اسلام کے خلاف ایک دلیرانہ سازش
حکومت تدارک کرے اور کتاب و سنت کی دستوری حیثیت کا اعلان بھی کرے!
یوں تو افسوسناک واقعات و حوادث اس ملک میں روز مّرہ کا معمول بن گئے ہیں، لیکن 13 فروری 1986ء کو لاہو رمیں جو حادثہ رونما ہوا، اس نے ملک کے اسلام پسند طبقہ کو بجا طور پر یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں خود اسلام کامستقبل کیا ہوگا؟ کھلے سر اور کھلے چہروں کے ساتھ، (اور ماسوائے معدودے چند) دوپٹے سے بے نیاز کچھ ''خواتین'' نے، جنہیں خواتین کہنا خودخواتین کی بھی توہین ہے، سڑکوں پر بے حیائی اور بے راہروی کے حق میں جلوس نکالا اور اسلام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے جو مختلف بینر اٹھا رکھے تھے، وہ مندرجہ ذیل نعروں پر مشتمل تھے۔
1. ''شرعی عدالتیں نامنظور
2. نویں ترمیم نامنظور
3. آدھی دیت نامنظور
4. اسلام دین مکمل ہے، پر ملّا کی عقل آدھی ہے۔
5. عورت مرد کے پیر کی جوتی نہیں، بلکہ مرد کے سر کی جوتی ہے۔
6. مولوی خبردار، عائلی قوانین کو ہاتھ نہ لگانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ!''

حقیقت یہ ہ ےکہ ملّا کو اس سلسلہ میں خواہ مخواہ گھسیٹ لیا گیاہے، ورنہ یہ تمام تر ہلڑ بازی اسلام دشمنی پر مبنی تھی، او ریہ اسلام دشمنی خود اسلام پسند خواتین کی نظر میں بھی انتہائی شرانگیز اور شرمناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان عورتوں میں سے ایک دو نے جب نرسوں کے ایک دوسرے جلوس کی قیادت ہتھیانےکی کوشش کرتے ہوئے یہ اعلان کیاکہ:
''آج کا یہ جلوس9 ویں آئینی ترمیم کے خلاف اور خواتین کے حقوق کے لیے ہے، کیونکہ اس ترمیم کے ذریعہ مردوں کو چار چار شادیوں کی اجازت دے کر خواتین کا استحصال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔۔۔۔۔!''

تو احتجاجی نرسوں نے بآواز بلند یہ کہہ کر انہیں ذلّت آمیز پسپائی پر مجبور کردیا کہ:
''ہمیں اسلامی قانون منظور ہے، کیونکہ ہمارا مذہب اسلام ہے اور مرد چار چار شادیاں کرسکتے ہیں۔''

قومی اسمبلی کی ممبر آپا نثار فاطمہ نے بھی ، ان عورتوں کی، اسلام کے خلاف اس باغیانہ روش کی، مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
''جن خواتین کو اسلامی احکام و قوانین پر اطمینان نہیں، وہ عورتیں شاید اس ملک میں پچاس سے زیادہ نہیں ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی پسند کے کسی ملک میں جاکر آباد ہوجائیں۔ پاکستان صرف اسلام کے لیے معرض وجود میں آیا تھا، یہاں کوئی طاقت اسلام کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اس ملک کا مقدر صرف اسلام ہے، اس ملک کا قانون قرآن ہے، حکومت کو چاہیے کہ ایسی تمام تنظیموں کو فوراً کالعدم قرار دے دے، ایسا افسوسناک واقعہ پاکستان کی تاریخ میں کسی دور حکومت میں نہیں ہوا۔یہ خواتین ایسے نعرے لگا کر اپنے غیر ملکی آقاؤں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہیں او رباہر سے فنڈز حاصل کرتی ہیں۔ حکومت تحقیقات کرے کہ یہی عورتیں ممبران اسمبلی کو بھی قانون شہادت اور حدود آرڈیننس کے بارے میں بذریعہ ٹیلیگرام اکساتی رہی ہیں۔ پاکستانی خواتین اسلام پر مطمئن ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ اسلام کا مکمل نفاذ فوراً کیا جائے۔'' 1

خواتین ہی کے ان بیانات کی روشنی میں کیا ان ترقی پسند اسلام دشمن عورتوں سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ جب انہی کی ہم جنس دوسری خواتین ، ان کی اس حرکت کی مذمت کرتی ہیں تو ملّا کے خلاف یہ طوفان کیوں کھڑا کیا جارہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ملّا کا نام لےکر اسلام کو گالیاں دی گئی ہیں اور 14فروری کے اخبارات میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کا یہ بیان بالکل درست ہے کہ:
''حقوق نسواں کے نام سے نکالے گئے اس جلوس میں اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا گیاہے۔ جلوس نکالنے والی گنتی کی یہ چند عورتیں خواتین کے کسی بھی طبقہ کی نمائندگی نہیں کرتیں، بلکہ یہ ان بے دین قوتوں کی آلہ کار ہیں، جو پاکستان میں عریانی، فحاشی او ربے حیائی کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔''

اسلام کے خلاف ان مغربیت زدہ عورتوں کی ہڑبونگ کا پس منظر یہ ہے کہ:
1973ء کے دستور میں آٹھویں ترمیم، نویں ترمیم کی منظور کے وعدہ کی بناء پر عمل میں آئی تھی۔ اسی ایفائے عہد کے سلسلہ میں نویں ترمیم کا بل اسمبلی میں پیش ہوا اور 16۔ اکتوبر 1985ء کو قومی اسمبلی نے اپنے اجلاس میں یہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کی کہ اس کے آئندہ اجلاس میں یہ ترامیم منظور کی جائیں۔

اس ترمیمی بل کی شق الف یہ ہے کہ:
''آرٹیکل نمبر 2 میں''اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے'' کے بعد اضافہ کیا جائے کہ ''قرآن و سنت ملک کے بالا ترین (سپریم) قانون اور پالیسی بنانے اور قانون سازی کے لیے اصل منبع i ہوں گے۔''

جبکہ اسی بل کی ایک اور شق کے تحت وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات بڑھانے کی تجویز بھی موجود ہے۔ جس کی منظوری کے بعد دستور او رمالی قوانین کے علاوہ جملہ ذیلی قوانین بشمول مسلم پرسنل لاء، وفاقی شرعی عدالت کے اختیار سماعت میں آجاتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں، اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ، جو 1973ء کے آئین کی ر و سے سات سال بعد پیش ہونی لازمی ہے، زیرغور ہے۔ اس رپورٹ پر غور کی بنیاد 73ء کے آئین کے اس آرٹیکل (نمبر 227۔اے) پرہے کہ:
'' اس ملک میں تمام قوانین کو احکام اسلام، قرآن و سنت کے مطابق کردیا جائے گا، اور کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائے گا جو ان احکام کے منافی ہو''

سینٹ میں 13 جولائی 1985ء کو نفاذ شریعت بل پیش ہوا، جس کو ایوان نے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے، اس بل پر بھی غور ہورہا ہےاور اس کی آخری تاریخ 25۔ اپریل 1986ء ہے جبکہ اس نفاذ شریعت بل کی رو سے شریعت کی تعریف حسب ذیل ہے:
'' (الف) شریعت سے مراد دین کا وہ خاص طریقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے ذریعے سے اپنے بندوں کے لیے مقرر کیاہے۔
(ب) شریعت کا اصل ماخذii قرآن پاک اور سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔
(ج) کوئی حکم یا ضابطہ جو اجماع امت سے ثابت او رماخوذ ہ، شریعت کا حکم متصور ہوگا۔
(د) ایسے احکام، جو اُمت کے مسلّمہ اور مستند فقہاء (مجتہدین)نے قرآن پاک، سنت رسول اللہ ﷺ او راجماع امت کے قیاس و اجتہاد کے ذریعے مستنبط کرکے مدوّن کئے ہیں، شریعت کے احکام متصور ہوں گے۔''iii

اب قطع نظر اس سے کہ ''نویں دستوری ترمیم میں کتاب و سنت کی پیش کردہ حیثیت'' اور ''نفاذ شریعت بل میں شریعت کی متذکرہ تعریف'' سے ہمیں اصولی اختلاف ہے او رجس کی طرف اشارات ہم نے حواشی(Foot Notes) میں کردیئے ہیں، بایں ہمہ نویں ترمیمی بل، اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ او رنفاذ شریعت بل میں ایک قدر مشترک موجود ہے اور وہ یہ کہ ان تینوں کے ذریعے ملک کے موجودہ قانون مین کتاب و سنت سے ماخوذ احکام کو ایک مؤثر حیثیت ضرور مل سکتی ہے او ریہی بات ہمارے مسلم معاشرہ کے مار آستین، مغرب کے ذہنی غلام مفکروں، جاہل دانشوروں، عورت کی آزادی کے پردے میں اسے اپنے ہاتھوں کا کھلونا بنا کر اپنی غلیظ اوررذیل خواہشات کی بھینٹ چڑھا ڈالنے والے انسان نما حیوانوں اور حقوق کے نام پر گھر کی محفوظ چار دیواری سے نکال کر اسے سڑکوں پر لے آنے والے ہوس کے بندوں کی آنکھوں میں خار بن ک رکھٹک رہی ہے، جس کے نتیجے میں مذکورہ بالا نعرے لگائے گئے، جو اسلام دشمنی پر شاہد عیاں ہیں اور وہ عورتیں، کہ جنہیں ملّا کی عقل آدھی معلوم ہوتی ہے، انہوں نے ان مغربی گماشتوں کی آلہ کار بن کر خود ہی اپنے ناقص العقل ہونے کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔ ورنہ وہ سوچتیں کہ بھلا وہ ملّا اس کا دشمن ہوسکتا ہے ، جو عورت کو کتاب و سنت کی روشنی میں ''وَقَرْ‌نَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّ‌جْنَ تَبَرُّ‌جَ ٱلْجَـٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ ٱلصَّلَو‌ٰةَ وَءَاتِينَ ٱلزَّكَو‌ٰةَ وَأَطِعْنَ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥٓ...﴿٣٣﴾...سورہ الاحزاب''iv کا باوقار اور شریفانہ، باخدا درس دیتا ہے؟ اور وہ گمراہ دانشور اس کی عصمت و وقار کا امین ہوسکتاہے جو اپنی گندی او رکچی خواہشات کی تکمیل کے لیے سٹیجوں پر اور کلبوں میں اسے نچوا کر اپنی گرسنہ او رہوس زدہ نگاہوں کا مرکز بناتا ہے؟

بایں ہمہ وہ اگر ملّا کو کوسنے دیتی ہے، توعقل کیا اسی کا نام ہے؟ قانون شہادتv او رحدود آرڈیننس، جنہیں ان بے دین عورتوں نے مسترد کرنے کا اعلان کیاہے، آخر کس کی عفت و عفاف کی حفاطت کےلیے ہیں؟ ملّا کا اگر کچھ قصور ہے تو صرف یہ کہ وہ ان قرآنی احکام کے نفاذ کی آواز بلند کرتا ہے، جن سے مقصود خود عورت کے دین و دنیا کی فلاح اور اس کی کامیابی و کامرانی ہے او ران مسائل میں معیار ملّا کی عقل نہیں، بلکہ کتاب و سنت کے مقدس فرامین ہیں۔پھر کتاب و سنت سے ''ملّا کی آدھی عقل'' کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ ہاں بلکہ عورت کے ناقص العقل ہونے کی دلیل ضرور ملتی ہے۔ تاہم باخدا خواتین کو اس پرکوئی اعتراض نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ:
''مارأیت من ناقصات عقل و دین أذھب للب الرجل الحازم من إحداکن۔۔۔۔۔۔!''
''میں نے نہیں دیکھا کہ باوجود ناقص العقل او رناقص الدین ہونے کے، مردوں کی مت مارنے والی تم سے بڑھ کر کوئی ہو۔۔۔!''
تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، ہاں صرف یہ عرض کی کہ:
''ما نقصان عقلنا و دیننا یارسول اللہ ''
''اللہ کے رسولﷺ ہمارے دین او رعقل کے نقصان کی نشاندہی بھی فرما دیجئے''
اس پر آپؐ نے فرمایا:
''ألیس شھادة المرأة مثل نصف شھادة الرجل؟''
''کیا ایک عورت کی شہادت ، ایک مرد کی نصف شہادت کی طرح نہیں؟''
''قلن بلیٰ'' تو ''انہوں نے اقرار کیا، کیوں نہیں (اے اللہ کے رسولؐ؟'')
آپؐ نے فرمایا:
''فذٰلك من نقصان عقلھا'' ''یہی اس کی عقل کا نقصان ہے''
پھر آپؐ نے پوچھا:
''ألیس إذا حاضت لم تصل ولم تصم؟''
''کیا اس پر ایام نہیں آتے، جب وہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟''
''قلن بلیٰ'' ''انہوں نے اقرار کیا، کیوں نہیں؟
آپ ؐ نے فرمایا: ''فذٰلك من نقصان دینھا''
''یہی اس کے دین کا نقصان ہے!'' 2

ان شریعت دشمن عورتوں نے ایک بینر:
''سب کچھ 1؍2 ''
کا بھی اٹھا رکھا تھا، جس کے مندرجات یوں تھے:
''عورت کی دیت 1؍2
نماز 5 2 ۔1؍2= (یعنی اگر دیت نصف ہے۔
روزہ 30 15 تو یہ سب چیزیں بھی نصف
زکوٰة 2۔1؍2 1۔1؍4% ہونی چاہیئں)
حج 7 پھیرے 3۔1؍2 پھیرے

کیا ان سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ:نمازون کی تعداد =5 ۔۔۔۔ زکوٰة کی شرح = 2۔1؍2%اور حج کے پھیروں کی تعداد=7 پھیرے۔۔ ۔۔ انہوں نے قرآن مجید کے کس مقام سے اخذ کی ہے؟ اور اگر ان کی تعیین سنت رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ہے، تو انہیں دیت اور شہادت کے مسائل میں بھی سنت رسولؐ اللہ ہی کو راہنما بنانا ہوگا۔ جس میں منجملہ ان مسائل کے ،عورت کی عقل اور دین کےنقصان کی نشاندہی بھی واضح طور پر موجود ہے۔ پس وہ اس بینر کے مندرجات کو متذکرہ بالا فرمان رسول اللہ ؐ کی روشنی میں درست کرلیں۔نیز یہ بھی تسلیم کریں کہ انہوں نے نہ صرف اُن مغربی ملّاؤں کی مت مار دی ہے جن کی آلہ کار بن کر وہ سڑکوں پر آئی ہیں، بلکہ ان کی آلہ کار بن کر خود بھی اپنے ناقص العقل ہونے کا ثبوت فراہم کردیا ہے، کہ انہیں ہمدرد اور دشمن کی پہچان بھی نہیں رہی۔ رہی یہ بات کہ عورت مرد کے پاؤں کی جوتی ہے یا نہیں؟ تو کوئی ملّا یہ نہیں کہتا کہ وہ مرد کے پاؤں کی جوتی ہے، بلکہ وہ وہی کہتا ہے جو قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے کہ:
وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ ۚ وَلِلرِّ‌جَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَ‌جَةٌ...﴿٢٢٨﴾...سورۃ البقرۃ
کہ ''معروف طریقے سے ، جیسے مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں، ویسے ہی عورتوں کے حقوق مردوں پر بھی ہیں۔ لیکن مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ فوقیت حاصل ہے۔''

لہٰذا عورت اگر مرد کے پیر کی جوتی نہیں ، تو قران مجید کا یہ مقصود بھی ہرگز نہیں کہ کچھ عورتیں اب مرد کے سر کی جوتی بننے لگیں۔ کیونکہ جوتی بننا بہرحال کوئی اعزاز نہیں کہ اس پر فخر کیا جاسکے۔ ہاں یہ بھی یاد رہے کہ ہمدردی کی آڑ میں عورت کی نسوانیت کے وہ بدترین دشمن، جو سڑکوں پر آجانے کے لیے اس کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی کررہے ہیں، اسے پاؤں کی جوتی کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے، ورنہ اس کا مقام و مرتبہ انہیں معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نےمرد کو اپنی جنت عورت کے قدموں میں تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے کہ:
''وإن الجنة عند قدمیھا'' 3
''یعنی مرد کو جنت اپنی ماں کے قدموں کے قریب ملے گی''

اور عورت کا یہ مقام بھی سنت رسول اللہ ﷺ سے، اسے ملّا ہی نے بتلایا ہے۔

الغرض، جلسے جلوس او رمظاہروں کی یہ ساری کارروائی صریح اسلام دشمنی پر مبنی تھی، ورنہ اس وقت قصاص و دیت یا قانون شہادت کا کوئی فوری فقہی مسئلہ، فیصلہ طلب نہیں تھا۔ بلکہ سینٹ میں شریعت بل آرڈیننس یا قومی اسمبلی میں نواں ترمیمی بل زیر بحث آنے والا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ملکی قانون میں شریعت کو بالادستی حاصل ہوجائے او رمتذکرہ شریعت بل پر کتاب و سنت کی روشنی میں غور کیا جاسکے۔لیکن جن شریعت دشمن عورتوں نے جلوس نکال کر اس کی مخالفت کی ہے او رجو معرب کے زیر اثر یہاں بے حیائی او رمادر پدر آزادی کو فروغ دینا چاہتی ہیں، ان کا مقصود یہ ہے کہ اس ملک میں شریعت کا نفاذ تو کجا، کسی مسئلہ پر کتاب و سنت کی روشنی میں غور بھی نہ کیا جاسکے۔ گویا شریعت ہی کو دیس نکالا مل جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ کسی ایک آدھ فقہی مسئلہ کا انکار نہیں ہے، بلکہ مکمل شریعت یا کتاب و سنت کا انکار ہے او رجو صریح کفر ہے۔

یہ بات آخر کب تک کہی جاتی رہی گی کہ نفاذ شریعت پاکستانی عوام کا متفقہ دیرینہ مطالبہ ہے، جس کے لیے مرد وعورت کی تخصیص نہیں بلکہ ہر دو اس کے لیے یکساں طور پر متمنی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت کی بالادستی اور نفاذ شریعت کے لیے مذکورہ بالا مساعی کی، خواتین کی جملہ اسلام پسند تنظیموں نے ایک پریس کانفرنس میں، بھرپور تائید کی ہے ۔یہ مساعی پاکستان کی گزشتہ اڑتیس سالہ تاریخ کے اسلامی رخ کی ایک جھلک ہیں، لیکن شریعت سے باغی یہ عورتیں اس جھلک کو بھی ختم کرنا چاہتی ہیں۔ لہٰذا اسلام کی دعویدار حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ وقت کی آواز کو پہچانے او رنہ صرف شریعت کے خلاف اس دلیرانہ اور منظم سازش کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدام کرے، بلکہ اسلام کے سلسلہ میں اپنے خلوص کا ثبوت دیتے ہوئے نفاذ شریعت کے لیے کتاب و سنت کی دستوری حیثیت کا اعلان بھی کرے۔ ورنہ اگر ملک کی نظریاتی بنیادون پر ہی کلہاڑے چلا دینے کا یہ سلسلہ اگر ذرا بھی دراز ہوا تو اس کا انجام انتہائی المناک ہوگا اور جس کا شاید ہم آج صحیح تصور بھی نہ کرسکیں۔

أعاذنا اللہ منه۔۔ وما علینا إلاالبلاغ۔

حوالہ جات
1. نوائے وقت، 19 فروری 1986ء
2. صحیح بخاری، صحیح مسلم عن ابی سعید الخدریؓ
3. المستدرک للحاکم :4؍151

i. نویں ترمیمی بل کے سلسلے میں قومی اسمبلی نے جو قرار داد منظور کی ہے، اس پر تفصیلی تبصرہ تو ان شاء اللہ ہم آئندہ اشاعت میں کریں گے۔ فی الحال یہ اشارہ ضروری ہے کہ اسلامی مملکت کا دستور کتاب اللہ ہی ہوتا ہے، جس کی کامل اور متعین تعبیر، سنت رسول اللہ ﷺ ہے او راسی کا نام شریعت ہے۔ جبکہ متذکرہ قرار داد میں کتاب و سنت کو دستور تسلیم کرنے کی بجائے، ''قانون سازی کا منبع'' بتلایا گیاہے۔اسی طرح اس میں قرآن و سنت کے لیے ''بالاترین قانون'' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں او ریہ الفاظ چغلی کھا رہے ہیں کہ قرآن و سنت کے علاوہ بھی قانون ہوگا جو غالباً اصل اور عملی حیثیت کا حامل ہوگا او رقرآن و سنت کی حیثیت محض دکھاوے کی ہوگی۔ حالانکہ شریعت قرآن و سنت ہی ہے اور متعدد اجتہادات او رمختلف فقہیں اس کا لازمی حصہ نہیں ہیں۔لہٰذا نویں ترمیم کا تصور صحیح اسلامی تصور نہیں ہے۔ لیکن چونکہ اس دستوری ترمیم کے پس منظر میں اسلامی جذبہ اور شریعت و فقہ کی اہمیت کارفرما ہے، اس لیے اس حد تک اس کی تائید ضروری ہے۔ جن مغرب زدہ عورتوں نے اس کے خلاف جلوس ہے، وہ اسلامی جذبے اور شریعت سے بغاوت چاہتی ہیں، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
ii. سینٹ کے زیر غور '''نفاذ شریعت بل 1985ء'' میں بھی وہی غلط تصور موجود ہے۔ جس کی نشاندہی ہم نے اوپر حاشیہ(1) میں کردی ہے۔
iii. اگرچہ متذکرہ بل نفاذ شریعت کے لیے ہے، لیکن شریعت کی تعریف اس بل میں ایسی کی گئی ہے کہ کتاب و سنت کے علاوہ فقہاء کی آراء او راجتہادی احکام بھی شریعت شمار ہوں۔ حالانکہ شریعت محمدی صرف ایک ہے، اور فقہاء کی آراء پرمبنی مدون فقہیں کئی ہیں۔جبکہ اجتہادی احکامات میں مجتہدین کا اختلاف بھی فطری امر ہے، جن کو شریعت قرار دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ متعدد فقہوں کی موجودگی میں او راجتہادی احکامات کے اختلافات کی صورت میں نفاذ شریعت بس ایک نعرہ رہ جائے گا اوراس کی عملداری میں نہ صرف بے شمار الجھنیں پیدا ہوں گی بلکہ ایسے قانون پر عملدرآمد بھی انتشار کا باعث ہوگا، حالانکہ قانون اتحاد او ریگانگت کا حامل ہونا چاہیے۔
iv. ''اپنے گھروں میں ٹکی رہو او ردو رجاہلیت کی طرح بن سنور کر (بے پردہ گھروں سے باہر) نہ نکلو، نماز قائم کرو، زکوٰة ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو''
v. ہماری مراد موجودہ قانون شہادت او رحدود آرڈیننس کی جزئیات سے قطع نظر اس بارے میں اسلامی احکامات ہیں۔