پچھلے دنوں میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ اک سو ساٹھ کلیدی اسامیوں کے لئے حکومت کو درخواستیں مطلوب ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے ملازمتوں کے لئے صنفی امتیاز بھی ختم کر دیا تھا یعنی ان اسامیوں کے لئے عورتیں بھی درخواستیں دے سکیں گی۔ (نواے وقت وغیرہ)

کہتے ہیں کہ حکومت نے اس فیصلہ کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہرحال صورت کوئی ہو، خواتین کے لئے سرکار دربار میں شرف باریابی کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ اسمبلی کی ممبری اور وزارت سے لے کر مختلف محکموں میں ملازمت اور امارت تک وہ فائز ہیں اور ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے انسانی اخلاق اور کیریکٹر پر جو غلط اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں قرآن و حدیث اور ائمہ دین کے ارشادات آپ کی خدمت میں پیش کریں تاکہ آپ اندازہ کر سکیں گے کہ اسلام میں ان نازنینوں کے لئے خلوت سے جلوت میں آنے کے لئے کتنی اور کیسی گنجائش ہے اور سرکاری ملازمتوں میں حصہ لینے کے لئے ازروئے دین کس قدر اور کیسے حصہ لے سکتی ہیں؟

قرآنِ کریم کا ارشاد

قرآن نے عورت کا دائرہ کار اور مقام گھر کی چار دیواری مقرر کی ہے:

وَقَرْنَ فِي بُيُوْتِكُنَّ (پ ۲۲۔ الاحزاب ع ۴) (اے بیبیو!) اپنے گھروں میں جمی بیٹھی رہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ عورت پریٔ خانہ تو ہو سکتی ہے، شمعِ محفل نہیں۔ اقبال مرحوم نے اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے ؎
آغوشِ صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے
وہ قطرۂ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر!

اس کے بعد بن سنور کر نکلنے سے منع فرمایا اور نماز، زکوٰۃ نیز اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تاکید کی،

پھر فرمایا:﴿وَاذكُر‌نَ ما يُتلىٰ فى بُيوتِكُنَّ مِن ءايـٰتِ اللَّهِ وَالحِكمَةِ...٣٤﴾... سورة الاحزاب

اور تمہارے گھروں ميں خدا کی آیتیں اور دانائی کی جو باتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو یاد کیا کرو۔

قرآنِ حمید سے فرض اپنی اور خلقِ خدا کی اصلاح ہے۔ باہر بھی اور اندر بھی۔ مگر ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں صرف اپنی فکر چاہئے۔ گھر میں رہ کر جو ہو سکتا ہے کرو، باہر نکلنے کی ضرورت نہیں اور سرکاری ملازمتوں کا دائرہ کار ''گھر'' نہیں ''باہر'' ہے۔ اس لئے یہ سیاسی گراؤنڈ زنانہ ٹیم کے لئے بالکل ناسازگار ہے۔

پردہ کی پابندی:

ہمیں حکم ہوتا ہے:

﴿وَإِذا سَأَلتُموهُنَّ مَتـٰعًا فَسـَٔلوهُنَّ مِن وَر‌اءِ حِجابٍ...٥٣﴾... سورة الاحزاب

جب کوئی چیز تم ان (عورتوں) سے مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو۔

ظاہر ہے جو سربراہِ مملکت ہو اس کے لئے یہ پابندی بے معنی شے ہے اور نہ یہ اس کے لئے ممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض یہ فرمائیں کہ ان آیات کا تعلق ازدواجِ مطہرات سے ہے تو عرض ہے کہ جہاں اتنی احتیاط خود ازواجِ مطہرات جیسی مبارک ماؤں کے لئے ضروری ہے وہاں دوسری تیسری خواتین اور پاکستانی ماؤں کے لئے کتنی ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ مفسرین نے لکھا ہے کہ گو ان آیات میں خطاب ازواجِ مطہرات کو کیا گیا ہے تاہم ان کا حکم عام ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:

لأن موردھا إن کان خاصا في حق أزواج النبيﷺ لکن الحکم عام لکل من المؤمنات (تفسیر احمدی)

یعنی گو ان آیات کا نزول ازواج مطہرات کے بارے میں ہوا ہے تاہم حکم عام ہے اور اس میں تمام مسلمان عورتیں شامل ہیں۔

صحابہؓ کا تعامل:

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ صحابہؓ اور صحابیاتؓ نے اس حکم کی سختی سے پابندی کی تھی۔

کان أصحاب رسول اللہ ﷺ یسدون الثقب والکوی في الحیطان لئلا تطلع النساء علی الرجال (مجالس الابرار)

یعنی حضور کے صحابہ دیواروں کے جھروکوں اور سوراخوں کو بند کر دیا کرتے تھے تاکہ عورتیں مردوں کو نہ جھانکیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے:

«المرءة عورة فإذا خرجت استشرفھا الشیطان» (ترمذی۔ ابن مسعود)

عورت سراپا عریانی کا نام ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے۔

ظاہر ہے یہ امور ایک سربراہِ مملکت اور افسری کے فرائض اور پوزیشن کے لحاظ سے بالکل بے جواز ہیں۔ ملک کا فرمانروا اور افسر چھپ کر نہیں بیٹھ سکتا اور نہ ہی اسی طرح کارِ حکومت کی تکمیل ممکن ہوتی ہے۔

ذمہ دار:

فرمایا:﴿الرِّ‌جالُ قَوّ‌ٰمونَ عَلَى النِّساءِ...٣٤﴾... سورة النساء" مرد عورتوں کے ذمہ دار اور نگران ہیں۔

تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ:

قد ورد أنھن ناقصات عقل و دین والرجال بعکسھن کما لا یخفٰی

کیونکہ مردوں کے برعکس عورتیں عقل اور دین میں ناقص ہیں۔

تابعدار:

اس کے بعد فرمایا:

﴿فَالصّـٰلِحـٰتُ قـٰنِتـٰتٌ﴾ پھر جو عورتیں نیک ہیں وہ تابعدار ہیں

تابعدار، ذمہ دار اور نگران نہیں ہوتا۔

تادیب:

﴿وَالّـٰتى تَخافونَ نُشوزَهُنَّ فَعِظوهُنَّ وَاهجُر‌وهُنَّ فِى المَضاجِعِ وَاضرِ‌بوهُنَّ...٣٤﴾... سورة النساء

اور تمہیں جن کی بد خوئی کا ڈر ہے ان کو سمجھاؤ اور ان کے بسترے الگ کر دو اور ان کو مارو۔

تادیب، نگران کا کام ہوتا ہے، محکوم کا نہیں۔

اطاعت:

﴿فَإِن أَطَعنَكُم فَلا تَبغوا عَلَيهِنَّ سَبيلًا...٣٤﴾... سورة النساء

اب اگر وه تمہاری اطاعت کر لیں تو تم ان پر الزام کی راہ مت تلاش کرو۔

اطاعت شعاری، نگران اور رہنما کا شیوہ نہیں ہوتا، رعایا کا ہوتا ہے۔ گویا کہ یہ جنس فطری طور پر تابعدار بنائی گئی ہے۔ رہنما، نگران اور حاکم نہیں بنائی گئی ہے۔ اسی لئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ چند لمحے بحیثیت نگران بسر کرنے کے بعد مرتے دم تک پچھتاتی رہیں بلکہ یہاں تک کہہ ڈالا کہ مجھے حضور کے روضۂ پاک میں نہ دفن کیجیئو کیونکہ مجھ سے ایک جرم ہو گیا ہے یعی یہی میدانِ سیاست میں نکلنے کا۔

حدیثِ پاک

کمزور جنس:

«رویدك یا أنجشة لا تكسر القوارير قال قتادة يعني ضعفة النساء»

اے انجشہ! تو (گانا) چھوڑ دے! شیشے نہ توڑ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس سے مراد عورتوں کی کمزوری ہے۔ (بخاری و مسلم عن انسؓ)

محدّثِ دہلویؒ لکھتے ہیں:

شبه النساء بالقواریر في الرقة والضعف وسرعة الانکسار (لمعات)

یعنی عورتوں کو شیشے سے۔ تشبیہ دی ہے۔ رقت میں، کمزوری میں اور جلدی چکنا چور ہونے میں۔

غور فرمائیے! جس آبگینے کی نزاکت کا یہ عالم ہو کہ صرف حسنِ آواز کی لطیف ٹھوکر سے چکنا چور ہو سکتا ہے اسے کار زارِ سیاست کے جھگڑوں، طوفان و زلازل اور ایٹم بموں کی مشتعل دنیا میں قدم رکھنے کا کیسے حوصلہ ہو سکتا ہے کیونکہ حاکم اور سربراہِ مملکت کے لئے توانا، سخت اور چٹان کی مانند مضبوط ہونا ضروری ہے اور عورت کے مندرجہ بالا نقائص اس سربراہی کے بوجھ کے قطعاً متحمل نہیں ہو سکتے۔ خاص کر جو شخص جلد متاثر ہو سکتا ہے وہ خواہ مرد ہی کیوں نہ ہو، سربراہی کے لائق نہیں ہوتا۔ اور جس جنس کی خاصیت ہی ''زود پذیری'' اور ''جلد متاثر ہونا'' ہو وہ اس کی کیسے اہل ہو سکتی ہے؟

وہ قوم کبھی کامیاب نہ ہو گی:

حضور علیہ السلام نے ایران کی ایک شاہزادی کی سربراہی کا ذکر سن کر فرمایا تھا:

«لن یفلح قوم ولّو أمرھم امرأة» (بخاری)

وہ قوم کبھی کامیاب نہ ہو سکے گی جس نے کسی عورت کو اپنا حکمراں بنا لیا۔

پرویز شاہِ کسریٰ کو اس کے بیٹے نے قتل کر دیا تھا۔ اور چھ ماہ بعد وہ خود بھی چل بسا تھا۔ ولی عہد اور کوئی نہیں تھا، مجبوری تھی، اس پر انہوں نے شاہزادی بوران کو تخت پر بٹھا دیا اور بالکل اسی طرح جس طرح کبھی ہر طرف سے مایوس ہو کر متحدہ محاذ نے محترمہ فاطمہ جناح کو انتخاب کیا تھا۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر مندرجہ بالا ارشاد ہوا تھا۔

حضرت ابوبکرہؓ صحابی نے حضور کا یہ ارشاد اس وقت سنایا تھا جب متحدہ محاذ (حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ) کی طرف سے کسی نے ان کو حضرت صدیقہؓ کی قیادت میں لڑائی کے لئے دعوت دی تھی۔

غور فرمائیے! یہ دونوں محل و موقعے کس قدر یاس انگیز اور مجبوری کے موقعے ہیں لیکن اس کے باوجود ارشاد ہوتا ہے، ''کامیابی مشکل ہے'' حالانکہ حالات کا جو اضطرار تھا اس کی بنا پر یہ کہہ دیا جاتا، ''خیر! کوئی حرج نہیں'' مگر ایسا نہیں کیا۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ عورت کی قیادت سنت نہ بن جائے اور خود حضرت صدیقہؓ نے اس حدیث کو سننے کے بعد بہت غم کیا اور آپ جب کبھی آیت وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ پڑھتیں تو رو پڑتیں یہاں تک کہ آنچل تر ہو جاتا۔ (در منثور)

حضرت امام نسائیؒ نے مندرجہ بالا حدیث کا عنوان یہ رکھا ہے۔

«النھي عن استعمال النساء في الحکم» (نسائی شریف جلد ۲، ص ۳۰۴)

یعنی حکومت میں عورتوں کو مقرر کرنے کی ممانعت کا بیان

ائمۂ دین کے ارشادات

علامہ نسفی:

نے سربراہ کے لئے یہ شرطیں لگائی ہیں:

یشترط أن یکون من أھل الولاية المطلقة أي مسلماحر اذكرا عاقلا بالغا

يعنی اس كے لئے یہ شرط ہے کہ مسلمان ہو۔ آزاد ہو، مرد ہو اور عاقل بالغ ہو۔ (عقائد نسفی)

پھر فرمایا۔ عورت نہ ہو، کیوں؟

والنساء ناقصات عقل و دین یعنی عورتیں عقل او دین دونوں لحاظ سے نامکمل ہیں۔

مصنفِ نبراس:

نبراس کے مصنف نے شرح عقائد نسفی میں عورت کی سربراہی کے عدمِ جواز کے لئے چار وجوہات بیان فرمائی ہیں:

1. ایک یہ کہ عورت عقل اور دین دونوں میں ناقص ہے۔

2. حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس قوم نے اپنا والی عورت کو بنایا وہ کبھی کامیاب نہ ہو گی۔

3. عورت کے لئے پردہ اور مردوں کی محفل میں جانے سے پرہیز ضروری ہے۔

4. عدمِ جواز پر اُمّت کا اجماع ہے جو بیچاری امامتِ صغریٰ (نماز) کی اہل نہیں وہ امامتِ کبریٰ (حکومت) کی اہل کیسے ہو سکتی ہے؟ (ملخصاً نبراس ص ۵۳۶)

شیخ محدث دہلویؒ:

حضرت شیخ عبد الحق محدّث دہلویؒ فرماتے ہیں:

ازیں جا معلوم شد که زن قابلِ ولایت و امارت یست (اشعۃ اللمعات)

یعنی مندرجہ بالا حدیث کی رو سے ثابت ہوا کہ عورت حکومت اور امارت کی اہل نہیں ہے۔

صوفیاءِ کرام کا فیصلہ:

حضرت امام شعرانی فرماتے ہیں کہ سربراہِ مملکت کے لئے مرد ہونا شرط ہے اور فرمایا، اہلِ کشف صوفیاء کرام نے مذکر ہونے کی شرط، ہر داعی کے لئے لازمی قرار دی ہے اور آج تک ہمیں کسی سے یہ اطلاع نہیں پہنچی کہ مریدوں کی اصلاح کے لئے میدان میں سلف صالحین کی کوئی خاتون اتری ہو۔ عورتیں نیک تو یہ ہو سکتی ہیں لیکن سیاسی ربراہ اور داعی نہیں ہو سکتیں جیسے حضرت مریمؓ اور آسیہؓ مبارک ہستیاں تھیں۔ ان کی عبارت یہ ہے:

وقد أجمعوا علی اشتراط ذکورته ....... وقد أجمع أھل الكشف علي اشتراط الذكورة في كل داع إلي الله ولم يبلغنا أن أحدا من نساء السلف الصالح تصدرت لتربية المريدين أبدا النقص النساء في الدرجة وإن ورد الإكمال في بعضھن كمريم بنت عمران واٰسيةامرأة فرعون فذٰلك كمال بالنسبة للتقويٰ والدين لا بالنسبة للحكم بين الناس وتسليكھم في مقام الولاية وغاية أمر المرأة أن تكون عابدة زاھدة (ميزان كبریٰ)

اسی طرح ائمہ احناف کی مشہور اور مستند کتاب بلکہ فتاوٰی در مختار اور اس کی شرح شامی المعروف رد المحتار میں بھی عورت کے لئے سربراہی کو حدیث مذکور کے لحاظ سے ناجائز قرار دیا گیا ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ کہیں کہ مندرجہ بالا تصریحات تو صدرِ مملکت کے منصب کے بارے میں ہیں۔ ذیلی ملازمتوں کے بارے میں نہیں لیکن ہمارے نزدیک اس کے تحت تمام سرکاری ملازمتیں ہیں۔ چنانچہ امامانِ دین نے اس کی تصریح فرمائی ہے:

امام خطابیؒ: امام خطابیؒ فرماتے ہیں:

إن المرأة لا تلي الإمارة ولا القضاء یعنی عورت قضاء اور امارت کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتی۔ (فتح الباری)

علامہ آلوسی:

تفسیر روح المعانی میں علامہ آلوسی بغدادی اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قد ورد لھن ناقصات عقل و دین والرجال بعکسھن ولذا خصوا بالرسالة والنبوة علی الأشھرو بالإمامة الکبری (جلد ۵ ص ۳۳)

یعنی حدیث میں وارد ہے کہ عورتیں مردوں کے برعکس عقل اور دین میں ناقص ہیں۔ اس لئے رسالت، نبوت اور امامت (مملکت کی سربراہی) کو صرف مردوں کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔

جامع صغیر کی شرح:

السراج المنیر میں لن یفلح والی حدیث کے تحت لکھا ہے کہ:

لنقصھا وعجزھا والوالي مأمور بالبروز للقیام بشأن الرعية والمرءة عورة لا تصلح لذٰلك فلا یصح أن تتولی الإمامة ولا القضاء

یعنی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل، دین اور قوت کے لحاظ سے ناقص اور ناتواں ہے اور رعیت کی نگرانی کے لئے والیٔ مملکت کو کھلم کھلا سامنے آنا پڑتا ہے۔ چونکہ عورت سراپا شرم و حیا ہے۔ اس لئے وہ اس کی اہل نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اس کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ امامت (حکومت) اور قضا (ججی) کی ذمہ داری سنبھال سکے۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ:

مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں:

''ہماری شریعت میں عورت کو بادشاہ بنانے کی ممانعت ہے۔ پس بلقیس کے قصہ سے کوئی شبہ نہ کرے۔ اوّل تو یہ فعل مشرکین کا تھا۔ دوسرے اگر شریعتِ سلیمانیہ نے اس کی تقریر بھی کی ہو تو شرع محمدی میں اس کے خلاف ہوتے ہوئے وہ حجت نہیں۔'' (بیان القرآن جلد ۸ ص ۸۵)

حضرت مولانا سیّد ابو الاعلی مودودی:

بانیٔ امیرِ جماعتِ اسلامی حضرت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں کہ:

''اللہ تعالیٰ کا رسول۔۔۔۔ اسلامی سماجی نظام کا پورا پورا تصور اپنے سامنے رکھ کر سوچتا ہے تو وہ حکمت کا تقاضا یہی پاتا ہے کہ عورتوں کو سیاست سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ وہ پوری طرح سمجھ جاتا ہے کہ اگر گھروں کے اندر مرد عورتوں کے لئے قوّام ہیں تو ریاست کی مجموعی قوّامیت کے لئے بھی مرد ہی موزوں ہو سکتے ہیں۔ خواتین نہیں۔ ''

''مجالس قانون ساز کی رکنیت کا حق عورتوں کو دینا مغربی قوموں کی اندھی نقّالی ہے۔ اسلام کے اصول اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتے۔ اسلام میں سیاست اور انتظامیہ ملکی کی ذمہ داری صرف مردوں پر ڈالی گئی ہے۔'' (دستوری تجاویز۔ مرکزی مکتبہ جماعتِ اسلامی ص ۶)

31 علماء کا متفقہ فیصلہ:

جنوری 1951ء میں مختلف مکاتیبِ فکر کے 31 علماءِ کرام نے کراچی میں بیٹھ کر دستوری تجاویز اور ترامیم کا ایک متفقہ خاکہ مرتب فرمایا۔ اس میں لکھا ہے:

''رئیسِ مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے۔'' (متفقہ فیصلہ ص 5 شائع کردہ جماعت اسلامی)

ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ عورتوں کو سرکاری ملازمتوں میں نہ گھسیٹا جائے کیونکہ ان کے دوش ناتواں ان گرابناریوں کے متحمل نہیں ہیں۔

صدقۃ الفطر

صدقۃ الفطر ہر مسلمان چھوٹے بڑے، مرد عورت کے لئے عید کی نماز سے قبل دیندار محتاجوں کو ادا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں۔ اس کی مقدار عمومی اجناس خوردنی سے وہ صاع حجازی ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے زمانہ میں رائج تھا۔ ہمارے مروجہ اوزان کے اعتبار سے اس کا پورا پورا حساب دو سیر دس چھٹانک تین تولے چار ماشے ہے۔ موٹے حساب سے پونے تین سیر ادا کرنا دینا بہتر ہے۔ اگر کوئی شخص گندم وغیرہ کی بجائے آج کے حساب سے پیسے دینا چاہے تو اس کی قیمت تقریباً ایک روپیہ دس آنے بنتی ہے۔
حوالہ جات

ملاحظہ ہو رد المحتار جلد ۴ ص ۴۹۴

ترجمان القرآن، جنوری 1953ء