لغوی معنی:

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم لفظ ''صوم'' جسے قرآن حکیم میں ایک خاص عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، کے لغوی معنی متعین کریں اور پھر دیکھیں کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ اس لفظ کا مادہ ص۔ و۔ م اور صوم کا لغوی معنی ہے ''کام سے رُک جانا'' کسی جگہ پر ٹھہر جانا۔ کھانے پینے، گفتگو کرنے اور چلنے سے رک جانے کو بھی صوم کہتے ہیں۔ لغوی معنی کے لحاظ سے ''صوم'' کا اطلاق صرف روزے پر ہی نہیں ہوتا بلکہ عربی میں کہتے ہیں۔ صامت الریح ہوا تھم گئی۔ صام النھار ظہر کا وقت ہو گیا (کیونکہ اس وقت آفتاب نصف النہار پر رکا ہوتا ہے۔) اس سے پھر ''صامت الشمس'' بھی کہا جاتا ہے یعنی سورج نصف النہار پر مرکوز ہے۔ لہٰذا ''صوم الصائم'' سے مراد کھانے پینے اور ان تمام امور سے باز آجانا ہے جن سے اسے منع کیا گیا ہو۔ گفتگو سے رک جانے کو بھی ''صوم'' ہی کہتے ہیں۔ سورۂ مریم میں ہے:

﴿إِنّى نَذَر‌تُ لِلرَّ‌حمـٰنِ صَومًا...٢٦﴾... سورة مريم"(کہ بے شک میں نے خدا کی رضا کی خاطر چپ کا روزہ رکھا ہے)

اور ساتھ ہی تشریح بھی کر دی:

﴿فَلَن أُكَلِّمَ اليَومَ إِنسِيًّا ﴿٢٦﴾... سورة مريم" (کہ میں آج کسی انسان سے بات نہ کروں گی)

قرآن مجید ہی سے ثابت ہے کہ حضرت مریم ؑ کا وہ روزہ کھانے پینے سے رُک جانے کا نہ تھا کیوں کہ اس سے پہلے خود خدا وند کریم کی طرف سے انہیں حکم ہوا تھا:

﴿فَكُلى وَاشرَ‌بى﴾ (کھجوریں کھا اور چشمے کا پانی پی، ہاں اگر کوئی آدم زاد آئے تو کہہ دینا میں نے خدا کی رضا کے لئے چپ کا روزہ رکھا ہے۔''

عربی میں بعض اوقات ''قائم'' کو ''صائم'' بھی کہتے ہیں اس لئے کہ وہ اپنی جگہ پر ساکت ہوتا ہے۔ نابغہ کا ایک شعر ''صوم'' کے اس لغوی معنی کو واضح کرتا ہے:

خَیْلٌ صِيَامٌ وَّ خَيْلٌ غَيْرُ صَائِمَةٍ       تَحْتَ الْعَجَاجِ وَخَيْلٌ تَعْلُكُ اللُّجَمَا

غبار جنگ كے سایے تلے کچھ گھوڑے ثابت قدم (صائم) ہیں اور کچھ گھوڑے حرکت کرتے ہوئے (غیر صائمہ) اپنی لگاموں کو چبا رہے ہیں۔

ابو عبیدہ نے لکھا ہے کہ:

''ہر وہ شخص، جانور یا چیز جو کھانے سے، گفتگو سے یا چلنے سے رُک جائے اسے ''ْصائم'' کہتے ہیں۔''

اس ساری بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ صوم کا لغوی معنی ہے ''کام سے رک جانا'' خواہ وہ کسی نوعیت کا ہو۔

اصطلاحی معنی:

اس لغوی معنی کو سامنے رکھتے ہوئے ''صوم'' کا اصطلاحِ شرع میں معنیٰ یہ ہو ا کہ انسان کا سحری کھا لینے کے بعد غروبِ آفتاب تک نہ صرف کھانے اور پینے سے رُک جانا بلکہ زبان کا جھوٹ، غیبت، چغلی اور یا وہ گوئی سے رُک جانا، ہاتھوں کا کسی کو ایذا دینے سے رُک جانا، پاؤں کا غیر شرعی سفر سے رُک جانا کانوں کا جھوٹ، غیبت، چغلی اور بے ہودہ باتوں کے سننے سے رُک جانا، نگاہوں کا خیانت سے رک جانا، غرضیکہ ''صوم'' کا صحیح مفہوم ہی یہ ہے کہ ہر برائی اور ہر خطا سے اپنے دامن کو بچانا اور خدائے کریم کی مقرر کردہ حدود میں پابند رہنا۔

نماز ایک عبادت ہے۔ اس کی کچھ شرائط اور کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ مثلاً اگر بلا وضو نماز ادا کی جائے تو نماز نہیں ہوتی، یا نماز پڑھتے پڑھتے کسی سے گفتگو شروع کر دی و بھی نماز باطل قرار پائے گی۔ بالکل اسی طرح اگر روزہ رکھ لینے کے بعد انسان جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان راشی، بیہودہ گوئی، سبّ و شتم اور دوسرے اعمالِ بد سے اپنے آپ کو نہیں بچاتا تو پھر یہ روزہ، روزہ نہیں بلکہ فاقہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے:

«من لم یدع قول الزور والعمل به فلیس للہ حاجة في أن یدع طعامه وشرابه»

کہ (روزہ رکھنے کے بعد) جو شخص جھوٹ اور غلط کاموں کو ترک نہیں کرتا تو خدا کو اس کی بھوک اور پیاس کی کوئی ضرورت نہیں۔

روزہ کی حکمت:

خداوند کریم نے اپنے بندوں کے لئے عبادات کے جتنے بھی طریقے بتائے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ ہے۔ نماز خدا کے وصال کا ذریعہ ہے۔ اس میں بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے گفتگو کرتا ہے۔ بعینہٖ روزہ بھی خدا تعالیٰ سے لَو لگانے کا ایک ذریعہ ہے۔ جہاں نماز کے بارے میں یہ ارشاد ہے:

﴿إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ تَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ‌﴾ (کہ نماز بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے۔)

وہاں روزے کے بارے میں فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ١٨٣﴾... سورة البقرة

کہ اے ايمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بنو۔

اس آیت میں روزہ کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ یہ تقویٰ کا باعث ہے جس کی تفصیل یوں ہے کہ روزہ دوسری تمام عبادات سے بوجوہ منفرد ہے کہ یہ خدا اور بندے کے درمیان راز و نیاز کا معاملہ ہے جبکہ دوسری تمام عبادات مثلاً نماز، حج اور قربانی وغیرہ ظاہری عبادات ہیں جو ظاہری حرکات و سکنات سے بے نیاز ہونے کے باعث ریا جیسی بیماری سے جو کہ بڑی بڑی عبادتوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ محفوظ و مامون ہے اس لئے کہ روزہ دار کے روزہ کی حقیقت (کہ وہ روزے سے ہے یا نہیں) خداوند تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ایک آدمی وضو کرتے ہوئے تین دفعہ کلی کرتا ہے۔ اس وقت پانی اس کے منہ میں ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اس پانی کا اکثر حصہ اپنے حلق میں اتار سکتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کی اس حرکت کو نہیں دیکھ سکتی۔ لیکن ایک چیز اسے پانی کا ایک قطرہ بھی شدید پیاس کے باوجود حلق میں پانی اتارنے سے باز رکھتی ہے اور یہ چیز خدا وند کریم کا خوف ہے جس کا دوسرا نام تقویٰ ہے کہ محض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اپنی خواہش پر اس نے غلبہ پا لیا اور یہ تقویٰ (خواہشات پر کنٹرول) انسان کی ساری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے مثلاً اگر وہ دوکاندار ہے تو میزان میں کمی بیشی کا مرتکب نہ ہو گا اگر کپڑے کا تاجر ہے تو ماپ میں ہیرا پھیری کی خواہش کا گلا گھونٹ دے گا۔ اگر کسی میڈیکل ہال کا مالک ہے تو دواؤں پر ناجائز منافع حاصل کر کے حصولِ زر کی خواہش کا احترام نہ کرے گا اور اگر ڈاکٹر ہے تو پانی میں رنگ ملا کر غریب مریضوں کا خون چوسنے اور اس طرح زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی خواہش کا حصول اس کے لئے ناممکن ہو گا۔ علیٰ ہذا القیاس روزہ انسان کے نفس کی اس طرح سے تربیت کرے گا کہ ہر لمحہ خوفِ خدا اس کو گناہوں سے باز رکھے گا اور برضا الٰہی اس کا مقصود ہو گی جو خداوند کریم سے اس کی قربت کا باعث بنے گی۔ اس لئے خداوند کریم نے فرمایا:

«الصوم لي وأنا أجزی به» (حدیث قدسی) کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر عطا کروں گا ۔

دوسری حکمت یہ بیان فرمائی:

﴿وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُ‌وا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ١٨٥﴾... سورة البقرة

تاکہ تم روزوں كی گنتی پوری کرو (یعنی روزے پورے رکھو) اور ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی بزرگی اور عظمت کے گن گاؤ۔ اس لئے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔ تاکہ تم اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ۔

گو یا روزے میں یہ حکمت بھی پوشیدہ ہے کہ ہم خداوند کریم کی قدر و منزلت پہچانیں اور اس کی ان نعمتوں کا، جو ہم کھاتے ہیں، شکر بجا لائیں اور ظاہر ہے یہ چیز بھی رضا و خوشنودیٔ الٰہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے قربت کا ایک ذریعہ ہے۔

روزے کے فوائد۔ مادی اور روحانی:

اسلامی عبادات میں ظاہری اور باطنی ہر قسم کی پاکیزگی کا التزام ہر جگہ موجود ہے۔ نماز اگر آئینہ دل کو مجلّٰی اور مصفٰی کرتی ہے تو وضو جسمانی طہارت اور پاکیزگی کے لئے نماز کی اوّلیں شرط قرار پایا۔ اسی طرح اگر عورت کو نقاب اوڑھنے کا حکم دیا تو ساتھ قید بھی لگائی:

﴿وَقُل لِلمُؤمِنـٰتِ يَغضُضنَ مِن أَبصـٰرِ‌هِنَّ...٣١﴾... سورة النور

کہ اے رسول ﷺ! مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

اور یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جس عورت کی نگاہ عصمت و عفت اور فطری حیا سے خالی ہے۔ اس کے لئے اگر لاکھ نقابوں کا اہتمام بھی کر لیا جائے تو وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جس کے لئے ''یغضضن من ابصارھن'' کی ضرورت پیش آئی۔

روزہ بھی اس حکمت سے خالی نہیں۔ روزہ سے جہاں انسان کی باطنی طہارت اور روحانی صحت کا التزام کیا گیا ہے وہاں اس کی جسمانی صحت اور نظامِ انہضام کی خرابیوں کا علاج بھی اس میں موجود ہے۔

پھر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کثرت خوری اور وقت بے وقت کھانا معدے کی امراض کا موجب ہیں۔ اس سے جسمانی نشوونما صحیح طریق پر نہیں ہوتی بلکہ غیر متناسب غذا اور کھانے کے غیر متعین اوقات کی بدولت اکثر لوگ لبِ گور پہنچ جاتے ہیں۔ سال بھر کی ان بے قاعدگیوں کو روکنے اور صحت اور تندرسی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے لئے یہ لازم تھا کہ انسانوں کو تیس روز تک پابند کیا جاتا کہ وہ متعینہ وقت پر کھائیں پئیں اور مقررہ وقت کے بعد کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لیں۔ یہ کیسی حکمت ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ انسان جسمانی صحت بھی حاصل کرتا ہے اور روح کی بالیدگیوں کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی صحت بتدریج کمال حاصل کرتی جاتی ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ رمضان میں اکثر لوگوں کی جسمانی بیماریاں محض کھانے کے اوقات کی پابندی کی بنا پر خود بخود دور ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ بڑے بڑے مفسرین اور ائمہ مجتہدین نے روزے کی دوسری حکمتوں کے ضمن میں حکمتِ صحتِ جسمانی کا ذکر بھی کیا ہے۔

خود آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے:

''روزہ بدن کی زکوٰۃ ہے۔''

یعنی جس طرح زکوٰۃ دینے سے مال پاک ہو جاتا ہے اسی طرح روزہ رکھنے سے جسم بھی بیماریوں سے پاک ہو جاتا ہے۔

بسیار خوری سے مادیت کا غلبہ بڑھتا ہے اور شہوانی جذبات حملہ آور ہوتے ہیں۔ روزے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے سے جسمانی اعضاء میں کچھ کمزوری آجاتی ہے جس سے شہوانی جذبات کے حملے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ بھوک اور پیاس جنسی جذبات کی برانگیخت کو کچل دیتے ہیں۔

رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

''الصوم جنة'' کہ روزہ ڈھال ہے۔

اس سے مراد صرف یہی نہیں کہ یہ صرف دوزخ کی آگ سے ڈھال ہے بلکہ اس سے یہ بھی مراد ہے کہ روزہ جنسی ہیجان نیز مادی او روحانی ہر قسم کی بیماریوں کے لئے ڈھال ہے اس طرح کہ بھوک پیاس اس کی جنسی خواہشات کو دبا کر اسے خداوند کریم کی طرف راغب کرتے ہیں۔ بخاری اور مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے:

«یا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحفظ للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإن له وجاء»

کہ اے نوجوانو! تم میں سے جسے نکاح کرنے کی توفیق ہو اسے چاہئے کہ ضرور نکاح کرے، کیونکہ نکاح شرم و حیا اور شرمگاہ کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ مفید ہے اور جس نوجوان کو نکاح کی استطاعت نہ ہو اسے لازم ہے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ جنسی ہیجان کا تدارک کرتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ روزہ جسم اور روح کے توازن کو برقرار رکھنے کا نام ہے۔ جسدِ انسانیت سے مادیت کے طوفان ہر آن اُٹھتے رہتے ہیں اگر ان طوفانوں کے سامنے بند نہ باندھا جائے تو یہ خاکی بدن ہویٰ و ہوس کا مظہر بن کر رہ جائے، خواہشاتِ نفسانی اس قدر سر کش اور غالب ہو جائیں کہ انسان ان پر کنٹرول نہ کر سکے۔ لہٰذا خداوند کریم نے ضبطِ نفس اور مادیت کے غلبے سے بچانے کے لئے روزے جیسے عظیم عبادت کا انعام اسے عطا فرمایا تاکہ اس کی روح اور جسم میں توازن برقرار رہے اور نفسِ انسانی مطیع و منقاد ہو کر خدا کی یاد میں مگن رہے۔

یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ مذکورہ بالا حدیث سے یہ مطلب ہرگز اخذ نہ کرنا چاہئے کہ اسلام رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے اور بدھ مذہب یا ہندومت کی طرح نفس کشی کی ترغیب دیتا ہے۔ بلکہ اس حدیث کے بارے میں فقہاء کا استدلال یہ ہے کہ روزے سے انسان خوراک کی ایک متناسب مقدار پر قناعت کرنے پر مجبور ہوتا ہے جس سے اس کے بدن میں کمزوری تو ضرور آتی ہے جو بدن میں جنسی تحریک کی مدافعت کا باعث بنتی ہے لیکن غذا کی کمی اسلام کا منشا نہیں۔ اسلام یہ سبق نہیں دیتا، کہ انسان ایسی ضروری غذا سے بھی اپنے آپ کو محروم کرے جس سے اس کی صحت کا دیوالیہ نکل جائے۔ غذا کو اس حد تک کم کر دینا جو بدن میں قوت و توانائی برقرار نہ رکھ سکے یا ایسی ریاضت یا محنت شاقہ جس میں بدن ٹوٹ جائے، ریاضت یا عبادت نہیں بلکہ وہ ایک سزا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے، وہ نہیں چاہتا کہ انسان اپنے آپ کو خواہ مخواہ ہلاکت کے سپرد کر دے۔ اسی لئے فرمایا:

﴿وَلا تَقتُلوا أَنفُسَكُم﴾(کہ تم اپنی جانوں کو جان بوجھ کر ہلاکت میں نہ ڈالو)

دوسری جگہ فرمایا:

﴿يُر‌يدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ‌ وَلا يُر‌يدُ بِكُمُ العُسرَ‌...١٨٥﴾... سورة البقرة

وہ (خدا) تمہیں سہولت دینا چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

پھر رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

«المؤمن القوي خیر وأحب إلی اللہ من المؤمن الضعیف وفي کل خیر''»

کہ طاقت ور مومن خدا کو نحیف و نزار مومن سے زیادہ محبوب ہے اور ان دونوں میں بھلائی ہے۔

پس روزے کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے جنسی جذبات کا خاتمہ مقصود ہے بلکہ روزہ تو ایک ایسی پوشیدہ عبادت ہے جس کا ظاہر داری سے کوئی تعلق نہیں، اس کی اہمیت بھوک پیاس سے نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان ہر قسم کی خواہشات نفس سے بچار ہے، خطاؤں سے اجتناب کرے، اپنے نفس کی اصلاح اور اس کی پاکیزگی و طہارت پر کمر بستہ رہے تاکہ روزہ اس تقویٰ کو حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے جس کے لئے یہ فرض کیا گیا ہے۔

روزہ مشکل مہمات میں ثابت قدم رہنے میں بھی ممد و معاون ہے۔ روزے کا مقصد ضبطِ نفس ہے اور ضبطِ نفس اصل جہاد ہے۔ اگر انسان میں بھوک پیاس برداشت کرنے کی اہمیت پیدا نہ ہو گی تو وہ مشکلات کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ اسلام میں جہاد بھی ایک فرض اور ایک عبادت ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لئے بلند حوصلہ، استقامت اور مہم جوئی کی خصوصیات مطلوب ہیں۔ ہر قسم کے تلخ اور تند موسم میں سفر کرنے والے مجاہدوں کے لئے صبر اور بھوک پیاس برداشت کرنے کی عادت ایسی صفات ہیں کہ ان کے بغیر مجاہد صحیح معنوں میں مجاہد نہیں کہلا سکتا۔ آنحضرت ﷺ نے ننگے پاؤں چلنے کی مشق کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ مسلمان کی زندگی میں ایسے حالات بھی رونما ہو سکتے ہیں، جہاں اسے جسمانی مشقتیں برداشت کرنا پڑیں یا فاقہ کشی کی نوبت آئے، موسم گرم ہو یا سرد، دن ہو یا رات، سفر ہو یا حضر، مجاہدینِ اسلام کو ہر حال میں دشمن کے سامنے دینہ سپر ہونا پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ مجاہدین کی جسمانی تربیت اور فوجی ٹریننگ کا ذریعہ بھی ہے۔ تاریخِ اسلام اس بات پر گواہ ہے کہ غازیانِ صف شکن کئی کئی فاقے کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے بھی دشمن کے سامنے ڈٹے رہتے۔ جنگ خندق کے موقع پر صحابہ کرام اور آنحضرت ﷺ کو بھی تین روز سے فاقہ تھا مگر اس کے باوجود حوصلے بلند اور ولولے جوان تھے۔ اور یہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ مسلمانوں نے بڑے بڑے مصر کے رمضان کے مہینے میں ہی سر کیے۔ کفر اور اسلام کا پہلا معرکہ غزوۂ بدر رمضان المبارک میں ہی سر ہوا۔

روزے کا ایک روحانی فائدہ یہ بھی ہے کہ روزہ ایک مسلسل عبادت ہے اور روزہ دار سحری سے غروب آفتاب تک کا سارا وقت خدا کی عبادت میں بسر کرتا ہے۔ ایک نماز پڑھ لینے کے بعد ممکن ہے۔ آپ دوسری نماز تک یاد خدا سے غافل ہو جائیں۔ کاروبارِ حیات میں غفلت انسان کو خدا سے دور رکھے مگر روزہ رکھ لینے کے بعد اگر آپ زبان سے خدا کو یاد نہ کریں تو بھی آپ خدا کی عبادت میں تصور کیے جائیں گے اگرچہ تجربہ اور مشاہدہ یہی ہے کہ روزہ دار سحر سے لے کر افطار تک ہر لمحہ اور ہر گھڑی خدا کی یاد میں مگن رہتا ہے کیونکہ جب اس کے دل میں یہ احساس جاگ اُٹھتا ہے کہ وہ خدا کی خوشنودی کی خاطر بھوک پیاس کو برداشت کرنے کی پابندی قبول کر چکا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ اس کا کوئی بھی لمحہ یادِ خدا سے غفلت میں بسر نہ ہو۔ چہ خوب ؎
صرفِ عصیاں ہوا وہ لحظۂ عمر
جو تری یاد میں بسر نہ ہوا

اطاعت کا اصل مقصود ہی خدا کی یاد ہے اور اس کی یاد ہی اس کی اطاعت کی اساس ہے اور یادِ خدا انسان کو تمام برائیوں سے روک دیتی ہے۔ اس عبادت کا یہی اہم تقاضا ہے کہ ہم دن بھر کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اس عبادت کی رُوح زخمی ہو۔

یہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ صرف کھانے پینے سے رک جانا ہی ''روزہ'' نہیں کہلاتا بلکہ روزے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہ صرف کبیرہ گناہوں سے رک جائیں بلکہ لڑائی جھگڑے، گالی گلوچ، چھینا جھپٹی، غیبت جھوٹ اور مکر و فریب جیسی حرکاتِ شنیعہ سے بھی باز آجائیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

«إذا کان یوم صوم أحدکم فلا یرفث ولا یجھل وإن جھل علیه أحد فلیقل إني امرءٌ صائم»

کہ جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے بد زبانی، کج روی اور جہالت سے باز رہنا چاہئے۔ ہاں اگر کوئی شخص روزے دار کے ساتھ زیادتی کرے تو اسے کہہ دینا چاہئے، میاں! میں تو روزے سے ہوں۔

ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا:

«الصیام جُنة من النار کجُنة أحدکم من القتال مالم یخرقھا بکذب وغیبة»

کہ جس طرح میدانِ جنگ میں دفاع کے لئے ڈھال ہوتی ہے۔ روزے تمہارے لئے اسی طرح آگے کے لئے ڈھال ہیں۔ جب تک کہ انسان اس ڈھال (روزہ) کو جھوٹ اور غیبت سے توڑنہ ڈالے۔

آنحضرت ﷺ نے ہی ایسے روزے دار کے متعلق فرمایا:

«رب صائم لیس له من صیامه إلا الجوع ورب قائم لیس له من قیامه إلا السھر»

کہ کتنے روزے دار ہیں جن کے حصے میں، ان کے روزے سے صرف بھوک آتی ہے اورکتنے شب بیدار ہیں جنہیں بیداری کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

ان گزارشات کے پیش نظر روزے کی اہمیت کو ذہن نشین کر لینا چاہئے۔ بدبخت ہوں گے وہ لوگ جو رمضان کی فضیلتوں سے فائدہ نہ اُٹھائیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

«علیکم بالصوم فإنه لا مثل له»

تم پر روزہ رکھنا فرض ہے کہ روزے جیسی عبادت کی کوئی مثال نہیں۔

ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا:

«من أفطر یوما من رمضان من غیر عذر ولا مرض لم یقضه صیام الدھر وإن صامه»

جس نے ماہ رمضان کا ایک روزہ بھی بغیر کسی (شرعی) عذر یا بیماری کے ترک کیا تو وہ قیامت تک بھی لگاتار روزے رکھتا رہے تو اس روزے کی قضا ادا نہیں ہو سکتی۔

روزہ کی فضیلت:

جب ہم روزے کی فضیلت کا ذِکر کرتے ہیں تو دو چیزیں ذہن میں اُبھرتی ہیں۔ بعض لوگ رمضان کی فضیلت کو ہم معنیٰ سمجھتے ہیں، لیکن اگر بنظرِ غائر قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ماہِ رمضان کی فضیلت ایک الگ پہلو ہے اور روزے کی فضیلت ایک جدا موضوع ہے۔ ہم رمضان کی فضیلت کو کسی اور وقت کے لئے اُٹھا رکھتے ہیں۔ یہاں صرف روزے کی فضیلت یا روزہ رکھنے والے کی عزت و عظمت پر بحث کرتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ جس طرح ''رمضان'' تمام مہینوں سے افضل ہے اسی طرح روزہ بھی عبادات میں افضل ترین نہیں تو افضل تر ضرور ہے۔ روزہ دار کی جو قدر و منزلت خدا کی نگاہ میں ہے۔ اسے حدیث کے الفاظ ہی میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

«قال اللہ عزوجل کل عمل ابن اٰدم له إلا الصیام فإنه لي وأنا أجزي به والذي نفس محمد بیدہ لخلوف فم الصائم أطیب عند اللہ من ریح المسك»

ابن آدم ہر عمل اپنے لئے کرتا ہے مگر روزہ صرف میری خاطر رکھتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ خدا کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بد بُو خدا تعالیٰ کے نزدیک مشک و عنبر سے بھی زیادہ فرحت افزا ہے۔

مسلم شریف میں الفاظ اس طرح ہیں:

«ولخلوف فیه أطیب عند اللہ من ریح المسك»

ذرا غور کیجئے کہ وہ خالق و مالک، وہ جبار و قہار اپنے حقیر بندے کی کتنی تعظیم کرتا ہے کہ ہمارے منہ کی بُو بھی اسے کستوری سے زیادہ پاکیزہ معلوم ہوتی ہے۔

روزے دار کی دوسری فضیلت آپ نے یہ فرمائی:

«للصائم فرحتان یفرحھما، إذا أفطر فرح وإذا لقی ربه فرح بصومه»

روزے دار کے لئے دو خوشی کے مواقع ہیں۔ پہلا موقع تو وہ ہے جب ہر شام وہ روزہ افطار کرتا ہے تو اسے ایک خاص روحانی خوشی ہوتی ہے اور دوسرا موقع وہ ہے کہ جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے بہت خوش ہو گا۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

''نمازی کو جنت میں داخل ہونے کے لئے ''باب الصلوٰۃ'' سے بلایا جائے گا۔ جو مجاہد ہے اسے ''باب الجہاد'' سے ندا دی جائے گی۔ جو شخص روزے دار ہے اسے ''باب الریّان'' سے پکارا جائے گا۔ جو صاحب الصدقہ ہے اسے ''باب الصدقہ'' سے جنت میں داخلے کی دعوت دی جائے گی۔''

سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ''ریان'' کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزے دار جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کو اس دروازے سے داخل ہونے کی اجازت نہ ہو گی۔ فرشتے پکاریں گے روزے دار کہاں ہیں؟ روزے دار اس آواز کو سن کر جنت میں داخل ہونے کے لئے اس دروازے کی طرف بڑھیں گے اور جب روزے دار جنت میں ہو جائیں گے تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا۔ پھر کوئی شخص اس دروازے سے داخل نہ ہو سکے گا۔

قارئینِ کرام! روزے کی فضیلت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ قیامت کے دن روزے داروں کو امتیازی حیثیت سے جنت میں بھیجا جائے گا۔

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

«ما من عبد یصوم یوما في سبیل اللہ إلا باعد اللہ بذالك الیوم وجھه عن النار سبعین خریفاً»

کہ جو شخص لوجہ اللہ ایک دن کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک روزے کی برکت سے اس کے چہرے کو ستر برس مدّت کی مسافت تک آگ سے دور کر دیتا ہے۔

اس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اگر ایک روزہ رکھنے والا آگ سے اس قدر دُور مسافت پر ہو سکتا ہے تو رمضان المبارک کے سارے روزے رکھنے والا کس قدر عظیم ثواب اور انعام کا مستحق ہو گا۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

«من صام رمضان إیمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه»

کہ جس شخص نے ایمان اور ایقان کی دولت سے سرشار ہو کر رمضان کے روزے پورے کر لئے اس کے پچھلے گناہ سب معاف ہو جائیں گے۔

ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا:

«فمن صامه وقامه إیمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه»

کہ جس نے رمضان کو ایمان اور احتساب سے پورا کر لیا وہ اپنے گناہوں سے اس طرح بری ہوتا ہے جیسے اس کی ماں نے آج ہی اسے جنا ہے۔

روزے دار کے لئے یہ خوشخبری کس قدر عظیم ہے کہ رمضان المبارک کے پہلے دس دن خدا تعالیٰ کی رحمت کا باعث ہیں۔ ''اوّله رحمة'' اگلے دس دن اس کی مغفرت کے لئے مقرر ہیں ''اوسطه مغفرہ'' اور آخری دس دن دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا پروانہ ہیں ''اٰخرہ عتق من النار''

یہ فضیلت بھی روزے دار کے حصے میں آئی ہے کہ ماہِ رمضان کے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں ایک رات ایسی ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے ''لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍٍ'' وہ لوگ جو تنو مند اور توانا ہو کر بھی روزہ رکھنے کی سعادت سے محروم رہتے ہیں کتنے بد بخت اور بد نصیب ہیں کہ وہ اس رات کی فضیلتوں سے اپنی جھولیاں نہیں بھرتے اور کتنے خوش نصیب اور بامراد ہیں وہ روزے دار جو اس رات کے انوار اپنے سینوں میں سمیٹ لینے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ وہ رات ہے جس رات جبرائیلؑ اپنے لاؤ لشکر سمیت بندگان خدا کو اپنے آقا کے حضور سر بسجود دیکھنے کو زمین پر اتر آتے ہیں۔ ﴿تَنَزَّلُ المَلـٰئِكَةُ وَالرّ‌وحُ فيها بِإِذنِ رَ‌بِّهِم مِن كُلِّ أَمرٍ‌ ﴿٤﴾... سورة القدر'' اس رات کی فضیلت کوئی صاحبِ دل ہی بتا سکتا ہے۔ ﴿سَلـٰمٌ هِىَ حَتّىٰ مَطلَعِ الفَجرِ‌ ﴿٥﴾... سورة القدر'' کہ فجر کا نور طلوع ہونے تک سلامتی ہی سلماتی ہے۔

رات کی تنہائیوں میں کیونکر آقا و غلام ہم کلام ہوتے ہیں اور آقا اپنے غلاموں پر رحمت اور برکت کی کون سی بارشیں نازل کرتا ہے یہ سب راز و نیاز کی باتیں ہیں۔ ہم تو صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ روزے داروں کے لئے رمضان میں اس رات سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں۔

روزہ کیس عبادت ہے کہ یہ خود بھی فضیلت ہے اور اس کی افطاری بھی فضیلت ہے۔ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے:

«من فطر فیه صائما كان مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار وكان له مثل أجره غيرأن ينقص من أجره شيئا قالوا يا رسول الله ليس كلنا يجد ما يفطر الصائم فقال رسول الله ﷺ يعطي الله ھذا الثواب من فطر صائما علٰي تمرة أو شربة ماء أو مذقة لبن»

کہ جس نے کسی روزے دار کی افطاری کا انتظام کیا تو یہ افطاری اس کے گناہوں کے لئے بخشش اور اسے دوزخ سے بچانے کا ذریعہ ہو گی اور جس کی افطاری کروائی گئی، اور جس نے افطاری کروائی ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہیں ہو گی۔ صحابہؓ نے گزارش کی، اے اللہ کے رسول ﷺ ہم سب کو تو کسی کی افطاری کا اہتمام کرنے کی توفیق نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، خدا یہ ثواب اس شخس کو بھی برابر عطا کرتا ہے جو ایک کھجور، پانی کے ایک گھونٹ یا دودھ کی ایک چُلّی سے کسی کا روزہ افطار کروا دے۔

ایک جگہ فرمایا:

«من أسقی صائما سقاہ اللہ من حوضي شربة لا یظماء حتی یدخل الجنة»

کہ جو شخص کسی روزے دار کو جی بھر کر پانی پلا دے (یا پُرتکلف افطاری کا اہتمام کرے) تو خدا تعالیٰ اس کو میرے حوض کوثر سے اس طرح سیراب کریں گے کہ جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس محسوس نہ ہو گی۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

«إذا أفطر أحدکم فليفطر علي تمر فإنه بركة فمن لم يجد فليفطر علي ماء فإنه طھور»

کہ جب روزہ افطار کرنا چاہو تو کھجور سے افطار کرو کیونکہ یہ باعثِ برکت ہے۔ اگر کھجور میسر نہ آئے تو پانی سے چھوڑ لو، یہ باعثِ طہارت ہے۔

ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے سعدؓ بن معاذ کے پاس روزہ افطار کیا اور فرمایا:

«أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملٰئكة»

تمہارے پاس روزہ داروں نے روزہ افطار کیا اور تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا اور تم پر فرشتوں نے دعا کی۔

ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے اُم عمارہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:

«إن الصائم تصلي علیه الملائكة إذاأکل عندہ حتی یفرغوا وربما قال حتی یشبعوا»

کہ جب كچھ لوگ کسی روزه دار كے ہاں روزہ افطار کریں تو فرشتے اس روزہ دار پر درود بھیجتے ہیں۔ جب تک وہ افطاری سے فارغ نہ ہو جائیں۔ یا جب تک افطاری والوں کا پیٹ نہ بھر جائے۔

ایک روایت میں ہے:

«الصائم إذا أکل عندہ المفاطیر صلّت علیه الملائكة»

خدا تعالیٰ کو وہ بندہ سب سے زیادہ محبوب ہے جو افطاری میں جلدی کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

«أحب عبادی إلّی أعجلھم فطراً»

ایک جگہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

«لا یزال الناس بخیر ما عجلوا الفطر»

لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک کہ وہ افطاری میں جلدی کریں گے۔

ایک جگہ فرمایا:

«لا یزال الدین ظاھرا ما عجل الناس الفطر»

کہ یہ دین اس وقت تک دوسرے تمام دینوں پر غالب رہے گا جب تک لوگ افطاری میں جلدی کریں گے!

اب تصور کیجئے کہ خدا نے ہمیں روزے کا حکم دیا مگر ساتھ ہی اس کی منشا یہ ہے کہ اس کے بندے حد سے زیادہ تکلیف نہ اُٹھایں۔ لہٰذا اس آسانی اور سہولت کو بھی ایک انعام قرار دیا۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ افطاری میں جلدی ہی اصل بھلائی اور نیکی کی راہ ہے۔ روزہ جلدی افطار ہم کریں، اپنی پیاس ہم بجھائیں اور ساتھ اس کی رحمت اور برکت کے مستحق قرار پائیں۔

قارئینِ محترم! روزے کی فضیلتوں کا بیان کہاں تک کیا جائے۔ روزہ خود بھی برکت، اس کے لئے سحری کھانا بھی برکت اور روزہ افطار کرنا بھی برکت ہے۔ سحری اور افطار کی خوراک اگرچہ دیسی ہی ہوتی ہے جو ہمارے روز مرہّ کے معمولات میں داخل ہے مگر روزے دار کے لئے یہ بھی باعثِ فضیلت بن جاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«تسحروا فإن في السحور بركة»

تم سحری ضرور کھایا کرو کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔

ایک جگہ فرمایا:« استعینوا بطعام السحر علی صیام النھار»

کہ دن کا روزہ رکھنے کے لئے سحری کے کھانے سے مد لیا کرو۔

یہ بات بھی سحری کھانے کی ترغیب کے لئے کہی گئی۔ ایک جگہ فرمایا:

«علیکم بغداء السحور فإنه ھو الغداء المبارک»

کہ سحری تم پر لازم ہے کیونکہ وہ مبارک کھانا ہے۔ ایک جگہ فرمایا:

«السحور کله بركة فلا تدعوہ ولو أن یجرع أحدکم جرعة من ماء فإن اللہ عزوجل وملائکته یصلون علی المتسحرین»

سحری کا کھانا پینا سب برکت ہے لہٰذا تم اسے ہرگز نہ چھوڑو۔ خواہ انسان پانی کا ایک گھونٹ پی کر ہی سحری کیوں نہ کرے (یعنی اگر کھانے کی حاجت نہیں تو پھر بھی کم از کم پانی کا ایک گھونٹ ضرور پی لینا چاہئے) بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے مقرب فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں۔

ذرا سوچئے! کھانا ہم کھاتے ہیں۔ رب العزت کی انواع و اقسام کی نعمتوں پر ہاتھ ہم صاف کرتے ہیں۔ مگر لذتِ کام و دہن اور زبان کے چٹخارے کے ساتھ ساتھ اس کی رحمتوں اور برکتوں کے سزاوار بھی گردانے جاتے ہیں۔ الحمد للہ!

دل سے ایک صدا اُٹھتی ہے۔ مولا یہ تیرا اتنا بڑا کرم ہے، یہ بے پایاں انعام، یہ تیری رحمتوں کے خزینے، یہ تیری برکتوں کے خزینے، یہ تیری برکتوں کی موسلا دھار برسنے والی بارشیں۔ ہم عاجز بندوں پر، ہم گنہگار اور پاپی انسانوں پر! مولا تو کتنا عظیم ہے! مولا تو کتنا کریم ہے! مولا تو کیسا خالق و مالک اور آقا ہے! ہم نے دیکھا ہے کہ اس دنیا میں انسان دولت کے چند سکوں کی شہ پا کر انسان کو انسان نہیں سمجھتے! مگر تو قادرِ مطلق ہو کر بھی! علٰی کل شیء قدیر ہو کر بھی، جبار و قہار ہو کر بھی۔ اپنے بندوں پر درود بھیجتا ہے۔ تو ہی نہیں تیری نورانی مخلوق بھی ان بندوں پر درود بھیجتی ہے جو سحری کھا کر اپنے ہی پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔ یہ تیرا کتنا بڑا کرم ہے کہ تو ان بندوں کو اپنے سلام اور درود کا مستحق جانتا ہے۔ جو سارا سال تیری یاد سے غافل رہتے ہیں۔

مولائے کریم! تو واقعی بڑا عظیم ہے۔ تو غفور و رحیم ہے۔ مولا! یہی دعا ہے کہ تو ہمیں اپنے احکام کی پابندی اور اسوۂ رسول ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق دے (آمین) اے اللہ! رحمتی وسعت کل شیء تیرا فرمان ہے۔ اے باری تعالی! ''رحمتي سبقت علٰی غضبي'' تیرا ارشاد ہے۔ یا الٰه العالمین! ''أنت مقصودي ورضاك مطلوبي''
حاشیہ

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ روزہ کے علاوہ باقی عبادات خداوند کریم کے لئے نہیں ہیں اور ان کا اجر بھی کوئی اور عطا کرے گا بلکہ اس کی وجہ روزے کی افضلیت ہے۔ افضلیت ہے۔ کیونکہ یہ خالق و مخلوق، مالک و مملوک اور بندہ اور آقا کے درمیان ایک راز کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کی حقیقت ماسوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اس کا خصوصی اجر عطا فرمائیں گے۔