عقیقہ کے دن بچہ کا نام رکھنا:
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں:
''أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمر بتسمیة المولود یوم سابعه ووضع الأذٰی عنه والعق'' 1
''نبی ﷺ نے مولود کا نام اس کے ساتویں دن رکھنے، اس کی تکلیف دور کرنے اور عقیقہ کرنے کا حکم فرمایا''

اس حدیث کو شارح صحیح مسلم امام نووی  نے اپنی مشہور کتاب ''الاذکار''i او رامام ابن تیمیہ نے ''صحیح الکلام الطیب''ii میں بھی نقل کیا ہے۔بعض دوسری احادیث میں بھی عقیقہ کے دن یعنی ساتویں روز بچہ کا نام رکھنے کااشارہ ملتا ہے۔مثلاً :
''کل غلام رھین بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسمیٰ''
(سنن أبي داود والترمذي و النسائي و ابن ماجة عن سمرة بن جندبؓiii)
''عق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن حسن و حسین یوم السابع و سماھما و أمر أن یماط عن رؤوسھما الأذٰی'' وغیرہ

امام نووی فرماتے ہیں کہ:
''سنّت یہ ہے کہ مولود کا نام پیدائش کے ساتویں دن یا پیدائش ہی کے دن رکھا جائے۔''2

لیکن جس بچہ کا عقیقہ نہ کیا جائے اس کا اسی دن نام رکھنا چاہیے۔اس سلسلہ میں امام بخاری نے اپنی صحیح کے ''کتاب العقیقہ'' میں ایک باب باندھا ہے جو اس طرح ہے:
''باب في تسمیة المولود غداة یولد لمن لم یعق عنه و تحنیکه''
''یعنی جس بچے کا عقیقہ نہ کیا جائے اس کا اسی روز نام رکھنا او رتحنیک کرنا۔''

اس باب میں امام موصوف نے پانچ روایات جمع کی ہیں۔

عقیقہ کا جانور کیسا ہو؟
ذیل میں عقیقہ کے جانور کے متعلق بعض عام احکام پیش ہیں جن کی رعایت ضروری ہے:
(الف) بعض علماء کا خیال ہے کہ جو باتیں ذبیحہ اضحیہ میں ضروری ہیں، ان کا لحاظ ذبیحہ عقیقہ میں بھی ضروری ہے۔ فقہائے حنفیہ کے نزدیک ذبیحہ اضحیہ کے دو معیار یہ ہیں: (1) جانور کی عمر (2) جانور کا صحیح سالم اور عیوب سے پاک ہونا۔

اوّل الذکر معیار کی تفصیل یہ ہےکہ جانور عموماً ایک سال عمر مکمل کرنے کے بعد دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔ خواہ بکرا بکری ہو یا بھیڑ اور دنبہ، لیکن بھیڑ اور دنبہ کے لیے اس کی جسمانی نشوونما کے باعث تھوڑی رعایت بھی ملتی ہے۔ اگر بھیڑ یا دنبہ جسمانی اعتبار سے کافی تندرست اور فربہ ہوں توان کی قربانی چھ ماہ کی عمر پوری کرنے پر بھی کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ اگر اسے ایک سال کے جانوروں کے درمیان چھوڑ دیا جائے تو جسمانی نشوونما کے باعث اس کی تمیز نہ کی جاسکے۔ لیکن بکرا بکری کے معاملہ میں محض صحت و تندرسی کا کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا، اس کے لیے ایک سال کی عمر مکمل کرکے دوسرے سال میں داخل ہونا ضروری ہے۔iv

آخر الذکر معیار کی تفصیل یہ ہےکہ قربانی کا جانور تمام عیوب سے پاک او رجسمانی اعتبار سے مکمل او رسالم ہونا چاہیے۔ عمیاء، عوراء، عجفا، عرجاء، ہتماء، سکاء اور تولاء جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔ عمیاء ،سے مراد بالکل اندھا، عوراء، سے مراد ایک آنکھ کا اندھا، عجفاء، سے مراد نہایت دُبلا پتلا اور نحیف، حتیٰ کہ اس کی ہڈیوں میں گودا بھی باقی نہ بچا ہو۔ عرجاء، سے مراد ایسا لنگڑا جانور جو خود چل کر مقام ذبح تک نہ جاسکتا ہو، ہتماء، سےمراد ایسا جانور جس کے اکثر دانت گر چکے ہوں۔ سکاء، سے مراد ایسا جانور جس کے بحسب خلقت کان نہ ہوں اور تولاء، سے مراد ایسا جانور جواس درجہ پاگل ہو کہ اس کا پاگل پن اس کے غذ چرنے میں مانع ہو۔ اسی طرح وہ جانور جس کے کان اور دُم ایک تہاوی سے زیادہ کٹے ہوں یا جس کی سینگ ایک تہائی سے زیادہ ٹوٹی ہوئی ہو، ایسے تمام جانوروں کا ذبیحہ درست نہیں ہے۔ لیکن وہ جانور جن میں یہ عیوب بہت معمولی ہوں ان کا عقیقہ و اضحیہ دونوں جائز و درست ہیں۔ مثلاً اگر کسی جانور کا کان یا دم کٹی ہوئی ہو یا سینگ ٹوٹا ہوا لیکن دو تہائی یا دو تہائی سے زیادہ حصہ باقی موجود ہو، یا جانور اگر پاگل ہو مگر اس کا پاگل پن اسے غذا چرنے سے نہ روکتا ہو۔ یا اگر جانور کے بعض دانت گرے ہوئے ہوں، مگر اکثر دانت موجود ہوں یا جانور اتنا لنگڑا ہو کہ اپنے باقی سالم پیروں کے ساتھ اس ٹوٹے ہوئے پیر کو بھی زمان پر رکھ کر چل سکتا ہو یا اتنا کمزور جانور کہ جائے ذبح تک بہ آسانی خود چل کر جاسکتا ہو تو ایسے جانوروں کے ذبح کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

(ب) عقیقہ کے لیے ایک جیسے جانوروں کا انتخاب:
لڑکے کے عقیقہ کے ذبیحہ کے لیے دو ایک جیسے جانوروں کا انتخاب بھی عقیقہ کے جانور کا ایک اضافی معیار ہے۔ جانورون کے ایک جیسے ہونے سے مراد قد، جنس اور عمر میں یکسانیت ہے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ او راُم کرز کعبیہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''عن الغلام شاتان مکافئتان و عن الجاریة شاة'' ''لڑکے پرایک جیسی دو بکریاں اورلڑکی پر ایک بکری'' 3

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ایک اور حدیث میں مروی ہے:
''أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمرھم عن الغلام شاتان مکافئتان و عن الجاریة شاة''
''رسول اللہﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں او رلڑکی کی طرف سے ایک بکری۔'' 4

ایک اور حدیث میں ''شاتان مکافئتان'' کی جگہ ''شاتان مثلان'' کے ہم معنی الفاظ بھی ملتے ہیں:
''عن الغلام شاتان مثلان و عن الجاریة شاة'' ''لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری'' 5


ایک او رمقام پر حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں:
''ما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاتان مکافئتان'' 6
''جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( وہ یہ ہے کہ) دو ایک جیسی بکریاں''

(ج) عقیقہ کے لیے بکرا بکری یا اسے سے مشابہ جانور مثلاً بھیڑ یا مینڈھا اور دنبہ ہی ذبح کرنا چاہیے جیسا کہ اوپر بیان کی ہوئی تمام احادیث سے ثابت ہے، البتہ جانوروں کے انتخاب میں ایک جیسے ہونے، جانوروں کی عمر ایک سال مکمل ہونے اور غالب جسمانی عیوب سے پاک ہونے کے علاوہ کوئی او رمعیار نہیں ہے۔ مثلاً رنگ اور وزن وغیرہ ۔ جانوروں کا قد، عمر او رجنس میں یکسانیت جانوروں کے ایک جیسا ہونے کے لیے کافی ہے۔ جنس سے مرا دیہ ہے کہ اگر بکری سے عقیقہ کرنا ہے تو دونوں جانور بکریاں ہی ہوں، ایک بکری اور ایک بھیڑ نہ ہو۔ ذبیحہ کے جانوروں میں نر و مادہ کی تمیز بھی نہیں کی جائے گی جیساکہ مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہے۔

ام کرز کعبیہؓ بیان کرتی ہین کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے متعلق دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا:
''عن الغلام شاتان و عن الأنثیٰ واحدة ولا یضرکم ذکرانا أوأناثا'' 7
''لڑکے پر دو بکریاں ہیں او رلڑکی پرایک، اور تم پر کوئی حرج نہیں خواہ جانور نر ہوں یا مادہ''

بعض لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ لڑکے کے لیے نر جانور ذبح کرنا چاہیے او رلڑکی کے لیے مادہ جانورv، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ یہ بات محض لا علمی او رجہالت پر مبنی ہے۔ (جاری ہے)


حوالہ جات
1. سنن الترمذی مع التحفۃ صفحہ 3؍28، وقال حدیث حسن غریب
2. کتاب الاذکار للنووی صفحہ 254
3. رواہ أحمد و ترمذي عن عائشة سنن أبي داود، کتاب الأضاحي باب في العقیقة، و سنن نسائي کتاب العقیقة عن أم کرز الکعبیة بالأسانید الصحیحة
4. سنن نسائي، کتاب العقیقة و ترمذي، کتاب الأضاحي باب في العقیقة و إسنادہ، جید
5. سنن أبي داود، کتاب الأضاحي باب في العقیقة و إسنادہ جید
6. الطحاوی ج1 ص457 باسناد صحیح
7. مسنداحمد و سنن الترمذی مع التحفہ صفحہ 2؍362

i.کتاب الأذکار المنتخبة من کلام سید الأبرار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تألیف امام نووی ،صفحہ 254
ii.صحیح الکلم الطیب لإمام ابن تیمیةمع تحقیق و اختصار، اس شیخ ناصر الدین البانی
iii.کتاب الاذکار صفحہ 254، طبع مصر
iv. اہل حدیث کے نزدیک اضحیہ میں دانت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔بکرا اور بکری کے لیے دو دانت ہونا قربانی کے لیے شرط ہے۔ اسی طرح بھیڑ دنبہ کے لیے چھ ماہ کی بجائے کھیرا ہونا شرط ہے۔ (ادارہ)
v.تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کا مضمون ''اسلام اور حقوق اطفال'' قسط دوم ، ماہنامہ میثاق لاہور ، جلد10 عدد1 ،2 صفحہ 72