تحریک پاکستان سے ہی شریعت کی عملداری کا نعرہ گو بڑامقبول رہا ہے، لیکن 5 جولائی 1977ء کو برسراقتدار آنے والی حکومت نے یہ نعرہ اس زور و شور سےلگایا کہ عوام کویہ توقع ہونے لگی کہ ''تحریک نظام مصطفیٰؐ'' میں دی جانے والی قربانیوں کا ثمرہ انہیں عنقریب اور اسی دور حکومت میں ملے والا ہے۔ لیکن افسوس کہ اسلام کی عملداری کا خواب پھر بھی تشنہ تکمیل ہی رہا، اور آٹھ سال تک مسلسل ''اسلام، اسلام '' کی رٹ لگائے جانے کے بعد بالآخر 30 دسمبر 1985ء کو جمہوریت کا تحفہ عوام کی خدمت میں کچھ اس خلوص سے پیش کردیا گیا کہ اسا'م کے وعدے بھی ایک بھولی بسری داستان ہوکر رہ گئے، اور سیاسی جوڑ توڑ، غیر ذمہ دارانہ سیاسی بیانات، گپ بازی اور ''جتنے منہ اتنی باتیں '' ہی ملک کا اہم مسئلہ قرار پایا۔ چنانچہ یہ ملک و قوم کی خوش بختی ہوگی، اگر آئندہ انتخابات تک یہ فیصلہ ہوجائے کہ مسلم لیگ اصلی کون سی ہے اور نقلی کونسی؟۔ اور یہ بھی اسی دور جمہوریت کا لازمہ ہے کہ ایک طرف حکومت نے اپنے گزشتہ ساڑھے آٹھ سالہ دور میں نفاذ شریعت کی کوششوں کے جائزہ پر وائٹ پیپر شائع کرنے کا اعلان کیاہے، تو دوسری طرف ایم۔آڑ۔ ڈی اسی مسئلہ پربلیک پیپر شائع کرنے کی تیاریاں کررہی ہے۔

شریعت کی عملداری کے سلسلہ میں گزشتہ آٹھ، ساڑھے آٹھ سالہ مساعی پر ہمارا بے لاگ تبصرہ یہ ہے کہ شریعت کتاب و سنت سے عبارت ہے، اور اس کی عملداری کے لیے وہ لوگ کلیدی حیثیت رکھت ہیں، جو کتاب و سنت اور اس کے متعلق علوم پر اپنی زندگیاں صرف کرچکے ہیں۔ماضی قریب میں نفاذ شریعت کانعرہ بلا شبہ گزشتہ تمام حکومتوں کے نعروں کی نسبت زیادہ زور دار تھا، لیکن انداز بیان بھی وہی اختیار کیاگیا جو سابقہ تمام حکومتوں کا طرہ امتیاز رہا ہے، یعنی علماء کو اس سلسلہ میں نہ صرف کلیدی حیثیت نہ دی جائے، بلکہ جملہ خرابیوں کا ذمہ دار بی علماء ہی کو سمجھا جائے۔ ہاں البتہ جب میں اور اب میں فرق یہ تھا کہ علماء کو مطمئن کرنےکی خاطر، انہیں بے اثر مجلسوں اور اداروں میں بے حیثیت نماوندگی ضرور دی گئی، دعوتوں اور دعوت ناموں کی ہنگامہ آرائی بھی رہی اور علماء کے ٹی۔اے، ڈی۔ اے کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا۔ لیکن یہ ہاتھ کے دانت تھے جو دکھانے کے اور، کھانے کے اور تھے۔نام دین کا لیا گیا، بنیاد وہی لادینیت تھی۔ اسلام اور علماء اسلام کے نام کادھنڈور ضرور پیٹا گیا، لیکن نہ تو اس سے اسلام کا کچھ بھلا ہوا اور نہ ہی علمائے اسلام سے صحیح راہنمائی کی توفیق حکومت کو میسر ہوسکی۔جبکہ عملاً اس سلسلہ میں تمام تر انحصار ایسے لوگوں پر کیا گیا جو کتاب و سنت کی ابجد سے بھی واقف نہ تھے۔ کیا یہ بات سوچنے کی نہیں کہ قرآن مجید اور کتب حدیث سب کی سب عربی زبان میں ہیں، اور جو لوگ عربی زبان ہی سے ناواقف ہیں، وہ کتاب و سنت کو کیونکر سمجھیں گے اور السام کا وہ کیا بھلا سوچ سکیں گے؟ فرقہ بندی بلاشبہ ایک بڑی لعنت ہے اور ملک عزیز میں اسلام کی عملداری کے سلسلہ میں اس کے منفی اثرات سے صرف نظر کرنا مشکل ہے۔ لیکن تفصیلات سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے، تو اس ملک میں دو ہی طبقے ہیں۔ایک وہ جو نفاذ شریعت چاہتا ہے، اور دوسرا وہ نفاذ شریعت نہیں چاہتا۔ عوم شریعت کے امین تو علماء ہیں، جو جیسے کچھ بھی ہیں، اپنے اختلافات کے باوجود اس بات پر بہرحال متفق ہیں کہ یہاں اسلام ضرور آنا چاہیے اور اس کا ثبوت مختلف مکاتب فکر کے 31 علماء کے 22 نکات بھی ہیں، جن پر وہ سب کے سب متفق ہیں لیکن ستم تو یہی ہے کہ نفاذ شریعت کے لیے علمائے شریعت ہی کو کلیدی حیثیت نہیں دی جاتی، بلہ ان سے ہٹ کر یہ کام ان لوگوں کے سپرد ہوتا ہے، نہیں نفاذ شریعت سے کچھ دلچسپی ہے اور نہ علوم شریعت سے کچھ غرض۔ حتیٰ کہ علماء کو وہ برداشت کر ہی نہیں سکتے۔ چنانچہ صدر صاحب نے جب شریعت کورٹ بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس میں علماء کو رکھنا چاہا ، تو جج صاحبان نے اس بات سے انکار کردیا کہ ہم لوگ جو اتنی مدت تک قانون پڑھتے رہے ہیں، اپنے مقابل کسی مولوی کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔جس کاواضح مطلب یہ ہے کہ اسلام کی راہ میں اصل رکاوٹ علماء نہیں بلکہ اس راہ میں بُری طرح حائل وہ لوگ ہیں جو ایک تو خود علم دین سے بے بہرہ ہیں، دوسرے علمائے دین کی راہنمائی انہیں گوارا نہیں اور نفاذ شریعت کے سلسلہ میں چونکہ تمام تر انحصار ایسے ہی لوگوں پر رہا، یہی وجہ ہے کہ اس کی حیثیت نعروں اور بلندبانگ دعوؤں کی حد تک قابل اطمینان ہو تو ہو، عملاً اس کے نتائج صفر ہی رہے۔

اب ہم فرداً فرداً چند ایسے اقدامات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جو اسلام کی علمبردار حکومت نے وقتاً فوقتاً نفاذ شریت کے سلسلہ میں کئے۔ سب سے پہلے قانون کو لیجئے، جو کسی بھی نظام کے پنپنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یکم جنوری1978ء کو اعلان ہوا کہ اس ملک میں کتاب و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں رہے گا، لیکن ''اسلام پسندوں'' کی نظر میں اس اعلان پر عملددآمد جبھی ممکن تھا، جب آئین میں ترمیم کی جاتی۔ کیونکہ موجودہ آئین کے آرٹیکل نمبر اے ؍227 میں جہاں یہ بات درج ہے کہ:
''اس ملک میں تمام قوانین کو احکام اسلام، قرآن و سنت میں مندرجہ احکام کے مطابق کردیا جائے گا اور کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائے گا جو ان احکام کےمنافی ہو۔''

وہیں ایک شق یہ بھی موجود ہے کہ مندرجہ بالا الفاظ کا کوئی اثر نہ ہوگا، سوائے ایک خاص طریقہ کے اور وہ خاص طریقہ یہ ہےکہ سات سال میں نظرثانی کونسل ایک رپورٹ پیش کرے گی اور اس رپورٹ پر پارلیمنٹ جو چاہے گی قانون بنائے گی (یعنی نہ رپورٹ کی پابندی رہی اور نہ کتاب و سنت کی) اب ظاہر ہے اس اعلان پرعملدرآمد کے لیے آئین میں ترمیم ناگزیرتھی۔ چنانچہ محکمہ قانون نے ایک ترمیم تیار کی اور نظریاتی کونسل نےبھی ایک ترمیم تیارکرلی اور اگریہ ترمیم نافذ ہوجاتی تو ممکن تھاکہ اس ملک کے قانون میں اسلام کی مؤثر حیثیت ہوتی۔لیکن اس ترمیم کے نفاذ سے پیشتر ہی صدر صاحب نے مشیر مقرر کردیئے اور صدر صاحب کو مشورہ یہ ملا کہ اعلان ہی غلط کردیا گیا ہے، لہٰذا اس کو بھول جانا چاہیے۔ چنانچہ اس کو یکسر فراموش کردیا گیا۔

اسی سلسلہ کا دورا اور خوشگوار پہلو شریعت کورٹ آرڈیننس تھا۔لیکن عملی میدان میں اس کا بھی حشر یوں ہواکہ دستور کو اس کے دائرہ کار سےمستثنیٰ کردیا گیا، ضابطہ قانون بھی اس سے خارج قرار پایا۔ عائلی قوانین بھی مستثنیٰ ہوئےاور مالیاتی قوانین بھی اس میں بار نہ پاسکے۔پھر شرعی عدالت کےمعزز ارکان وہ لوگ تھے کہ علوم قرآن اور علوم حدیث میں ان کی بصیرت تو کجا وہ کتاب و سنت سے، متعلقہ مباحث کو سمجھنے سے بھی قاصر تھے۔ اندریں صورت ان سے توقع یہ کی جاتی رہی کہ ان کا بنایا ہوا کوئی قانون بھی کتاب و سنت کے منافی نہ ہوگا، جبکہ بنیادی دستور اور اہم قوانین ان کے دائرہ کار سے ویسے ہی خارج قرار دیئے جاچکے تھے۔

یہی حال اسلامی نظریاتی کونسل کا ہوا۔ اس کی تشکیل نو بلا شبہ ہوئی ، لیکن عملاً اس کی بھی کوئی حیثیت نہ تھی کہ اس کا کام صرف مشورہ دینا تھا، کوئی چاہے تو مشورہ لے، چاہے تو نہ لے۔ یہ صرف سفارشیں ہی کرسکتی تھی، چنانچہ اوّلاً تو سفارشیں دھری کی دھری رہ گئیں، اور اگر ان سفارشات پر قانون سازی ہوئی بھی تو ان کی شکل ہی بگڑ کر رہ گئی۔

نظام تعلیم کو لیجئے، تو یہ آج تک وہی لارڈ میکالے کانظام تعلیم ہے۔جو کلرک تو پیدا کرسکتا ہے ، لیکن اس تعلیم کی بدولت ایک طالب علم کو اپنے مقصود حیات کے مطابق تربیت اور ترقی بھی حاصل ہوجائے، ظاہر ہے اس سے اس کو کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ اسلام کی علمبردار حکومت نے ایک بڑا کرم یہ کیا کہ دینی مدارس کی سند کو تسلیم کرنےکا اعلان کیا۔ جو یقیناً ایک اچھا اقدام تھا، لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ جو ادارے اس سند کی بنیاد پر اس کے حاملین کو سرکاری ملازمت میں لے سکتے تھے، یعنی پبلک سروس کمیشن(Public Service Commission)وغیرہ، وہ آج تک اس سند کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ چنانچہ ان سند یافتگان کو سرکاری ملازمت مل ہی نہیں سکتی اور یوں اس اعلان کی حیثیت ایک کاغذی کارروائی ہی کی رہی۔

اس اعلان کے مطابق ، یونیورسٹیوں تک اسلامی تعلیم کے فارغ التحصیل حضرات کی رسائی کے دو ہی راستے تھے۔ اعلیٰ ریسرچ، اور یا بحیثیت اساتد تقرری، لیکن کسی یونیورسٹی کی اکیڈیمک کونسل نے ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی۔نتیجہ یہ کہ نہ تو اعلیٰ تحقیق کےلیے رجسٹریشن ہوسکی اور نہ ہی علماء کا عصری یونیورسٹیوں میں بحثییت اساتد تقرر عمل میں آیا ہے۔

نظام تعلیم کے سلسلہ میں اس حکومت کا دوسرا بڑا کارنامہ اسلام آباد یونیورسٹی کا قیام ہے، لیکن اس کے بارے میں ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ اسلام کی کیا خدمت کرسکتی ہے؟ ایک بات بہرحال طے ہے کہ جب تک علماء کی ایک معقول تعداد کو انتطامیہ اور مدرسین کی صفوں میں جگہ نہیں ملتی، ایسی کسی بھی یونیورسٹی کے قیام سے خاطر خواہ نتائج کا حاصل ہونا امر محال ہےکیونکہ علم دین اور عربی زبان سے واقف یہی علماء ہیں ورنہ اس سے قبل مرحوم صدر ایوب کے دور میں بھی بہاولپور میں ایک اسلامی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا تھا، جوآج صرف نام کی یونیورسٹی ہے اور اسلام کا کوئی بھی کام آج تک اس میں نہیں ہوسکا۔

اب آئیے ذرائع ابلاغ کا طرف، سو ان کا حال بھی ''آغاز بسم اللہ، انجام خدا جانے'' سے عبارت رہاہے۔ ریڈیو سے اذان بلا شبہ سنائی دیتی رہی، ''نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم '' کے غلغلے بھی بلند ہوتے رہے، لیکن ان ذرائع ابلاغ کا فساد آج بھی پہلے کی طرح موجود ہے۔ اسلامی پروگرام اولاً تو بہت کم ہوتے ہیں، ثانیاً ان پروگرامون پر بھی عموماً وہ لوگ حاوی ہیں جو ''پڑھے نہ لکھے، نام محمد فاضل'' کا مصداق ہیں اور یا پھر وہ لوگ کہ جو اسلام کی حقیقی فکر کے داعی نہیں، بلکہ جن کا دین اسلام، من گھڑت اور خلاف اسلام رسومات سے عبارت ہے۔ پھر یہ بات بھی ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ صبح صبح تلاوت قرآن پاک، وقفے وقفے سے اذان کی صدائیں، لیکن درمیان میں اکثرو بیشتر فلمی گانے، فلمیں اور ڈرامے، شاید یہ ''ارکان صلاة'' ہیں یا صبحدم تلاوت کی جانے والا آیات کریمہ کا ''ترجمہ'' اور ان کی ''تفسیر و تعبیر''۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اخبارات میں بے حیا تصویروں کی بھرمار اور بے شرم خبروں کی اشاعت کہ ''فلاں ملک کی فلاں شہزادی یا ایکٹرس صاحبہ امید سے ہیں'' یہ سب اسی اسلامی حکومت کے دور میں ، ذرائع ابلاغ کا قبلہ درست کرنےکے ناقابل فراموش کارنامے ہیں اور اگر ان بیہودگی کے خلاف کوئی آواز کہیں سے بلند ہوئی، تو اخبارات ہی کے ذریعے ایسے ایسے ''دانشور'' معرض وجود میں آتے رہے، جو اسلام ہی کے نام پر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ۔ الحاد کودین اور دین کواستہزاء۔ بے حیائی اور بے غیرتی کو شرافت اورشرافت کو دقیانوسیت ثابت کرنے میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ مزید برآں قانون شہادت ، مسودہ قصاص و دیت، اور اسلامی نظام عفت و عصمت پر اخبارات ہی میں وہ وہ شگوفے چھوڑے جاتےرہے کہ کتاب و سنت پر آج تک یہ ستم کبھی نہ ڈھایا گیا ہوگا اور یہ بھی اسی اسلامی حکومت کی اسلامی خدمات ہیں کہ اس نے آج تک کسی سے یہ نہ پوچھا کہ تمہارے منہ میں کےَ دانت ہیں؟

عدلیہ کو لیجئے، اعلان ہوا کہ قاضی کورٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا، لیکن اب اس اعلان کی صدائے باز گشت بھی سنائی نہیں دیتی۔ نفاذ حدود کا وعدہ ہوا، لیکن ''وہ وعدہ کیا جو وفا ہوگیا؟'' چنانچہ تھوڑی بہت پیش رفت جو اس سلسلہ میں ہوئی ، وہ وحی کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے وضعی قانون کے بنیادی تصور، یعنی شریعت کےحقیقی اور مکمل نفاذ کے بجائے، اس کےبتدریج(By Parts)نفاذ پر مبنی تھی۔حدود آرڈیننس کے سلسلہ میں علماء کو تو درخور اعتناء ہی نہ جانا گیا، اور جن لوگوں کے سپرد یہ کام تھا، وہ اوّلاً کتاب و سنت کی تعلیمات سے ناآشنا تھے۔ ثانیاً فرنگی قانون ضابطہ کی وجہ سے ان حدود کا نفاذ ایک بے معنی چیز تھی۔نتیجہ یہ نکلا کہ خالی نعرہ باقی رہ گیا۔چنانچہ آج تک ایک بھی شرعی حد کا نفاذ عمل میں نہیں آسکا، جبکہ جرائم اپنی انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں۔

نظام زکوٰة و عشر کے نفاذ کا خوشگوار پہلو یہ ہے کہ زکوٰة وصول بھی ہو رہی ہے اور تقسیم بھی ہورہی ہے، لیکن دو انتہائی غلط باتوں پر اس کی بنیاد رکھ دی گئی ہے:
1۔ فرقہ واریت، کہ شیعہ حضرات اس سے مستثنیٰ ہوگئے، جس کا دردناک پہلو یہ ہے کہ بیشمار لوگ زکوٰة و عشر کی ادائیگی سے بچنے کے لیے شیعہ نہ ہونےکے باوجود اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کررہے ہیں، جس سے دین اسلام پر دوہری زد پڑتی ہے۔
2۔ نظام زکوٰة کا تمام تر انحصار بینکوں میں موجود دولت پر ہے، جو سُودی کاروبار کرتے ہیں۔ یوں خبیث اور طیب کو باہم خلط ملط کرکے رکھ دیا گیاہے۔اس سے زکوٰة جیسا پاکیزہ امر سود کا ایک حصہ بن کر رہ گیا ہے۔ کیونکہ عموماً زکوٰة سو د ہی سے کاٹی جاتی ہے۔
نظام صلاة نافذ ضرور ہوا، مگر مساجد بدستور بے رونق ہیں اور شاید ہی کوئی بے نماز اس نظام کی بدولت نمازی بنا ہو۔ اب تو ناظمین صلوٰة بھی غائب ہوگئے ہیں، اس کے باوجود نشری تقریرو ں کی حد تک اسلامی حکومت کی اسلامی خدمات میں نظام صلوٰة اور نظام زکوٰة و عشر کارہائے نمایاں کی حیثیت رکھتے ہیں۔

معاشی نظام کو لیجئے، اعلان ہوا کہ بینکنگ سسٹم کو اسلامی معاشی نظام میں بدل دیا جائے گا۔ مختلف اصطلاحات وضع ہوئی مگر جب بھی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہواکہ سبھی سُود کو چھپانے کی ناکام کوششیں ہوئیں اور اصل خرابی جوں کی توں موجود ہے۔ یہ موضوع چونکہ تفصیل کا متقاضی ہے، لہٰذا اس پر مفصل گفتگو تو کسی آئندہ اشاعت میں ہوگی (ان شاء اللہ) فی الحال صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ عملاً پورے معاشی نظام میں بیع اور شراکت کا تصور جو منافع کے پیشگی عدم تعین اور تناسب پر مبنی ہے، مفقود ہے۔

سماجی نظام میں اسلامی حکومت کی خدمات یہ ہیں کہ رشوت کی گرم بازاری کا اعتراف تو خود حکومت کو بھی ہے،علاوہ ازیں ملاوٹ، کاروبار میں دھوکا، بدعنوان، چور بازاری، بے حیائی ، عریانی، غنڈہ گردی اور اس کے نتیجے میں تمام سماجی جرائم بدستور یوں موجود ہیں کہ ''یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخا نہ کہتے ہیں'' لاقانونیت کےاعتبار سے اگر یہ کہا جائے کہ گزشتہ آٹھ سالہ دور اس سلسلہ کے ''زریں دور'' کی حیثیت رکھتا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

الغرض، نفاذ اسلام کی ہنگامہ آرائی نعروں اور اعلانات و بیانات کی حد تک خوب خوب رہی، لیکن عملاً یہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا اور جو تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی بھی، وہ درحقیقت تو، لادینی بنیادوں پر مبنی تھی ، جبکہ بظاہر ، غلط رسومات کے تصور پر۔ یعنی ع


رہ گئی رسم اذان روح بلالی نہ رہی


بظاہر نعرہ یہ لگا کہ ہم فرقہ بندی سے بچنا چاہتے ہیں اور علماء کو بھی اس لیے اہمیت نہ دی گئی کہ وہ فرقہ بندی کے قائل ہیں، لیکن عملاً جو اسلام قبول کیا وہ یا تو سیکولر اسلام تھا اور یا اس فرقے کا اسلام، جس کا اسلامی شریعت اور اس کی حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، ہاں مگر اس کا تمام تر تعلق بدعی رسومات سے ہے، چنانچہ نفاذ شریعت کی مساعی اور ان کے ماحصل پر مختصراً یوں کہا جاسکتا ہے۔ ؎


بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تواک قطرہ خوں نہ نکلا

ہاں مگر اس ساری صورت حال کا ایک خوشگوار پہلو یہ تھا کہ اس دور حکومت میں اسلام پسندوں کو خطرات لاحق نہ ہوئے۔

نفاذ شریعت کا اصل کام وحی الٰہی کو واحد اور مکمل دستور تسلیم کرنے سے شروع ہوتا ہے جبکہ وحی صرف اور صرف کتاب و سنت ہیں۔ اس کے علاوہ مروجہ قوانین میں جو باتیں کتاب و سنت کے منافی نہیں، ان کی حیثیت قواعد وضوابط(Rules and Regulations) کی ہوسکتی ہے۔ کتاب و سنت کو دستور تسلیم کرتے ہوئے، اس کو جملہ کوششوں کا محور اور راہنما بنا کر آگے بڑھنے سے نہ صرف فرقہ بندی کے فتنون سے بچا جاسکتا ہے، بلکہ حقیقی اسلام کی ضمانت بھی اس سے فراہم ہوتی ہے۔چنانچہ اس سلسلہ کی چند بنیادی تجاویز حسب ذیل ہیں، جبکہ مزید گفتگو ان شاء اللہ پھر ہوگی:

(1)  قرآن مجید کے واحد دستور ہونے کا اعلان کیا جائے اور سنت رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید کی واحد اور متعین تعبیر سمجھا جائے۔
(2) کتاب و سنت کا علم چونکہ علماء کو حاصل ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومتی مشینری کی کلیدی آسامیوں پر علماء کا تقرر کیا جائے، تاہم اس پابندی کے ساتھ کہ:
(الف) علماء کی یہ تقرری کتاب و سنت کی اطاعت سے مشروط ہو۔
(ب) فرقہ بندی سے اجتناب کے وہ قانونی طور پر پابند ہوں۔
(3) ملک کے جملہ اہم شعبوں (انتظامیہ، عدلیہ وغیرہ) سے ان تمام فرقوں کے پیروکاروں کو ہٹا دیا جائے جو شریعت کے قائل نہیں یا شریعت کو فقہ پر اہمیت نہیں دیتے۔ مثلاً باطنی فرقے، اسماعیلی، فاطمی ، قادیانی، پرویزی اور وہ، جو یا تو شریعت کو امام غیب کے پاس سمجھتے ہیں یا اپنی فقہ کو شریعت سے بالادستی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
(4) دفاع میں ان لوگوں کو کسی بھی کلیدی پوسٹ پر نہ رکھا جائے جو اسلام میں جہاد کے منسوک ہونے کے قائل ہیں یا اسلام میں جہاد کا مقصد کسی مخصوص نسل کی برتری سمجھتے ہیں۔
(5) نظام تعلیم میں میکالے کا نظام یکسر ختم ہو۔ کیونکہ یہ غیر ملکی آقائی کو باقی رکھنے کے لیے ہے۔ اس کی بجائے روایتی نظام میں کتاب و سنت کو محور بنا کر جملہ تہذیبی اور سائنسی مضامین کو کتاب و سنت کے خادم علوم کی حیثیت دی جائے۔
(6) ذرائع ابلاغ صرف اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف ہوں اور لا دین سیاست، غلط رسومات اور فرقہ واریت کی ترجمانی سے پاک ہوجائیں۔

یہ وہ اقدامات ہیں جن سے نفاذ شریعت کی کارکردگی شمار ہوسکتی ہے، ورنہ سب کچھ بے بنیاد اور لاحاصل ہوگا۔ وما علینا إلاالبلٰغ۔