پس منظر:
یہ مضمون لکھنے کا داعیہ جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کا ایک فتویٰ پڑھ کر پیدا ہوا۔ جو آں موصوف نے ، ماہناہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی کے مجریہ ماہ جولائی 1985ء میں''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے مستقل عنوان کے تحت، ایک مستفتی کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا، انہوں نے لکھا ہے کہ:
''جن جانوروں کی قربانی جائز ہے ان سے عقیقہ بھی جائز ہے۔بھینس بھی ان جانوروں میں شامل ہے۔اسی طرح جن جانوروں میں سات حصے قربانی کے ہوسکتے ہیں ان میں سات حصے عقیقے کے بھی ہوسکتے ہیں اور ایک لڑکے کے عقیقہ میں گائے ذبح کی جاسکتی ہے۔''1

یہ فتویٰ پڑھ کر راقم الحروف نے اپنے ایک رفیق کار جناب مولانا سید احمد قادری صاحب (جو ماہنامہ اقراءڈائجسٹ کے مستقل خریدار بھی ہیں) کی معرفت مدیر ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کو 22 جولائی 1985ء کو خطوط ارسال کیے اور ان سے اس فتویٰ کی وضاحت اور اس کے شرعی دلائل کتاب و سنت کی روشنی میں طلب کیے۔ ان دونوں خطوط کے جوابات تاہنوز راقم کو براہ راست موصول ہوئے اور نہ ہی ''اقراء ڈائجسٹ'' میں شائع کیے گئے بلکہ ماہ ستمبر 85ء کے ماہنامہ مذکورہ کے اسی ''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے زیر عنوان مزید یہ فتویٰ دیا گیا کہ:
''گائے ، بیل اور اونٹ وغیرہ میں قربانی کے حصوں کے ساتھ عقیقہ کے حصے بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔''2

اسی مجریہ کے چند صفحات آگے یہ تحریر فرمایا گیا ہے:
''لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے یا دو حصے دینا مستحب ہے۔الخ''3

اسی ماہنامہ کے اگلے مجریہ میں عقیقہ کے متعلق ایک استفتاء اور اس کا جواب شائع ہوا ہے، جو ہدیہ ناظرین ہے:
'' (سوال) کیا عقیقہ پر خرچ ہونے والی رقم کسی قریبی رشتہ دار پر (جو غریب اور محتاج ہے) خرچ کی جاسکتی ہے یا نہ۔ ان دونوں ذمہ داریوں میں اوّلیت کسی کو دی جائے، رشتہ دار کی خبر گیری اور اس پر خرچہ وغیرہ کی ذمہ داری کو یا عقیقہ سے عہدہ برآ ہونے کی ذمہ داری کو؟ الخ''

''(جواب) عقیقہ میں خرچ ہونے والی رقم اپنے رشتہ دار محتاج کو دے دیں کیونکہ ایسی حالت میں اس کی اعانت کرنا ضروری ہے لہٰذا اس کو اوّلیت دی جائے گی۔''4

ان تمام وسائل کے جو جوابات مولانی یوسف لدھیانوی صاحب نے خود یا ان کی استفتاء کی ٹیم نے دیئے ہیں، ان کی موافقت میں کوئی ایک کمزور دلیل بھی تمام ذخیرہ احادیث نبویؐ میں باوجود تلاش بسیار کے نہیں مل سکی۔ ان بے دلیل اور پے در پے خلاف سنت فتاویٰ کے مضر نتائج کے پیش نظر راقم الحروف نے اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی کہ رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث کی روشنی میں عوام پر واضح کردوں کہ عقیقہ فی الواقع کیا ہے؟ اس کی تعریف، شرعی نوعیت و حقیقت و اہمیت و فوائد اور احکام کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو دین خالص پر قائم رکھے اور ہمیشہ سنت محمدیؐ کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

عقیقہ کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم:
''عق'' یا ''عقیقہ'' کا لغوی معنی ''قطع'' کرنا ہے۔عام بول چال میں بھی اہل عرب لفظ ''عق'' قطع کرنے کے معنیٰ میں استعمال کرتے ہیں:
''عق والدیه إذا قطعھما''5

ایک عرب شاعر کا شعر بھی ''عق'' کا یہی مفہوم ادا کرتا ہے: ؎

بلاد بھا عق الشباب تمائمي
وأوّل أرض مس جلدي ترابھا6


شریعت کی اصطلاح میں لفظ ''عقیقہ''کامعنی یہ ہےکہ ''ہر نومولود کی ولادت کے عموماً ساتویں دن بکری ذبح کرنا'' احادیث میں عقیقہ کو ''نسیکہ'' بھی کہا گیاہے۔

اسلام سے قبل عقیقہ کا رواج:
تاریخ کا مطالعہ کرنےسے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے قبل بھی مختلف معاشروں میں عقیقہ کا رواج قائم تھا، اگرچہ ان کی شکلیں مختلف تھیں۔ عیسائی بپتیسمہ کی شکل میں عقیقہ کرتے تھے جب کہ عہد جاہلیت کے اہل عرب اور شرفاء ، مولود کا نام رکھتے وقت جانوروں کی قربانی کرتے اور ان کا خون مولود کے سر پر ملتے تھے۔7

اکثر مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خود رسول اللہﷺ کے عقیقہ کے متعلق اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ:
''آپ ؐکی پیدائش کے ساتویں دن آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی ختنہ کی، آپؐ کی پیدائش کی خوشی اوراعزاز میں قبیلہ والوں کو دعوت دی اور آپؐ کا نام محمدؐ رکھا۔''8

امام ابن القیم اور امام ابن الجوزی حنبلی نے بھی اس واقعہ کو صحیح بتایا ہے۔ ابوعمر ابن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ:
''اس باب میں ایک مسند غریب حدیث موجود ہے جو حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ : عبدالمطلب نے نبی ﷺ کی ختنہ ساتویں دن کی۔ ان کی (پیدائش کی خوشی اور )اعزاز میں (اہل قبیلہ) کو دعوت دی اور ان کا نام محمد (ﷺ) رکھا۔''9

عقیقہ کی مشروعیت اور اس کے دلائل:
ذخیرہ احادیث رسول اللہ ﷺ میں بہت سی ایسی احادیث موجود ہیں، جو عقیقہ کی مشروعیت و تاکید اور اس کے سنت و استحباب کی وجوہات پر دلالت کرتی ہیں۔ ان احادیث کو ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے، ان میں سے چند احادیث ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
1۔ ''حدثنا أبوالنعمان حدثنا حماد بن زید عن أیوب عن محمد عن سلمان ابن عامر قال مع الغلام عقیقة'' i
''ابونعمان، حماد بن زید، ایوب، محمد بن سیرین نے سلمان بن عامرؓ سے روایت کی ہے : ''لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے۔''

حجاج، حماد، ایوب، قتادہ، ہشام، حبیب ، ابن سیرین اور سلمانؓ نے نبی کریمﷺ سے اس کی روایت کی ہے۔10 ان کے علاوہ کئی حضرات، عاصم، ہشام، حفصہ بنت سیرین، رباب نے سلمان بن عامر الضبی اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسے روایت کیا ہے۔11 یزید بن ابراہیم نے ابن سیرین سے اور انہوں نے سلمانؓ سے ان کا قول نقل کیا ہے۔12 اصبغ، ابن وہب، جریر بن حازم، ایوب سختیانی، محمد بن سیرین نے سلمان بن عامر الضبی کا عقیقہ کے بارے میں بیان اس طرح نقل کیا ہے:
2۔ ''قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول مع الغلام عقیقة فأھر یقوا عنه دماوأ میطوا عنه الأذٰی'' ii
''بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عقیقہ لڑکے کے ساتھ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس پر سے اژیت کودور کرو۔''

3۔ ''سمرة بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''کل غلام رھین13 بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسمٰی''
''ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے ساتھ منسلک یابندھا ہوا ہے۔ اس کے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبیحہ کیا جائے گا، اس کا سرمونڈا جائے گا اور نام رکھا جائے گا۔'' iii

اس روایت کی تمام اسناد صحیح ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ: ''یہ حدیث حسن صحیح ہے۔'' امام نووی نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب ''الاذکار'' میں نقل کیا ہے۔14

عبداللہ بن ابی الاسود ، قریش بن انس اور حبیب بن شہید عقیقہ کی حدیث کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ:
4۔ ''قال أمرني ابن سیرین أن أسأل الحسن ممن سمع حدیث العقیقة فسألته فقال من سمرة بن جندب''
''مجھے محمد بن سیرین نے حکم دیا کہ ''میں امام حسن بصری سے دریافت کروں کہ انہوں نے عقیقہ کے متعلق حدیث کس سے سنی ہے؟'' جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ''حضرت سمرة بن جندبؓ سے۔'' iv

5۔ اما م اسحاق بن راہویہ نے حضرت بریدہ اسلمیؓ سے روایت کی ہے:
''إن الناس یعرضون یوم القیٰمة علی العقیقة کما یعرضون علی الصلوات الخمس''15
بے شک قیامت کے دن لوگوں کو پنج وقتہ نماز کی طرح عقیقہ پر بھی پیش کیا جائے گا۔''

امام بخاری نے اپنی صحیح میں ''کتاب العقیقة'' کے زیر عنوان ''إماطة الأذٰی عن الصبي في العقیقة'' یعنی ''عقیقہ کے وقت بچے کی اذیت دور کرنا'' ایک مستقل باب قائم کیا اور اس میں عقیقہ سے متعلق احادیث جماع کی ہیں۔ اسی طرح دوسرے ائمہ حدیث رحمہم اللہ نےبھی اپنی اپنی تصانیف میں عقیقہ کے متعلق مستقل ابواب مقرر کیے اور اس ضمن کی احادیث جمع کی ہیں۔16

عقیقہ کی مشروعیت کے اثبات میں یہاں اور بہت سی احادیث پیش کی جاسکتی ہیں لیکن لاحاصل طول اور تکرار مبحث سےبچنے کے لیے بعض احادیث کو احکام بیان کرتے وقت آگے پیش کیا جائے گا۔ (جاری ہے)


حوالہ جات
1. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر 5 صفحہ نمبر 46 مجریہ ماہ جولائی 1985ء
2. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر7 صفحہ نمبر 184 مجریہ ماہ ستمبر 1985ء
3. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر7 صفحہ نمبر 184 مجریہ ماہ ستمبر 1985ء
4. ماہنامہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی جلد 1 شمارہ نمبر8 صفحہ نمبر93 مجریہ ماہ اکتوبر 1985ء
5. یعنی اس نے اپنے والدین سے قطع رحمی کی۔ (ادارہ)
6. تربیة الأولاد في الإسلام صفحہ 1؍88
(ترجمہ) ''یہ وہ شہر ہے جہاں جوانی نے میرے تعویذات قطع کئے (یعنی میں یہاں جوان ہوا) اور اسی سرزمین کی مٹی نے میری جلد کو سب سے پہلے مس کیا۔ (ادارہ)
7. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود مطبع شاہکار فاؤنڈیشن صفحہ 1082
8. زاد المعاد فی ہدی خیر العباد لامام ابن القیم جلد نمبر 1 صفحہ 35 و تاریخ اسلام مصنفہ اکبر شاہ خاں نجیب آبادی جلد1 صفحہ 90 و انگریزی ترجمہ حیٰوة محمدؐ مصنفہ ڈاکٹر محمد حسین ہیکل مصری صفحہ 48 طبع امریکہ وغیرہ۔
9. اس حدیث کے متعلق یحییٰ بن ایوب کا قول ہے کہ ''اس حدیث کو میں نے بجز ابن ابی السّری کے اہل الحدیث میں سے کسی بھی ایک شخص کے پاس نہ پایا۔''
10. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ
11. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ
12. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ
13. بعض احادیث میں ''کل غلام رھینة'' اور بعض میں''الغلام مرتھن'' کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سنن ابوداود الأضاحی باب في العقیقة)
14. ''اذکار'' مصنفہ امام نووی صفحہ 254
15. محلّی ابن حزم صفحہ 7؍525، تحفة المودود صفحہ 38 لیکن اس کی سند نہایت ضعیف ہے۔ (ادارہ)
16. مؤطا امام مالک میں مذکور ہے:

i. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ
ii.صحیح بخاری، کتاب العقیقہ
iii. سنن أبي داود في کتاب الأضاحي باب في العقیقة و الترمذي و النسائي و ابن ماجة و غیرھا بالأسانید الصحیحة و قال الترمذي حدیث حسن صحیح
iv. صحیح بخاری ، کتاب العقیقة