مارشل لاء رخصت ہوا اور جمہوریت بحال ہوگئی ہے۔ 30 دسمبر 1985ء کے سورج کی رو شنی میں قوم نے اپنی ''کھوئی ہوئی منزل'' کو اپنے سامنے یوں اچانک مسکراتے دیکھا کہ وزیراعظم صاحب کے بقول ''جب وہ ایوان میں داخل ہوئے تو مارشل لاء موجود تھا، لیکن جب ایوان سے باہر نکلے تو جمہوریت کا سورج طلوع ہوچکا تھا''

اور روزنامہ ''جنگ '' کے مطابق :
''گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل بارشوں، شدید سردی اور کُہر آلود موسم کی لپیٹ میں رہنے کے بعد ملک بھر کے مختلف علاقوں کے شہریوں نے اس وقت سُکھ کی سانس لی جب گزشتہ روز موسم میں خوشگوار تبدیلی آوی۔ سارا دن دھوپ نکلی رہی جبکہ اسی روز صبح صدر مملکت نے قوم سے تاریخی خطاب کرتے ہوئےمارشل لاء کے خاتمہ اور مکمل جمہوریت کی بحالی کا اعلان کیا۔''

31 ۔دسمبر کے روزنامہ ''جنگ'' نے اس خبر پر ''موسم بدل گیا'' کا عنوان جمایا ہے۔ لیکن 31 دسمبر ہی کے روزنامہ ''نوائے وقت'' نے ایک اور موسمی تبدیلی کی اطلاع دی ہے کہ:
''محکمہ موسمیات کے مطابق آج مطلع جزوی طور پر ابر آلود اور دھندلا رہے گا۔ صبح کے وقت دھند ہوگی۔''

جمہوریت کا سورج طلوع ہونے کے دوسرے ہی روز صبح کے وقت دھند اور بعد میں مطلع جزوی طور پرابر آلود نیز دھندلا ہوجانا، خدانخواستہ کسی طوفان کی آمد کا پیش خیمہ ہے۔چنانچہ 30 دسمبر کو صدر صاحب نے جمہوریت کا سورج طلوع کرتے وقت فرمایا کہ:
1۔ ''میں ذاتی طور پر بہت مطمئن ہوں۔ میرا ضمیر مطمئن ہے، میرا دل مطمئن ہے اور میرا دماغ مطمئن ہے۔''
2۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے علاوہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ پاکستان کے عوام کا تعاون ہے۔ ان دو سہاروں کے ذریعہ ہم آج منزل تک پہنچے ہیں اورجمہوریت کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔''

3۔ '' آپ نے دیکھا، ساری دنیا نے دیکھا۔ مخالفوں اور حریفوں نے دیکھا کہ انتخابات ہوئے، پُرامن اور منصفانہ ہوئے۔ لوگوں نے بھاری تعداد میں حصہ لیا۔ اپنے حق رائے دہی کا آزادانہ استعمال کیا۔ آپ ماشاء اللہ کامیاب ہوئے اور مقررہ تاریخ تک اسمبلیاں بنیں، سینٹ بنی، سویلین حکومتیں بنیں اور افواج پاکستان اپنے وعدے سے سرخرو ہوئیں۔ الحمدللہ! یہ اسمبلیاں ، یہ سینٹ، یہ جمہوری ادارے ہمارے مستقبل کی امیدہیں، صبح کی نوید ہیں، یہ دور حاضر کی نقیب ہیں۔ ان سے قوم کو بڑی توقعات ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ادارے قوم کی امید پرپورے اتریں گے۔''
4۔ ''ہم نے ایک آئینی مگر غیر نمائندہ ہوتے ہوئے جمہوریت کی خدمت کی ہے۔''
5۔ ''میں نے کبھی بھی مارشل لاء کو ملک کا مستقل حل نہیں سمجھا۔ میں نے اسے کبھی جمہوری نظام کا نعم البدل نہیں کہا،کبھی مارشل لاء کی بیساکھیوں کو سیاسی ٹانگوں کا متبادل نہیں سمجھا۔ اگر ہم مارشل لاء کو جمہوریت کا متبادل سمجھتے تو کبھی بھی اس راہ پر نہ چلتے، جس پر چل کر ہم آج اس منزل پر پہنچے ہیں۔''

6۔''آپ کو یاد ہوگا کہ 1947ء سے 1958ء تک ملک میں سیاسی جماعتوں پر مبنی نظام قائم تھا۔ یہ سیاسی جماعتوں کے انداز سیاست کا نتیجہ تھا کہ ملک میں پہلا مارشل لاء لگا۔ اس مارشل لاء نے جمہوری لبادہ اورھنے کی کوشش کی تو ایک سیاسی جماعت کا سہارا لیا گیا۔ لیکن یہ ایک ایسی سیاسی جماعت تھی کہ جس کی جڑیں عوام میں نہیں تھیں۔ اس سیاسی جماعت کے مقابلے میں دوسری سیاسی جماعتیں آئیں۔ سیاست کا بازار ایک بار پھر یوں گرم ہوا کہ ملک ایک اوربحران کا شکار ہوگیا اور نتیجتاً ایک اور مارشل لاء لگ گیا۔ دوسرے مارشل لاء میں فوجی حکومت نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جن کے نتیجے میں دو سیاسی جماعتوں کی محاذ آرائی شروع ہوئی اور ہوس اقتدار نے لوگوں کو ایسا اندھا کیا کہ ملک دو لغت ہوگیا۔ اس کے بعد 1972ء میں چوتھی مرتبہ سیاسی جماعتوں کا دور آیا اور ایک بار پھر سے ملک ک اندر ایسی کھلبلی مچی کہ ملک میں تیسرا مارشل لاء لگا۔ یہ عجیب اتفاق ہے، بلکہ میں تو کہوں گا حسن اتفاق ، کہ اس مارشل لاء نے غیر جماعتی انتخابات کرائے جس کے نتیجے میں ایک غیر جماعتی ایوان معرض وجود میں آیا۔ یہ اس ایوان کی قابلیت ہے کہ اس نے گزشتہ آٹھ مہینوں کی مسلسل کوشش کے بعد آج ملک و قوم اور مجھے اس قابل بنایا ہے کہ آج ہم مارشل لاء اٹھا رہے ہیں۔ غیر جماعتی ایوان نے غیر جماعتی انتخابات کے بعد راہ اتنی ہموار کی کہ مارشل لاء کو چلتا کیا۔''

7۔ ''اگر کسی نے ذاتی مفاد کی خاطر جمہوریت کی گاری کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی تو اسے عبرتناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔''
8۔ ''ہم نے آٹھ سالوں میں عوام کے مسائل پر توجہ دی ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ میرے خیال میں عوام نفاذ اسلام چاہتے ہیں۔''
9۔ ''اب موجودہ آئین اپنی تمام شقوں سمیت کلی طور پر بحال ہے۔ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا وہ حق منسوخ کردیا گیا ہے جس کے تحت وہ فوجی عدالتیں قائم کرسکتے تھے۔لہٰذا فوری طور پر فوجی عدالتیں ختم کردی گئی ہیں۔ مارشل لاء کے تمام دفاتر بند کردیئے گئے ہیں۔ جو مقدمات ابھی تک فوجی عدالتوں میں زیر سماعت تھے، متعلقہ سول عدالتوں کو منتقل کردیئے گئے ہیں۔''
10۔ ''تاریخ میں مارشل لاء اور جمہوریت کو ایک دوسرے کی ضد سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آگ اور پانی کبھی بھی یکجا نہیں ہوئے۔ لیکن ہم نے آگ اور پانی کو ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ایسی بھاپ میں بدل دیا ہے کہ ملک کی گاڑی ملک کے سٹیشن پر آپہنچی ہے۔''
11۔ '' میں ملک کی باگ ڈور عوام کے سپرد کرتا ہوں اور ملک سے مارشل لاء اٹھانے کا اعلان کرتا ہوں۔ آئیے، پاکستان کے بانیوں کو سلام کریں، تحریک آزادی کے شہیدوں کوسلام کریں، جذبہ حریت کے متوالوں کوسلام کریں، جمہوریت کے پاسبانوں کوسلام کریں۔ پاکستان زندہ باد، دور جمہوریت پائند باد!''

30 دسمبر کو جمہوریت کا مذکورہ بالا سورج طلوع ہوا، لیکن افسوس کہ 31 دسمبر کو ، یعنی اس کے دوسرے ہی روز اس کے سامنے سیاسی بادلوں نے اپنے پردے یوں تان دیئے کہ:
''وفاقی پارلیمانی نظام اپنی اصلی شکل میں بحال نہیں ہوسکا۔۔۔۔۔۔۔اصغر خان''
''آٹھویں آئینی ترمیم کے ہوتے ہوئے جمہوریت کس طرح بحال ہوسکتی ہے؟۔۔۔۔۔ شیخ رفیق''
''مارشل لاء کے بعد نافذ کی جانے والی جمہوریت عجائبات عالم میں شمار کی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ نصر اللہ خان''

''بیمار مارشل لاء کو سرجری کے بعد دوبارہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ موجودہ اسمبلیاں ربڑ سٹمپ ہیں۔ یہ ملک کانظام چلانے کے اہل نہیں۔ مارشل لاء حکومت نے اپنے ساڑھے آٹھ سالہ دور میں عوام کے ساتھ جو مظالم کیے ہیں۔ ان کے سامنے نادر شاہ، چنگیز خان اور ہٹلر کے دور شرماتے ہیں۔ اسلام کے نام پر سیاسی کارکنوں، مزدوروں، کسانوں، وکلاء، ڈاکٹروں، انجینئروں، صحافیوں اور خواتین کے حقوق کوغصب کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔ غلام مصطفیٰ جتوئی''
''کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سول مارشل لاء برقرار ہے۔ آج کی تقریر جھوٹ کا پلندہ اور فراڈ ہے۔ ۔۔۔۔۔ خواجہ خیر الدین''
''ملک میں پابند جمہوریت نہیں چل سکتی۔ کوئی نیا سورج طلوع نہیں ہوا، یہ وہی سورج ہے جو 5 جولائی 1977ء کو طلوع ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ شاہ فریدالحق''
''ابھی تک مارشل لاء گیا ہے، نہ جمہوریت بحال ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔ احترام الحق تھانوی'' 1
''مارشل لاء اٹھانے کا اعلان طے شدہ ڈرامہ کا حصہ ہے، اب دوسرا منظر شروع ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔ جنرل چشتی''
''73ء کا آئین دفن اور 85ء کا آئین نافذ کردیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ حفیظ پیرزادہ''
''یہ جمہوریت مارشل لاء کا کیسا بچہ ہے جسے دنیا میں آنے میں ساڑھے آٹھ سال لگے۔۔۔۔۔۔ مینگل''
''یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ہر جگہ فوج موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ممتاز بھٹو'' 2
''وفاق میں صدارتی اور صوبوں میں پارلیمانی نظام نافذ کردیا گیا ہے''
''مارشل لاء کے خاتمے کا اعلان محض زبانی کلامی ہے۔غیر جماعتی انتخابات کا ٹیکہ زیادہ دیر کام نہیں دے گا۔''
''ّچیف آف سٹاف کا عہدہ اپنے پاس رکھ کر صدر نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سویلین اس قابل نہیں۔''
''پُرامن جلسہ جلوس جاری رکھیں گے ۔ ایجی ٹیشن کی تو چوتھا مارشل لاء لگ جائے گا۔''
''تقریر سے صاف پتہ چلتا ہے کہ صدر سیاسی جماعتوں سےنفرت کرتے ہیں۔ وہ پابند جمہوریت کے قائل ہیں۔''
''صرف وردی تبدیل ہوئی ہے، فوجی کے بجائے سول مارشل لاء نافذ کردیا گیا ہے۔''
''ایم۔ آر۔ڈی مذاکرات کی بجائے جدوجہد کا راستہ اختیا رکرے گی۔'' 3

خداکا شکر ہے کہ ہمارا تعلق نہ تو ایوان صدارت سے ہے اورنہ ایوان سیاست سے۔ ہم تو صرف اور صرف اسلام کے نقیب ہیں، جبکہ اسلام اس سارے جمہوری تماشے سے ہی بیزار ہے۔ ہاں اسلام کی محبت میں اور ملک عزیز کی سلامتی کے پیش نظر صدر صاحب سے صرف یہ گزارش کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ گزشتہ جمہوری حکومتیں اگر مارشل لاء کو دعوت دیتی رہی ہیں، حتیٰ کہ انہی کی وجہ سے ملک دو لخت بھی ہوگیا، لیکن صدر صاحب کے اس مارشل لاء کی کوکھ سے نہ صرف خود جمہوریت نے جنم لیا بلکہ ملک کوبھی استحکام نصیب ہوا ہے، تو انہوں نے اس خوبیوں کے حامل مارشل لاء کو چلتا کرکے ملک کی سلامتی کو داؤ پرلگا دینے والی جمہوریت کا تحفہ قوم کو آخر کس خوشی میں عنایت فرمایا ہے؟ ؎


میر کیا سادہ دل ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سےدوا لیتے ہیں !



کیا ہی بہتر ہوتا کہ مارشل لاء کے خاتمہ کا اعلان کرتے وقت، جمہوریت بحال کرنےکی بجائے آپ کتاب و سنت کے دستور ہونےکا اعلان فرما دیتے، تو اس قوم کو واقعی اپنی گمشدہ منزل کا سراغ مل جاتا اور اس کی مدفون حسرتیں زندہ ہوکر اسے ابدی کامرانیوں کا پیغام دے سکتیں۔

ہم نے گزشتہ شمارہ میں بحالی جمہوریت کے اس مرحلہ سے پیشتر ہی سابقہ تجربات کی روشنی میں اس امر کی نشاندہی کردی تھی کہ صدر صاحب مصر ہوں گے کہ انہوں نے جمہوریت بحال کردی ہے، لیکن سیاستدان اس بحالی جمہوریت ہی پر مطمئن نہ ہوں گے۔چنانچہ ان کے مذکورہ بالا بیانات نے ہمارےاس دعویٰ پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ ان ناز برداریوں کے باوجود وہ اب بھی صدر صاحب سے نالاں ہے اور بدستور غیر مطمئن۔ البتہ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو یہ ان پر اتہام ہے کہ انہوں نےصدر صاحب سے بحالی جمہوریت کی خاطر تعاون کیا تھا۔ صدر صاحب کے لیے یہ ''اثاثہ اور سہارا (پاکستان کے عوام کا تعاون)'' محض اسلام کی خاطرتھا نہ کہ بحالی جمہوریت کی خاطر، لیکن اب انہوں نے عوام کو اسلام کی بجائے جمہوریت دے کر ٹرخا دیا ہے اور یہ کہہ کر ان کی دیرینہ تمناؤں کا گلا گھونٹ دیا ہے کہ:
''میرے خیال میں عوام نفاذ اسلام چاہتے ہیں''

صدر صاحب، آپ کو یہ واہمہ کیوں ہونے لگا؟ اور آپ کا یہ صرف خیال ہی کیوں ہے؟ یہ تو اتنی بڑی حقیقت ہے، جتنی بڑی یہ حقیقت کہ مارشل لاء کے خاتمہ کے باوجود آپ اب بھی اس ملک کے صدر ہیں اور یہ صدارت آپ کو نفاذ اسلام کے وعدہ پر ہی ملی تھی اورعوام کا قصور صرف یہ ہے کہ سب کوچھوڑ کر انہیں صرف آپ کے وعدہ پراعتبار آگیا تھا۔

اور آپ نے یہ بھی غلط فرمایا کہ ''ہم نے آگ اور پانی کو ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ایسی بھاپ میں بدل دیا ہے کہ ملک کی گاڑی ملک کے سٹیشن پر آپہنچی ہے۔'' بلکہ اس کی بجائے یوں کہئے کہ ''اس بھاپ کے ذریعے آپ نے ملک کی گاری کا رُخ واشنگٹن کی طرف پھیر دیا ہے۔'' ورنہ ملک کے سٹیشن کی پیشانی پر جو نشان واضح طور پر مرقوم ہے، وہ یہ ہے کہ: ؎
پاکستان کا مطلب کیا؟
لاَ إِلٰه إِلاَّ اللہ!

اور جس سے آپ اس حد تک واقف ہیں کہ اپنے دور صدارت میں ان الفاظ کے ساتھ ''محمد رسول اللہ'' کے الفاظ شامل کرکے خود آپ نے اس ''ماٹو'' (Motto) کی تکمیل فرمائی تھی۔لیکن افسوس جو آج محض ''آپ کا خیال'' ہوکر رہ گیا ہے۔ صدر صاحب، کیا اپنے بہی خواہوں سے یہی سلوک کیا جاتا ہے، اور کیا یہی آئین وفاداری ہے؟

رہا آپ کا دوسرا سہارا، یعنی ''اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم'' تو یہ سہارا بھی ملک میں بحالی جمہوریت کی خاطر ہرگز نہ تھا، بلکہ اس کی غرض و غایت اسی مقدس دستور حیات میں واضح طور پر درج ہے، جس کے بارے میں آپ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ:
''مسلمان اپنا دستور خود مرتب کرنے کا حق نہیں رکھتے، ان کا دستور مرتب و مدون ان کے ہاتھوں میں موجود ہے اور وہ ہے قرآن مجید''

لیکن آج اس کا یہی مقام اپ نے ایک بناوٹی دستور کو دے دیا ہے جبکہ اصل دستور حیات میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا تقاضا اور اس کے سہارا کی غرض و غایت یوں موجود ہے کہ:
ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ أَقَامُواٱلصَّلَو‌ٰةَ وَءَاتَوُاٱلزَّكَو‌ٰةَ وَأَمَرُ‌وابِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْاعَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ‌ ﴿٤١...سورۃ الحج
یعنی ''جن لوگوں کو ہم ''تمکن فی الارض'' عطا کریں تو (ان کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ) نماز قائم کریں، زکوٰة دیں، نیکی کا حکم کریں اوربُرائی سے منع کریں اور انجام کا ر اللہ ہی کےلیے ہے۔''

چنانچہ اس عہد سے بھی آپ نے رسم وفا کہاں تک نبھائی ہے، اس سلسلہ کی معروضات تو ان شاء اللہ آئندہ شمارہ میں پیش خدمت ہوں گی، فی الحال صرف یہ نوٹ فرما لیجئے کہ آپ کی سابقہ تقریریں ''اسلام زندہ، پاکستان پائندہ باد'' کے الفاظ پر ختم ہوتی تھیں، جبکہ آپ کے حالیہ خطاب میں ''اسلام'' کی جگہ ''دور جمہوریت'' نے لے لی ہے یعنی ''پاکستان زندہ باد....... دو رجمہوریت پائندہ باد''

''وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا ﴿١٠٤...سورۃ الکہف'' .............. ''فإنا للہ وإنا إلیه راجعون''


حوالہ جات
1. نوائے وقت 31 دسمبر 1985ء
2. جنگ 31 دسمبر 1985ء
3. جنگ فورم 31 دسمبر 1985ء۔۔۔۔ مختلف سیاستدانوں کے بیانات