے بھی ، او رجنہوں نے احسان کےساتھ ان کی اتباع کی ، اللہ ان سے راضی ہوا او روہ اللہ سے راضی ہوئے۔''

لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِىِّ وَٱلْمُهَـٰجِرِ‌ينَ وَٱلْأَنصَارِ‌ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ ٱلْعُسْرَ‌ةِ...﴿١١٧﴾...سورۃ التوبہ
''بیشک خدانے پیغمبرؐ پر مہربانی کی او ر''مہاجرین و انصار'' پر بھی، جو مشکل گھڑی میں آپؐ کے متبع رہے۔''

پھر احادیث میں رسول اللہ ﷺ کے متبعین کے لیے اہل قرآن کا نام بھی استعمال ہوا ہے۔ملاحظہ ہو:
''یاأھل القرآن أوتروا'' 5
''اے اہل قرآن وتر کیا کرو۔''

جبکہ ائمہ دین کے ہاں اصحاب الحدیث، اہل الحدیث، اہل السنۃ والجماعۃ کی اصطلاحات بکثرت استعمال ہوئی ہیں او ریہ سب رسول اللہ ﷺ کے متبعین کے مختلف نام ہیں۔ لیکن اگر کوئی گروہ اپنا نام بہتر سے بہتر رکھ لے۔ مثلاً کوئی جماعت اپنا نام ''مؤمنین'' رکھ لیتی ہے، اس لیے کہ قرآن مجید میںمؤمنین کی بہت تعریف آئی ہے۔ تاہم اس کا عقیدہ و عمل قرآن مجید اور حدیث رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہے، تو محض نام ''مؤمنین'' رکھ لینے سے یہ جماعت ، جماعت حقہ یا جماعت ناجیہ نہیں بن سکتی۔ علاوہ ازیں قرآن مجید میں ہے:
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُ‌هُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِ‌كُونَ ﴿١٠٦...سورۃ یوسف
یعنی'' اکثر لوگ ایمان کے دعوے کے باوجود مشرک ہیں۔''

اہل حدیث کا عقیدہ و عمل وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے پیش فرمایا ۔ صحابہ کرامؓ جس راہ پر چلے، تابعین و تبع تابعین نےجس راہ کو اختیار کیا، اہلحدیث کی راہ بھی وہی ہے کسی شخص کی انفرادی رائے یا اجتہاد اہل حدیث کے لیے قطعاً دلیل و حجت نہیں ہے، نہ ہی کسی کی عملی کوتاہی یا غلطی کو اس کے سامنے بطور سند یابطور طعن پیش کیا جاسکتا ہے۔

لفظ اہلحدیث کا معنیٰ :
اہل کا معنیٰ ہے، مالک، صاحب ۔ والا یا والے اور رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل او راس کام کو، جو آپؐ کے سامنے کسی صحابیؓ نے کیا ہو اور آپؐ نے اس کا انکار نہ کیا ہو، بلکہ تصویب فرمائی ہو یا سکوت اختیار کیا ہو، اصطلاح میں حدیث کہا جاتاہے۔ جبکہ قرآن مجید کو بھی اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر حدیث کا نام دیاہے۔ یہ مقامات ملاحظہ ہوں:
فَلَعَلَّكَ بَـٰخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِ‌هِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوابِهَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ أَسَفًا ﴿٦...سورہ الکہف
''(اے پیغمبرؐ) اگر یہ لوگ اس ''حدیث'' (قرآن پاک)پرایمان نہ لائیں، تو شاید آپؐ رنج کرکرکے اپنے تئیں ہلاک کردیں گے؟''

فَبِأَىِّ حَدِيثٍ بَعْدَ ٱللَّهِ وَءَايَـٰتِهِۦ يُؤْمِنُونَ ﴿٦...سورۃ الجاثیہ
''(یہ لوگ) اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟ (یعنی انہیں اللہ تعالیٰ اور اسی ''حدیث'' (قرآن مجید)پرایمان لانا چاہیے) ''

فَلْيَأْتُوابِحَدِيثٍ مِّثْلِهِۦٓ إِن كَانُواصَـٰدِقِينَ ﴿٣٤...سورۃ الطور
''اگریہ سچے ہیں تو ایسی ''حدیث'' (کلام) بنا تو لائیں''

أَفَمِنْ هَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ ﴿٥٩...سورۃ النجم
''(کیا تم نے اس ''حدیث'' (کلام، قرآن مجید) سے تعجب کرتے ہو؟''

ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ ٱلْحَدِيثِ كِتَـٰبًا مُّتَشَـٰبِهًا مَّثَانِىَ تَقْشَعِرُّ‌ مِنْهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَ‌بَّهُمْ...﴿٢٣﴾...سورۃ الزمر
''خدا نے ''احسن الحدیث'' (نہایت اچھی باتیں) نازل فرمائی ہیں۔کتاب۔ (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) او ردوہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں (اسے سن کر) ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔''

فَذَرْ‌نِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ...﴿٤٤﴾...سورۃ القلم
''مجھے اس ''حدیث'' (کلام'' کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو''

فَبِأَىِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٠...سورۃ المرسلات
''اب اس ''حدیث'' (قرآن) کے بعد یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟''

وغیرھا من الآیات!

گویا قرآن مجید بھی حدیث ہے او رحدیث رسول اللہ ﷺ بھی حدیث۔ او راہل کامعنیٰ ہے صاحب، مالک، والا یا والے۔ لہٰذا اہلحدیث کا معنیٰ ہوا مالک حدیث، صاحب حدیث، حدیث والے یعنی قرآن مجید اور حدیث رسول اللہ ﷺ پرعمل کرنے والے اور اعتقاد رکھنے والے۔6 خود قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ ؑ کے متبعین کو ''مسلمون'' کہا گیا ہے او رپھرانہی مسلمون کو ان کی کتاب انجیل کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے۔

وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ...﴿٤٧﴾...سورۃ المائدہ
''اہل انجیل کو چاہیےکہ بما انزل اللہ (انجیل ہی) کے مطابق فیصلے کریں''

لہٰذا اہلحدیث کہلانے والے کتاب و سنت کو ماننے والے بھی ہیں، مسلمون بھی ہیں، مؤمنین بھی۔

تمام نبیوں کے امتی مسلمین ہیں:
جتنے انبیاؑء سابقین ہوئے، ان کے متبعین کوبھی مسلم ہی کہا گیا ہے۔ اگر آج موسیٰ علیہ السلام کے امتی اپنے کو مسلم کہلانا شروع کردیں یا جس طرح قادیانی اپنے آپ کو مسلم جماعت کہلاتے ہیں یاجس طرح حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی، شیعہ وغیرہ حتیٰ کہ وہابی او ربہائی بھی اپنے آپ کو مسلم کہلاتے ہیں، تو خدارا آپ خود ہی غور فرمائیں کہ آپ ان سے اپنے آپ کو ممتاز کس طرح کریں گے؟

بہاولپور کی عدالت میں ایک دفعہ حنفی و اہلحدیث نے شرائط طے کرتے ہوئے ، اہلحدیثوں کی طرف سے حافظ عبدالقادر روپڑی مقرر تھے۔ حنفی مقرر نے شرائط طے کرتے ہوئے کہا کہ ''مناظرہ مابین اہل سنت والجماعت و اہلحدیث'' حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ ''اہل سنت میں شیعوں کے سوا سب گروہ شامل ہین۔ مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، اہلحدیث ۔ اس لیے ان سے وضاحت فرما لیں کہ یہ کون سے اہلسنت ہیں؟'' تو جج صاحب کے پوچھنے پر انہوں نے کہا ''حنفی اہل سنت'' پھر حضرت حافظ صاحب نے فرمایا ''ایک اور وضاحت فرما لیں کہ حنفی بھی دو قسم کے ہیں۔ بریلوی اور دیوبندی۔ یہ کون سے اہل سنت ہیں؟'' تو انہوں نے کہا کہ ''بریلوی حنفی اہلسنت''۔ یہ سارا واقعہ لکھنے کا میرا مدعا یہ ہے کہ امتیازی نام بطور علامت کہلانے میں کوئی قباحت نہیں، اس لیے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمین اہل انجیل کی جماعت کو فرمایا:
وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ...﴿٤٧﴾...سورۃ المائدہ
کہ '' اہل انجیل کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام کے مطابق فیصلے کریں۔''

اس لیے انجیل ماننے والے مسلمین کو اہل الانجیل کہہ لینا کوئی کفر کی بات نہیں ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ آج کے دور میں تشتت و افتراق کوئی کارنامہ نہیں ہے، بلکہ اتفاق و اتحاد کارنامہ ہے۔ آج شیعی رہنما آیت اللہ خمینی نے پنے شیعوں کو اہل سنت کے مطابق حج کرنے کو کہا ہے تو اس کامطلب صرف یہ ہے کہ معمولی معمولی باتوں پر افتراق کرتے کرتے اپنے کو ختم کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔7آج غیر مسلم کفار کے مقابلہ میں تمام اسلامی فرقوں کو متفق و متحد ہوکر مقابلہ کرنا چاہیے۔

عیسائی کہتے ہیں کہ ہمارے عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے قتل کیا اور یہودی کہتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا۔ مدعی اور مدعا علیہ دونوں اس قتل پر متفق ہیں اور قتل کے اقرار کے باوجود، مقتول کے ورثاء، ان (قاتلین کے ورثاء) سے ملنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صرف مسلمان کو ختم کرنے کے لیے ! لیکن آج مسلمان ہیں جو خود مسلمانوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج کردینا چاہتے ہیں۔

اہلحدیث کوئی فرقہ نہیں جو کسی سے اختلاف کرکے نکلا ہو (جیسے جماعت المسلمین نے اہلحدیث سے اختلاف کرکے الگ جماعت بنائی ہے) بلکہ اصل خالص بے آمیز اسلام، جو رسول اللہ ﷺ جس شکل و صورت میں لے کر آئے تھے، اس کے حاملین و عاملین افراد اور معتقدین کو اہلحدیث کہا جاتاہے۔ ان کا امام، امام الانبیاؑء محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ان کا دین اسلام، قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ ﷺ سے عبارت ہے۔ یہی عقیدہ و نظریہ صحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ دین کا رہا ہے او راسی عقیدہ کے حاملین، عاملین ہر دور اور تمام اسلامی قلمرو میں اسی نام ''اہلحدیث'' سے پائے جاتے رہے ہیں۔

صحابہ کرامؓ و تابعین کااپنے کو اہلحدیث کہنا:
1۔ ''عن أبي سعید الخدري أنه کان إذا رأی الشباب قال مرحبا بوصیة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أن نوسع لکم في المجلس وأن نفھمکم الحدیث فإنکم خلوفنا وأهل حدیث بعدنا'' 8
یعنی ''ابوسعید خدری ؓ جب کسی نوجوان طالب حدیث کو دیکھتے تو فرماتے، ''رسول اللہ ﷺ کی وصیت تمہیں مبارک ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تمہارے لئے اپنی مجلس کشادہ کریں اور تم کو حدیث سمجھائیں۔ تم ہمارے نائبین ہو او رہمارے بعد تم اہلحدیث ہو۔''

ثابت ہوگیا کہ صحابہ کرامؓ اور تابعین  اپنے آپ کو اہلحدیث کہتے تھے۔

اہلحدیث کے لیے رسول اللہ ﷺ کی وصیت یہ تھی:
''سیأتیکم شبان من أقطار الأرض یطلبون الحدیث فإذا جآء وکم فاستوصوا بھم خیرا''
یعنی ''تمہارے پاس زمین کے اطراف سے نوجوان لوگ حدیث طلب کرنے کے لیے آئیں گے، جب تمہارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ اچھا سلوک اور خیرخواہی کرنا۔''

2۔ ابوبکر بن ابی داؤد فرماتے ہیں:
''کنت أجمع مسند أبي هریرة فرأیته في النوم و أنا بإصبھان فقال لي: أنا أوّل صاحب حدیث في الدنیا وقد أجمع أهل حدیث علیٰ أنه أکثر الصحابة حدیثا'' 9
یعنی '' میں حضرت ابوہریرہؓ کی حدیثوں کو جمع کررہا تھا تو میں نے اصبہان میں ابوہریرہؓ کو خواب میں دیکھا۔ انہوں نے فرمایا : ''میں دنیا میں پہلا اہلحدیث تھا۔''

3۔ امام شعبی المتوفی 103ھ جلیل القدر تابعی ہیں، فرماتے ہیں:
''لو استقبلت من أمري ما استدبرت ما حدثت إلابما أجمع عليه أھل حدیث'' 10
یعنی ''اگر میں پہلے معلوم کرلیتا جو بعد میں معلوم ہوا تو میں صرف وہی حدیثیں بیان کرتا جن پر اہلحدیث کا اجماع ہے۔''

4۔ ابومنصور عبدالقاہر بن طاہر بغدادی اپنی کتاب اصول الدین صفحہ 117 پر رقم طراز ہیں:
''بیان ھٰذا واضح في أن ثغور الروم والجزیرة والشام و آذربائیجان کل أھلھا کانوا علیٰ مذھب أهل حدیث و کذٰلك ثغور الأفریقیة و أندلس وکل ثغرورآء بحر المغرب کل أھلھا کانوا من أھل حدیث وکذٰلك ثغور الیمن علیٰ ساحل الزنج کان أھلھا من أھل الحدیث''
یعنی ''یہ واضح امر ہے کہ روم، جزیرہ، شام، آذربائیجان اور اسی طرح افریقہ، اندلس کی سرحدوں کے رہنے والے اور بحر مغرب کے وراء کے باشندے تمام کے تمام اہلحدیث تھے۔ یہ تمام علاقے پہلی صدی ہجری میں فتح ہوجاتے ہیں۔ آذربائیجان 22 ھ میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے فتح کیا۔ اور شام ، دمشق 14ھ میں، حضرت ابوعبیدہؓ اور پھر خالد بن ولیدؓ نے اس کو فتح کیا او راقلیم اندلس کو طارق بن زیاد نے 92ھ میں اور اقلیم افریقہ کو عبداللہ بن سعد نے 27ھ میں فتح کیا۔''

اندازہ کیجئے اس وقت سوائے اہلحدیث نام کے کوئی دوسرا نام نہیں تھا جس کو مسلمین اپنے اوپر بطور لقب اطلاق کرتے ہوں۔

5۔ امام زہری جلیل القدر تابعی اور جامع حدیث ہیں۔ تقریباً 80 ھ میں عبدالملک بن مروان کے پاس گئے، جب وہاں سے آنے لگے تو عبدالملک نے امام زہری کو مخاطب کرکے فرمایا: ''أنتم یا أصحاب الحدیث'' 11
یہ صحابہ کرامؓ اور تابعین  کا زمانہ ہے۔وہ سب اہلحدیث ہی کہلاتے تھے۔ دیگر نسبتیں حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، عرصہ دراز کے بعد ایجاد کی گئی ہیں۔

6۔ حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
''ومن أھل السنة والجماعة مذھب قدیم معروف قبل أن یخلق اللہ أبا حنیفةو مالکا و الشافعي و أحمد فإنه مذھب الصحابة الذین تلقوہ عن نبیھم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)''12
یعنی ''اہل سنت و جماعت کا مذہب امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل کی پیدائش سے پہلے مشہور و معروف ہے۔ او ریہی صحابہ کرامؓ کا مذہب ہے، جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیا ہے۔''

لہٰذا اگر مسلمین کے علاوہ اہلحدیث کا لقب گوارا نہیں، تو ان تمام مسلمین کے متعلق کیا فتویٰ ہوگا جو آج تک اہلحدیث کہلاتے رہے ہیں؟ مثلاً امام ترمذی نے اپنی کتاب ترمذی شریف میں دوسرے شخصی فقہی مسلکوں کے مقابلے میں اہلحدیث یعنی اس خالص مسلک کو بھی پیش کیا ہے جو اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کے علاوہ کسی طرف منسوب نہیں کرنا چاہتے ت وبقول شماوہ نعوذ باللہ مسلمان نہ رہے اور جماعت مسلمین سے خارج ہوگئے؟ کیونکہ امام ترمذی نے ترمذی شریف میں جگہ جگہ اہلحدیث کا ذکرکیا ہے۔ معاذ اللہ اگریہ سب اہلحدیث مسلمان نہ تھے تو پھر آج دنیا میں کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔

خلفائے راشدینؓ میں سے آج تک کسی کو امیر المسلمین نہیں کہا گیا بلکہ امیر المؤمنین کہا گیا ہے۔اگر یہ اتنا ہی اہم مسئلہ ہوتا تو پھر سابقہ لوگ بھی اس کے متعلق کچھ لکھتے جب کہ کسی کتاب میں بھی آج تک اتنا سخت فتویٰ نہیں دیا گیا۔

البتہ شاہ ولی اللہ نے ایک کوشش کی تھی کہ فروعات کے اختلاف کو زیادہ ہوا نہ دی جائے اور فرعیات کی وجہ سے کسی پر فتویٰ نہ لگایا جائے۔''چاروں مذہب برحق '' کا جملہ ان ہی کی اختراع تھی اور مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے رفع الیدین نہ کرنے والے ، کرنے والوں پر فتویٰ بازی نہ کریں تاکہ اختلافات کی خلیج کم ہو۔

ہمارے تجربہ کی بات یہ بھی ہے کہ جب بھی کبھی اتفاق و اتحاد کا سلسلہ کسی تحریک کی وجہ سے معرض وجود میں آیا تو اہلحدیثوں کو ہی فائدہ ہوا۔ کیونکہ انہیں قریب ہو کر دیکھنے کا لوگون کو جس قدر موقع ملتا ہے، اسی قدر جلد وہ ان سے متاثر ہوکر اہلحدیث ہوجاتے ہیں۔


حوالہ جات
1. فتح الباری ج1 ص122
2. مسند احمد صفحہ 5؍266، طبع بیروت
3. حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیرو کار او رماننے والے تو مسلمان ہی ہیں، البتہ یہود اس خصوصی دین کے حاملین کو کہتے ہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منسوب ، مگر من گھڑت تعلیمات کی بنا پر صرف اپنے جنتی ہونے کا دعویٰ کیا۔یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ یہود سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حقیقی پیروکار نہیں ہیں۔ (ادرہ)
4. یہود کی طرح نصاریٰ بھی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حقیقی پیروکاروں کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ قرار دے کر ان کی پرستش شروع کردی او رنصاریٰ کے نام کو وہ اپنے لیے پسند بھی کرتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر ان کا یہ نام ذکر فرمایا ہے۔ (ادارہ)
5. سنن نسائی صفحہ 1؍199 ، طبع سلفیہ لاہور
6. لغوی طور پر اہلحدیث کی طرف سے یہ وضاحت درست ہے لیکن دوقدیم فقہی مکاتب فکر اہل الحدیث او راہل الرائے میں سے اہلحدیث کا نام اس وجہ سے اہلحدیث نہیں تھا یا اسی طرح برصغیر پاک و ہند میں اہلحدیث، قرآن کوبھی ماننے کی بناء پر ، اہلحدیث نہیں کہلواتے، بلکہ اہلحدیث وہ لوگ ہیں جو اسلا م میں کسی مخصوص طبقہ کے تعصب کے قائل نہیں۔ قرآن مجید کی تعبیر و تبیین حدیث رسول اللہ ﷺ سےکرتے ہیں اور سنت نبوی پر عمل پیرا ہونا ہی باعث نجات سمجھتے ہیں۔ (ادارہ)
7. یہ سب باتیں بطور تقیہ کے ہیں، کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ (ادارہ)
8. شرف اصحاب الحدیث صفحہ 21
9. الاصابہ صفحہ 4؍204 طبع مصر
10. تذکرۃ الحفاظ ، ج1 ص77
11. تذکرہ، ج1 ص104
12. منہاج السنۃ، ج1 ص256