اس چیز کی خواہش جومقّدر میں نہیں ہے
دراصل یہ تعذیب ہے جو سخت ترین ہے

تقدیر کے لکھے پر جوایماں ہے یقیں ہے
پھر کس لیے آلام و مصائب پر حزیں ہے

ہرشے میں جھلکتا ہے ترا چہرہ روشن
پھر بھی یہی کہتے ہیں کہ تو پردہ نشیں ہے

ہر غنچہ رنگیں ہے ترے حسن کا مظہر
ہر ذرہ خاکی ترے جلووں کا امیں ہے

ملتی ہے یہیں سے مہ و اختر کو بلندی
خم در پہ ترے میری عقیدت کی جبیں ہے

ہے جس پر عمل، راحت و عظمت کی ضمانت
ادیان زمانہ میں وہ اسلام ہی دیں ہے

چلتا تھا زمیں پر جو کبھی نازو و ادا سے
کیا جانے وہ کس حال میں اب زیر زمیں ہے

اس عمرکے دو ساتھی ہیں راحت بھی
الم بھی گلشن میں جہاں پھول ہے کانٹا بھی وہیں ہے

ہشیار، خبردار سنبھل کراسے چھونا
دنیا جسے کہتے ہیں وہ اک مار حسیں ہے

تھی چاروں طرف دھوم کبھی جن کی جہاں میں
ان میں سے کوئی آج مکاں ہے، نہ مکیں ہے

ہوتے ہیں زن و مرد جہاں اجنبی دونوں
سمجھو کہ وہاں تیسرا شیطان لعیں ہے

کم خوری و کم خوابی و کم گوئی کے اوصاف
جس میں ہوں وہ انسان حقیقت مین حسین ہے

تو جادہ عصیاں پہ کبھی پاؤں نہ رکھنا
ہر ایک قدم اس کا ہلاکت کے قریں ہے

اس عمر کو غفلت میں وہ ضائع نہ کرتا
عاجز جسے احوال قیامت پر یقیں ہے