توحید کے عَلم کو اُٹھا کر بڑھے چلو       دنیائے کفر و شرک پہ چھا کر بڑھے چلو!
سوزِ دل و جگر سے جلا کر چراغِ دیں      دینِ نبی ﷺ کی شان بڑھا کر بڑھے چلو!
ہر اِک نشانِ کفر مٹا کر جہان سے       ہر تبکدے کو آگے لگا کر بڑھے چلو!
دیں ہی فقط ہے اہلِ محبت کا راستہ       یہ راستہ ہر اک کو دکھا کر بڑھے چلو!
پھر سر اُٹھا سکے نہ کبھی کفر پیشِ حق،        سر پہ وہ اس کے ضرب لگا کر بڑھے چلو!
آجائے اگر وقتِ شہادت زہے نصیب         تیغ و تبر سے تن کو سجا کر بڑھے چلو!
عاجزؔ یہ جسم و جاں تو امانت خدا کی ہے
راہِ خدا میں ان کو لٹا کر بڑھے چلو!