مختصر تعارف:

حضرت امام ابن تیمیہؒ ۷۶۸ھ / ۱۳۲۸ء) آٹھویں صدی کے ''مجاہد مجدد'' ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۴ء) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

''اسلام میں سینکڑوں ہزاروں بلکہ لاکھوں علماء فضلاء، مجتہدین ائمہ فن اور مدبّرینِ ملک گزرے لیکن مجدد یعنی ریفارمر بہت کم پیدا ہوئے۔ مجدد یا ریفارمر کے لئے تین شرطیں ضروری ہیں:

1. مذہب یا علم یا سیاست (پالیٹکس) میں کوئی مفید انقلاب پیدا کر دے۔

2. جو خیال اس کے دل میں آیا ہو کسی کی تقلید سے نہ آیا ہو بلکہ اجتہادی ہو۔

3. جسمانی مصیبتیں اُٹھائی ہوں، جان پر کھیلا ہو، سرفروشی حاصل کی ہو۔

یہ شرائط قدماء میں بھی بہت کم پائے جاتے تھے اور ہمارے زمانے میں تو رفارمر ہونے کے صرف یورپ کی تقلید کافی ہے۔ تیسری شرط اگر ضروری قرار دی جائے تو امام ابو حنیفہؒ، امام غزالیؒ، امام رازیؒ شاہ ولی اللہ صاحبؒ اس دائرے میں آسکتے ہیں۔ لیکن جو شخص ریفارمر کا اصلی مصداق ہو سکتا ہے وہ علامہ ابن تیمیہؒ ہیں۔ ہم اس بات سے واقف ہیں کہ بہت سے امور میں امام غزالیؒ وغیرہ کو ابن تیمیہؒ پر ترجیح ہے لیکن وہ امور مجددیت کے دائرے سے باہر ہیں۔ مجددیت کی اصلی خصوصیتیں جس قدر علامہ کی ذات میں پائی جاتی ہیںِ اس کی نظیر بہت کم مل سکتی ہے۔ (مقالاتِ شبلی)

سیاسیات پر ''السیاسة الشرعية في إصلاح الراعي والرعية'' کے نام سے حضرت امام ابن تیمیہؒ نے ایک چھوٹا سا مضمون تحریر فرمایا تھا، جو اپنی جامعیت کے اعتبار سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ انہوں نے اس میں ایک جگہ ''سیاستدانوں'' کا بھی جائزہ لیا ہے اور ان کے فرائض اور کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

اس فرصت میں ہم اس کا ماحصل پیش کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ وقت کی آواز بھی ہے اور دل کی صدائے دلگداز بھی۔ اس وقت میرے سامنے اس کا جو نسخہ ہے وہ مصر میں ''مطبعہ خیریہ'' کا مطبوعہ ہے جو ۱۳۲۲ میں طبع ہوا تھا۔ فرمایا: سیاستدانوں کی تین قسمیں ہیں:

اپنی برتری کے خبطی:

ایک گروہ وہ ہے جس کو دنیا میں اپنی برتری کا خبط اور تخریبی کارروائیوں کا چسکا ہے ان لوگوں کو عاقبت اور اپنا انجام بالکل دکھائی نہیں دیتا۔

چونکہ ان کا ترکشِ حیات عمل صالح اور کردار کے تیروں سے خالی ہے اس لئے وہ اپنی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے یہ رائے رکھتے ہیں کہ اپنی شان و شوکت او ہر دل عزیزی کو قائم رکھنے کے لئے ''داد و دہش'' کرنا ضروری ہے یعنی روٹی کپڑے کا جال بچھا کر لوگوں کا شکار کیا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے مال ناجائز طریقے سے حاصل کیا جائے۔ چنانچہ پہلے وہ لوگوں کو لوٹتے پھر سیاسی رشوت کے طور پر اسے لٹاتے ہیں۔ (فصاروا فھا بین وھابین)

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی رشوت دیئے بغیر کرسیٔ اقتدار کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ جب کوئی ایسا بے لوث جو کھانے کھلانے کی بات نہیں کرتا، آجاتا ہے تو حکامِ بالا کی نگاہِ کرم بدل جاتی ہے اور اسے معزول کر کے دم لیتے ہیں (سخط علیه الروساء وعزلوہ)

یہ وہ طبقہ ہے جس نے دنیا کو ہی سبھی کچھ سمجھ لیا ہے اور آخرت کو مہمل جان کر نظر انداز کر دیا ہے اگر توہ کر کے اصلاحِ حال کی طرف توجہ نہ دی تو دنیا اور آخرت دونوں اعتبار سے ان کا انجام بُرا برآمد ہو گا۔ (فعاقبتھم عاقبة ردیئة في الدنیا والاخرة)

اللہ سے ڈرنے والے:

لیکن دوسرے وہ لوگ ہیں جو خوفِ خدا رکھتے ہیں اور اپنے ایمان پر قائم ہیں جو ان کو مخلوقِ خدا پر ستم ڈھانے اور ناجائز کاموں کے ارتکاب کرنے سے باز رکھتا ہے لیکن بایں ہمہ وہ بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ غلط راہ چلے بغیر سیاست چلتی نہیں۔ (لکن قد یعتقدون مع ذٰلك أن السیاسة إلا بما یفعله اولئك من الحرام)

بسا اوقات بزلی، بخیلی اور تنگ ظرفی کے بھی وہ بیمار ہوتے ہیں۔ اس لئے اپنی دینداری کے باوجود کبھی ''واجب'' کام چھوڑ بیٹھتے ہیں جو بعض محرمات کے ارتکاب سے بھی زیادہ سنگین نکلتا ہے۔ خود کیا دوسروں کو بھی 'واجب' سے باز رکھنے کا ارتکاب کر ڈالتے ہیں جو سر تاپا راہِ حق مارنے کے مترادف ہوتا ہے بلکہ تاویل کر کے بعض اوقات وہ دینی فریضہ چھڑانے کے لئے خارجیوں کی طرح مسلمانوں کے خلاف جہاد بھی کر گزرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں نہ دنیا کی بگڑی بن پاتی ہے اور نہ دینِ کامل کی کوئی خدمت ہو سکتی ہے۔ ان کی اجتہادی فروگزاشتوں سے تو درگزر ممکن ہے لیکن ان کی حماقتوں کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سب سے خسارے میں ہے کہ دنیا میں کھو کر سمجھ رہا ہے کہ وہ خوب کر رہا ہے۔ ﴿الَّذينَ ضَلَّ سَعيُهُم فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَهُم يَحسَبونَ أَنَّهُم يُحسِنونَ صُنعًا ﴿١٠٤﴾... سورة الكهف

میانہ رو لوگ:

تیسرا گروہ 'اُمت وسط' ہے یعنی وہ 'محمدی' لوگ ہیں جن کا دین محمدی ہے یہ خاصانِ خدا نائب رسول کی حیثیت سے قیامت تک لوگوں پر حکمرانی کریں گے۔

ان کا کام یہ ہو گا کہ وہ رفاہِ عامہ کے لئے مال خرچ کریں۔ خلقِ خدا کو نفع پہنچائیں۔ اگر وہ صاحبِ اقتدار ہوں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ملک و ملت کی اصلاح کریں، اقامتِ دین کے لئے کوشاں رہیں، اور ان کو دنیا کو تھامنے کی کوشش کریں جو عوام کے دین اور عفتِ نفس کے لئے ضروری ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ اس سے زیادہ حرص نہ کریں، جس کے وہ مستحق نہیں، نیز تقویٰ اور احسان دونوں صفات اپنے اندر جمع کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معیت ان کو حاصل ہوتی ہے جو متقی ہیں اور پورے حضورِ قلب کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذينَ اتَّقَوا وَالَّذينَ هُم مُحسِنونَ ﴿١٢٨﴾... سورة النحل" السیاسۃ الشرعیۃ ص ۲۷۔۲۸)

حضرت امام ابنِ تیمیہؒ نے سیاستدانوں کی نفسیات، ہیرا پھیری یا خلوص، دل سوزی، ان کے کردار اور فرائض کی جو تصویر پیش کی ہے، اس کے مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے عہد کے سیاستدانوں کے سمجھنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے اور جو سیاستدان پُر فریب نعروں کی اوٹ میں عوام کا شکار ر رہے ہیں یا جو خلقِ خدا کی دنیا اور دین کے سلسلہ میں پُر خلوص محنت کر رہے ہیں ان کو آسانی کے ساتھ پرکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم خود بھی کچھ کرنا چاہتے ہوں اور خدا کے ہاں اپنی جواب دہی کا احساس بھی رکھتے ہوں۔