؎ تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے سینہ را
گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را


تاریخ اسلام میں بہت سی ایسی شخصتیں گزری ہیں، جنہوں نے ہر حال میں کلمہ حق بلندکیا۔ خواہ انہیں اس کی پاداش میں عقوبت و سزا کے کتنے ہی مرحلوں سے گزرنا پڑا ہے۔ حضرت امام مالک کے بازو، خلیفہ منصور نے اس وجہ سے کھاڑ دیے کہ آپ فرماتے تھے کہ طلاق مکرہ کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس نے آپ کو اونٹ پر بٹھا کر بازاروں میں بے عزت کرنےکی کوشش کی ، لیکن آپ خود ہی لوگوں کو دیکھ کر فرماتے تھے:
''من عرفني فقد عرفني ومن لم یعرفني فأنا مالك بن أنس أقول لیس طلاق المکرہ بشيء''
''جو مجھے جانتا ہے، سو جانتا ہے اور جو مجھے نہیں جانتا (تو جان لے) کہ میں مالک ابن انس ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ طلاق اکراہ کی کوئی حیثیت نہیں۔''

اس طرح امام احمد بن حنبل کومجبور کیاگیا کہ آپ قرآن کومخلوق کہہ دیں۔ لیکن آپ فرمایا کرتے تھے:
''القرآن کلام اللہ غیر مخلوق''
''قرآن مجید خدا تعالیٰ کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے۔''

جب اس پر آپ سے اصرار کیا گیا تو فرمایا:
''أعطوني شیئا من کتاب اللہ أو من سنة رسول اللہ'' 1
یعنی ''کوئی دلیل کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ (ﷺ) سے لاؤ۔''

معتصم باللہ نے اس پر آپ کو سخت سزائیں دیں، جسم زخموں سے چور ہوگیا۔لیکن آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔

اسی طرح حضرت مجدد الف ثانی کی شخصیت ہے، جنہیں توحید کے پرچار اور غیر اللہ سےبیزاری کے سبب گوالیار کے قلعے میں تقریباً دو سال تک نظر بند رکھا گیا۔ شاہ ولی اللہ اور ان کے راست نگار قلم کو روکنے کے لیے نجف خاں کوتوال دہلی نے ان کے ہاتھ اور انگلیوں کے جوڑ خراب کردیئے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز کو قید میں اس قدر تکالیف پہنچائی گئیں اور زہریلی دھونیاں دی گئیں کہ آپ کی بینائی جاتی رہی، جوڑوں میں مسلسل درد رہنے لگا اور جسم پر برص کے سے داغ پڑگئے۔ الغرض استقلال و استقامت کے یہ کوہ گراں ہر دور میں عزم و ہمت کی داستانیں رقم کرتے رہے ہیں تاکہ اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے ڈھارس کا سامان ہوں۔

یہاں ہم ایسے ہی بندہ خدا کا ذکر کرتے ہیں، جس نے اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے راہ حق میں تکالیف اور سختیاں اس شان سے برداشت کیں کہ کبھی پائے استقلال میں جنبش تک نہ آئی۔یہ شخصیت، استاذ العلماف حضرت مولانا عبدالقادر عارف حصاری ہیں۔ میں حضرت کا تذکرہ اس وجہ سے نہنن کررہا کہ وہ میرے نانا تھے۔ آج کل کی اسلاف فروشی کی روش کو دیکھتے ہوئے یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اس تذکرے کو اس قبیل سے شمار نہ کیا جائے۔ البتہ میری خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کا نواسہ ہونے کے ساتھ ساتھ مجھے ان کی خدمت میں رہ کر سفر و حضرت اور جلوت و خلوت میں ان سے علم حاصل کرنےکا موقع ملا۔ بلکہ ان کی شفقت و محبت میں رہ کر زندگی گزارنے اور آخرت سنوارنے کے انداز اور طریقوں کا پتہ بھی چلا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں اپنے نواسوں سےبہت محبت کرتے تھے۔

ولادت اور نسب نامہ:
حضرت کا پورا نام عبدالقادر بن محمد ادریس ہے۔ آپ کا دادا کا نام مولوی مستقیم تھا۔راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ تحصیل سرسہ ضلع حصار کے ایک بڑے گاؤں گنگا میں پیدا ہوئے۔ آپ کی قوم اًن پڑھ تھی اور لڑائی جھگڑا ان کا شیوہ تھا۔ لیکن آپ کے والد مولانا محمد ادریس عالم دیا تھے اور علاقے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کو تعلیم کے حصول لیے لکھوکے بھیج دیاگیا۔جہاں آپ نے حضرت مولانا محمد علی لکھوی سے تعلیم حاصل کی، کافی عرصہ استاذ کی خدمت میں رہے۔ ہمیشہ اپنے استاد کی خدمت اور ان سے ملنے والی تعلیم اور تربیت پر فخر کرتے تھے اور مسائل میں ان سے اختلاف کے باوجود ان کا نام بڑے احترام سے لیتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کچھ عرصہ منڈی صادق گنج ضلع بہاولنگر میں غزنوی خاندان کے ایک بزرگ سے تعلیم حاصل کی۔ یاد رہے کہ خاندان غزنویہ برصغیر کی علمی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بچپن ہی سے بہت محنت اور دلجمعی سے علم حاصل کیا۔ تحقیق کا ذوق و شوق فطرت نے ودیعت کیا تھا۔''ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات'' والی مثال آپ پر صادق آتی ہے۔

تزویج:
تعلیم حاصل کرنے کے بعد جلد ہی ان کی شادی کردی گئی۔ والد محترم اس سے قبل ہی وفات پاچکے تھے۔

خطابت و تدریس:
تعلیم سے فارغ ہوکر خدمت دین کے لیے اپنے ہی گاؤں میں تعلیم وتعلّم کا سلسلہ جاری کیا۔ گنگا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی تھی۔ مسلمانوں کی چار پانچ مساجد بھی تھیں۔نماز جمعہ ، علاقے کے لوگ آپ ہی کے پیچھے ادا کرتے تھے۔ آواز خاصی بلند تھی۔ بغیر لاؤڈ سپیکر کے دور ور تک سنی جاتی تھی۔ تقریر میں قرآن و حدیث کے حوالہ جات موتیوں کی طرح جڑے ہوتے تھے اور تاریخی واقعات تقریر کی زینت ہوتے، جبکہ برجستہ اور برمحل اشعار فصاحت و بلاغت کے ساتھ مل کر سونے پر سہاگہ کا کام دیتے۔ تقریر دعوت فکر وعمل دیتی اور ذہنوں کی خشک کھیتیوں کے لیے آبیاری کا کام کرتی تھی۔

تعلیم دین کو مسلمانوں کے لیے ضروری خیال کرتے تھے اور علم دین کے بغیر مسلمانیت کو گمراہی خیال کرتے تھے] اس وجہ سے جہاں بھی جاتے، حلقہ درس خود بخود قائم ہوجاتا، گنگا میں بھی کچھ رصہ پڑھایا، راقم الحروف کے والد مولانا عالم دین اور پروفیسر محمد حسین آزاد یہ سب لوگ اپ ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ آپ طلباء میں تحریر و تقریر کاشوق ابھارنے اور اس کی تکمیل کے لیے ہر جمعرات کوطلباء میں تقریری مقابلے کراتے اور اوّل، دوم آنے والے طلباء کو انعامات بھی دیتے۔ طلباء کو سمجھانے کا انداز بہت پیار اور دلچسپ تھا، مثلاً ایک شاگرد جس کا نام عبداللہ تھا اور شادی شدہ تھا۔ اکثر درس قرآن میں غلطیاں کرتا اور نسیان کا شاکی رہتا۔ اس کی تعلیمی کمزوری کی وجہ پوچھی تو اس نےشکایت کی کہ مجھے بول جانے کا مرض ہے، فرمایا بھول کر کبھی بیوی کو امی کہا ہے؟ کہنےلگا، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ فرمایا کیا خدا کا قرآن تمہاری نظر میں تمہاری بیوی کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتا؟ خدا کی شان، اس طرح سمجھانے سےاس کا یہ مرض جاتا رہا۔ فللہ الحمد۔

حضرت اشاعت علم دین میں بڑی دقیق نظر رکھتے تھے، اور بخوبی سمجھتے تھے کہ کس علاقہ میں خدمت دین کی ضرورت ہے۔ ایک دفعہ پروفیسر محمد حسین آزاد صاحب نے بہاولپور چھوڑنے کا ارادہ کیا اور حضرت سے اجاست طلب کی تو آپ نے موصوف کو ایک خط عربی میں لکھا اور فرمایا: ''لا تترك بها ولفورولو تلقٰی في النار''

متحدہ ہندوستان کے دور میں حضرت، طلباء اور عوام الناس کو ہندو محفلوں میں جانے سے روکتے تھے۔ آپ کواحساس تھا کہ ہندو مسلم ملا جلا معاشرہ، کچے اور اَن پڑھ مسلمان ذہنوں کے لیے سم قاتل ہے، ایک دفعہ چند طلباء دیوالی اور چراغاں دیکھنے ک لیے گئے۔ وہاں انہوں نے شرارتاً مٹی کے دیئے بھی توڑ ڈالے۔جب آپ کو پتہ چلا تو سزا کے طور پر ان سب کو بلا کر ان کے سر منڈا دیئے اور آئندہ کے لیے ایسانہ کرنے کا وعدہ لے کر معاف کردیا۔ آپ دوسروں کے مذہبی جذبات کابھی احترام کرتے تھے۔ اس موقعہ پر سزا یافتہ طلباء کونصیحت بھی کی۔ اس کے بعد ان طلباء نے پھر یہی حرکت کی تو ان کے ضامنوں کوبلاکر کان پکڑوا دیئے (ان لوگوں نے پہلی غلطی پران طلباء کی ضمانت دی تھی) کیونکہ اصول ہے :''الخراج بالضمان''

آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے، لوگ جوق درجوق حلقہ درس میں شامل ہوتے، اور شاگردی پر فخر کرتے۔ آپ دین کو مسلمانون کی زندگی میں جاری و ساری دیکھنا چاہتے تھے۔اس لیے دین کو عملی زندگی میں اپنانے کی تلقین کیا کرتے تھے، اس کے لیے نماز کی بہت زیادہ تلقین فرمایا کرتے تھےاور عام زندگی کے معمولات کے سلسلے میں جتنی دعائیں حضورؐ سےمنقول ہیں، وہ طلباء اور عوام کو سکھاتے اور ان کو پڑھنے کی ترعیب دیتے، نماز جمعہ میں شامل ہونے کی تلقین فرماتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ کاش میرے جنازے کے لیے چالیس نمازی اور پختہ مسلمان تیار ہوجائیں اور یہ وصیت بھی فرمائی کہ میرے جنازے کو صرف نمازی کندھا دیں۔ جوانی کے عالم میں اوربڑھاپے میں جو آدمی نماز کی جماعت میں شامل نہ ہوتے ان کو جرمانہ کردیتے۔

حق گوئی اور بےباکی:
آپ کی محافل پندو نصائج اور وعظ وتقریر کی مجالس حق گوئی اور بے باکی کی تصویر ہوا کرتی تھیں۔ خدمت دین اور اعلائے کلمة اللہ کے لیے کسی تنقید اور ملامت کی پرواہ نہ کرتے۔ آپ کی پوری زندگی حدیث نبویؐ 'قل الحق ولو کان مرا'' کی زندہ تصویر تھی، ایک دفعہ چک نمبر 27 فقیر والی میں آپ راقم الحروف کے ساتھ تھے۔وہاں کی مشہور دینی درس گاہ سے ایک دوست مجھے وہاں تقریر کے لیے لینے آیا، میں نے اجازت طلب کی تو فرمایا، اگر تقلید کے خلاف وہاں تقریر کرو تو تمہیں اجازت ہے، بیان حق کے لیے کبھی کوئی چیز آپ کے لیےمانع نہ ہوئی۔ ایک شخص حضرت کوکچھ گندم سالانہ بھیجا کرتا تھا، اس کے علاقہ میں تقریر کی۔اس تقریر کے بعض حصوں پر اس شخص نےناپسندیدگی کا اظہار کیا اور گندم بھیجنا بند کردی۔ احباب نےاس کی اطلاع دی تو فرمایا کہ کیا ہمارا رزق اس سے وابستہ تھا؟ ہمارا رزق آسمانوں سے آتا ہے اور رازق اس کا خود بندوبست فرماتا ہے۔ کبھی تقریر کو ذریعہ معاش نہ بنایا اور نہ تقریر کا معاوضہ طلب فرمایا ، اگر کسی نے دیا تو قبول کرکے طلباء پر خرچ کردیا۔

ہندوستان میں ایک دفعہ ایک گاؤں ''بامے بالے'' کے زمیندار کو اپنے گاؤں کےلیے عالم کی ضرورت پڑی، اس نےبہت سے علماء کو دیکھا، رکھا، پرکھا، لیکن آخر معذرت کی۔ وہ وہ کہتا تھا ایسا شخص رکھوں گا جو صاحب علم ہونے کے ساتھ ساتھ حق گوئی اور بیباکی کا نشان ہو۔ آکر حضرت کاپتہ چلا تو درخواست کی ۔ آپ نے اشاعت علم کی غرض سے قبول کیا۔گنگا میں ایک دفعہ جوان بچیوں کی شادی کے مسائل بیان کیے۔ آپ کے رشتے کے ایک چچا ، جن کی لڑکیاں جوان تھیں، اس پر سخت برہم ہوئے۔نماز جمعہ کے بعد وہ شخص لڑائی و فساد پر اتر آیا، یہاں تک کہ معاملہ عدالت میں پہنچا، آخر اس نے آپ سے معافی مانگی۔ آپ نے سنت نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے معاف کردیا۔

ایک دفعہ چند دیہاتی لوگ جو آرائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے، شادی سے متعلق بعض مسائل کی پوچھ گچھ کے لیے تشریف لائے، یہ لوگ شادیاں صر ف اپنی برادری میں کرتے تھے اور وہ اس کو عین اسلام جانتے تھے۔ آپ نے بتایا کہ برادری نوازی کوئی اسلام نہیں ہے۔اس لیے شادیاں مسلمان ہونے کے ناطے کیاکرو اور کسی برادری یا خاندان کی قید غلط ہے، ایک شخص نے اپنی بچی حضرت کے صاحبزادے کو دینے کا خیال ظاہر کیا تو اس شرط پر رضا مندی کا اظہار کیا کہ وہ تمام اخراجات اپنی جیب خاص سے ادا کریں گے۔وہ شخص مان گیا۔ اس رشتہ پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس شخص کا جہاد ہے کیونکہ اس نے غلط رسوم سے بغاوت کرتے ہوئے سنت نبوی پر عمل کیا ہے، لیکن گاؤں کے لوگ مخالف ہوگئے اور آپ کو وہ گاؤں چھوڑنا پڑا۔

گنگا کی مسجدوں میں نقارے رکھے ہوئے تھے، جو سب آپ نے پھاڑ دیئے، بے نماز کی نماز جنازہ نہ پڑھتے۔ اپنے حقیقی چچا یعقوب کا جنازہ اس وجہ سے نہ پڑھا کہ وہ بے نماز تھا۔ اسے ہمیشہ نماز کی تلقین فرماتے لیکن وہ ہرمرتبہ یہی کہتا کہ آخری وقت توبہ کروں گا۔ لیکن اسے آخر دم تک اس کی توفیق نہ ہوئی۔ چچا کی بیٹی (اور بھائی کی بیوی) بیمار ہوئی تو فرمایا کہ نماز پڑھا کرو، اس نے وضو سے بیماری میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا، آپ نے تیمم کا طریقہ بتایا اور اشارے سے نماز پڑھنا سکھائی ، وہ آخر دم تک نماز پڑھتی رہی تو اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔

ایک دفعہ ایک بے نماز عورت کا بچہ فوت ہوگیا، لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ نماز جنازہ پڑھائیں۔ آپ نے بچے کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ مخالفت تو ہوئی لیکن بعدازاں اس کی والدہ نماز بلا ناغہ پڑھنے لگی۔اس کے خاوند نے کہا، بچے کی نماز جنازہ کا حرج نہیں، عورت تو نمازی بن گئی۔ آپ کی کوشش ہوتی کہ نکاح ہمشہ توحید پرست کو دیا اور لیا جائے، چنانچہ علاقے کے ایک بااثر زمیندار سید محمد جوئیہ نےبرادری کے خلاف آپ کی بات مان کر اپنی بچی کا رشتہ اپنی برادری کے بجائے ایک اہل توحید کو دیا۔ آپ کے علاقے میں جوئیہ برادری کا ایک بے نماز شخص فوت ہوا جس کے پانچ بیٹے تھے۔ لیکن لوگوں کے اصرار کے باوجود اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔

آپ دینی معاملات میں اس قدر سخت ہونے کے باوجود انتہائی رحم دل تھے۔ مخلوق خدا حتیٰ کہ انسانوں کے علاوہ جانوروں پربھی رحم کی تلقین فرماتے، ایک دفعہ کسی رشتہ دار (چچا) نے ایک بلّی کو مار دیا۔ اسے اس پر سخت خط لکھا اور اس خط کے باہر لکھ دیا: ''ظالم کے دروازے پر جائے!'' گنگا کے ہندو نمبردار کی والدہ مرگئی ، اس نے اپنے رسم و رواج کے مطابق چالیس دن کے بعد دیسی گھی کی مٹھائی بنوائی اور گاؤں میں اعلان کردیا کہ گاؤں میں ہرخاندان کا ہر فر دبلا تمیز مٹھائی لے جائے۔ لیکن آپ نے برسرعام فتویٰ دیا کہ مسلمانوں کے لیے یہ مٹھائی حرام ہے، نتیجة کسی مسلمان نے مٹھائی نہ کھائی۔ آپ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، نماز کی بہت تاکید کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں عورتوں کو نماز جمعہ اور نماز عید، عیدگاہ میں پڑھنے کو کہا کرتے۔ گنگا میں نماز عید ایک ہی جگہ پڑھی جاتی اور پڑھاتے بھی آپ تھے۔ گھر والوں کوبھی ساتھ لے جاتے۔ تاکہ آنحضرتؐ کی اس سنت پر بھی پورا عمل ہو۔ چنانچہ حضرت ام عطیہؓ فرماتی ہیں کہ ہمیں حائضہ اور پردے والی عورتوں کو بھی عید گاہ جانے کا حکم ہے کہ حائضہ صرف دعا میں شامل ہوجائیں اور تقریر سنیں۔ مولانا اپنے دور کے زبردست مناظر بھی تھے۔ یہ ان کے خلوص کا نتیجہ ہے کہ اہل بدعت کے ''مناظر اعظم'' بھی آپ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے، آپ گنگا میں ہی تھے کہ ایک دفعہ دو مولوی صاحبان دلّی سے آپ کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے آئے۔لیکن ابھی مناظرے کی ابتدائی شرائط بھی طے نہ ہوئی تھیں کہ نو دو گیارہ ہوگئے۔ اس پر آپ نے یہ شعر بھی کہا ؎

دلّی توں دو بلّیاں آیاں شیراں مار بھجائیاں
بھجیاں جاندیاں پچھاں نہ ویکھن مڑکے پھیر نہ آئیاں


ہندوستان میں دلیپ سنگھ ایک علاقے کا نام ہے، وہاں اکثریت اہل بدعت کی تھی۔ ان کے مناظر اعظم عمر اچھروی صاحب تھے، اچھروی صاحب اپنے چند دیگر علماء کے ساتھ آئے ادھر سے حضرت کے ساتھ مولانا عبدالقادر روپڑی، حافظ اسماعیل روپڑی اور مولانا عبداللہ اوڈ تھے۔ پہلے دن مناظرے میں اچھروی صاحب کتابوں کے حوالہ جات نہ لاسکے اور دوسرے دن قضائے حاجت کے بہانے بھاگ گئے۔اہل توحید نےاس کامیابی پر رب کا شکر ادا کیا۔ وہیں حضرت کی تقریر بھی ہوئی اور سب علماء نے تقریریں کیں، اور حق کو لوگوں نے قبول کیا۔ راستے میں ایک مسجد کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

چک نمبر 71 ساہیوال میں شیعان کے خلاف ایک پوسٹر محرم کے دنوں میں شائع کیا۔ شیعہ لوگوں نے اس پوسٹر کے چند حوالہ جات کے کلاف عدالت کا رخ کیا۔اس پر عدالت نے آپ کو طلب کرکےحوالہ جات پیش کرنے کو کہا۔ جس پر آپ نے وہ حوالہ جات پیش کردیئے تو عدالت نے آپ کوباعزت بری کیا۔ باطل کے خلاف جہاد کرنےکو ہروقت تیار رہتے۔ پاکستان میں احمد پور شرقیہ میں (جہاں ایک مشہور مقدمہ میں پہلی دفعہ کسی عدالت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا) قادیانیوں سے آپ کا مناظرہ بھی ہوا۔ اس میںآپ کے ساتھ مولانا حافظ عبداللہ تھے۔

مکہ مکرمہ میں کسی مسجد میں ایک مولوی صاحب کے ساتھ نماز پڑھی، دیکھا کہ پاجامہ ٹخنوں سے نیچا تھا۔ بعد از نماز فرمایا: ''فسدالوضوء وفسدت الصلوٰة'' وہ حیران ہوا تو حدیث رسولؐ سے اس کو یہ مسئلہ دکھایا۔ ان کی سختی صرف دینی غیرت کی بنا پر تھی اور محبت و الفت کا معیار اللہ اور ا س کے رسولؐ کی اطاعت تھی۔حیات مسیحؑ کے متعلق اپنے استاد مولانا محمد علی لکھوی کے خلاف اشتہار شائع کیا۔

گنگا میں کچھ لوگ رقاصہ کا ناچ دیکھنے گئے، آپ کو پتہ چلا تو فتویٰ دیاکہ رقاصہ کا ناچ دیکھنے والوں کا نکاح باطل ہوگیا۔ ان کی بیویاں ان کے لیے حرام ہیں۔ جس پر لوگوں نے تجدید نکاح کی۔ بے نماز سے سلام نہ لیتے، البتہ خیریت پوچھ لیتے، حقہ نوشی کے خلاف تھے۔ حقہ نوش کو امام بنانے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے، فرشتے منہ پر منہ رکھ کر درود لےکر جاتے ہیں، ان کو نفرت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ فضول خرچی بھی ہے۔ ایک دفعہ پنجکوسی میں شامی کی ایک عبارت، جس میں تمباکو نوشی کی حرمت کاذکر تھا، لکھ کر حنفی علماء کو بھیج دی، اسے آپ نے بطور دلیل پیش کیا تھا، جس کا جواب ان لوگوں کے پاس نہ تھا۔

قاسم العلوم فقیر والی کے مہتمم مولوی فضل محمد اپنے ساتھ مولوی حسن وغیرہ کولے کر حاجی وریام کے مکان پر چک نمبر 24 میں آئے۔ ایک دعوت کا اہتمام تھا۔ مولوی صاحب نے کھانا ٹیک لگا کر کھایا۔ چوکڑی کی صورت میں بیٹھے تھے اور دعا کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر الگ الگ کرکے دعا کی۔ جب مولانا فضل محمد صاحب جانے لگے تو آپ سے مصافحہ کیا۔ آپ نے فرمایا:
''أقول لك قولا حسنا التربع من الاتکاء ونھٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أن یأکل الرجل متکأ''

اور فرمایا:
''ضم الیدین في الدعاء سنة''

مولوی فضل محمد صاحب خاموش رہے اور فرمایا ٹھیک ہے۔

لوگ صرف اس وجہ سے مخالف ہوجاتے کہ آپ حق بات کہنے سے نہیں رُکتے تھے۔ عام طور پر وہی مسائل بیان کرتے جن کی ضرورت ہوتی، سُود کی حرمت، اہل ایمان سے رشتہ داریاں، اقامت صلوٰة، ادائیگی زکوٰة، صلہ رحمی، اتفاق و اتحاد، فکر آخرت، توحید اور اتباع سنت رسول اللہ ؐ آپ کے بہترین موضوعات تھے۔ تقریر ہو یا تحریر ، خواہ کسی مجلس میں بات کرتے تو حوالے سے کرتے۔ فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر ایک یادگار تقریر کی۔ جس میں تقریباً چالیس، پچاس احادیث بطور حوالہ پیش کیں جو ریکارڈ کرلی گئیں۔ (جاری ہے‎)


حوالہ جات
1. مناقب الامام احمد لابن الجوزی صفحہ 401 طبع مصر