اللہ تعالیٰ نے کسی نسلی یا جغرافیائی تخصص و امتیاز کے بغیر، تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمدﷺ کو مبعوث فرمایا۔ تمام انسانوں کو آپؐ کے ذریعے نجات کی راہ بتلائی۔ آپؐ کی اتباع اور آپؐ کی محبت کو لازمہ ایمان قرار دیا۔ مومن ہونے کے لیے تمام اہل ایمان پر لازم اور واجب ٹھہرایا کہ وہ اپنی جان و مال، ماں باپ، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر آپؐ سے محبت کریں۔ چنانچہ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
''تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔'' 1

اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰة والسلام کو مذمت کے تمام افعال و اقوال سے محفوظ و مامون رکھا ہے۔لہٰذا مذمت کے کسی قول و فعل کو تصریحاً یا تعریفاً ان کی طرف منسوب کرنا کفر قرار دیا۔ قرآن مجید میں اہل ایمان کو حکم دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آواز کو پست رکھا کریں اور آپؐ سے اس طرح مخاطب نہ ہوا کریں جس طرح وہ ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوالَا تَرْ‌فَعُوٓا أَصْوَ‌ٰتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ ٱلنَّبِىِّ وَلَا تَجْهَرُ‌والَهُۥ بِٱلْقَوْلِ كَجَهْرِ‌ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَـٰلُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ ﴿٢...سورۃ الحجرات
''اے ایمان والو، تم اپنی آواز کو نبیؐ کی آواز سے زیادہ بلند (کرکے گفتگو) نہ کرو اور ان کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولا کرو، جیساکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ بلند آواز سے بات چیت کیا کرتے ہو، ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں شعور تک نہ ہو۔''

چنانچہ آپؐ کا استخفاف، آپؐ کا تمسخر اڑانا اور آپؐ کے ساتھ معمولی سے معمولی استہزاء بھی کفر کے زمرے میں آتا ہے، انبیاؑء کے ساتھ استہزاء و تمسخر کفار کا شیوہ ہے۔فرمایا اللہ رب العزت نے:
وَإِذَا رَ‌ءَاكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُ‌وٓاإِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا...﴿٣٦﴾...سورۃ الانبیاء
''جب تجھے کافر دیکھتے ہیں تو تیرے ساتھ استہزاء اور تمسخر ہی کرتے ہیں۔''

نیز فرمایا:
وَإِذَا رَ‌أَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا...﴿٤١﴾...سورۃ الفرقان
''وہ آپؐ کو دیکھ کر اپؐ کا تمسخر اڑاتے ہیں۔''

کفار، اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کےانبیاؑء و رسلؑ کے ساتھ تمسخر و استہزاء اور تکبر کے ساتھ پیش آنے کی پاداش میں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
ذَ‌ٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُ‌واوَٱتَّخَذُوٓاءَايَـٰتِى وَرُ‌سُلِى هُزُوًا ﴿١٠٦...سورۃ الکہف
''ان کی جزا جہنم ہے، اس پاداش میں کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کا تمسخر اڑایا۔''

ارشاد فرمایا:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّ‌سُولٍ إِلَّا كَانُوابِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ﴿١١...سورۃ الحجر
''ان کے پاس جوبھی رسول آتا تھا، یہ اس کے ساتھ استہزاء ہی کرتے تھے۔''

ارشاد فرمایا:
يَـٰحَسْرَ‌ةً عَلَى ٱلْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّ‌سُولٍ إِلَّا كَانُوابِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ﴿٣٠...سورۃ یس
''ہائے بندوں پر افسوس کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا تھا یہ اس کے ساتھ تمسخر و استہزاء ہی کرتے تھے۔''

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِىٍّ إِلَّا كَانُوابِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ﴿٧...سورۃ الزخرف
''ان کے پاس جو بھی نبی آتا تھا یہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے۔''

وہ لوگ جو اپنے قول و فعل اور روّیے سے رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب الیم کی وعید سنائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ رَ‌سُولَ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦١...سورۃ التوبہ
''وہ لو گ جو اپنی باتوں سے اللہ کے رسولؐ کوایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔''

واضح رہے کہ اس آیت کریمہ میں منافقین کے اس قول کی طرف اشارہ ہے:
وَمِنْهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلنَّبِىَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ...﴿٦١﴾...سورۃ التوبہ
''اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی باتوں سے (اللہ کے) نبیؐ کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کان ہے (یعنی کانوں کا کچا ہے)''

قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچانے کو اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے اور ایسے لوگون کو لعنت اور دنیا وآخرت میں عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَ‌ةِ...﴿٥٧﴾...سورۃ الاحزاب
''جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت کی ہے۔''

انسانی فطرت میں یہ چیز راسخ ہے کہ جب کسی جھگڑے یا عام صورت حال میں فیصلہ کسی انسان کے خلاف ہو تو وہ اس پر ردّعمل کے طور پرنفرت اور بغض و عداوت کا اظہار کرتا ہے یا کم از کم اسے دل میں تنگی ضرور محسوس ہوتی ہے۔ مگر قرآن مجید نےاہل ایمان کو رسول اللہ ﷺ کےبارے میں اس تنگدلی تک سے نہ صرف روک دیا ہے بلکہ اسے ایمان کے منافی قرار دینے کے لیے انتہائی سخت اور تہدید آمیز انداز اختیار فرمایا ہے اور غالبا ً پورے قرآن مجید میں یہ اسلوب کہیں اور نہیں آیا:
فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوافِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواتَسْلِيمًا ﴿٦٥...سورۃ النساء
'' ہرگز نہیں آپ کے رب کی قسم، یہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی جھگڑوں میں آپؐ کوفیصل تسلیم نہ کرلیں اور پھر جو کچھ آپؐ فیصلہ کریں اس کے بارے میں کوئی تنگ دلی بھی محسوس نہ کریں، بلکہ پوری طرح تسلیم کرلیں۔''

مذکورہ بالا اور اس کے علاوہ دیگر بہت سی آیات میں تصریحاً بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوقولاً یا فعلاً ایذا دینا کفر اور ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ سنت نبوی اور صحابہ کرامؓ کے فیصلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کم از کم سزا موت ہے۔

سنت نبویؐ :
علامہ ابن حزم ظاہری، مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت امام علی بن المدینی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ پرسب و شتم کیا کرتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا:
''کون ہے جو میری طرف سے میرے لیے اس (بدزبان) شخص کے لیے کافی ہو؟''
حضرت خالد بن ولید نے عرض کی ''میں!''
چنانچہ آپؐ نے حضرت خالد کو اس شخص کے قتل کے لیے بھیجا اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔ 2

مصنف عبدالرزاق اور قاضی عیاض کی ''کتاب الشفاء'' میں مرد کی بجائے عورت کا ذکر ہے۔ 3

امام عبدالرزاق روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے بارے بدزبانی کی تو آپؐ نے فرمایا:
''کون ہے جومیرے دشمن کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو؟''

حضرت زبیر بن العوام ؓ نے عرض کی''میں!'' چنانچہ حضرت زبیرؓ نے اس کے مقابلے میں نکل کر اس کو قتل کردیا آپؐ نے مقتول کی سلبi حضرت زبیر کو عطا فرما دی۔4

حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کیا کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کاگلا گھونٹ کر اسے مار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کا قصاص نہیں لیا اور اس کا خون رائیگاں کردیا۔5

حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک نابینا صحابیؓ کی ایک لونڈی تھی۔ اس لونڈی سے ان کے دو بیٹے تھے، وہ لونڈی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بہت بدزبانی کیا کرتی تھی اور روکنے سے بھی باز نہ آتی تھی۔ (نابینا صحابی بیان کرتے ہیں کہ): ''ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا تو اس نے پھر بدزبانی کی۔ مجھ سے صبر نہ ہوسکا، میں نے پیکار اٹھایا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر دبا دیا اور اس طرح اس کو قتل کردیا۔ صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس قتل کا تذکرہ ہوا تو آپؐ نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا:
''میں اس شخص کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس نے یہ قتل کیا ہے۔ اس پر میرا حق ہے کہ وہ اٹھے اور میری بات کا جواب دے۔''

ایک اندھا ڈگمگاتا ہوا سامنے آیا اور عرض کی:
''یارسول اللہ ﷺ! یہ لونڈی میرے بیٹوں کی ماں ہے۔ آپؐ کی شان میں بہت بدزبانی کیا کرتی تھی۔باز ہی نہیں آتی تھی۔ میں اسے منع کرتا رہتا، مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ گزشتہ شب میں نے آپؐ کا ذکر کیا تو اس نے پھر آپؐ کی شان میں بدزبانی کی ۔ میں نے پیکار لے کر اس کے پیٹ پر رکھا اور دبایا حتیٰ کہ اسے قتل کردیا۔''
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''گواہ رہو! میں نے اس لونڈی کا خون رائیگاں کردیا۔'' 6

ابومحمد الخلال، ابوالقاسم الارجی اور ابوذر ہروی ، حضرت علیؓ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''جو کوئی کسی نبیؐ کو گالی دے، اسے قتل کردیا جائے اور جو کوئی میرے صحابہؓ کو گالی دے ، اسے کوڑے لگائے جائیں۔'' 7

جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو اس وقت مدینہ میں بنی عمرو بن عوف قبیلے میں ایک شخص تھا جس کا نام ابوعفک تھا، بہت بوڑھا تھا اور وہ منافق تھا۔لوگوں کو آپؐ کی عداوت پر ابھارتا رہتا تھا۔بدر کی فتح پر وہ حسد کی آگ میں جل بھن گیا اور آپؐ کی ہجو میں اشعار کہے۔ ایک صحابی حضرت سالم بن عمیرؓ نے قسم کھائی کہ وہ اس یہودی کو قتل کرکے رہیں گے۔چنانچہ انہوں نے گرمیوں کی ایک رات اس کے گھر میں داخل ہوکر اسے قتل کردیا۔8

ابن ہشام لکھتے ہیں کہ اس کا نفاق ظاہر ہوگیاتھا۔

عصماء بنت مروان نامی ایک عورت، جو قبیلہ بن خطمہ کے ایک شخص کی بیوی تھی، رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بہت بدزبانی کیا کرتی تھی۔ اس نے آپؐ کی ہجو کہی۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے اس کا جواب بھی دیا۔ بایں ہمہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''کیا میرے لیے مروان کی بیٹی کو پکڑ کرنے والا کوئی نہیں؟''

چنانچہ عمیر بن عدی خطمیؓ نے رات کے وقت اس کے گھر میں گھس کر اسےقتل کردیا۔ 9

عفو و درگزر آپؐ کی سرشت میں تھا۔ فتح مکہ کے روز آپؐ نے بڑے دشمنون کو معاف فرما دیا مگر آپؐ نے دس افراد کومعافی نہیں دی۔ ان کے متعلق آپؐ کے روّیے کی سختی کا یہ عالم تھا کہ آپؐ نے فرمایا: ''اگر وہ کعبہ کے پردوں میں بھی چھپے ہوئے مل جائیں، تب بھی ان کو قتل کردیا جائے۔ ان میں چھ مرد اور چار عورتیں شامل تھیں، یہ سب رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کیاکرتے تھے۔ان کے نام یہ ہیں:
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، عکرمہ بن ابی جہل، حویرث بن نقید، عبدالعزیٰ بن خطل، مقیس بن حبابة، ابن خطل کی دو لونڈیاں اور ابولہب کی لونڈی سارہ'' 10

عبداللہ بن ابی سرح حضرت عثمان ؓ کا رضاعی بھائی تھا۔ فتح مکہ کے روز وہ حضرت عثمان ؓ کے گھر میں چھپ گیا۔ حضرت عثمانؓ امان کے لیے اسے لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے تین بار انکار فرمایا۔ آخر حضرت عثمان ؓ کی دلجوئی کی خاطر اسے سے بیعت لے لی۔ پھر آپؐ نے صحابہ کرام ؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا:
''جب میں اس سے بیعت لینے سے انکار کررہا تھا تو تم میں کوئی ایسا مرد رشید نہ تھا جو اسے قتل کردیتا؟''
صحابہؓ نے عرض کی ''آپؐ اشارہ فرما دیتے''
آپؐ نے فرمایا ''نبی کے لیے مناسب نہیں ہوتا کہ وہ آنکھ کے اشارے سے بات کرے۔'' 11

عکرمہ بن ابی جہل انہی لوگوں میں شامل تھا۔ اس کی بیوی ام حکیم نے ، جو اس وقت مسلمان ہوچکی تھیں۔ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عکرمہ کے لیے امان کی درخواست کی۔ آپؐ نے اسے امان دے دی۔ 12

عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر آپؐ بے حد شفقت فرماتے تھے۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک جنگ میں ایک عورت کی لاش پائی گئی۔ اس پرآپؐ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرما دیا۔ 13

اس رحم اور شفقت کے باوجود رسالت مآبﷺ نے فتح مکہ کے روز، جبکہ آپؐ نے تمام دشمنون کو معاف کردیاتھا، جن دس افراد کو معافی سے مستثنیٰ قرار دیا تھا، ان میں چار عورتیں تھیں جن کا ذکر گذشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ ان میں دو ابن خطل کی لونڈیاں تھیں، ایک نام قریبہ اور دوسری کا نام فرتنیٰ تھا۔ ایک ابولہب کی لونڈی سارہ تھی۔ سارہ ،نبی اکرم ﷺ کےساتھ بدکلامی کیا کرتی تھی اور آپؐ کی ہجو گا کر قریش کو سنایا کرتی تھی۔ فتح مکہ کے روز اسے قتل کردیا گیا۔ اسی طرح قریبہ کوبھی قتل کردیا گیا۔ فرتنیٰ نے آپؐ سے امان کی درخواست کی آپؐ نے اس کو معاف کردیا۔ اس نے حضرت عثمان ؓ کے عہد میں وفات پائی۔ یہ عورتیں اصولی طور پر محاربت و قتال میں بھی قتل کی مستحق نہ تھیں مگرانہوں نے رسول اللہ ؐ کی ذات کےبارے میں بدزبانی کرکے اپنے آپ کو قتل کا مستحق ٹھہرا لیا۔ ان کی بدزبانی کی پاداش میں رسول اللہ ﷺ نے ان کا خون مباح ٹھہرا دیا۔ 14

حویرث بن نقید بھی رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کیا کرتا تھا۔ فتح مکہ کے روز اس کا خون بھی رسول اللہ ﷺ نے مباح ٹھہرا دیا۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے اس کو قتل کردیا۔ 15

ابن خطل کا جرم یہ تھا کہ اس نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کو تحصیل زکوٰة پرمامور فرما دیا او را س کے ساتھ ایک او رمسلمان کو روانہ کیا۔اس نے اس مسلمان کو قتل کردیا اور پھرقریش کہ کے ساتھ مل گیا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو کہا کرتا تھا اور اس کی دو لونڈیاں یہ ہجو گایاکرتی تھیں۔ فتح مکہ کے روز یہ بیت اللہ کے پردوں میں چھپا ہوا پایا گیا چنانچہ اس کو سعید بن حریث مخزومی او رابوبرزہ اسلمی نے قتل کردیا۔16

نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط جنگ بدر کے قیدیوں میں شامل تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے رحم کھاکر تمام قیدیوں کو فدیہ وغیرہ لے کر رہا کردیا، مگر آپؐ کی بے پایاں رحمت کے باوجود آپؐ نے ان دونوں کو قتل کروا دیا۔ یہ دونوں آپؐ کے ساتھ بدزبانی کرکے آپؐ کو ایذا پہنچایا کرتے تھے۔ 17

فتح مکہ کے بعد آپؐ نے ان تمام شعراء کے قتل کا حکم صادر فرما دیا جو آپؐ کی ہجو کہا کرتے تھے۔چنانچہ معلقات کے مشہور شاعر زہیر بن ابی سلمیٰ کا بیٹا کعب بن زہیر بھی انہی شعراء میں شامل تھا۔ کعب کا بھائی بجیر اس وقت مسلمان ہوچکا تھا۔ اس نے اپنےبھائی کورسول اللہ ﷺ کے اس حکم سے آگاہ کیا۔اس پرکعب نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر معافی مانگ لی۔ چنانچہ اپؐ نے اسے معاف فرما دیا۔ 18

علامہ ابن تیمیہ، ابواسحاق فزاریؓک ےحوالے سے لکھتے ہین کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا، اس لشکر میں عبداللہ بن رواحہ اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوئے تو ایک کافر نے اپنے لشکر سےباہر آکر حضورؐ کی شان میں بدزبانی شروع کردی۔ مسلمان لشکر میں سے ایک شخص نےباہر نکل کر کہا:
''دیکھو میں فلاں ابن فلاں ہوں او رمیری ماں فلاں ہے، تم مجھے گالی دے لو۔مگر رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کرنے سے باز اجاؤ''

اس پر وہ کافر او ر زیادہ بدزبانی کرنے لگا۔ اس مسلمان نے اسے پھر سمجھایا، وہ پھر بھی باز نہ آیا۔ آخر اس مسلمان نے اس پر حملہ کردیا او رکفار کےلشکرمیں گھس کر اسے زخمی کردیا۔ کفار نے اسے گھیر لیا اور اسے بھی شہید کردیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپؐ نے فرمایا:
''کیا تمہیں اس شخص پر تعجب ہے جس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی مدد کی؟'' 19

ابورافع بن ابی الحیق یہودی، رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کیا کرتا اور آپؐ کے خلاف بدزبانی کرنے والوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ آپؐ نے انصار کے چند آدمی بھیجے ، جن کے سربراہ عبداللہ بن عتیکؓ تھے۔ عبداللہ بن عتیکؓ نے رات کے وقت ابن ابی الحقیق کے قلعے میں داخل ہوکر اس کو قتل کردیا۔20

کعب بن اشرف مشہور یہودی قبیلہ بن نضیر سے تعلق رکھتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا۔ اس نے قریش کے مقتولوں کا مرثیہ کہا تھا۔وہ اپنی بدزبانی سے رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچایا کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''کعب بن اشرف کوکون قتل کرے گا اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا پہنچائی ہے؟''

محمد بن مسلمہ انصاریؓ نے یہ کام اپنے ذمے لے لیا اور رات کے وقت اپنے ساتھیوں کی معیت میں دھوکے کے ساتھ اس کو قتل کردیا۔'' 21

اجماع صحابہؓ :
صحابہ کرامؓ نے اپنے بہت سے فیصلوں اور فتاویٰ میں رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔تمام دنیائے اسلام میں یہ فیصلے مشہور اور شائع ہوئے مگر کسی صحابی یا تابعی یا کسی اہل علم نے ان پر نکیر نہیں کی۔ لہٰذا بہت سے فقہاء کے اصولوں کے مطابق یہ اجماع سکوتی ٹھہرا اور حقیقت یہ ہے کہ بقول ابن تیمیہ فروعی مسائل میں اس سے زیادہ قابل حجت اجماع سکوتی آپ کو کسی اور مسئلہ میں نظر نہیں آئے گا۔

علامہ ابن تیمیہ  سیف بن عمر کے حوالے سے لکھتے ہیں:
''حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں مہاجر بن ابی امیہ، یمامہ او راس کےنواحی علاقون کے والی تھے۔ دو گانے والی لونڈیوں کا معاملہ ان کی خدمت میں پیش کیاگیا۔ ایک نے رسول اللہ ﷺ (فداہ اُمی و ابی) کی ہجو اور دوسری نے تمام مسلمانوں کی ہجو گائی تھی۔ مہاجربن ابی امیہ نے ان دونوں کے ہاتھ کٹوا دیئے او رسامنے والے دانت نکلوا دیئے۔حضرت ابوبکرؓ نے ان کو لکھا:
''اس عورت کے بارے میں مجھے تمہاری کارروائی پہنچی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کی ہے، اگریہ کارروائی نہ کرچکے ہوتے تو میں تمہیں اس کو قتل کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ حرمت انبیاؑء کی ہتک کی حد عام حدود کی مانند نہیں ہے۔ جو کوئی مسلمان ہوتے ہوئے اس کا ارتکاب کرتا ہے، وہ مرتد ہے اور اگر وہ ذمی اور معاہد ہے تو عہد ٹوٹ جاتا ہے۔''

دوسری عورت کے بارے میں حضرت ابوبکرؓ نے لکھا: ''مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور اس کے سامنے کے دو دانت نکلوا دیئے ہیں جس نے مسلمانوں کی ہجو گائی تھی۔اگر یہ لونڈی مسلمان ہے تو اس کو تادیب دینے پر اکتفاء کی جاتی او رمثلہ کرنےسے بچا جاتا اور اگر وہ ذمیہ ہے تو شرک اس سے بڑا جرم ہے جسے تو نے معاف کیا ہوا ہے۔'' 22

حضرت عمر فاروقؓ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ، جس نے رسول اللہ ﷺ کوگالی دی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس کو قتل کروا دیا۔ پھر فرمایا:
''جو کوئی اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دے، اسے قتل کردو۔'' 23

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ان کو بتایا گیاکہ ایک راہب رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے، انہوں نے فرمایا:
''اگر میں نے اس کو گالی دیتے سن لیا تو میں اسے قتل کردوں گا۔ ہم نے ان کی حفاظت کا ذمہ اس لیے تو نہیں لیا کہ وہ ہمارے نبی ﷺ کو گالی دیتے پھریں۔'' 24

حضرت امیر معاویہ کےپاس کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا ذکر کیا گیا ۔ واقدی کی روایت کے مطابق یہ ذکر مروان بن حکم کے پاس کیا گیا تھا۔ محمد بن مسلمہ انصاریؓ (کعب بن اشرف یہودی کے قاتل) جو اب بوڑھے ہوچکےتھے، اس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ابن یامین نضری (یہودی قبیلہ بن نضیر سے نسبت ہے)بولا ''کعب بن اشرف کا قتل بدعہدی تھا'' محمد بن مسلمہؓ نے کہا ''اے مروان، کیا تمہارے سامنے رسول اللہ ﷺ کو بدعہد کہا جارہاہے؟'' بخدا ہم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے قتل کیا تھا۔ میں اور تم مسجد کے سوا کبھی کسی چھت کے نیچے اکٹھے نہیں ہوں گے او راے ابن یامین! سن لے میرا یہ عہد ہے کہ مجھے جب بھی تجھ پر قدرت حاصل ہوئی تو میں تجھے قتل کرکے چھوڑوں گا۔'' 25

غرفہ بن الحارث کندیؓ کے سامنے ایک نصرانی نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کی، انہوں نے اس کو مارا اور اس کی ناک توڑ دی۔ معاملہ حضر ت عمرو بن العاصؓ کے پاس لے جایا گیا۔ انہوں نے غرفہ سے کہا ''ہم نے ان کو عہد دیا ہوا ہے۔''

حضرت غرفہؓ نے جواب دیا: ''معاذ اللہ! ہم ان کو اس بات پر امان کا عہد دیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں زبان طعن دراز کرتے رہیں۔''
حضرت عمرو بن العاصؓ نے فرمایا: ''آپ ٹھیک کہتے ہیں'' 26

خلید روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو گالی دی۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے لکھ بھیجا کہ ''اس شخص کے سوا کسی کو قتل نہ کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے، البتہ جس شخص نے مجھے گالی دی ہے اس کے سر پر کورے لگائے جائیں او ریہ بھی میں محض اس لیے کررہا ہوں کہ اس میں اس کی بھلائی ہے۔''27 (جاری ہے)

حوالہ جات
1. صحیح البخاری ج1 ص58
2. المحلّٰی۔ ابن حزم ظاہری ج11ص11؍413
3. مصنف عبدالرزاق ص5؍307، الشفاء ص2؍195
4. مصنف عبدالرزاق ص5؍307، الشفاء :6؍195
5. سنن ابی داؤد مع العون ص4؍226، السنن الکبریٰ بیہقی ص9؍200، الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول۔ ابن تیمیہ ص61
6. سنن ابی داؤد ص4؍226، سنن النسائی ص7؍107، سنن الدارقطنی ص112، الصارم المسلول ص67
7. الشفاء جلد2 ص194، الصارم المسلول ص93
8. السیرة النبویة ابن ہشام صفحہ 2؍635
9. السیرة النبویة ص 2؍636، الصارم المسلول ص95
10. جوامع السیرة ۔ ابن حزم صفحہ 232 طبع پاکستان
11. السیرة النبویة ج2 ص409، جوامع السیرة ص232، الصارم المسلول ص109
12. السیرة النبویة ص2؍410
13. صحیح البخاری مصری ص2؍116
14. السیرة النبویہ جلد2 ص411، جوامع السیرة ص233
15. ایضاً
16. السیرة النبویہ جلد2 ص410، جوامع السیرة صفحہ 232، الصارم المسلول صفحہ 128
17. جوامع السیرة صفحہ 147،148، الشفاء صفحہ2؍195، الصارم المسلول صفحہ 128
18. الصارم المسلول صفحہ 145، تاریخ ادب عربی۔ احمد حسن زیات (اردو ترجمہ) صفحہ 255
19. الصارم المسلول صفحہ 149
20. صحیح البخاری ص3؍13
21. صحیح البخاری ص3؍12۔13، الفا ء ص2؍194، الصارم المسلول ص70
22. الصارم المسلول صفحہ 200
23. الصارم المسلول صفحہ 201
24. الصارم المسلول صفحہ 203
25. الصارم المسلول صفحہ 90
26. السنن الکبریٰ بیہقی: ص9؍200، الصارم المسلول صفحہ 204۔205
27. المحلّٰی صفحہ 11؍410، الصارم المسلول صفحہ 205

i. سلب سےمراد جہاد میں مقابلے پر آنے والے مقتول کافر کا وہ سازوسامان اور اسلحہ وغیرہ ہے جو مقابلے کے وقت اس کےپاس موجود ہوتا ہے۔