غیر مسلم اقوام کی مادی، صنعتی اور طبیعیاتی ترقیات اور ان کی محیرّ العقول ایجادات و اختراعات کو دیکھ کر بعض مسلم اقوام سخت حیران ہیں بلکہ ایک تحت الشعوری احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اسلاف کے واقعی یا فرضی کارناموں کے بوسیدہ دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ روش بجائے خود اسلام کے منافی ہے۔

إن الفتی من قال إني کذا

لیس الفتی من قال کان أبي

حضرت علیؓ جن کی عالی حوصلگی ضرب المثل ہے فرماتے ہیں کہ ''آباء کے کارناموں پر اترانا کوئی اچھی بات نہیں جواں مردی تو یہ ہے کہ انساں خود کچھ کر کے دکھائے۔'' ایسے لوگ جو صدیوں پیشتر کے مسلمانوں کے علوم و فنون اور ایجادات کا قصیدہ پڑھتے ہیں۔ وہ گویا موجودہ ملت اسلامیہ کی تحقیر و تذلیل کے مرتکب ہیں۔

اسبابِ تنزل:

کچھ اصحاب مسلمانوں کے اسبابِ تنزل میں اسلام سے بیگانگی اور اسلامی نظامِ حیات سے بے تعلقی کو سب سے اول درجہ پر رکھتے ہیں لیکن یہ عجیب بات ہے کہ خود اس بیگانگی و بے تعلقی کا کوئی معقول سبب نہیں بتا سکتے اس سے بھی زیادہ خوش عقیدہ وہ اصحاب ہیں جو اہلِ مغرب کی تمام ترقیات کو اسلام یا قرآن کی خوشہ چینی کی مرہون منت بتاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اصحاب کی رائے یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی تمام مادی ترقیات محض قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا نتیجہ ہیں اور یہ دانایانِ فرنگ جو دور دور کی کوڑیاں لاتے ہیں، وہ سب قرآنی مطالب کے دریا میں غوطہ زنی کا نتیجہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ غیر شعوری اعتراف ہے کہ قرآنی علوم سے فیض پانے والی وہیی قومیں ہیں جو اسلام کی بدترین دشمن ہیں اور صرف اسلام کی نام لیوا ہی ایک قوم ایسی ہے جو قرآنی فیض سے محروم ہے۔ اس قسم کے خیالات بظاہر اسلام سے ایک گہری عقیدت کی غمازی کرتے ہیں لیکن انجام کار اسی قسم کے خیالات سے اسلامی عظمت کے صحیح خدوخال پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ غلط افکار کا یہ نتیجہ ہے ہے کہ مسلم دانش مندوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا کہ قرآنی مطالب میں صحیح نہج فکر وہی ہے جو عہدِ حاضر کی ترقی یافتہ قوموں کی زندگی میں نظر آتی ہے اس سے ہٹ کر جو مسلمان قرآن پڑھتا ہے وہ طوطے کی طرح بے مصرف رٹ ہے، جس کاکچھ فائدہ نہیں۔

ایسے ہی ترقی پسند مسلمانوں کی تحریر و تقریر فلاحِ آخرت کے حصول کے لئے سعی کرنے کی بجائے دنیوی جاہ و جلال اور مادی قوت و برتری کی ترغیب و تائید کے لئے وقف ہو کر رہ گئی ہے۔ یہاں تک کہ جہاں جہاں قرآنِ حکیم پر اعمالِ صالحہ کی جزا کے طور پر آخرت کی نعمتوں کا ذکر ہے ان سب کی تعبیر و تصریح اس طرح کی جاتی ہے کہ گویا تمام اعمالِ خیر کا صلہ صرف اسی دنیا کی مادی ترقیات کا نام ہے۔ ان کے نزدیک لفظِ 'آخرت' کا مفہوم صرف نتائج دنیویہ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام کے مفہوم سے آخرت کا تصور نکال دینے کے بعد خدا کے تصور کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ باوجود اس کے یہ اصحاب خدا اور اسلام اور پیغمبر اور قرآن کا بار بار نام لیتے ہیں لیکن غور دے یکھا جائے تو ان کا اس طرح نام لینا طوطے کی طرح قرآن پڑھنے سے بھی زیادہ خطرناک یا بے مصرف ہے۔ کیونکہ ہماری نظر کے سامنے دنیوی اور مادی ترقیات کے اوجِ کمال پر پہنچنے والی ایسی اقوام بھی ہیں جن کے نزدیک خدا نام کی کوئی ہستی ہی سرے سے موجود نہیں ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کی ہر گونہ ترقیات مادی میں خدا کا مطلق دخل نہیں ہے۔ بد قسمتی سے یہی فرعونی نظریہ عہدِ حاضر کے بعض دانشوروں کے تحت الشعور میں کار فرما ہے۔

لا دینی نظریات:

اس اسلامی لا دینی اور مطلق لا دینی میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف اس قدر کہ اول الذکر کے حامی اپنے نظریات کی تائید میں قرآنی آیات پیش کرتے ہیں اور ثانی الذکر لا دینی تحریک سرے سے قرآن کا انکار کرتی ہے۔ ہر چند کہ یہ اعتراف و انکار بھی نتیجہ کے اعتبار سے بے معنی و بے مقصد ہے تاہم مطلق لا دینی نظریات کے حامی کو عالی ظرف اور حوصلہ مند کہا جا سکتا ہے لیکن لا دینی نظریات پر اسلام کا نام چسپاں کرنے والا بلاشبہ بزدلی اور فریب کاری کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اب ہم قرآن شریف کی روشنی میں ان زاویہ ہائے نظر کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جس نے اس لادینی کو جنم دیا۔

قرآن حکیم نے نہایت وضاحت کے ساتھ دنیوی جاہ و جلال اور مال و متاع یعنی ہرگونہ مالی ترقیات کا ذکر کیا ہے اور کھول کھول کر ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔ قرآن حکیم بتاتا ہے کہ قومِ عاد نے کہساروں کی بلندیوں پر عظیم الشان اور قابلِ فخر تاریخی اور یادگاری عمارتیں بنائیں اور ایسے مستحکم محل تعمیر کیے جن کے متعلق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ کبھی نہیں مٹ سکتے۔ یہی وہ لوگ تھے جو اپنی استحصالی اور جابرانہ قوتوں سے کام لے کر ضعیفوں اور کمزوروں پر ستم ڈھاتے اور یہ خیال کرتے تھے کہ ان پر کبھی کوئی عذاب نہیں آسکتا۔ وہ اپنے ان ترقی پسندانہ اقدامات پر فخر کرتے تھے۔ (سورہ عنکبوت)

جسمانی قوتوں اور صلاحیتیوں کے اعتبار سے بھی وہ تمام جہان کی قوموں میں ممتاز تھے اور کوئی قوم ان کی ہم پلہ نہ تھی۔ (سورہ فجر)

ان ہی کا یہ دعویٰ تھا کہ ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّة﴾(ہم سے زیادہ صاحبِ اقتدار کون ہے؟) (حٰم سجدہ)

ان کے بعد ایسی ہی تعمیراتی صلاحیتوں کی مالک ایک اور قوم آئی جسے قومِ ثمود کہا جاتا ہے۔ جو اپنی ترقیاتی صلاحیتوں میں قومِ عاد سے کسی طرح کم نہ تھی۔ اس قوم نے پختہ اینٹوں سے اونچے اونچے محلات تعمیر کیے اور پہاڑوں کو توڑ توڑ کر عظیم الشان عمارتیں بنائیں۔ زراعت و باغات کے ہنر کو اوجِ کمال پر پہنچایا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس قوم نے ایک ہزار سے زیادہ بستیاں آباد کیں۔ اس کے بعد اصحابِ حجر نے بھی پہاڑوں میں شگاف کر کے ایسے محفوظ محل بنائے جن کے متعلق یہ خیال تھا کہ وہ ناقابلِ شکست دریخت ہیں۔ صنعتِ فنونِ مقیدہ میں وہ ترقیاں کیں جن سے آج کل کی عقولِ انسان حیران ہیں۔ قرآن حکیم میں دنیوی ترقی کے بعض ناجائز وسائل کا بھی ذکر ہے مثلاً اصحابِ مدین جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ تجارت پیشہ اور وزن و پیمانہ میں بے ایمانی کر کے دولت کماتے اور بڑے ہی فسادی تھے۔ ان کے علاوہ صنعت و حرفت کے ترقیاتی وسائل اور مال و دولت و زر و مال کی کثرت سے بہرہ مند ہونے والی اور قوموں کا ذِکر بھی قرآن حکیم میں ہے۔ مثلاً قارون کی دولت، فرعون کی سلطنت، ملکۂ سبا کی ثروت، لقمان کی حکمت، ذوالقرنین کی ہمت جن کا ذکر قرآن حکیم میں ہے۔ تمام قرآن میں یہ کہیں بھی نہیں ہے کہ اقوام و ملل سابقہ کے یہ تمام ترقیاتی کارنامے خدا پرستی اور ایمان باللہ کے نتائج تھے۔ اس کے برعکس ان ترقی یافتہ قوموں میں بیشتر وہی ہیں جن پر اللہ کی نافرمانی، اس کے رسولوں کو ایذاء رسانی اور کفر و عصیان کے الزامات ہیں۔ جن کے باعث وہ قومیں انجام کار ذلیل و خوار ہوئیں اور مبتلائے عذابِ الٰہی ہو کر صفحۂ ہستی سے ناپید ہو گئیں۔

ایامُ اللہ:

ہم کو قرآنی تاریخ میں جس کو ایام اللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے جہاں یہ تفصیلات ملتی ہیں وہاں اس دینی و فکری پستی اور دینی بے راہ روی کا بھی ذکر ہے۔ جو عہدِ اضر کے دانش مندوں اور بر خود غلط دانشوروں کا شیوہ ہے۔ سورۂ کہف میں ایسے اشخاص کی مذمت کی گئی ہے جو اپنی تمام مساعی کو حیاتِ دنیوی کے فروغ اور مادی ترقیات کے حاصل کرنے میں صرف کرتے ہیں اور پھر اپنے ان کارناموں پر فخر بھی کرتے ہیں۔ (ع ۱۲)

یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ جس قدر لوگ دنیوی کثرتِ مال و متاع و اولاد پر مطمئن ہو کر اسی کو حاصلِ حیات سمجھ بیٹھتے ہیں اُسی قدر وہ بارگاہِ الٰہی میں اپنے اعمال کی جواب دہی کے تصور سے بیگانہ ہیں۔ پھر قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ مادی برتری کی جس قدر مساعی کی جاتی ہیں وہ بار آور ضرور ہوتی ہیں اور کوشش کرنے والے اس سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں تاہم حیاتِ دنیوی میں فروغ حاصل کرنے کا یہ انہماک اگر جزائے اعمالِ صالحہ سے بے گانہ کر دے تو سخت خسارے کی جڑ ہے۔ لہٰذا اہلِ ایمان و اہلِ کفر میں اگر مادی تفاوت ہے تو اس سے متاثر نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ لَلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ مدارجِ عالیہ کے اعتبار سے آخرت ہی کو برتری حاصل ہے۔ (بنی اسرائیل۔ ع ۲)

پھر ایسے لوگوں کی جو دنیوی ناز و نعم کو بنظرِ استحسان دیکھتے ہیں اور یا وہ لوگ جو آخرت کی کامیابیوں پر دنیوی زندگی کے عیش و آرام کو ترجیح دیتے ہیں مذمت کی گئی ہے۔ مال و جاہ کی دل فریبیوں سے دھوکہ میں آنے دنیوی ترقیات پر اترانے اور غیر مسلم اقوام کی متاع پر للچائی نظر ڈالنے سے بار بار منع کیا گیا ہے بلکہ تفوق یا استحسان کی نگاہوں سے دیکھنا بھی ممنوع ہے۔

مال و متاع کی حقیقت:

﴿فَلا تُعجِبكَ أَمو‌ٰلُهُم...٥٥﴾... سورة التوبة"مال و متاع کی ابھرتی ہوئی تمنا کی مذمت بھی ہے۔﴿قالَ الَّذينَ يُر‌يدونَ الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا يـٰلَيتَ لَنا مِثلَ ما أوتِىَ قـٰر‌ونُ...٧٩﴾... سورة القصص" یعنی حیات دنیا ہی کو سب کچھ سمجھنے والے کہتے ہیں کہ اے کاش ہمارے پاس قارون کے برابر دولت ہوتی۔ قرآنِ حکیم کی ان تمام تصریحات کا یہ مقصد نہیں ہے کہ انسان دنیوی زندگی اور علم و ہنر کی ترقیات سے کنارہ کش ہو جائے بلکہ اس کا مدعا یہ ہے کہ کوئی مسلمان حصولِ مال و جاہِ دنیوی ہی کو مقصدِ حیات نہ تسلیم کر لے۔ یہی وہ تور ہے جو انسان کو ایمان باللہ اور تصور آخرت سے محروم کر دیتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے حیاتِ انسانی کی اس بنیادی غلطی سے جابجا تنبیہ فرمائی ہے۔

﴿وَقالوا إِن هِىَ إِلّا حَياتُنَا الدُّنيا وَما نَحنُ بِمَبعوثينَ ﴿٢٩﴾... سورة الانعام

یعنی گمراہوں کا یہ کہنا ہے کہ یہی دنیوی زندگی ہی سب کچھ ہے۔ اب دوبارہ زندہ ہونا نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دینی بصیرت رکھنے والوں سے توبیخاً سوال کرتا ہے:

﴿أَرَ‌ضيتُم بِالحَيو‌ٰةِ الدُّنيا مِنَ الءاخِرَ‌ةِ...٣٨﴾... سورة التوبة

بات یہ ہے کہ آیا تم آخرت کو نظر انداز کر کے دنیوی زندگی (کے مال و متاع) پر مطمئن ہو کر رہ گئے ہو۔

ان واضح ارشاداتِ الٰہیہ کے باوجود مسلمانوں کے جدید ترقی پسند طبقہ میں جنہوں نے دین سے بیگانگی کی فضا میں پرورش پائی اور انسانی مقصدِ حیات سے بیگانہ ہیں، اقتصادی و صنعتی ترقیات ہی کو زندگی کا ما حصل سمجھتے ہیں، مال و متاع کی روشنی ان کی نگاہوں کو خیرہ کرتی ہے، نئی نئی ایجادات و اختراعات سے حاصل ہونے والے قومی تفوق کو تعجب اور حسرت کی نظروں سے دیکھتے، جاہ و منزلت کے حصول ہی کو حقیقی فوز و فلاح سے تعبیر کرتے اور آخرت کی جنت سے بے نیاز ہو کر دنیا ہی میں جنت کی تلاش کر رہے ہیں۔ یہ کج نگاہی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اصحاب دنیوی فوز و فلاح ہی کو ایمان اور اسلام کا ثمرہ کہنے لگتے ہیں۔

اقتصادی یا صنعتی پستی:

اور مسلمانوں کی اقتصادی یا صنعتی پستی کو ضعفِ ایمان سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیوی زندگی کے باب میں بعض اوقات یہ لوگ کچھ ایسی باتیں کہتے ہیں جو بظاہر نہایت دلچسپ اور خوشگوار معلوم ہوتی ہیں مثلاً دنیوی فوز و فلاح کے لئے قرآنی تعلیمات اور اسلامی نظریات کو اس طرح پیش کرنا جس سے ظاہر ہو کہ ان کی نگاہوں میں اسلام اور قرآن کی بہت بڑی عظمت ہے اور وہ قرآنی تعلیمات کو ہر جہتی حیثیت سے تمام کامرانیوں اور ترقیات کا دستور العمل سمجھتے ہیں۔ وہ بڑے شدّ و مدّ کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے ہیں لیکن خود بیگانہ عمل ہیں۔ عجب نہیں کہ عہدِ جاہلیت کے اس کردار سے خود آنحضرت ﷺ کو بھی نپٹنا پڑا ہو۔ چنانچہ ایسے خیالات کے غلط نتائج سے اللہ تعالیٰ نے حضور کو آگاہ فرما دیا ہو:

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يُعجِبُكَ قَولُهُ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَيُشهِدُ اللَّهَ عَلىٰ ما فى قَلبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الخِصامِ ﴿٢٠٤﴾... سورة البقرة

یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو حیاتِ دنیوی کے باب میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو تم کو اچھی اور عجیب معلوم ہوتی ہیں اور وہ اپنے دلی خیالات پر اللہ کی قسم کھاتے ہیں۔ حالانکہ در حقیقت وہ سخت جھگڑالو ہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ قرآن حکیم زندگی برائے دنیا کے تصور سے قطعاً خالی ہے۔ دنیا سے بہرہ ور ہونے کی صرف اسی حد تک ترغیب ہے جس کی منفعت متوجہِ آخرت ہو کیونکہ مال و قوت و اقتدار کا بڑے سے بڑا کارنامہ اگر نجاتِ اخروی سے محرومی کا باعث ہو تو وہ پرکاہ سے زیادہ بے حقیقت ہے۔ کیا کوئی مسلمان اس بات میں شک کر سکتا ہے کہ نانِ جویں پر قناعت کرنے والا اور پیوند پر پیوند لگے ہوئے لباس سے تن ڈھانکنے والا مردِ مومن مزدور اس بادشاہِ ہفت اقلیم سے زیادہ کامیاب عاقبت ہے جس کی تمام زندگی خطائظِ نفسانی اور لذائذِ معصیت کی نذر ہو کر رہ گئی ہو۔ قرآنِ حکیم دنیا کی جن خوبیوں کا خواہش مند اور دعاگو ہونے کی تلقین فرماتا ہے وہ محض وہ ہیں جن کا تعلق حسناتِ آخرت سے ہے۔ مسلمانوں کی عظمت و برتری کا راز بھی اسی میں مخفی ہے۔

یعنی وہ اقدام جو انسان کے اعضاء کو آخرت سے بچاتا ہو دنیوی فلاح و بہبود کا بھی یقینی ذریعہ بن جاتا ہے۔ مصائب و آلامِ دنیا میں سے شاید کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں جس کا سبب احکامِ الٰہیہ سے انحراف نہ ہو۔ ﴿اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيئَاتِ﴾ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ نیکیاں ہرحال برائیوں کے اثر سے محفوظ رکھتی ہیں۔ قرآن حکیم ہر ایسی کامیابی کو جو فلاح آخرت سے بے نیاز ہو کر حاصل کی جائے قابلِ مذمت و نفرت قرار دیتا ہے بلکہ اس کو کامیابی کی بجائے ناکامی اور خسارے سے عبیر کر رہا ہے اور یہ مذمت بے سبب نہیں ہوتی بلکہ قرآن اپنے عام اسلوب کے مطابق اس کے دلائل بھی بیان کرتا ہے مثلاً:

﴿وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ المَـٔابِ ﴿١٤﴾... سورة آل عمران

یعنی بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں یہ مرغوبات، یہ اولاد، یہ سونے چاندی کے ڈھیر۔ یہ گھوڑے مویشی اور مال و متاع ہر چند کہ انسان کے لئے دلکش ہیں لیکن بہتر ٹھکانہ چاہو تو وہ اللہ کے پاس ہی ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ وہاں بھی ہے اور اس سے بہتر ہے۔

''لیکن یاد رکھو کہ یہاں کا تمام کیا کرایا معرضِ تلف میں ہے لیکن جو اجر وہاں کا ہے وہ غیر فانی اور باقی ہے۔''

''لہٰذا لازم ہے کہ پیش نظر عارصی مفاد کو نظر انداز کر دیا جائے اور انجام کے دائمی مفاد کو پیش رکھا جائے اس لئے کہ اول کے مقابلہ میں آخر ہی کو فوقیت حاصل ہے۔'' (اعلیٰ۔ ضحٰی)

قرآن حکیم اس قسم کے مضامین سے بھرا پڑا ہے لیکن اس کا مدعا ہرگز یہ نہیں ہے کہ قوتِ ناطقہ انسانی، دینی و عقلی صلاحیتیں اور اس کے ترقی پسندانہ رجحانات کو یک قلم معطل سمجھ لیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ سوال ہے جو اربابِ عقل کی الجھن کا باعث بنا ہوا ہے لیکن یہ الجھن قرآنِ حکیم میں عدم فکر و تدبر کے باعث پیدا ہوتی ہے۔