ذوقِ مطالعہ و کتب :
کتاب دیکھنے، خریدنے اور حفاظت سے رکھنے کا بہت شوق تھا ۔ آپ کی آمدنی کا معقول حصہ کتب کی خریداری کے لیے وقف تھا اور یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک بہترین کتب خانے کے مالک تھے۔ جو کتاب چھپتی اسے پسند کرتے اور خرید لیتے۔ اگر کسی کتب خانے چلے جاتے تو اچھی خاصی رقم کتابوں کی خرید و خرچ کرڈالتے۔کتب خانے والے آپ کی اس عادت سے اس قدر واقف ہوچکے تھے کہ بعض اوقات نئی چھپنے والی کتاب بذریعہ وی۔ پی بغیر آرڈر کے بھیج دیتے۔ ایک دفعہ راقم ساتھ تھا، فیصل آباد میں چند پرانی کتب خریدنے کا ارادہ فرمایا۔ راقم نے عرض کیا۔ حضرت یہ کتابیں غیر ضروری ہیں، لیکن نہ مانے اور خرید لیں۔آپ کا کتب خانہ تقریباً پانچ ہزار کتب پر مشتمل تھا۔ ان میں لغت، تفسیر ، احادیث ، شروح احادیث ، فقہ ، اصول فقہ، تاریخ، منطق، فلسفہ، طب غرضیکہ معقولات اور منقولات کی کون سی کتاب تھی جو آپ کے کتب خانے کی زینت نہ بنی؟ مطالعے کا یہ شوق کہ میں جب بھی ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو آپ کو لائبریری میں ہی محو مطالعہ پایا یا کچھ لکھنے میں مصروف، کوئی خاص بات دیکھی یا پڑھی ہوئی تو تذکرہ فرماتے۔ بعض اوقات لکھنے کا کام اس قدر ہوتا کہ آپ تھک جاتے او ربندہ کو یاد فرماتے۔کتب خانہ جان سے عزیز تھا۔ ہجرت کے وقت جب پاکستان آنے کا ارادہ کیا تو کتب خانہ آڑے آیا وار کہا چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ آپ بعد میں روانہ ہوئے اور صرف دو بوریاں کتابوں کے ساتھ لاسکے آپ کو اپنے اس علمی نقصان کا پوری زندگی افسوس رہا۔ پھر جو کتاب بھی مطالعہ کی اس کے اہم مندرجات کو کتاب کے اوّل اوراق پر صفحات کے حوالے سے نوٹ کرلیتے۔ اپنی بعض کتب پر حاشیے بھی لکھتے۔ کتاب کبھی کسی کو عاریتاً یاادھار نہ دیتے، جس نے کتاب دیکھنے ہوتی اسے کہتے، ''بھائی یہیں کتب خانے میں دیکھ لو'' یہ کتابیں مجھے جان سے زیادہ عزیز ہیں۔''پنجکوسی میں کتب خانے کا وصیت نامہ میرےنام لکھا۔ اس میں یہ وصیت بھی کی کہ کوئی کتاب ادھار نہ دیں گے۔ باوجودیکہ کتب خانے کا وصیت نامہ میرے نام تھا، کبھی کوئی کتاب مانگی تو فرماتے: ''اگر اس کے بعد مجھے ضرورت پڑگئی تو کیا ہوگا؟'' اگر کوئی کتاب میرے پاس زیادہ عرصہ رہ گئی تو یاددہانی کے لیے خط لکھ دیا کرتے۔ کتب خانے کے ساتھ ان کی محبت عربی شعروں میں کیا خوب واضح ہے:
 

ألایا مستعیر الکتب مني ......... فإن إعارتي للکتب عار
و محبوبي من الدنیا کتاب ....... فھل أبصرت محبوبا یعار

''اے مجھ سے کتاب کو ادھار مانگنے والے، میرا کتاب عاریتاً دینا میرے لیے باعث شرم ہے۔ دنیا میں میرا محبوب صرف کتاب ہے۔ کیا خیال ہے کوئی محبوب بھی عاریتاً دیا جاسکتا ہے؟''

کسی کتاب کے ایک سے زیادہ نسخے آپ کے پاس ہوتے تو میں ان میں سے ایک خرید لیتا یا تحفتاً وصول کرلیتا۔''نتائج التقلید بمع البشریٰ بسعادۃ الدارین'' اسی طرح سے خریدی۔ کوئی کتاب خریدی او رپسند آگئی تو اس کی ایک جلد از راہ شفقت مجھے بھی ارسال کردی۔ ''بغیة الفحول'' اور ''حل مشکلات بخاری'' یوں ہی ارسال کیں۔ ان کی اپنی تصانیف میں سے ''کتاب الأذان'' اور ''سیاحة الجنان'' خود ارسال کیں۔ ایک دفعہ میں بہاولپور سے کیا تو مجھے ''الرق في الاسلام'' کی ضرورت پڑی ۔ میں نے مانگی تو فرمایا: ''اب تو چھٹیاں ہیں یہیں پڑھ لو۔ کتابوں سے یہ عشق آخر دم تک رہا۔

آپ چونکہ مناظر بھی تھے ۔ اس لیے مختلف مذاہب کا مطالعہ ضرور کرتے۔ عیسائیت، یہودیت، مرزائیت وغیرہ پر خاصی نظر تھی ان مذاہب پر بے شمار کتب آپ کے پاس تھیں۔ ہمعصر علماء کی کتب خریدنے سے بھی کبھی احتراز نہ کیا جوکتاب اچھی لگی منگوالی۔ عام طور پر کالی سیاسی، کانے کی قلم یا ہولڈر استعمال کرتے۔ آخری عمر میں پَین استعمال کیا۔ لیکن اس میں بھی کالی سیاہی استعمال کرتے۔ اخبارات میں مضامین اتے۔ اگر کوئی مضمون قابل اعتراض ہوتا تو قابل اعتراض عبارت پر نشان لگاتے او رمدلل جواب لکھتے۔ ہفت روزہ '''الاعتصام'' ، ''اہل حدیث''، ''الاسلام''، ''صحیفہ اہلحدیث'' اور ''ترجمان الحدیث'' میں ان کے مضامین اکثر آتے رہے۔ اکثر مضامین اصرار و فرمائش پر لکھتے او رہمیشہ اس موضوع پر لکھتے جس پر نہ لکھا گیا ہو یا لکھا گیا ہو تو کم لکھا گیا ہو۔ ''قربانی کے چار دن''، ''بھینس کی قربانی'' پرایک دفعہ مضمون لکھا، اسی طرح ''حقہ نوش کی امامت کا حکم''، ''بےنماز پر کفر کا فتویٰ'' پر آپ کے مضامین بہت مقبول ہوئے۔ حافظ محمدابراہیم صاحب کمیرپوری او رمیر ساجد صاحب سے علمی نوک جھونک رہی۔ ہمیشہ بحوالہ مضامین لکھتے۔ ان کے مضامین اہل علم کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث تھے۔ صبح سے شام تک کتب کا مطالعہ کرتے۔ یہاں تک کہ دوپہر کو کتب خانے میں ہی آرام فرماتے۔ بعد ازاں وہی شغل کتب بینی، کتابوں کے علاوہ کوئی چیز پسند نہ تھی۔ دو دفعہ حج پر گئے اور وہاں سے بھی کتب ہی لائے۔ میں نے کسی موضوع پر لکھنے کاارادہ کیا۔ اور آپ سے تذکرہ کیا یا کسی کتاب کے لیے مشورہ کیا۔ آپ نےمدد کی، کتب تجویز کیں او راس کے ساتھ اس پر خود بھی کچھ روشنی ڈالی۔ حقیقت یہ ہےکہ آپ کی موجودگی میں تحریر و تقریر کے لیےمجھے کبھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ کتب خانے کے بارے میں بہت متفکر رہے۔ کیونکہ اولاد میں کوئی بھی ان کا علمی وارث نہ تھا۔ اس لیے کتب خانے کی وصیت تحریر طور پر ساتھ رکھتے۔ پنجکوسی ضلع بہاولنگر میں قیام کے دوران کتب خانے کی وصیت میرے نام اور چک نمبر 251۔ ای بی میں ہمارے ماموں عبدالشکور کے نام تھی۔

تحقیق کا انداز اور فتاویٰ نویسی:
جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا، اس کے تمام پہلوؤں پر بسط و تفصیل سے روشنی ڈالتے ۔ ایک دفعہ ''ختم برطعام'' پرایک رسالہ لکھنے کا عرض کیا تو اس کی تصنیف میں لغت سے لے کر اس کی تاریخ او رپھر قرآن و حدیث کی روشنی میں یوں بحث کی کہ ہم لوگ حیران تھی، ایک دفعہ ایک کط میں میرے ایک دوست مولانا تاج دین صاحب کو اپنی کتاب نہ چھپنے پر شکوہ کے انداز میں خط لکھا۔مولانا تاج دین صاحب مسجد کا مجاور مثل ڈاور لکھ دیا۔ میں نے شکایت کی کہ وہ مجاور پر ناراض ہیں تو مولانا کو خط میں لکھا جس مجاور کا مادہ پھر اس کا استعمال لکھا۔ پھر آنحضرتﷺ کے متعلق لکھا: ''یجاور في غار حرآء'' اسی طرح کئی صحابیوں کا لکھا۔مولانابہت خوش ہوئے۔ ہمیں جب بھی کسی مسئلے میں دقت کا سامنا ہوتا۔ فوراً حضرت کی جانب رجوع کرتے۔ایک دفعہ آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے کا لکھ کربھیجا او رجواب مانگا۔ آپ نے جواب بحوالہ لکھا۔ ایک دفعہ بندہ کے ساتھ فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مسجد میں مسئلہ بیان کیا کہ سجدہ میں دونوں پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوئی ہونی چاہیئیں۔ وہاں کے مولوی صاحب نے اس پر دلیل طلب کی۔ آپ نے ''تلخیص الحبیر'' کا حوالہ دیا مولوی صاحب کتاب لائے تو آپ نے حدیث نکال کر سامنے پیش کی۔مولوی صاحب آپ کے حافظے اور علم سے بہت متاثرہوئے۔

پورے ملک سے عوام و خواص، عالم و جاہل تحقیق مسائل کے لیے رجوع کرتے۔ سوالات کا جواب حتی المقدور جلدی دیتے۔ آپ کے فتاویٰ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جو فتویٰ دیتے اس کی نقل بھی اپنے پاس رکھتے۔ آپ کے فتاویٰ پر مشتمل کئی جلدوں پر کتب بن سکتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کو منظور ہوا تو ان کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ عوام عام طور پر نکاح، طلاق اور وراثت کے مسائل لے کر حاضر ہوتے۔ حلالہ نکالنے والے کے سخت خلاف تھے۔ اس پر حدیث بیان فرماتے: ''لعن رسول اللہ المحلل والمحلل له'' اور اس پر فتویٰ لکھ دیتے۔ زوجین میں سے اگر کوئی بے نماز ہے تو آپ کی رائے میں ان کا نکاح فاسد ہے۔ کیونکہ بے نماز کافر ہے اور مسلمان کانکاح کافر کےساتھ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات لوگ اپنی مرضی کے مطابق غلط بیانی کرکے فتویٰ لینے کی کوشش کرتے لیکن ان کو منہ کی کھانی پڑتی۔ اگر کوئی آدمی طلاق نہ دیتا تو خود ان لوگوں کو فتویٰ لکھ کر خلع کی اجازت دیتے۔ آپ کے فتاویٰ کی وجہ سے کئی لوگ اہل حدیث ہوگئے۔فتویٰ کے معاملہ میں اگر کبھی عدالت میں جانا پڑا تو کبھی جھجک محسوس نہ کی۔ ایک دفعہ بہاولنگر میں بھی عدالت میں طلبی ہوئی۔ جہاں عدالت کو مطمئن کیا ۔فتویٰ پوچھنے والے جوابی لفافہ ارسال کرتے تھے، اگر جوابی لفافہ نہ ملتا تو پھر اپنی طرف سے ہی لفافہ ارسال کردیتے۔ بڑھاپے میں ضعف او رمالی مشکلات کی وجہ سے دیر ہوجایا کرتی تھی۔

ہفتے میں پچاس سے بھی زیادہ مسائل بذریعہ ڈاک جاتے۔کوشش کرتے کہ سب کا جواب ہوجائے۔ ایام بیماری میں کسی شاگرد یا دوست سے لکھوا دیتے۔ علماء بھی اس سلسلے میں آپ کی جانب رجوع کرتے۔ مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، مولانا عطاء اللہ حنیف اور مولانا عبدالستار صاحب ایام مصروفیت میں اپنافتویٰ کا کام جو آتا آپ کی جانب بھیجتے۔ آپ کے فتاویٰ مختلف رسالوں او رجریدوں کی زینت بھی بنے۔ فتویٰ ایسا تسلی بخش ارسال کرتے کہ تشنگی باقی نہ رہتی۔ایک د فعہ مولانا داؤد غزنوی نے فرمایا) ''مولانا سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کی لائبریری کتنی بڑی ہے۔''

عبادت و طہارت :
آپ ہمہ وقت باوضو رہنے کا بہت اہتمام کرتے تھے او راس کی نصیحت بھی فرماتے۔ جماعت کی پابندی تو زندگی کا معمول تھی۔اگر سفر میں ایک ساتھی بھی ہوتا تو اذان کہہ کر جماعت کراتے۔ سفر میں جمع تقدیم او رجمع تاخیر دونوں طرح سے نماز پڑھتے۔ تہجد اور اشراق کبھی قضا نہ کی۔ رمضان المبارک میں اعتکاف میں بھی بیٹھتے او رآخری دس راتوں میں عبادت بہت کرتے۔ حضورﷺ نے جو لیلۃ القدر کی دعا حضرت عائشہؓ کو تعلیم فرمائی تھی وہ اکثر ورد زبان رہتی۔ وہ دعا یہ ہے:
''اللھم إنك عفو تحب العفو فاعف عني''

رات کی نماز میں تنہائی میں لمبی سورتیں پڑھتے۔ عام طور پر گیارہ رکت نماز تہجد پڑھتے۔ بعض اوقات راقم رات کو جگانے کی درخواست کرتا تو جگا لیتے۔ میں وضو کرواتا اور پھر خود بھی قریب نماز پڑھتا۔ ایک د فعہ پنجکوسی میں رات کو اٹھے۔ ان دنوں اعتکاف میں تھے، وضو کرتے ہوئے وضو کی جگہ گر گئے اور زخمی ہوگئے۔ بخار ہوگیا۔ بندہ نے دوسری رات ساتھ مسجد مین گزاری ۔ رات کو بخار کی وجہ سے زیادہ عبادت نہ کرسکے تو بار بار افسوس کااظہار کرتے رہے کہ ''کتنی اچھی رات ہے'' یوں ساری رات استغفار میں گزار دی۔ آخر عمر میں بہت کم سوتے۔ زیادہ وقت عبادت اور وظائف میں گزرنے لگا ۔ عام دعاؤں میں زیادہ دعا یہ مانگتے۔
''اللھم إني أعوذبك من عذاب القبر ومن عذاب جهنم وأعوذ بك من فتنة المسیح الدجال و أعوذبك من فتنة المحیا و المماة و أعوذبك من المأثم و المغرم''

کبھی کبھی قبرستان بھی تشریف لے جاتے اور تمام مرحومین کے لیے لمبی لمبی دعائیں کرتے۔موت و برزخ کی زندگی کو یاد کرکے روتے رہتے۔ اکثر حلقہ احباب میں سے جب کوئی دعا کے لیے کہتا تو اس کے لیے تہجد کی نماز میں خصوصی دعا فرماتے۔ آپ مستحباب الدعوات تھے اور دعائیں جلد اثر دکھاتیں۔ ان کابیٹا محمد حسین قتل کے الزام میں گرفتار ہوگیا۔ پتہ چلا کہ قصور وار تو نہیں؟ جب تسلی ہوگئی کہ ناحق گرفتار ہے تو دعا کی او رفرمایا ان شاء اللہ ضرور رہا ہوگا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے رہائی عطا فرمائی۔ پچھلی رات گھر والوں کوبیدار نہ کرتے، بلکہ وضو وغیرہ خود ہی کرلیتے۔بڑھاپے میں اکثر تکلیف ہوتی۔ سنتیں او رنفل عام طور پر گھر پہ ہی پڑھ لیتے۔ مغرب کی نماز سے قبل اذان کے بعد کبھی کبھار نفل پڑھتے کیونکہ آنحضرتﷺ کے دور میں پڑھے گئے۔ جماعت اکثر خود کرواتے۔ اگر باہر سے کوئی عالم آتے تو پھر نماز ان کے پیچھے پڑھتے۔ پھر ان سے درس او رتقریر کرواتے اور خود اس مجلس میں سامع ہوتے۔ فقیر اکثر اس بات کی کوشش کرتا کہ ملاقات کے لیے حاضری کے وقت نماز آپ ہی کے پیچھے پڑھی جائے، لیکن بعض اوقات حکم دیتے کہ جماعت کراؤ تو ''الامر فوق الادب'' کے تحت جماعت کرواتا۔ دوستوں کے سامنے فخریہ ذکر کرتے کہ یہ میرا نواسہ عالم دین ہے۔ بعض اوقات تقریر کا حکم دیتے جسے بجا لانا پڑتا۔ اکثر تاکید فرماتے کہ آخری رات کوجاگا کرو۔ خواہ دو نفل پڑھ لیا کرو۔ پھر یہ آیت سناتے:
إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيْلِ هِىَ أَشَدُّ وَطْـًٔا وَأَقْوَمُ قِيلًا ﴿٦...سورۃ المزمل

رات کو بعض اوقات دیر تک جاگتے رہتے۔کیونکہ مسائل پر گفتگو شروع ہوجاتی لیکن پھر بھی رات کے آخری حصے میں ضرور جاگتے۔ اقبال نے بھی اس پر یوں زور دیا ہے:


عطا ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

جذبہ اتباع رسولؐ :
تمام زندگی سنت نبوی کو مشعل راہ بنایا۔ زندگی کے چھوٹے چھوٹے کام میں اتباع رسولؐ کا بڑا خیال رکھتے۔ اندازہ کیجئے۔ ایک دفعہ گوہ (ضب1) پکوا کر کھائی اور کھلائی۔ اور اس پرایک رسالہ بھی تحریرکیا۔ صرف اس لیے کہ حضورؐ سے اس کی اجازت منقول ہے۔ پروفیسر غلام نبی عارف صاحب کا بیان ہے کہ انہوں نے ریاض (سعودی عرب) میں لو گوں کو گوہ کھاتے دیکھا ہے۔ حضورؐ سے جوتون سمیت نماز پڑھنا منقول ہے۔اس لیے آپ نے بھی جوتوں سمیت نماز پڑھی، ایک دفعہ صرف اکیلا لمبا چغہ پہن کر نماز پڑھائی ا س لیے کہ ایسا حضورؐ سے بھی مروی ہے۔ غرضیکہ سنت بوی ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ایک دفعہ اپنی نواسی کو اٹھا کر جماعت کروائی۔ کیونکہ حضورؐ نے اپنی نواسی امامہ بنت زینبؓ کو اٹھا کر نماز پڑھائی تھی۔ حضورؐ کا فرمان ہے: ''لا یصلین أحدکم في ثوبین لیس علیٰ عاتقیه شيء'' کہ اس وقت نماز نہ پڑھو جبکہ تمہارے کندھے ننگے ہوں۔ آپ نے اس پر بھی عمل کیا۔ آپ سر سے ننگے او رکندھوں کو ڈھانک کر نماز پڑھاتے۔ ایک دفعہ خود مجھے حدیث سنائی کہ حضورؐ نے حضرت علیؓ کو تین کام کرنے میں جلدی کا حکم فرمایا:
''الصلوٰة إذا أتت والجنازة إذا حضرت والأیم إذا وجدت لھا کفوا''
''جب نماز کا وقت آجائے، او رجنازہ جب حاضر ہو او ربیوہ کا جب کفو مل جائے۔''

اس لیے ان تینوں چیزوں کا خصوصی اہتمام فرماتے۔ نماز باجماعت وقت اوّل پر پڑھتے۔ خواہ مقتدی کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں۔ جمعہ کے دن خوبصورت لباس زیب تن کرتے۔ تراویج جماعت کےساتھ اس لیے نہ پڑھتے کہ حضورؐ سے ایسا منقول نہیں ہے۔ بلکہ پچھلی رات میں گیارہ رکعت ادا فرماتے۔ حضورؐ سے نماز جنازہ بلند آواز میں پڑھانا منقول ہے۔ اسی طرح نماز جنازہ بلند آواز سے نہایت خشوع و خضوع سے پڑھتے۔ تہجد کی نماز میں سورہ بقرہ پوری پڑھ لیتے ایک رکعت میں۔ روزہ عام طور پر کھجور سے افطار کرتے۔ دیگر احباب کے روزے بھی خود افطار کراتے۔ طالب علموں سےبہت پیار کرتے۔ اس لیے کہ حضورؐ، حضرت ابوہریرہؓ اور دیگر اصحاب صفہ سے بہت پیار کرتے تھے۔ آنحضرتؐ کا فرمان ہے کہ لڑکی دیکھ کر شادی کرسکتا ہے۔ آپ نے اس معاملے میں بھی فرمان نبویؐ کوملحوظ رکھا او راپنے داماد مولانا محمد اسحاق صاحب خائف کو ایک نظر اپنی بیٹی دکھا دی تھی۔ قربانی عیدگاہ میں کرتے۔ کیونکہ حضورؐ کے متعلق روایات میں آتا ہے۔
''كان ینحر بالمصلّٰی''

نماز میں سزا و جزاء والی سورتیں پڑھتے۔ کدو کا سالن پسند کرتے۔ اس لیے کہ حضورؐ کو پسند تھا۔ جوتا ہمیشہ دایاں پہلے پہنتے، مسجد میں دایاں قدم پہلے رکھتے اور دعا پڑھتے: ''اللھم افتح لي أبواب رحمتك'' اور مسجد سے نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے رکھتے اور دعا کرتے: ''اللھم إني أسئلك من فضلك'' کپڑے پہنتے تو یہ دعا کرتے: ''الحمد للہ الذي كساني ما أواري به عورتي و أتجمل به في حیاتي''

جونہی اذان ہوتی نماز کی تیاری شروع کردیتے۔ آنحضرتؐ کے متعلق حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب اذان ہوتی تو حضورؐ یوں اٹھ کھڑے ہوتے جیسے وہ ہمارے واقف بھی نہیں۔''کأنه لا یعرفنا'' آپ کی حالت بھی یہی ہوتی۔ سفر میں خصوصاً نماز کی پابندی کی تاکید فرماتے کہ کسی صورت نماز نہیں چھوڑنی کہ آنحضرتؐ نےکبھی حالت جنگ میں بھی نماز نہ چھوڑی تھی۔ موسم سرما میں جرابیں او رموزے استعمال کرتے اور ان پر مسح کرتے۔ وضو کے بعد دامن پر چھینٹے پھینکتے کہ حضورؐ سے ایسا منقول ہے ، قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ اس لیے اس کا ثبوت بھی احادیث میں ملتا ہے۔

خانگی زندگی او رعادات و اخلاق :
گھر میں ہر چیز کی نگرانی کرتے۔ اگر کہیں جانا ہوتا تو گھر کا مکمل انتظام کرتے جاتے۔ اہل خانہ کو کبھی آپ سے شکایت نہ ہوئی۔ بچوں سے پیار کرتے اور بعض اوقات مذاق بھی کرتے۔ دوپہر کھانا کھانے تشریف لاتے تو ضرور چھیڑ چھاڑ کرتے۔طبیعت میں مذاق کا پہلو بھی تھا۔ وضو کے بعد بچوں پر چھینٹے ڈالتے۔ ایک سادہ طبیعت طالب علم کا نام شیخ چلی رکھا تھا۔ جس کو اس نے کبھی محسوس نہ کیا۔ اپنے بچوں میں سے چھوٹے محمد حسین کو ببّی (پیار سے)اور احمد حسن کو پلّا کہہ کر پکارتے او ریہ نام بہت مشہو ہوئے۔

ایک دفعہ شاگر د گندم کی کٹائی کررہے تھے، جن کی تعداد چالیس کے قریب تھی۔ ایک سکھ نے پوچھا، ''یہ کون لوگ ہیں؟'' فرمایا: ''یہ میرے بیٹے ہیں'' وہ اس پربہت حیران ہوا تو فرمایا: ''میں ان کا استاد ہوں، استاد اور باپ میں ہمارا مذہب فرق نہیں کرتا۔'' اپنی چھوٹی بیٹی سے بہت پیار کرتے۔ آخر عمر میں ایک دفعہ انہوں نےناراضگی کا اظہار کیا۔پہلے تو اسے خط لکھا او رپھر میری نانی جان کو بھیجا او رآخر خود تشریف لے گئے او رگلے ملے یوں بچی خوش ہوگئی۔ کوئی چیز اچھی میسر آتی تو چھوٹی بچی کو دیتے۔بیٹوں کو بھی تاکید کرتے کہ چھوٹی بہن کا خیال رکھنا۔ دونوں بیٹوں کے رشتے دینداری کی بنیاد پر کئے۔لڑکوں پر لڑکیوں کو ترجیح دیتے کہ کہیں بچیاں محسوس نہ کریں۔اپنی چھوٹی تیرہ سالہ بیٹی کو ساتھ حج بھی کرایا۔ تقسیم جائیداد اپنی زندگی ہی میں شروع کردی اور شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی۔ تقسیم میں، خواہ کسی چیز کی ہو، انصاف کابہت خیال رکھتے۔ یہاں تک کہ خربوزے کی پھانکیں بھی برابر تقسیم کرتے۔ بقول والدہ صاحبہ کہ ایک دفعہ تقریر اثر پذیر کی وجہ سے انگریز سرکار نےکالے پانی کی سزا بھی دی۔ رمضان المبارک میں واپسی ہوئی تو وہاں سے وہاں کے پھل لائے۔ جس سے تمام روزہ دارون کے روزے افطار کرائے۔ گھریلو معاملات میں کبھی سختی نہ کی۔ البتہ نماز کے سلسلے میں ڈانٹ ڈپٹ ضرور کرتے۔ آپ کی خدمت میں رہنے والا پکا نمازی بن جاتا۔ گھر آتے تو سب سے پہلے نماز کا پوچھتے۔ فضول خرچی کو سخت ناپسند کرتے۔ اس کے نقصانات گنواتے او رقرآن کی آیت پڑھتے۔
إِنَّ ٱلْمُبَذِّرِ‌ينَ كَانُوٓاإِخْوَ‌ٰنَ ٱلشَّيَـٰطِينِ...﴿٢٧﴾...سورۃ بنی اسرائیل

حقوق العباد کا بہت خیال رکھتے ۔ حسن سلوک سے ہر ایک گرویدہ ہوجاتا۔ اگر کبھی ناراض ہوجاتے تو فوراً راضی ہوجاتے۔ دنیا میں مسافروں کی طرح رہے کبھی دنیاوی چیزوں سے محبت نہ کی۔ وفات سے قبل نانی جان نے نیا مکان بنوانے کی فرمائش کی۔ تو فرمایا ایک لوہے کی پیٹی جو گھر میں موجود ہے اس میں سوجایا کرو۔ بے نماز کے بہت مخالف تھے۔خواہ حقیقی بیٹا ہو۔ محبت و ناراضگی صرف اللہ کے لیے تھی۔طلباء کی مالی امداد بھی کیا کرتے تھے۔ انگریزی تعلیم کے سخت مخالف تھے۔ ان کے پوتے بھائی عبدالغفور نے کہا کہ کچھ رقم قرض دے دیجئے۔ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرکے واپس کردوں گا۔ صاف انکار کردیا کہ میرا پیسہ دینی تعلیم کے لیے مختص ہے۔ علماء سے بڑی محبت تھی۔جلسے کرواتے۔ مولانا عبدالقادر روپڑی او رمولانا محمد حسین شیخوپورہ والے کی اکثر آمد رہتی۔ پروفیسر حافظ عبداللہ صاحب (بہاولپور والے) کی تقریر بہت پسند کرتے تھے۔اگر کوئی مرید یا دوست آپ کو دبانے لگ جاتا تو منع نہ فرماتے اس لیے کہ اس کے لیے اجر کا باعث ہے۔ مہمان نوازی خوب کرتے اور خود کرتے۔ کہیں تشریف لے جاتے تو تین دن سے زیادہ نہ ٹھہرتے کہ مہمان تین دن کا ہوتا ہے۔ عام سادہ کپڑے پہنچتے۔ رکھ رکھاؤ کے قائل نہ تھے۔ گوشت خود بھی پسندفرماتے او رمہمانوں کے لیے بھی گوشت کا اہتمام ضرور کرتے۔رشتہ داریوں کےلیے اہل توحید ہی کو پسند فرماتے۔

زندگی میں دو دفعہ حج کیا۔ جن میں تمام لوگوں کے لیے دعائیں کیں۔

نقل مکانی:
ہندوستان سے ہجرت کرکے پہلے چک نمبر 15۔ایل؍17 ساہیوال پھر 251؍ای بی نزد گگو بعد ازاں چک نمبر 73؍ای بی او رپھر پنجکوسی بہاولنگر میں برادری ک ےپاس آئے اور وہاں سے پھر 251؍ای بی چلے گئے۔ وہاں سے عارف والا تشریف لے گئے۔ وہاں قیام ایک مسجد ہی میں رہا اور ساتھ ہی کتب خانہ بھی تھا جہاں تشریف رکھتے۔

آخری لمحات:
وفات سے قبل چھوٹی بچی کوملنے بورے والا تشریف لے گئے۔ بچی نے کچھ ناراضگی کا اظہار کیا تھا، پہلے گلے ملے کر روئے۔ بیٹی نے کہا ابا میں ہر لحاظ سے راضی ہوں تو پھر گھر بیٹھے، وقت پر کھانا کھایا او رکچھ آرام کیا۔ پھر اُٹھ کر نماز پڑھی۔ وفات کے دن ان کے مہندی لگائی گئی۔ غسل کیا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر عصر کی نماز پڑھی۔ وفات سے قبل اپنے بیٹے مولوی عبدالشکور صاحب کو یاد کیا۔ چھوٹی بیٹی موجود تھیں۔کہنے لگی کہ ایسےکیوں کرتے ہیں؟ تو فرمانے لگے، یہ بیماری پہلے کی طرح نہیں ہے، پھر آپ کچھ سورتیں پڑھنے لگے۔ جو سمجھ میں نہ آسکیں۔ اسی حالت میں 19 ستمبر 1981ء پانچ بجے شام اللہ کوپیارے ہوگئے۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون۔

تبکي علیك مساجد و منابر ...... ولأ ھل العلم رنة و زفیر
قد کان مجتهدا مصیبا فاسقا ...... یحمي الشرائع سعیه المشکور
نقاد أسناد الحدیث و متنه ........ بشأن أسرار الکتاب بصیر


نماز جنازہ قاری عبداللطیف صاحب خطیب وہاڑی نے بڑے خشوع و خضوع سے پڑھائی، کافی علماء او راہل توحید نے شرکت کی۔ ان کو بورے والا کے قبرستان میں ہی دفن کرایا گیا۔

تصنیفات :
نبوی جواہر در ذکر کبائر (مطبوعہ) تردید سعید برختم علی الطعام (غیر مطبوعہ)
تحفہ قادریہ (مطبوعہ) اثبات عذاب قبر (غیر مطبوعہ)
ساحۃ الجنان بمناکحۃ اہل الایمان (مطبوعہ) فتاویٰ قادریہ (غیر مطبوعہ)
کتاب الاذان (مطبوعہ) احسن الکلام (غیر مطبوعہ)
شرعی داڑھی (مطبوعہ) جمع بین الصلواتین (غیر مطبوعہ)
گانا بجانا حرام ہے (مطبوعہ) اصل اہل سنت (غیر مطبوعہ)
نکاح شغار (مطبوعہ)


حوالہ جات
1. ''ضب'' ''سانڈھے'' کو کہتے ہیں۔ بعض اس کا ترجمہ ''گوہ'' کرتے ہیں۔