نوٹ: تبصرہ کے لئے ہر کتاب یا رسالہ کے دو نسخے ارسال فرمائیں اور اس پر ''برائے تبصرہ'' لکھ کر اپنے دستخط ثبت کریں۔

کتاب : مرزائے قادیاں اور علمائے اہل حدیث

مؤلف : محمد حنیف یزدانی (قصوری)

سائز و ضخامت : 18x22/8۔ 100 صفحات

کتابت و طباعت : گوارا

قیمت : ۵۰/۱ روپے

ناشر : مکتبہ نذیریہ، فیروز پور روڈ (اچھرہ) لاہور

انگریز نے ہندوستان پر اپنا تسلط بڑھانے کے مقصد سے مسلمانوں میں جن فتنوں کو بطور خاص پروان چڑھایا ان میں سے مرزائے قادیاں کا وجود نامسعود اہم ترین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے اہل حدیث نے اس فتنہ کے استیصال پر بڑی توجہ دی بلکہ مولانا یزدانی کا تو یہ دعویٰ ہے کہ مرزائے قادیاں کا مقابلہ مرزا کی زندگی میں صرف علمائے اہل حدیث نے کیا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب میں علمائے اہلحدیث کی انہی خدمات کا ذِکر ہے۔ کتاب اگرچہ مختصر ہے تاہم غیر منقسم ہندوستان کے چیدہ چیدہ اہل حدیث بزرگوں کی مساعی کا ذِکر کافی تفصیل سے اس میں آگیا ہے خصوصاً شیخ الکل حضرت مولانا سید نذیر حسین محدّث دہلویؒ کا فتویٰ اور ان کے تلامذہ مولانا محمد بشیر سہسوانیؒ، مولانا محمد حسین بٹالویؒ اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے مناظرے و مباہلے۔ بالخصوص مولانا امرتسریؒ کا مباہلہ اور اس کے نتیجہ میں ہلاکتِ مرزا۔ علاوہ ازیں حافظ ابراہیم میر سیالکوٹیؒ کی کھلی چٹھی بنام مرزائے قادیاں اور علامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی پیشگوئی اور مولانا حافظ عبد اللہ محدّث روپڑیؒ، مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ، سید محمد شریف گھڑیالویؒ، مولانا عبد اللہ معمارؒ اور مولانا حافظ محمد گوندلوی غرضیکہ غزنوی، لکھوی، روپڑی اور دیگر کافی اہل حدیث علماء کی خدماتِ جلیلہ کا کافی تذکرہ اس کاب میں موجود ہے۔ گویا مرزائے قادیاں کے دعاویٔ باطلہ اور اخلاقِ سیئہ کی واقفیت کے ساتھ ساتھ جن اہل حدیث علماء نے تقریر و تحریر یا مناظرہ و مباہلہ سے ''قادیانیت'' کی پردہ وری کی ہے۔ ان کے حالات اور مساعی کا مطالعہ اس کتاب سے کیا جا سکتا ہے۔

مرزائیت کو سمجھنے اور اس کی کمر توڑنے کے لئے علمائے حق کی کوششوں کے تعارف کے لئے ایسی کتابوں کی اشاعت بہت مفید ہے۔

لیکن ہماری رائے میں باطل کی سرکوبی کے لئے علمائے حق کے کام کو ایسے نام و انداز سے بیان کرنا کہ وہ کسی ایک فرقہ کا کام نظر آئے خود علمائے حق کے لئے سود مند نہیں ہوتا بلکہ اس طرح دوسرے فرقوں سے متعلق اصحاب کے لئے استفادہ کی راہ میں ایک جذباتی رکاوٹ پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہتا ہے اور اس طرح انگریز اور پھر اس کی معنوی اولاد کی اس مطلوبہ ''فرقہ واریت'' کے مزید فروغ کا خطرہ ہوتا ہے جس میں اضافہ کرنے کی غرض سے فتنہ مرزایت کی تشکیل کی گئی تھی۔

ہم اہلِ حدیث کو یہ احساس اس لئے دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ دوسرے فرقوں کے علی الرغم یہ کوئی فرقہ نہیں بلکہ عقیدۃً اور عملاً کتاب و سنت کو تھام کر چلنے والی ایک جماعت ہے جن کا امتیاز جذبۂ اتباعِ سنت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باقی گروہوں کی طرح یہ شخصی یا علاقائی نسبتوں سے پاک ہے۔ اس کے حاملین کو تو امتیازی نشان کے طور پر اہل حدیث، اہل سنت وغیرہ کہا جاتا ہے۔

ہم اہل حدیث کا یہ عذر تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں ایسے ناموں سے علمائے حدیث کی خدمات اجاگر کرنے کا رجحان اس لئے پیدا ہوا ہے کہ دوسرے فرقے اپنے علماء کو بڑے بڑے القاب اور ان کے کاموں کو نہایت مبالغہ سے بیان کرتے ہیں حتیٰ کہ ان کے مؤرخین (جنہیں اپنے فن کے اعتبار سے غیر جانبدار رہنا چاہئے) بھی تعصبِ مذہبی میں علمائے حدیث کو نظر انداز کر جاتے ہیں بلکہ ان کی خدماتِ جلیلہ کا سہرا بھی اپنوں کے سر باندھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اہلِ حدیث کو یہ سمجھنا چاہئے کہ فرقہ کی بنیاد ہی تعصب اور جانبداری پر ہوتی ہے خواہ وہ کتنا بھی کم ہو، کیا ردِّ عمل کے طور پر ہی ایسی جانبداری صاحبِ عزیمت لوگوں کو اختیار کر لینی چاہئے؟ اور کیا کسی جماعت کی ایسی روش فرقہ واریت کے لئے جواز پیدا کرنے کا باعث تو نہ ہو گی؟

ہمارا مشورہ ہے کہ اہلِ قلم و زبان حضرات کو تقریر و تحریر میں احتیاط کا پہلو نہ چھوڑنا چاہئے اور ان عوام و جہلاء کو جو بعض فروعی اور چند ایک مسئلوں پر نیا فرقہ بنا لیتے ہیں ان کی فرقہ واریت کے چکروں سے نکال کر اتباعِ سنت میں پختہ کر کے صحیح قسم کا مسلمان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور علمائے حق کے کاموں کو مسلمانوں کی عظیم شخصیتوں کے کارناموں کی صورت میں اجاگر کرنا چاہئے۔

اپنے مذکورہ بالا احساسات کے باوجود ہم زیرِ نظر کتاب کو اس اعتبار سے ایک مفید خدمت سمجھتے ہیں کہ اس میں علمائے حدیث کی خدمات کا ایک اہم پہلو سامنے لایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا یزدانی کی اس محنت کا انہیں بہتر بدلہ عطا فرمائے۔ آمین۔
----------------------

کتاب : ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات

مؤلف : ابو یحییٰ امام خاں نوشہرویؒ

سائز و ضخامت : 20x26/8۔ 244 صفحات

کتابت و طباعت : گوارا اور کاغذ سفید

قیمت : 9 روپے

ناشر : مکتبہ نذیریہ، فیروز پور روڈ (اچھرہ) لاہور

اس گوہر نایاب کی دوبارہ اشاعت اور ضمیمہ کی صورت میں تتمّہ کا سہرا بھی مولانا یزدانی کے سر ہے۔ ''مرزائے قادیاں اور علمائے اہل حدیث'' کے بعد ''ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات'' کی اشاعت علمائے حدیث کے ساتھ ان کی گہری عقیدت کا ثبوت ہے، کیوں نہ ہو سنتِ رسول اور اس کے حاملین کی عظمت و جلالت کی صحیح قدر و قیمت اسی شخص کو ہو سکتی ہے جو جذبۂ اتباعِ سنت میں پدری اور خاندانی محبت کی بھی قربانی دے گیا ہو اور شرک کی وادیوں سے نکل کر وحید کا شیدا ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ مولانا یزدانی کا یہ جذبہ جوان رکھے اور انہیں توحید و سنت کی برکتوں سے مالا مال کرے۔

زیرِ نظر کتاب دراصل ایک مقالہ ہے جو مولانا عبد الغنی نوشہرویؒ المعروف امام خاں نوشہروی نے 1937ء میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ کی پچاس سالہ جوبلی کے موقعہ پر علماء و فضلاء کی موجودگی میں پڑھا تھا، بعد میں 1937ء سے 1970ء تک کی جملہ خدمات کا ضمیمہ مولانا یزدانی کی تالیف ہے جس میں پاک و ہند کے علمائے حدیث کے علاوہ خصوصی طور پر مشرقی پاکستان کے علمائے دیث کی خدمات کا انڈکس قابلِ ذکر ہے۔ یہ کتاب اپنی پہلی اشاعت کے بعد مدت سے نایاب تھی۔ پاکستان میں ایسی تاریخی اور علمی کتاب کی اشاعت کا حوصلہ تو کوئی جماعتی ادارہ یا مکتبہ ہی کر سکتا تھا لیکن مولانا یزدانی کی ذاتی ہمت ہے کہ اپنے مکتبہ سے شائع کرنے کے متحمل ہوئے ہیں۔

یہ کتاب کیا ہے؟ اہل حدیث کی علمی و تبلیغی خدمات کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ غیر منقسم ہندوستان میں بھی علمائے حدیث اپنے فرض منصبی سے پیچھے نہیں رہے اور ماضی قریب کی چند صدیاں تو ان کی تگ و تاز پر دوسروں سے مبارک اور آفریں لے رہی ہیں۔ ان مجاہدین اسلام نے جس طرح اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے عظیم الشان قربانیاں دے کر نقوش چھوڑے ہیں۔ اسی طرح جذبہ اتباع سنت میں لومۃ لائم سے بے نیاز ہو کر سنت اور طریقۂ محدثین کو فروغ دیا ہے۔ اس سیاسی و علمی جہاد کے ساتھ ساتھ تبلیغی و تعلیمی میدانوں میں بھی ان کا کام نمایاں ہے۔ درحقیقت جن علمائے اسلام نے بھی فرقہ واریت کے بندھنوں سے نکل کر کسی اسلامی فکر کا احیاء کیا وہ سنت و حدیث ہی کا فیضان ہے اس لئے اہل حدیث کی علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ علوم و فنون میں تفسیر و حدیث ہو یا فقہ و کلام، تاریخ و سیرت ہو یا اخلاق و احسان۔ ہند کے علمائے حدیث (جنہیں ان کے جذبۂ اتباع سنت کی وجہ سے اہل حدیث کہنا چاہئے یا وہ خود اہل حدیث کہلائے) بھی پیچھے نہیں رہے۔ ان صاحب ِ بصیرت علماء نے اس کام کو اسلام ہی کی خدمت سمجھ کر سر انجام دیا اور اسے فرقہ وارانہ سرگرمیوں کا رنگ نہ دیا، لیکن افسوس ہے کہ بعض کوتاہ فہم لوگوں نے سنت کی حمایت میں ان کے کام کو فرقہ واریت پر محمول کیا اور اہل حدیث کو ایکی فرقہ بنا ڈالا اور اس بھرے میں بعض اہل حدیث عوام اور ان کے راہنما بھی آگئے۔

بہر صورت ہندوستان میں جن علماء کو حمایتِ سنت یا خدمتِ حدیث کی وجہ سے امتیاز حاصل ہوا، ان کا کافی اور وافی ذکر اس طویل مقالے اور ضمیمہ میں ملتا ہے۔ مولانا نوشہرویؒ نے ہر فن کے الگ الگ تراجم اور عنوانات قائم کر کے ان علمائے اسلام کی جملہ خدمات کا مکمل و مفصل خاکہ اور نقشہ پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں پاک و ہند کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے عالم حدیث کی خدمات اور ادارے کا ذِکر ملا ہے۔

اپنی اس جامعیت کے باوصف یہ قابل قدر کتاب نو روپے میں مہنگی نہیں۔ اسے ہر لائبریری اور ادارے کی زینت بننا چاہئے۔
----------------------

کتاب : اہل حدیث کے امتیازی مسائل

مصنف : حضرت مولانا حافظ عبد اللہ صاحب محدث روپڑیؒ

سائز و ضخامت : 20x26/8۔ 116 صفحات

کتابت و طباعت : آفسٹ۔ کاغذ سفید۔

قیمت : 6 روپے

ناشر : مکتبہ دار الحدیث راجو وال، ضلع ساہیوال

کتاب کی علمی اور افادی حیثیت کے لئے تو حضرت العلام حافظ عبد اللہ صاحب محدث روپڑیؒ کا اسم گرامی ہی اس کے بلند پایہ ہونے کی کافی ضمانت ہے۔ کیونکہ حضرت حافظ صاحب کی شخصیت اپنے تبحرّ علمی اور فکر و عمل میں سلامت روی کی وجہ سے علمی حلقوں میں نہ صرف مسلمہ ہے بلکہ کتاب و سنت کی ترجمانی میں آپ کو مقتدیٰ اور وقت کی امامت کا درجہ حاصل ہے اور پھر زیرِ تبصرہ کتاب تو ایسے موضوع پر ہے جس میں آپ کی بصیرت کو سند سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ حافظ صاحب مرحوم سے شدید اختلافات رکھنے والوں نے بھی موصوف کو افتاء میں وحید العصر مانا اور اہم سے اہم تر مسئلہ میں آپ کی صلابت رائے کا لوہا قبول کیا۔ آپ کی تنقید اور پکڑ اتی مضبوط ہوتی تھی کہ جب کسی بڑے سے بڑے عالم کی گرفت کی تو اسے جواب دینے کا یارانہ ہوا۔ یو بندی مسلک کے خاتمۃ المحدثین مولانا انور شاہ صاحب مرحوم کی مسئلہ ''الفاتحۃ خلف الامام'' پر مشہور عام کتاب فصل الخطاب (عربی) کا جواب بنام ''الکتاب المستطاب'' (عربی) لکھا۔ مولٰینا موصوف اس کے عرصہ بعد تک زندہ رہے لیکن ان کی طرف سے یا ان کے کسی دیگر ساتھی کی طرف سے جواب نہ آیا۔

اسی طرح زیر نظر کتاب مشہور عالمِ دین دیو بندی گروپ کے حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ کی ایک کتاب ''الاقتصاد في التقلید والاجتہاد'' ہی کا جواب ہے جس میں انہوں نے اہل حدیث پر نہایت سخت طعن و تشیع سے کام لیتے ہوئے انہیں یکے از ''فتنۂ عظیمہ'' قرار دیا اور اہل حدیث کے چودہ امتیازی مسائل قرار دیتے ہوئے انہیں حدیث کے خلاف قرار دیا۔ حافظ صاحب مرحوم نے اگرچہ ان مسائل کی اس دور میں گرما گرمی اور اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حقیقت بیان کی ہے اور چند ایک مسائل کے حدیث کے مطابق ہونے پر پُرزور دلائل دیئے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بتلا دیا ہے کہ باقی مسائل شافعہ وغیرہ کے ہیں جو تقلید کے اعتبار سے حنفیہ ہی کے مثل ہیں اس لئے ان کے جوابات کی ذمہ داری اہل حدیث پر نہیں ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں اہم اصول جو اہل حدیث کے لئے موصوف نے پیش کیا ہے وہ انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:

''اہل حدیث کو چونکہ کسی خاص امام سے تعلق نہیں بلکہ جدھر حدیث ہے وہی ان کا مذہب ہے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ ان کے اتفاقی مسائل غلط ہو جائیں۔''

حافظ صاحب کی کلام مذکور سے دو چیزیں خود اہل حدیث کے لئے نصیحت ہیں:

1. اہل حدیث کو آمین، رفع یدین اور فاتحہ کے مسئلہ پر اس لئے نہ اڑنا چاہئے کہ یہ ایک یا بہت سے اماموں کے متفقہ مسئلے ہیں بلکہ اس لئے کہ اماموں کے امام، امام المتقین اور سید المرسلین کی سنت ہیں، مثلاً رفع الیدین، آمین وغیرہ۔

2. بالفرض اگر کسی اہل حدیث کا کوئی مسئلہ سنتِ صحیحہ کے مطابق نہ ہو تو وہ مسئلہ اہل حدیث کا ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ اہل حدیث کا عقیدہ اس فکر پر مبنی ہے کہ مطابقتِ سنت ہی معیار، حق ہے اور وہی اہل حدیث کا عمل ہونا چاہے مثلاً شرمگاہ یا عورت کے ہاتھ لگانا ناقضِ وضو ہے یا نہیں؟ اس میں دیکھا جائے کہ سنت کی راہنمائی کیا ہے؟ اس فکر و عقیدہ سے جو بھی نتیجہ حاصل ہو گا وہی اہل حدیث کا مسئلہ ہو گا۔

3. چونکہ ہر مذہب کی اصل بنیاد فکر و عقیدہ ہوتا ہے۔ اس لئے حافظ صاحبؒ نے شروع میں فکری اختلاف پر بحث کی ہے کہ حنفیہ شافعیہ کے نزدیک تقلید ضروری ہونے کی وجہ سے اپنے فرقہ کے مسائل پر کار بند رہنا لا بُدّی ہے جبکہ اہل حدیث کو کسی بھی امام کے مسئلہ کی پابندی نہیں، وہ سنتِ رسول ﷺ میں مسئلہ کو جیسا پائیں گے ویسا ہی عمل کریں گے۔ بنیادی مسئلہ تقلید کا مفصل جواب حضرت حافظ صاحب نے اپنی ایک مستقل کتاب ''تعریف اہل حدیث'' میں دیا ہے۔

ہمیں مولانا ابو السلیم محمد یوسف صاحب مہتمم دار الحدیث راجو وال کی طرف سے شائع کردہ یہ کتاب دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی ہے اور تعجب بھی ہوا ہے کہ جو کام حافظ صاحبؒ کے اصل ورثاء کا تھا وہ اپنی بے سرو سامانی کے عالم میں انہوں نے کیسے کر لیا؟

اور پھر ایسی خوبصورت شکل میں کہ صرف زیب و زیبائش ہی کی وجہ سے کتاب پڑھنے کو جی چاہتا ہے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ تبصرہ نگار ذاتی طور پر ان کی مصروفیتوں اور محنتوں سے واقف ہیں جو وہ مدرسہ دار الحدیث راجو وال کے لئے کرتے رہے ہیں اور پچھلے ایک دو سال تو دار الحدیث اور مسجد کی شاندار تعمیرِ نو کی وجہ سے وہ بہت زیر بار بھی ہیں۔ اب مکتبہ دار الحدیث کھول کر انہوں نے بڑی حوصلہ مندی کا ثبوت دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا شوق و ذوق جوان رکھے۔ اہلِ خیر حضرات کو بھی ان سے خوب تعاون کرنا چاہئے۔

کتاب کے شروع میں حضرت حافظ صاحب مرحوم کے اجمالی سوانح اور تصنیفات و خدمات کی ایک جھلک بھی ہے جو مولانا عطا اللہ حنیف بھوجیانی کی توجہ کا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کارِ خیر میں جملہ حصہ لینے والوں کو اجرِ دارین سے نوازے۔ آمین۔

آخر میں مرحوم بزرگوں کی تصنیفات کو شائع کرنے والوں سے گزارش ہے کہ جو تصنیفات اپنے انداز و بیان سے اس دور کے خصوصی دواعی کے تحت لکھی گئی ہوں ان کو نئے سرے سے ایڈٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ سوئے اتفاق سے مسلمانوں میں ابھی فرقہ بازی کا بازار ٹھنڈا نہیں پڑا اور پھر ماضی قریب کے بزرگوں کے ساتھ عقیدت کی وجہ سے تو لوگ ان کا نام لے کر کسی تنقید کو سننا بھی گوارا نہیں کر سکتے۔

خواہ وہ کتنے بھی اتباعِ سنت کے جذبہ سے کیوں نہ ہو، اس لئے بہتر ہے کہ بزرگوں کا فیض باقی رکھنے کے لئے ان کا مواد صرف ان کی تحقیقی کی صورت میں پیش کیا جائے۔ پھر حافظ صاحب مرحوم کی کتب تو ایسی جامع ہوتی ہیں کہ ایک مسئلہ میں بیسیوں دوسرے مسئلے بھی حل کرتے جاتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ''مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ'' کی طرح ان کے جملہ رسائل و فتاویٰ موضوع اور مسائل کی ترتیب سے مرتب کئے جائیں۔ اس طرح سے ان کی جملہ تصنیفات بھی اکٹھی ہو جائیں گی ورنہ چھوٹے رسائل کا اس طرح محفوظ رہنا بڑا مشکل ہے نیز حافظ صاحب مرحوم کی شخصیت اور ان کی فکری اور علمی عظمت کا صحیح اندازہ بھی اسی وقت ہو سکے گا۔

کاش کہ اللہ تعالیٰ حافظ صاحبؒ کا کوئی خلف پیدا کر دے جو ان کا نام و کام باقی رکھ سکے۔
----------------------

کتاب : اشاریہ تفسیر ماجدی (الفاظ و مضامین، اسماء و اماکن)

مرتبہ : حافظ نذر احمد پرنسپل شبلی کالج لاہور

سائز و ضخامت : 18x22/6۔ تفسیر ماجدی کے مطابق

کتابت و طباعت : آفسٹ اور سفید کاغذ

قیمت : 3 روپے

ملنے کا پتہ : مسلم اکادمی 18/29 محمد نکر، علامہ اقبال روڈ لاہور

جائزہ مدارس عربیہ مغربی پاکستان، ارض مقدس، فلسفہ نماز وغیرہ کے مصنف حافظ نذر احمد صاحب کا ترتیب کردہ ''اشاریہ برائے تفسیر ماجدی'' ان حضرات کے لئے نہایت مفید ہے جن کے پاس تفسیر ماجدی ہے۔ اشاریہ ترتیب دینا بڑا محنت طلب کام ہوتا ہے اور پھر وہ بھی کسی دوسرے کی کتاب کا۔ تفسیر ماجدی کی اہمیت اور مقبولیت سے اس کے قارئین واقف ہیں لیکن خود اس کے مصنف مولانا عبد الماجد دریا آبادی اپنی مصروفیات میں اشاریہ جیسا محنت طلب کام نہ کر سکے۔ تفسیر ماجدی کے بالمقابل جب مولانا ابو الکلام آزادؒ اور مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی تفاسیر کے اخیر میں خود ان کے صنفین کے اشارے تفسیروں سے ملحق نظر آئے تو تفسیر ماجدی کی یہ کمی خاصی محسوس ہوتی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ حافظ نذر احمد صاحب کے خلوص اور ذوق و شوق سے یہ خلا بھی پورا ہو گیا اور سائز کی مناسبت کی بنا پر اسے تفسیر ماجدی کے ساتھ ہی جلد بھی کرایا جا سکتا ہے۔ حافظ صاحب نے اسے تربیت دینے میں بہت عرق ریزی سے کام لیا ہے اور پھر دوسرے بے شمار مشاغل کے ساتھ تو اس کام کی تکمیل کارے دار ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خصوصی سے ان سے یہ کام بھی لے لیا۔

ہم حافظ صاحب کی اس کوشش کی داد دینے کے ساتھ ساتھ ابھی ایک چیز محسوس کر رہے ہیں کہ سرسری مطالعہ سے یہ اشاریہ قرآن پاک کے الفاظ و معانی کا انڈیکس معلوم ہوتا ہے اس لئے اگر فرصت نکال کر اسے تفسیر کے مضامین کی ترتیب سے تیار کیا جا سکے تو یہ بھی ایک عظیم کام ہو گا۔ اشاریہ کی کتابت و طباعت نہایت اعلیٰ ہونے کے علاوہ کاغذ بھی عمدہ استعمال کیا گیا ہے اور اوپر کارڈ بورڈ کی مضبوط جلد ہے۔ اس گرانی کے دور میں تین روپے قیمت مناسب ہے۔
----------------------

کتاب : مکاتیب سید ابو الاعلیٰ مودودی (حصہ اول)

مرتب : عاصم نعمانی

سائز و ضخامت : 20x30/16۔ 256 صفحات

قیمت اعلیٰ ایڈیشن : 50/5 روپے

سستا ایڈیشن : 3 روپے

ناشر : ایوانِ ادب چوک اردو بازار، لاہور

کسی تحریر یا اس کے مجموعے کی اہمیت کا کافی حد تک انحصار اس کے لکھنے والے کی شخصیت پر بھی ہوتا ہے۔ زیرِ تعارف و تبصرہ کتاب دنیائے اسلام کی معروف سیاسی اور علمی شخصیت مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی خط و کتابت کا ایک مجموعہ ہے جس کے مرتب مولانا کے خاص عقیدت مند، ہمارے دوست محمد سلطان عاصم نعمانی ہیں۔ ان مکاتیب میں مولانا مودودی کی علمی، فکری اور سیاسی شخصیت کو بہت قریب سے دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ان خطوط کا ایک بڑا حصہ ان سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے جو بعض لوگوں کو مولانا کے افکار و تحریک اور ان کی تصنیفات پر شبہات یا الجھنوں کی صورت میں پیدا ہوئے اور ان کا جواب مولانا نے بے تکلفانہ اور ہلکے پھلکے انداز میں دیا ہے۔ علمی مسائل و مباحث کو انفرادی سطح پر حل کرنا ایک خاص اور مشکل فن ہے۔ جس طرح ایک استاد کسی موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے پوری کلاس کی ذہنی اور علمی سطح کے مطابق کلام کرتا ہے۔ لیکن جب کوئی طالب علم کسی نکتہ کو اخذ کرنے یا قبول کرنے میں ناکام رہ کر سوال کرتا ہے تو پھر ایک ماہر استاد شبہہ کی خصوصی نوعیت کو مدنظر رکھ کر ایسا دل نشیں لہجہ اور طرزِ استدلال اختیار کرتا ہے جس سے سائل کی تسلی اور تشفی ہو جائے۔ ان مکاتیب کے مطالعہ سے بعض جگہ یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ مولانا ''تنقیحات'' کے اسلوب سے ہٹ کر خطبات کے انداز میں بات کر رہے ہیں۔

ویسے تو یہ کتاب عمومی فائدے کی ہے لیکن خصوصی طور پر ہم مولانا کے متعلق سنی سنائی باتوں پر اعتماد کرنے والوں کو اس کے مطالعہ کا مشورہ دیتے ہیں۔ کتاب کو دیدہ ذیب بنانے کے لئے ناشر نے بھی اپنی صلاحیتیں صرف کر دی ہیں۔ (خ۔ع۔ر)