میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

جون 1985ء کے شمارہ میں ''عمامہ اور اتباع سنت'' کے عنوان سے جناب سمیع اللہ صاحب کا ایک آرٹیکل شائع ہوا ہے۔ انہوں نے دو روایات ایسی پیش کی ہیں جو ''محدث'' کے محدثانہ طرز عمل اور روایات کے سلسلہ میں اس کے حزم و احتیاط کے خلاف، نیز محدثین کے معیار صحت پر پوری نہیں اترتیں۔ ادارہ محدث سے دیرینہ تعلق اور وابستگی کی بناء پر ، اس سلسلہ میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔ والسلام (الحماد)


عمامہ یعنی پگڑی کے متعلق جو حدیث بیان کی گئی ہے، وہ اس طرح ہے:
''علیکم بالعمائم فإنھا سیمآء الملٰئکة وأرخوالھا خلف ظھورکم''
محدث طبرانی نے حضرت ابن عمرؓ اور علامہ بیہقی نے عبادة بن الصامتؓ سے ان الفاظ کو نقل کیا ہے۔ لیکن دونوں سندیں انتہائی کمزور ہیں۔

1۔ محدث طبرانی کی سند یوں ہے:
''محمد بن الفرج المصري ثنا عیسیٰ بن یونس عن مالك بن مغول عن نافع عن ابن عمر مرفوعاً'' 1

اس سند کے پہلے راوی محمد بن الفرج مصری ہیں۔ جن کے متعلق علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ:
''أتیٰ بخبرمنکر'' 2
''یہ صاحب منکر حدیث لائے ہیں۔''

اور اس کے بعد مذکورہ منکر حدیث کو بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے بھی ''لسان المیزان'' میں اسی طرح بیان کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایک روایت کے بیان کرنے میں اگرکمزور راوی، ثقہ راوی کی مخالفت کرے تو کمزور راوی کی بیان کردہ روایت کو حدیث منکر کہتے ہیں۔

2۔ یہ سند، جو حضرت عبادة بن الصامتؓ سے ہے اور جسے بیہقی کے حوالہ سے بیان کیا جاتا ہے ، ابن عدی نے کتاب القضاء میں یوں بیان کی ہے:
''یعقوب بن کعب ثنا عیسیٰ بن یونس عن الأحوص بن حکیم عن خالد بن معدان عن عبادة بن الصامت۔۔۔۔ الخ''

اس سند کے پہلے راوی یعقوب بن کعب گو ثقہ ہیں (اور محمد بن الفرج مجہول راوی نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسی لیے محمدبن الفرج کی بیان کردہ روایت حدیث منکر ہے) تاہم اس سند کے ایک دوسرے راوی احوص بن حکیم، ضبط اور حافظہ کے لحاظ سے محدثین کے معیار پرپورے نہیں اترتے۔ چنانچہ ان کےمتعلق علامہ عراقی اپنی شرح ترمذی میں فرماتے ہیں:
''الأحوص ضعیف'' ''احوص ضعیف ہیں''

اور علامہ سخاوی نے ''المقاصد الحسنہ'' میں اس حدیث کو ضعیف لکھا ہے۔ جبکہ علامہ البانی تعلیق مشکوٰة میں لکھتے ہیں:
''واسنادہ ضعیف '' یعنی ''اس کی سند کمزور ہے''3

علاوہ ازیں، ''سلسلة الأحادیث الضعیفة'' میں اسے منکر لکھا ہے اور ہماری بیان کردہ تحقیق کا بیشتر اسی سے ماخوذ ہے۔4

علامہ سخاوی تو یوں فرماتے ہیں کہ:
''پگڑی کی فضیلت کے متعلق جتنی بھی احادیث آئی ہیں، وہ سب ضعیف ہیں۔''

واضح رہے کہ فضائل اعمال میں جو بعض اہل حدیث حضرات، حدیث ضعیف پر عمل کو درست سمجھتے ہیں، ہمیں اس سے بھی اختلاف ہے۔ تاہم اس پر سیر حاصل گفتگو کسی دوسرے موقع پر اٹھا رکھتے ہیں۔

مضمون نگار نے اپنے خیال کے مطابق پہلے اس عمامہ کو بھولی بسری سنت قرار دیا ہے ، پھراس مردہ سنت کو زندہ کرنے کی فضیلت میں جو حدیث بیان فرمائی ہے، وہ پہلی مذکورہ حدیث سے بھی گئی گزری ہے تاہم جسے اکثر ہم مسلک دوست اپنی تحریر و تقریر میں کثرت سےبیان کرتے ہیں۔چنانچہ عرصہ ہوا ''جمعیت اہل حدیث لاہور'' کی طرف سے ایک اشتہار بعنوان''نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں'' شائع ہوا تھا۔ جس کی پیشانی پر یہ لکھا تھاکہ:
''مردہ سنت کو زندہ کرنا سو شہیدون کا ثواب ہے۔''

ہم نے اس حدیث ، جس کا یہ ترجمہ ہے، کے حوالہ اور اس کی صحت کے متعلق سوال لکھ کر روانہ کیا لیکن ابھی تک جواب ندارد۔ اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
''من تمسك بسنتي عند فساد أمتي فله أجر مائة شھید''

مضمون نگار سمیع اللہ صاحب نے اسے بحوالہ کتاب الزہد للبیہقی حضرت ابوہریرہؓ سے بیان کیاہے۔ حالانکہ مذکورہ کتاب میں یہ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے ۔ اس کے علاوہ ابن عدی نے الکامل میں بھی اس روایت کو حرعت ابن عباسؓ سے بیان کیا ہے۔ اس کی سند میں الحسن بن قتیبہ الخزاعی ہیں، جن کے متعلق ابن عدی فرماتے ہیں:
''أرجو أنه لا بأس به'' ''مجھے امید ہےکہ اس کے متعلق کوئی حرج نہیں''

لیکن دوسرے اہل فن نے ابن عدی سے اتفاق نہیں کیا۔چنانچہ علامہ ذہبی میزان الاعتدال :1؍519 میں فرماتے ہیں:
''ھالك''
دارقطنی لکھتے ہیں: ''متروك الحدیث''
ابوحاتم کہتے ہیں: ''ضعیف''
ازدی کا کہنا ہے: ''واھي الحدیث''
علامہ عقیلی فرماتے ہیں: ''کثیر الوھم''
لسان المیزان میں بھی اسی طرح ہے۔ (ملاحظہ ہو:2؍246)

اس کے علاوہ حسن بن قتیبہ کے استاد عبدالخالق بن المنذر بھی غیر معروف ہیں۔ لہٰذا یہ سند انتہائی کمزور اور ناقابل حجت ہے۔

حافظ ابونعیم نے بحوالہ طبرانی حضرت ابوہریرہؓ سے یہ روایت بایں الفاظ بیان کی ہے:
''المتمسك بسنتي عند فساد أمتي فله أجر شهید'' 5
یعنی ''فساد امت کے وقت میری سنت پر عمل پیرا ہونے والے کو ایک شہید کا ثواب ملے گا (سو شہید کا نہیں)''

روایت بیان کرنے کے بعد حافظ ابو نعیم فرماتے ہیں:
''غریب من حدیث عبدالعزیز عن عطاء''

اس کی سند میں بھی ایک راوی محمد بن صالح العذری غیر معروف ہیں۔ جیسا کہ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:
''فيه محمد بن صالح ولم أرمن ترجمة و بقیة رجاله ثقات'' 6

اس کے علاوہ ایک راوی عبدالعزیز بن رواد ہیں۔ ان میں بھی ضعف پایا جاتا ہے۔

علامہ المنذری اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں:
''لابأس به'' 7

لیکن منذری کا یہ تبصرہ تصریحات بالا کے مقابلہ میں کچھ وزن نہیں رکھتا۔ 8

خلاصہ یہ کہ ابن عباسؓ سے مروی یہ حدیث ، جس میں سو شہیدوں کے ثواب کا ذکر ہے، وہ انتہائی ضعیف ہے اور حضرت ابوہریرہؓ سے جو الفاظ مروی ہیں، ان میں سو شہید کے بجائے ایک شہید کا ذکر ہے، تاہم یہ بھی ضعف سے خالی نہیں۔


حولہ جات
1. طبرانی:3؍201 ؍1
2. میزان الاعتدال ص4 ج4
3. مشکوٰة حدیث نمبر 4371 کتاب اللباس
4. ملاحظہ ہو جلد دوم حدیث نمبر 669
5. حلیة الأولیاء:8؍200
6. مجمع الزوائد:1؍172
7. الترغیب والترہیب :1؍80
8. تفصیل کے لیے دیکھئے ''سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة'' حدیث نمبر 326 اور 327۔ نیز مشکوٰة المصابیح تعلیق الشیخ البانی حدیث نمبر 176 کتاب الإیمان باب الاعتصام بالکتاب والسنة