بالوں کا رکھنا سنت، ان کی اصلاح اور ان کا اکرام ضروری (ابو داؤد) یہ قطعاً ممنوع ہے کہ بالوں کو پراگندہ رکھا جائے (مالک) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ''بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے (صحیح مسلم) لہٰذا اس اصول کی روشنی میں بال خوبصورتی سے سجے ہوئے ہونے چاہئیں نہ کہ بکھرے ہوئے بالوں میں کنگھی کی جائے پہلے سیدھی طرف پھر الٹی طرف (صحیح بخاری) سر کے بیچ میں مانگ نکالی جائے (ابو داؤد) بالوں میں کثرت سے تیل ڈالا جائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے (شرح السنہ مشکوٰۃ) بالوں میں خوشبو لگائی جائے (صحیح بخاری) سفید بال چنے نہ جائیں (ابو دؤد) اگر بال سفید ہو جائیں تو ان کو رنگ لیا جائے تاکہ اہل کتاب سے مشابہت نہ ہو لیکن سیاہ خضاب نہ لگائیں (صحیح مسلم) غرض یہ کہ بالوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر وقت بناؤ سنگھار ہی ہوتا رہے۔ یہ جذبۂ آرائش و نمائش ایک حد تک تو مسنون ہے لیکن اس کی زیادتی ممنوع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس جذبۂ آرائش کو بالکل آزاد نہیں چھوڑا بلکہ پابندی عائد کر دی کہ روزانہ کنگھی نہ کی جائے بلکہ ایک دن بیچ (ابو داؤد، نسائی) ہاں اگر بال بہت گھنے ہوں تو روزانہ کنگھی کی جا سکتی ہے۔ (نسائی) گویا اسلام ایک معتدل دین ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط۔ بالوں کی لمبائی کی بھی حد بندی کر دی (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ کے بال کم سے کم نصف کانوں تک اور زیادہ سے زیادہ کندھوں تک ہوا کرتے تھے (صحیح مسلم)، مردوں کو عورتوں کی مشابہت سے منع فرمایا اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت سے منع فرمایا (صحیح بخاری) یعنی عورتیں اتنے چھوٹے بال نہ کریں کہ مردوں کے مشابہ ہو جائیں اور نہ مرد اتنے لمبے بال کریں کہ عورتوں کے مشابہ ہو جائیں۔ غیر مسلمین کی نقالی سے منع فرمایا (ابو داؤد) گیسوؤں کے سلسلہ میں ہیئتِ یہود سے منع فرمایا (ابو داؤد) عورتوں کو مصنوعی بال جوڑ کر بال لمبے کرنے سے منع فرمایا۔ (صحیح بخاری)

سر کے بالوں کے متعلق احکام کا مختصر خاکہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ آپ کو ان احکام کا علم ہو جائے۔ لیکن اصل مقصد جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے وہ یہ کہ ہم اپنے ایمان و عمل کا جائزہ لیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا ایمان اللہ اور رسول ﷺ پر ہے یا فیشن پر؟ ہم خدا پرستی کرتے ہیں یا فیشن پرستی۔ غور کیجئے، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم بالوں میں تیل ڈالیں۔ اگر اللہ یہ حکم دیتا کہ سر میں تیل نہ ڈالا جائے یا بالوں کو خشک رکھا جائے تو یہ حکم ہم پر بڑا بار گزرتا، یا تو ہم اسلام کو خیر باد کہہ دیتے، اور اگر یہ نہیں تو مُلّا کو ضرور برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکالتے۔ لیکن انہی بالوں کا خشک رکھنا فیشن بن کر جب ہمارے سامنے آیا تو ہم نے خندہ پیشانی سے اسے خوش آمدید کہا۔ بتائیے یہ اللہ پر ایمان ہے یا فیشن پر؟

حکم تھا کہ نصف کان سے کندھے تک بال رکھے جائیں، لیکن ہم نے اس کی بھی خلاف ورزی کی، جدید طریقہ کے بال رکھے جن کو عرفِ عام میں انگریزی بال کہا جاتا ہے۔ کیا یہ اللہ پر ایمان ہے یا مغربی تہذیب پر؟

سنت یہ ہے کہ سر کے بیچ میں مانگ نکالی جائے۔ ہم نے اس سنت کو بھی چھوڑا۔ یا تو مانگ نکالی ہی نہیں، سارے بال پیچھے موڑ دیئے۔ اور اگر کالی بھی تو سر کے ایک جانب، بالوں میں جو توازن شریعت کو مدّ نظر تھا اس کو ہم نے پسند نہیں کیا۔ سیدھی مانگ کے بجائے ٹیڑھی مانگ نکالی۔ اور اسی پر کیا بس ہے، ہمارا ہر کام ٹیڑھا ہو گیا۔ دل بھی کج ہو گئے۔ اب ہم فیشن کی تو پرواہ کرتے ہیں شریعت کی پرواہ نہیں کرتے۔

عورتوں نے سر پر کو ہان نما بال رکھنے شروع کر دیئے۔ فیشن پرستی نے حسن و دلکشی کا باغ اجاڑ دیا لیکن ان کو احساس تک نہ ہوا۔ نقالی کا جذبہ دل و دماغ پر اس قدر مستولی ہوا کہ جذبۂ تزئین و تحسین فیشن پرستی کی نذر ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے صدہا سال پہلے ایسی عورتوں کی پیشین گوئی کر دی تھی جن میں منجملہ اور صفات کے یہ صفت بھی بیان کی تھی اور پھر فرمایا تھا کہ ایسی عورتوں کو جنت کی خوشبو بھی میسر نہ ہو گی (صحیح مسلم) غرض یہ کہ ہم نے وہ کام کیا جس کی ممانعت تھی۔ کیا اسی کا نام ایمان باللہ ہے؟

مزید سنیے۔ یہ فیشن پرستی اور مغربی تہذیب کی نقالی ہمیں کہاں سے کہاں لے گئی، لیجئے اب گُدّی پر بھی بال بڑھنے شروع ہو گئے۔ بد ہیئتی اور بدنمائی کی یہ ایسی زندہ مثال ہے کہ اس کے متعلق کچھ نہ کہا جائے تو بھی کافی ہے۔ اگر اس طرح بال رکھنا اسلامی طریقہ ہوتا تو کیا یہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے اس طرح کے بال رکھتے؟ کیا ایسا کرنے والوں کو وحشی اور جنگلی نہ کہا جاتا۔ کیا اسلام کو غیر مہذب دور کا مذہب نہ کہا جاتا۔ لیکن افسوس نقالی اور فیشن پرستی نے خوبصورتی کے فطری رجحان کو ملیا میٹ کر دیا۔ یہ ہے ایمان بالفیشن۔ کاش یہ بات اللہ اور رسول کے احکام کے ساتھ ہوتی تو پھر ایمان اپنی بہاریں دکھاتا۔ اور نقالی نے جو احساسِ کمتری پیدا کر کے ہمیں ذلیل کر دیا یہ نوبت نہ آتی۔ ہماری تہذیب زندہ ہوتی، ہمارا وقار بلند ہوتا اور ہم دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور اور متمدن قوم ہوتے۔

اب بھی وقت ہے، سنبھل جائیے۔ ایمان باللہ کو استوار کیجئے۔ اس دن کو یاد کیجئے جس دن آپ کو اللہ کے سامنے حساب دینا ہے اس دن اللہ کے عذاب سے بچانے والا کون ہو گا۔ یہ دنیا چند روزہ ہے۔ یہ وہاں کام نہ آئے گی۔ یہ فیشن پرستی فلاح کا بارعث نہ بنے گی۔ بلکہ غضبِ الٰہی کا موجب ہو گی جن کی نقالی پر آپ کو ناز ہے یہ وہاں آپ کے کچھ کام نہ آسکیں گے۔ وہاں احکامِ الٰہی کی تعمیل میں محض اللہ کی رضا کے لئے جو کام کئے ہوں گے وہی کام آئیں گے۔ اگر آپ لا الٰہ الا اللہ پڑھتے ہیں تو اللہ کی حاکمیت تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ اگر محمد رسول اللہ آپ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ (ﷺ) کی اتباع کر کے اللہ کی حاکمیت کا عملی ثبوت کیوں پیش نہیں کرتے۔ جب تک اللہ کی پسند ہماری پسند نہ بن جائے اللہ کی حاکمیت کا دعویٰ صرف زبان پر ہے دل کی گہرائیوں میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں۔