حضر ت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:
''اگر کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دے تو یہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے۔ آپؐ کی تکذیب کفر و ارتداد ہے۔ ایسے شخص سے توبہ کروائی جائے اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے اور اگر کوئی ذمی کھلے عام، اعلانیہ، اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دیتا ہے تو یہ عہد شکنی ہے، لہٰذا اسے قتل کرو۔'' i

قیاس و استنباط :
قرآن کریم کی واضح نصوص کے علاوہ ایسی آیات بھی ملتی ہین جن سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عزت و توقیر اور آپؐ کی مددونصرت فرض ہے۔

چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
لِّتُؤْمِنُوابِٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ وَتُعَزِّرُ‌وهُ وَتُوَقِّرُ‌وهُ...﴿٩﴾...سورۃ البقرۃ
''تاکہ تم اللہ او راس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ، اس کی اعانت و مدد کرو اور اس کی توقیر کرو۔''

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا بِهِۦ وَعَزَّرُ‌وهُ وَنَصَرُ‌وهُ وَٱتَّبَعُوا ٱلنُّورَ‌ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧...سورۃ الاعراف
''چنانچہ وہ لوگ جو اس پر ایمان لائیں، اس کی اعانت و نصرت کریں اور اس نور کی اتباع کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے ۔ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔''

نیز فرمایا:
إِلَّا تَنصُرُ‌وهُ فَقَدْ نَصَرَ‌هُ ٱللَّهُ...﴿٤٠﴾...سورۃ التوبہ
''اگر تم اس کی مدد نہیں کرتے (تو کوئی بات نہیں) اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرچکا ہے۔''

یعنی یہ بھی واضح فرما دیا کہ اس فرض کی بجا آوری پر ہی ان کی فلاح کا دارومدار ہے۔نیز آپؐ پر سب و شتم کا اظہار آپؐ کی تعظیم ، عزت و توقیر اور ایمان کے منافی ہے۔لہٰذا تمام مسلمانوں کا اجتماعی فرض ہے کہ وہ آپؐ کی عزت و ناموس کی حفاظت کریں، حفاظت ناموس رسالت ؐ کے لیے ایسے قوانین وضع کریں جس کی وجہ سے کوئی بدطنیت، شیطانی فطرت رکھنے والا، زبان دراز شخص آپؐ کے بارے میں بدزبانی کی جرأت نہ کرسکے۔توحید کا نفاذ اور ناموس رسولؐ کی حفاطت اسلامی حکومت کی اوّلین او ربنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی ملک کے سو فیصد باشندے مسلمان ہوں اور یہ دعویٰ بھی کریں کہ ہم نے نظام اسلام اور نظام مصطفیٰ ؐ نافذ کردیا ہے، مگر صورت حال یہ ہو کہ ہر طرف شرک کے مظاہر ہوں، رسول اللہ ﷺ او رصحابہ کرام ؓ کی عزت و ناموس غیر محفوظ ہو تو نفاذ اسلام کے دعوے محض خالی خولی ہوں گے۔ عمل سے عاری کھوکھلے نعروں سے ہم اسلام نافذ نہیں کرسکتے۔ بنابریں صحابہ کرام ؓاور صدر اسلام کے فقہاء نے ایسے شخص کے قتل کا فتویٰ دیا ہے، جو رسول اللہ ﷺ پر سب و شتم کرتا ہے۔

سبّ و شتم کیا ہے؟ :
گزشتہ سطور میں پیش کی گئی کتاب و سنت کی نصوص اور صحابہ کرامؓ کے تعامل کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ:
''رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں عمداً قصد جنائی کے ساتھ، تصریحاً، کنایة یا تعریضاً ایسے الفاظ استعمال کرنا جن سے آپؐ کے حسب و نسب میں طعن، دین میں نقص، آپؐ کی ذات کا استخفاف، آپؐ کی تحقیر، آپؐ کی کسی عادت و خصلت میں عیب یا نقص اور آپؐ سےاستہزاء و تمسخر لازم آتے ہوں، سب و شتم کہلائے گا۔''

راقم الحروف نے نصوص کے استقراء کے بعد سب و شتم کی مندرجہ بالا تعریف مرتب کرنےکی کوشش کی ہے۔ممکن ہے یہ جامع او رمانع نہ ہو، اس میں مزید ترمیم کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ تاہم مکمل تعریف بھی اسی کے لگ بھگ ہوگی۔

شاتم رسول کے بارے میں فقہاء کی آراء :
ابوبکر الفارسی شافعی فرماتے ہیں کہ اگر سب و شتم قذف کی نوع سے ہے اور اس کا مرتکب مسلمان ہے، تو یہ کفر ہے اور اس کی حد قتل ہے اور قذف کی حدتوبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔1

امام ابن المنذر اجماع نقل فرماتے ہیں کہ ''جو کوئی صریح الفاظ میں رسول اللہ ﷺ پر سب و شتم کرتاہے، وہ واجب القتل ہے۔''2

علامہ خطابی فرماتے ہیں:
''مجھے معلوم نہیں کہ اہل علم میں سے کسی نے اس بارے میں اختلاف کیا ہو کہ آپؐ پر سب و شتم کرنے والا اگر مسلمان ہے تو وہ واجب القتل ہے۔''3

علامہ ابن بطال فرماتے ہیں:
''شاتم رسول کی سزا کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ اگر شاتم رسول غیر مسلم ذمی ہو تو امام مالک سے ابن القاسم نے نقل کیا ہے کہ اسے قتل کردیا جائے۔ الّا یہ کہ وہ مسلمان ہوجائے اور اگر شاتم رسول مسلمان ہو تو اس کو قتل کردیا جائے گا او راس سے توبہ نہیں کروائی جائے گی۔''4

امام ابن المنذر نے یہودی وغیرہ اہل ذمہ کے بارے میں امام لیث بن سعد، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ سے بھی یہی نقل کیا ہے۔5

فقہائے کوفہ حنفیہ وغیرہم کا مذہب یہ ہے کہ اگر شاتم رسول مسلمان ہے تو اس پر ارتداد کا حکم نافذ ہوگا اور اگر غیر مسلم ذمی ہے تو اس کو تعزیر دی جائے گی۔6 امام اوزاعی اور امام مالک کے بعض شامی تلامذہ ان سے نقل کرتے ہیں کہ اگر شاتم رسول مسلمان ہے تو یہ ارتداد کے زمرے میں آتا ہے او راس سے توبہ کروانی چاہیے۔''7

مگر حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینا ارتداد سے زیادہ بڑا جرم ہے۔ سب انبیاؑء کے مفاسد ارتداد کے مفاسد سے بڑھ کر ہیں۔ سب رسول سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے، ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ شاتم رسول کو قتل کی سزا دیئے بغیر اہل ایمان کے غیظ و غضب کو فرو نہیں کیا جاسکتا۔ بنا بریں صحابہ کرامؓ نے شاتم رسول کو، اس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر، قتل کروایا ہے تاکہ حرمت رسولؐ کسی کے طعن کا نشانہ نہ بن سکے۔ او ریہ ممکن نہ ہوسکے کہ کسی بدباطن شیطان کا جب دل چاہے آپؐ کی عزت و ناموس پر زبان طعن دراز کرے اور تلوار کو سر پردیکھ کر توبہ کرلے۔نیز اس اعتبار سے بھی ارتداد اور سب رسول میں فرق ہےکہ اس میں حق نبیؐ پر زد پڑتی ہے او رحقوق انبیاؑء کو معاف کرنا حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

شاتم رسول کی توبہ :
فقہاء کی اکثریت اس طرف گئی ہے کہ جو کوئی کسی نبیؐ یافرشتے کو گالی دیتا ہے یا اس پر قذف لگاتا ہے یا عیب جوئی کرتا ہے یا اس پر لعنت بھیجتا ہے یا ان کا استخفاف کرتا ہے ، تو اس کی سزا قتل ہے۔ اگر اس نے اعلانیہ گالی وغیرہ دی ہے تو عدالت اس کی توبہ قبول نہیں کرے گی۔ خواہ یہ توبہ قابو پانے سے قبل ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اگرچہ ارتداد ہی کی ایک نوع ہے ، تاہم اسے ایک خاص حد کے تحت قتل کیا جائے گا۔ یہ امام مالک کا مذہب ہے۔8

امام احمد بن حنبل کا مذہب، جو ان کے اصحاب کی اکثریت نے روایت کیا ہے، یہ ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کو گالی دیتا ہے یا تنقیص کرتا ہے یا رسول اللہ ﷺ یا ان کی والدہ پر قذف لگاتا ہے9، اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔10ان کی دلیل یہ ہے:
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِٱللَّهِ وَءَايَـٰتِهِۦ وَرَ‌سُولِهِۦ كُنتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ ﴿٦٥﴾ لَا تَعْتَذِرُ‌واقَدْ كَفَرْ‌تُم بَعْدَ إِيمَـٰنِكُمْ...﴿٦٦﴾...سورۃ التوبہ
''اگر آپؐ ان سے پوچھیں تو وہ یقیناً یہی کہیں گے کہ ہم تو محض ہنسی مذاق کررہے تھے۔کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ، اس کے رسولؐ او راس کی آیات کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے تھے۔ اب تم معذرت نہ کرو۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے۔''

امام ابوحنیفہ او ران کے اصحاب فرماتے ہیں کہ شاتم رسول سبّ و شتم کی بناء پر مرتد اور واجب القتل ہے۔لیکن اگروہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ قابل قبول ہے۔11یہی مذہب امام اوزاعی، امام سفیان ثوری اور تمام اہل کوفہ کا ہے۔ امام مالک کے بعض شامی اصحاب نے امام مالک کا بھی یہی مذہب نقل کیا ہے۔ مگر ان کا صحیح مذہب وہی ہے جو گذشتہ سطور میں گذر چکا ہے او رجسے ان کے اصحاب کی اکثریت بیان کرتی ہے۔ عبدالقادر عودہ مرحوم نے التشریح الجنائی الاسلامی میں ابن عابدین کے حوالے سے اس بارے میں حنفیہ کی دو آراء کا ذکر کیا ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ شاتم رسول کی توبہ مقبول نہیں۔12مگر علامہ ابن عابدین نے دوسری رائے کا سختی سے ردّ کیا ہے۔

امام شافعی کا راحج مذہب یہ ہے کہ اگر شاتم رسول توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ عبدالقادر عودہ شہید نے اسنی المطالب او رنہایة المحتاج کے حوالے سے شافعیہ میں دو اور آراء کا ذکر کیا ہے:
(1) ''اگر وہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے یا آپؐ پرقذف لگاتا ہے ، تو اس حد میں قتل کردیا جائے گا او راس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ نبی کو گالی دینے یا اس پر قذف لگانے کی حد قتل ہے اور قذف کی حد توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔
(2) دوسری رائے یہ ہےکہ قذف لگانے پر اس کو اسّی کوڑے لگائے جائیں گے اور گالی دینے پر اسے تعزیر دی جائے گی۔''13

گزشتہ بحث میں جس توبہ کا ذکر کیا گیا ہے، یہ وہ توبہ ہے جو فرد اور حکومت کے مابین ہے، او رجسے ملزم ثبوت جرم کے بعد عدالت میں پیش کرکے معافی کا خواستگار ہوتا ہے۔ یہ توبہ شاتم رسول کو حد سے نہیں بچا سکتی۔ البتہ اگر شاتم رسول اپنے عظیم گناہ پر پشیمان ہوتے ہوئے صدق دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ تواّب و رحیم ہیں، وہ آخرت میں اس کامواخذہ نہیں کریں گے۔ واللہ اعلم!

شاتم رسول اگر عورت ہو؟ :
مرتد عورت کے بارے میں جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ وہ واجب القتل ہے۔ اس مسئلہ میں مرد، عورت، آزاد اور غلام سب برابر ہیں۔14 شاتم رسول عورت کے بارے میں امام احمد بن حنبل اور امام مالک کا وہی مسلک ہے جو ہم گذشتہ سطور میں بیان کرچکے ہیں۔ امام شافعی اس سے توبہ کرواتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ مرتد عورت اور شاتم رسول عورت کے قتل کا فتویٰ نہیں دیتے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ اس عورت کو قید کردیا جائے گا اور دوبارہ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا ورنہ اسے قید رکھا جائے گا ۔ یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مرجائے۔15 ''کتاب الخراج'' میں قاضی ابویوسف کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاتم رسول عورت کے بارے میں وہ بھی جمہور فقہاء کے ساتھ ہیں۔ فرماتےہیں:
''کوئی مسلمان اگر رسول اللہ ﷺ کو گالی دے یا اپؐ کی تکذیب کرے یاآپؐ کی عیب جوئی کرے یا آپؐ کی تنقیص کرے تو وہ کافر ہے او راس سے اس کی بیوی جدا ہوجائے گی۔ اگر وہ توبہ کرے تو ٹھیک ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔ یہی معاملہ عورت کا ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا، اسے دوبارہ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔''16

رسول اللہ ﷺ (فداہ اُمّی و ابی) کی شان میں بدزبانی کرنے والی عورت کی سزا کے بارے میں اپنا مسلک بیان کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ ''الصارم المسلول'' میں رقم طراز ہیں:
''اگر شاتم رسول مسلمان ہے تو اس کے قتل پر اجماع ہے۔ یہ مرتد یا زندیق ہی کی ایک قسم ہے۔ مرتد اور زندیق کی سزا متعین ہے اور شاتم رسول خواہ مرد ہو یاعورت، ان کو قتل کیا جائے گا۔شاتم رسول کو اسلام کے حکم کے ساتھ قتل کیا جائے گا، کیونکہ اس کا قتل بلاتفاق حد ہے۔ اس کو قائم کرنا فرض ہے۔ ہم جو کچھ آپ کی خدمت میں پیش کرچکے ہیں اس میں سنت نبویؐ او راقوال صحابہؓ کے واضح دلائل موجود ہیں کہ اگر مسلمان عورت رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کرے تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا۔ ان میں سے بعض میں بدزبانی کرنے والی مسلمان عورت کے قتل کی تصریح موجو دہے اور بعض میں بدزبانی کرنے والی ذمی عورت کی تصریح ہے۔ اگر ذمی عورت کو سبِ رسول کی بنا پر قتل کیا جاسکتا ہے تو مسلمان عورت بدرجہ اولیٰ سبِ رسول کی پاداش میں قتل کی مستحق ہے، صاحب تفقہ پر یہ امر پوشیدہ نہیں۔

اہل کوفہ میں سے بعض فقہاء (مراد ہیں امام ابوحنیفہ) کا قول ہے کہ مرتد عورت کو قتل نہیں کیا جاسکتا، تب ان کے مذہب کا قیاس یہ ہے کہ شاتم رسول عورت کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ان کے نزدیک شاتم رسول مرتد ہے۔ ان کے مذہب میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ شاتم رسول عورت کو حد میں قتل کیا جائے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض کے نزدیک جادوگرنی او ررہزن عورت کو قتل کیا جاتا ہے۔ مگر ان کے اصول اس سے اباء کرتے ہیں۔ صحیح مذہب یہ ہے کہ مرتد عورت کو قتل کیا جائے گا۔ لہٰذا شاتم رسول عورت بدرجہ اولیٰ قتل کی مستحق ہے۔ گزشتہ دلائل کی بنا پر یہی قرین صحت ہے۔''17

اگر شاتم رسول معاہَد اور ذمی ہو؟ :
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَـٰتِلُواٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ وَلَا يُحَرِّ‌مُونَ مَا حَرَّ‌مَ ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلْحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواٱلْكِتَـٰبَ حَتَّىٰ يُعْطُواٱلْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَـٰغِرُ‌ونَ ﴿٢٩...سورۃ التوبہ
''اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ او ریوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے او رجو کچھ اللہ اور اس کے رسولؐ نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں سمجھتے او ردین حق کو دین کے طور پر اختیار نہیں کرتے۔یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں او رمطیع بن کر رہیں۔''

مسلمانوں کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ کفار کے ساتھ اس وقت تک جہاد کریں جب تک وہ جزیہ نہ دیں او رمطیع او رماتحت بن کرنہ رہیں۔مندرجہ بالا آیت کریمہ میں یہ حقیقت بالکل واضح ہوتی ہے کہ مطیع بن کر رہنے والا ذمی سبِ رسول کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أَلَا تُقَـٰتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوٓاأَيْمَـٰنَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَ‌اجِ ٱلرَّ‌سُولِ...﴿١٣﴾...سورۃ التوبہ
''کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنے عہد کو توڑ دیا اور رسولؐ کو (ملک سے )نکال باہر کرنے کا ارادہ کیا تھا؟''

سبِ رسول تو آپ ؐ کو آپؐ کے وطن سے نکال دینے سے زیادہ بڑا جرم ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَإِن نَّكَثُوٓاأَيْمَـٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوافِى دِينِكُمْ فَقَـٰتِلُوٓاأَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ‌ ۙ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَـٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ ﴿١٢...سورۃ التوبہ
''اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنے عہد کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین کےبارے میں بدزبانی کریں تو ائمہ کفر کے ساتھ جنگ کرو۔ان کی کوئی قسم نہیں، شاید کہ وہ باز آئیں۔''

یہ آیت اس امر پرنص ہے کہ نقض عہد اور دین میں طعن کرنے پرکفار سے قتال کیا جائے گا اور سبِ رسول دین میں سب سے بڑا طعن ہے اور اس کا ازالہ شاتم رسول کے قتل ہی سے ممکن ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَـٰتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْ‌كُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ‌ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ ﴿١٤﴾ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ...﴿١٥﴾...سورۃ التوبہ
'' ان سے جنگ کرو، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں رسوا کرے گا،ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مؤمنوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا او ران کے دلوں کے غضب کو دور کرے گا۔''

رسول اللہ ﷺ پر سب و شتم اور دین اسلام میں طعن کرنا مسلمانوں کے غیظ و غضب کا باعث ہے۔ یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ اس غیظ کا فرو کرنا او رمؤمنوں کے دلوں کوشفا شارع کا مطلوب و مقصود ہے۔ یہ غیظ شاتم رسول کو قتل کی سزا دیئے بغیر فرو نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوسکتے ہیں۔''

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ وَلَوْ كَانُوٓاءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَ‌ٰنَهُمْ أَوْ عَشِيرَ‌تَهُمْ ۚ...﴿٢٢﴾...سورۃ المجادلہ
''آپ ایسے نہیں پائیں گے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، پھر ایسے لوگوں سے موّدت بھی رکھتے ہوں، جنہیں اللہ او راس کے رسولؐ سے دشمنی ہے۔ خواہ وہ ان کے باپ دادا ہوں، خواہ بیٹے ہوں اور خواہ بھائی اور رشتہ دار ہوں۔''

اللہ تعالیٰ او راس کے رسولؐ کے خلاف بدزبانی کرکے ان کو ایذا پہنچانا دشمنی کے مترادف ہے۔ ایسے دشمنوں سے موّدت و محبت ایمان کے منافی ہے۔ خواہ وہ عزیز و اقارب ہی کیوں نہ ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ كُبِتُواكَمَا كُبِتَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ...﴿٥﴾...سورۃ المجادلہ
''بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے دشمنی کرتے ہیں ان کو رسوا کیا گیا جیسے ان سے پہلے لوگون کو رسوا کیا گیا تھا۔''

محوّلہ بالا اور دیگر بہت سی قرآنی ایات نیز گزشتہ صفحات میں سنت نبویؐ سے پیش کردہ نصوص اور صحابہ کرامؓ کے تعامل سے واضح ہوتا ہے کہ آپؐ کو زبان سے ایذاء پہنچانے والے ذمّیوں کی سزا قتل ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے ایسے لوگون کوقتل کروایا ہے۔ شاتم رسول خواہ ذمی کافر ہو یا مسلمان، اسے قتل کیا جائے گا اور توبہ کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ چنانچہ امام مالک ، فقہائے اہل مدینہ، امام احمد بن حنبل او ردیگر تمام فقہائے اہل حدیث نے اسی مسلک کو اختیار کیا ہے۔18

دارالاسلام میں رہنے والے غیر مسلمون کے ذمے دو قسم کے امور ہیں:
اوّل : کچھ امو رایسے ہیں جن کا فعل ان پر لازم ہے۔ اگر وہ ان امور کو نہیں بجا لائیں گے تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ مثلاً جزیہ کی ادائیگی اور مملکت کے دیگر قوانین کی پابندی۔
ثانی: کچھ امور ایسے ہیں جن کو ترک کرنا ان پر لازم ہے پھر اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔پہلی قسم وہ ہے جس میں مسلمانوں کو ضرر پہنچتا ہے جبکہ دوسری قسم وہ ہے جس مین ان کو کوئی نقصان لاحق نہیں ہوتا۔

پھر اس پہلی قسم کی مزید دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم وہ کہ جس مین ان کی جان و مال کو ضرر پہنچتا ہے۔ جیسے مسلمانوں کو قتل کرنا، راہزنی، دشمن کے لیے جاسوسی او رمسلم خاتون سے زنا وغیرہ اور دوسری قسم وہ ہے ، جس سے جان و مال کو ضرر تو نہیں پہنچتا البتہ اس سے ذلت و خواری اور عار لاحق ہوتی ہے۔ اس سے عام مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ، دین اسلام یا کتاب اللہ میں کوئی طعن وغیرہ۔ ان تمام امور سے عہد ٹوٹ جائے گا۔19

امام احمد بن حنبل کےاصحاب کے کلام سے ظاہر ہے کہ شاتم رسول ذمی کے قتل کےلیے دو ماخذ ہیں:
اوّل : نقض عہد۔
ثانی: شاتم رسول کی حد قتل ہے۔ لہٰذا اس کو سبِ رسول کی حد میں قتل کیا جاتا ہے۔ یہی فقہائے حدیث کا قول ہے۔20

امام شافعی سے جو نصوص مروی ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ سب رسول کی وجہ سے عہد ٹوٹ جائے گا او ریہ کہ شاتم رسول کو حتمی طور پر قتل کیا جائے گا۔ اسے ابن المنذر او رخطابی وغیرہ نے نقل کیا ہے۔21

اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ، کتاب اللہ یا دین اسلام کو بُرے الفاظ میں یاد کرنے کے بارے میں فقہائے شافعیہ کے دو گروہ ہیں:
پہلا گروہ وہ، جو یہ کہتا ہے کہ اس عہد ٹوٹ جائے گا، خواہ معاہدہ کی شرائط میں یہ امور داخل ہوں یا نہ ہوں۔ ان میں سے بعض کے نزدیک سبِ رسول کا معاملہ خاص ہے اور شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا۔

دوسرا گروہ ان امور کو مسلمانون کے لیے عام ضرر رساں امور کی طرح شمار کرتا ہے۔

امام ابوحنیفہ اور ان کےاصحاب کہتے ہیں کہ سب ِ رسول سے عہد نہیں ٹوٹتا او راس وجہ سے ذمی کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اگر وہ برسر عام آپؐ کے بارے میں بدزبانی کرتا ہے تو اس کو تعزیر دی جائے گی۔ جیسے ان برائیوں کے برسر عام ارتکاب پر اس کو تعزیر دی جاتی ہے، جن کے اظہار کی ان کو اجازت نہیں۔ مثلاً ان کا اپنی کتاب وغیرہ کو بآواز بلند پڑھنا، امام طحاوی نے امام سفیان ثوری سے بھی یہی نقل کیا ہے۔

حنفیہ کا اصول یہ ہے کہ وہ جرائم ، جن میں حد یا قصاص کے طور پر قتل نہیں کیا جاسکتا، جیسے غیر دھار والے الے (مثلاً لاٹھی یا پتھر وغیرہ) سے قتل کرنا یا فرج کے علاوہ کسی اور جگہ مجامعت کرنا وغیرہ۔ اگر مجرم اس جرم کا باربار ارتکاب کرتا ہے تو امام اسے قتل کی سزا دے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی راجح مصلحت کا تقاضا ہو تو امام مقررہ حد میں اضافہ بھی کرسکتا ہے۔ اس قسم کے جرائم میں رسول اللہ ﷺ سے جو یہ منقول ہے کہ آپؐ نے مجرم کو قتل کروایا ہے، تو آپؐ نے کسی راجح مصلحت کی بنا پر اسے قتل کروایا ہے۔ حنفیہ اس قتل کو برنبائے سیاست و مصلحت قرار دیتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ وہ جرائم ، جن کے تکرار سے ان کی قباحت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے او ران کے دیگر ہم جنس جرائم میں قتل کی سزا مشروع ہو، تو ان جراوم ک ےمرتکب کو تعزیراً قتل کیا جاسکتا ہے۔ اکثر فقہائے حنفیہ نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر اہل ذمہ میں سے کوئی شخص بہت کثر ت سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کرتا ہے، خواہ وہ گرفتار ہونے کے بعد مسلمان ہی کیوں نہ ہوجائے، اسے قتل کردیا جائے گا۔ یہ قتل مصلحت اور سیاست پر مبنی ہوگا۔ یہ ان کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔22

امام محمد بن حسن شیبانی فرماتے ہیں کہ اگر ذمی عورت برسر عام رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کرتی ہو، تو اس کو قتل کردیا جائے گا او ریہ اس بات کی دلیل ہے کہ ذمی مرد کوبھی قتل کردیا جائے گا۔23

علامہ ابن عابدین فرماتے ہیں کہ اگر ذمی برسر عام سب و شتم کرتا ہے یا وہ سب و شتم کا عادی ہے، خواہ عورت ہی ہو، اسے قتل کیا جائے گا۔ آج کل اسی پر فتویٰ ہے۔24

علامہ عینی، علامہ ابن ہمام، علامہ رملی اور علامہ ابوالسعود کے نزدیک بھی شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا۔25ذمی اگر سب و شتم میں حد سے بڑھ جائے تو اکثر حنفیہ کے نزدیک اس کو تعزیراً قتل کیا جاسکتا ہے۔ حنفیہ کے مندرجہ بالا تمام فتاویٰ تعزیر کے اصول پر مبنی ہیں۔

شاتم رسول کے بارے میں گزشتہ صفحات میں پیش کردہ فقہاء کی آراء و فتاویٰ کا خلاصہ یہ ہے کہ شاتم رسول اگر مسلمان ہو، اسے ارتداد یا خاص حد کی بنا پر قتل کیا جائے گا۔بعض فقہاء اس سے توبہ کرواتے ہیں اور بعض توبہ کروانے کے قائل نہیں۔اسی طرح اگر شاتم رسول ذمی ہو تو اسے سبِ رسول کے جرم کی پاداش میں قتل کیا جائے گا۔ یہ قتل حد کے طور پر نقض عہد کی بناپر یاتعزیر کے طور پر ہوگا۔ شاتم رسول کے بارے میں فقہائے حنفیہ کا مسلک اور رویہ سب سے نرم ہے مگر بایں ہمہ وہ بھی سبِ رسول کے عادی مجرم کو قتل کی تعزیر دیتے ہیں۔ بہرحال جرم کی قباحت او رناموس رسولؐ کی حفاطت کے لیے اس سزا پر تمام فقہائے اُمت متفق ہیں۔

گزشتہ سطور میں سب و شتم کی پیش کردہ تعریف سے واضح ہے کہ سب و شتم کا اطلاق غیر مسلم ذمّیوں کے عقائد پر نہیں ہوتا۔ مثلاً وہ رسول اللہ ﷺ کو نبی اور رسول نہیں مانتے۔ ان کے یہ دلائل سبِ رسول کے زمرے میں نہیں آئیں گے] اسی طرح عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ مسیح علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں، سبِ رسول نہیں کہلائے گا۔ البتہ اسلامی ریاست میں اس قسم کے خلاف اسلام نظریات کی تبلیغ کی روک تھام کےلیے علیحدہ قانون بنایا جاتا ہے۔

حوالہ جات
1. فتح الباری شرح صحیح البخاری۔ علامہ ابن حجر عسقلانی صفحہ 12؍281
2. معالم السنن علامہ خطابی، صفحہ 6؍199، فتح الباری صفحہ 12؍281
3. فتح الباری صفحہ 12؍281
4. ایضاً
5. فتح الباری صفحہ 12؍281
6. ایضاً
7. الشفاء ، صفحہ 2؍197
8. التشریع الجنائي الاسلامي ، جلد2 ص724
9. المغنی لابن قدامہ ، ص8؍232 طبع ریاض
10. الصارم المسلول صفحہ 254
11. کتاب الخراج لابی یوسف صفحہ 182، طبع بیروت، کتاب الشفاء صفحہ 2؍189، الصارم المسلول صفحہ 302، حاشیہ ابن عابدین صفحہ 3؍290
12. التشریع الجنائي الإسلامي، صفحہ 2؍726
13. الصارم المسلول صفحہ313۔ التشریع الجنائي الإسلامي صفحہ 2؍725
14. الشفاء جلد 2؍226۔ التشریع الجنائی صفحہ 2؍720
15. البدائع والصنائع ، صفحہ 7؍135 طبع بیروت
16. کتاب الخراج، صفحہ 182
17. الصارم المسلول، صفحہ 353
18. الصارم المسلول صفحہ 4 طبع ملتان
19. الصارم المسلول صفحہ 266
20. الصارم المسلول، صفحہ 254
21. الصارم المسلول، صفحہ 8
22. الصارم المسلول ، صفحہ 10، حاشیہ ابن عابدین، صفحہ3؍279
23. حاشیہ ابن عابدین، صفحہ 3؍280
24. حاشیہ ابن عابدین، صفحہ 3؍278
25. حاشیہ ابن عابدین،صفحہ 3؍279

i. الصارم المسلول ، ص201