لیکن

بالآخر فتح تیشۂ براہیمی اور عصائے کلیمی کو نصیب ہوئی

اقتدار کا نشہ بڑا ظالم اور اس کا چسکا بڑا اندھا ہوتا ہے۔ بہ قائمیٔ ہوش و حواس وہ کمبخت یوں جیتے ہیں جیسے عقل و خرد کی ان کو ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ سُجھانے کے باوجود بات ان کے خانے میں نہیں اُترتی۔

ہزاروں جبابرہ کی داستانِ نامرادی سنتے ہیں اور بیسیوں کا برا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ مگر عبرت نہیں پکڑتے۔ خود پہلے کیا تھے اور کیسی گزری؟ اب ان کو کچھ بھی یاد نہیں رہا۔ اور حالت یہ ہے کہ جب ہوش آتا ہے، ہوش جاتے رہتے ہیں۔ ؎
بے ہوشی خوب تھی، فکر زمانے کی نہ تھی!
ہوش جاتے رہے جس دن سے ہمیں ہوش آیا

کچھ اسی قسم کا خمار نماردۂ عراق اور فراعنۂ مصر کو بھی آیا تھا لیکن جب تک تیشۂ براہیمی کی گردش اور عصائے کلیمی کی ضربِ کاری حرکت میں نہ آئی۔ ہوش میں نہ آئے لیکن جب آنکھ کھلی تو دنیا ہی بدلی ہوئی نظر آئی۔

ان ظالموں کی داستان میں بڑی عبرت پذیری ہے اگر موجودہ دنیا کے مغرور اور برخود غلط حکمراں اس سے سبق لینا چاہیں تو اس کی رحمت کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ اس وقت جو مشکل سب سے بڑی درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ نمرود اور فرعون تو آپ کو اب بھی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ملیں گے لیکن آہ! دور دور تک آپ کو تیشۂ براہیمی اور ضربِ کلیمی کا نشاں نہیں ملے گا اس لئے مصائب کی نار گلزار ہو رہی ہے۔ نہ ہی نیل اپنی آغوش پھیلا کر خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ کفر بے آمیز تو اب بھی جھولی بھر کر دستیاب ہوتا ہے اور قدم قدم پر ہوتا ہے لیکن ایمان بے داغ کا بڑا قحط پڑ گیا ہے۔ فرق صرف طریقِ کار میں پیدا ہوا ہے، کفر کی کافری میں سرِ مو فرق نہیں پڑا۔ یہاں پر خلیل اللّٰہی کی داستانِ خلّت کی پوری تاریخ کا تذکار ممکن نہیں، اس سلسلہ کی چند ایک باتیں پیش خدمت ہیں۔ شاید عہدِ حاضر کے بت تراش، بت فروش اور بت پرستوں کو اپنی لن ترانیوں کا جائزہ لینے کی توفیق حاصل ہو سکے۔

عراق کے نمرود اور پوری قوم، خدا سے جتنی دور تھی، اتنی ہی بتوں اور اپنے لیڈروں سے قریب تر تھی۔ اپنے ہاتھ سے بت تراش کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتی اور کچھ افراد کو اپنے اوپر خود مسلط کرتی اور پھر دم بخود ہو کر ان کی جی حضوری کو اپنے لئے سعادت تصور کر لیتی تھی، بالکل جیس ہم ووٹ دے کر کسی کو مسلط کر لیتے ہیں، یہ بھی گھڑنا ہی ہے۔

﴿إِنَّما تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ أَوثـٰنًا وَتَخلُقونَ إِفكًا...١٧﴾... سورة العنكبوت

''تم تو بس خدا كے سوا بتوں کی پرستش کرتے ہو اور جھوٹ موٹ گھڑتے ہو۔''

دوسرا بنیادی نقص ان میں یہ تھا کہ ان کا قرآن، ان کے آباؤ اجداد کا تعامل تھا اور ان کے جمہور کی رسومات ان کی سنت تھیں۔

﴿قالوا بَل وَجَدنا ءاباءَنا كَذٰلِكَ يَفعَلونَ ٧٤﴾... سورة الشعراء

''وه بولے یہ تو نہیں مگر ہم نے اپنے بڑوں کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔''

اور جو کچھ یہ ہو رہا تھا محض ایک دوسرے کی رو رعایت کی بنا پر ہو رہا تھا۔ ضمیر اور عقلی ہوش یا ایمان کا تقاضا نہیں تھا۔

﴿وَقالَ إِنَّمَا اتَّخَذتُم مِن دونِ اللَّهِ أَوثـٰنًا مَوَدَّةَ بَينِكُم فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا...٢٥﴾... سورة العنكبوت

''حضرت ابراہيم عليہ السلام نے فرمایا کہ تم جو خدا کے سوا بتوں کو مانتے ہو (تو) دنیوی زندگی کی باہمی دوستی و یاری کے لحاظ سے (مانتے ہو)''

ان حالات میں جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کو ٹوکنا شروع کیا تو باپ نے جو اس وقت حکومت میں بہت بڑے منصب پر فائز تھا ازراہِ خوشامد حکومت کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ:

﴿لَئِن لَم تَنتَهِ لَأَر‌جُمَنَّكَ...٤٦﴾... سورة مريم

''اگر تو باز نہ آيا تو ميں تجھے سنگسار كر كے چھوڑوں گا۔''

بالآخر جب حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے ان کا معبد خانہ مسمار کر ڈالا تو سرکاری حکم ہوا کہ بہت بڑا آتشکدہ تیار کر کے ان کو اس میں ڈال دیا جائے۔

﴿قالُوا ابنوا لَهُ بُنيـٰنًا فَأَلقوهُ فِى الجَحيمِ ﴿٩٧﴾... سورة الصافات

(لگے کہنے کہ) ''ان كے لئے بھٹی بناؤ اور ان کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو۔''

جیسا کہ مشہور ہے کہ یہ نار گلزار ہو گئی، لیکن ان کا خود اپنا کیا حشر ہوا؟ مفسرین نے لکھا ہے کہ:

حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہجرت کے بعد اربابِ اقتدار کے سارے خاندان پر عذابِ الٰہی کا ایک غیر مختتم سلسلہ شروع ہوا۔ پہلے عیلامیوں نے ''اُر'' جیسے عظیم شہر کو تہ و بالا کیا، پھر نمرود کو ان کے بت ''ننّار'' سمیت پکڑ کر لے گئے اور اُر کا پورا علاقہ عیلامیوں کی غلامی میں جینے پر مجبور ہو گیا۔ جس کی وجہ سے باشندوں کے نظریات بھی بدل گئے اور وہ سمجھے جن کو سبھی کچھ سمجھتے تھے وہ تو خود کو بھی نہ بچا سکے۔ فاعتبروا یا أولی الأبصار

حضرت کلیم اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کا جب ظہور ہوا تو دنیا کی حکومت فرعون کے پاس تھی، سرمایہ، قارون کی جیب اور رورحانیت، شعبدہ بازوں کی پاری میں۔ جب ان کو محسوس ہوا کہ کسی عہد آفریں پیشوا کا ظہور ہونے کو ہے تو حکم ہوا کہ غلام قوم (بنی اسرائیل) کی بچیاں ضیافتِ طبع کے لئے رہنے دی جائیں لیکن لڑکوں کو چلتا کیا جائے۔ مگر خدا کے سامنے حکمرانوں کی تدبیروں کی پیش نہیں جاتی۔ آنے والا آیا، پر حکم ہوا، پکڑو پکڑو! لیکن وہ مدین جا پہنچے۔ وحی نے حکم دیا کہ جناب! اب ادھر پلٹ جاؤ جدھر سے آئے تھے، ان کو جا کر سمجھاؤ، تشریف لے گئے، پر وہ اور اکڑے اور بولے۔ یہ مجرم لوگ ہیں، دھمکیاں دیتے ہوئے جیل خانہ کی بات کہی۔ جب اس سے کام نہ چلا تو احسان جتایا۔ یہ بات بھی کارگر نہ ہوئی تو الزام لایا کہ دراصل یہ کرسی کے بھوکے ہیں، مذاق اُڑایا۔ جب بات نہ بنی و اعلان کیا کہ ''تخریب کار'' ہیں الغرض اتمامِ حجت کے بعد اپنی قوم کو لے کر چل پڑے۔ فرعون نے تعاقب کیا۔ پر اللہ تعالیٰ نے ان کو وہیں دھر لیا۔

﴿فَلَمّا ءاسَفونَا انتَقَمنا مِنهُم فَأَغرَ‌قنـٰهُم أَجمَعينَ ٥٥ فَجَعَلنـٰهُم سَلَفًا وَمَثَلًا لِلءاخِر‌ينَ ﴿٥٦﴾... سورة الزخرف

''جب ان لوگوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو ڈبو دیا اور ان کو گیا گزرا کیا اور آنے والی نسلوں کے لئے (ان کو) ضرب المثل بنا دیا۔''

نمرودانِ عراق اور فراعنۂ مصر نے الگ الگ جو جو کرتوت کیے تھے وہ بدقسمتی سے دورِ حاضر میں ہر ملک کے اربابِ اقتدار اکیلے اکیلے کر رہے ہیں۔ بلکہ ان سے کہیں زیادہ ڈھٹائی اور شیخی کے ساتھ، اس لئے اب ایک دفعہ جو آجاتا ہے پھر مکرر اس کو باری نہیں ملتی۔ مگر افسوس! جو آتا ہے، اپنے پیشرو کے انجام سے کم ہی سبق لیتا ہے۔ موجودہ دور کی طاقتیں کتنی بڑی سہی، بہرحال کرد فر میں نمرود سے اور فرعون سے بڑھ کر نہیں ہیں بشرطیکہ وہ سمجھیں، نہ سمجھے تو ان کا بھی وہی حشر ہو گا جو ان کے پیشروؤں کا ہو ہے۔

جائزے

(۱)

مرکزی وزیرِ اطلاعات و نشریات جناب کوثر نیازی نے راولپنڈی میں ایک جلسۂ عام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

حزبِ اختلاف ہمیشہ اپنے جلسے جلوسوں میں صدر بھٹو اور ان کے خاندان کے بارے میں نا زیبا الفاظ استعمال کرتی ہے نیز کہا کہ خاں ولی خان نے کچھ عرصہ قبل پیپلز پارٹی کو چیلنج کیا تھا کہ صدر بھٹو اور ان کا کوئی ساتھی پشاور میں داخل ہو کر جلسۂ عام میں تقریر نہیں کر سکتا لیکن پیپلز پارٹی نے ان کا یہ چیلنج قبول کرتے ہوئے گزشتہ روز پشاور میں ایک جلسۂ عام کا اہتمام کیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، انہوں نے جماعتِ اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:

جب صدر بھٹو اسلامی سوشلزم کا نام لیتے ہیں تو جماعتِ اسلامی ان کے خلاف کفر کے فتوے جاری کر دیتی ہے لیکن اس کے برعکس جب خان ولی خان ملک میں روسی سوشلزم لانے کی حمایت کرتے ہیں تو جماعتِ اسلامی خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ (روزنامہ امروز ۱۶ء اگست)

صدر بھٹو تو بہرحال ایک صدرِ مملکت ہیں، نازیبا الفاظ تو ایک ادنیٰ انسان کے بارے میں بھی بولنا جائز نہیں ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ نازیبا الفاظ کا دروازہ کس نے کھولا ہے۔ اگر موصوف صرف اپنے ہفت روزہ شہاب کی حیا سوز تخلیقات کا مطالعہ فرما لیں تو شاید ''فقیہِ شہر کو اپنے وعظ شریف'' کا جواب آسانی سے مل جائے۔ حزبِ اختلاف میں سے اگر کسی نے کوئی نازیبا لفظ کہا ہے تو وہ لفظ، لفظ ہی تو ہے پیپلز پارٹی نے تو غنڈہ اور سماج دشمن عناصر کے بھیس میں ''مجسم گالیاں'' اُگل ڈالی ہیں اس کی بھی آپ کو فکر چاہئے تھی۔

باقی رہا خان ولی خان کا چیلنج اور پیپلز پارٹی کا اس کو قبول کر کے پشاور میں جلسہ کر آنا، ہو سکتا ہے، موصوف کا یہ کوئی کارنامہ ہو تاہم یہ طنز و تعریض کچھ سنجیدہ لوگوں کی زبان ہیں سمجھی جاتی، اور نہ ہی یہ کچھ سیاسی فہم کی کوئی اچھی مثال ہے یہ تو ''آبیل مجھے مار'' والی بات ہے گویا کہ انہوں نے ان کو للکارا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ باتیں اچھی نہیں ہیں۔ اس سے ملک کی فضا خراب ہوتی ہے۔ امن عامہ میں خلل پڑ جاتا ہے۔

جماعت اسلامی نے ولی خان کے سوشلزم کو قبول نہیں کیا۔ باقی رہی چپ؟ سو اس لئے کہ خان ولی خان کا سوشلزم ''کفرِ عریاں'' ہے اس کے فریب میں آنا آسان نہیں ہے۔ قابلِ نفرین سوشلزم پیپلز پارٹی کا ہے۔ کیونکہ اس نے'' مسزاندرا گاندھی'' کے ساتھ ''بتول'' کا اضافہ کر کے اس کو مسلمان ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ ''ہیئت کذائیہ'' جب تک بدستور قائم ہے وہ بہرحال کافر ہی ہے اس کے ساتھ خالی لفظ 'اسلامی'' کے اضافہ سے کوئی خاص فرق نہیں پڑ جاتا۔

(۲)

مرکزی وزیرِ قانون جناب محمود علی قصوری نے اپنی جماعت یعنی پیپلز پارٹی کے بارے میں کہا ہے کہ:

ان کی جماعت اسلام کی تبلیغ اور ملکی آئین کو اسلامی تعلیمات کی اساس پر مرتب کرنے میں کسی دوسرے سے پیچھے نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام کے نام پر استحصال کی اجازت نہیں دے گی۔ (نوائے وقت ۱۷؍ اگست)

کیا ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ مثلاً ''سوشلزم'' کے ساتھ لفظ 'اسلامی'' کے اضافہ سے اسلام کا جو استحصال کیا گیا ہے کیا وہ بھی ''اسلام کے نام پر استحصال'' کے تحت آتا ہے؟

(۳)

بنگلہ دیش کا مسئلہ ہمارے نزدیک کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ پاکستان کا ایک حصہ ہے۔ ملک کے دونوں حصوں کے عوام کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ چند طالع آزماؤں کی بے تدبیریوں، غداریوں اور خر مستیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر سزا دینی ہے تو ان کو دیں۔ عوام کو کاہے کی سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہم سوچتے ہیں کہ اگر آپ بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کریں گے تو کونسا پہاڑ گر پڑے گا اور کونسی قیامت ٹوٹ پڑے گی؟ صدر بھٹو کو اگر کوئی خاص مجبوری ہے تو وہ بتائیں، کیا ہے؟ تاکہ قوم اس سلسلہ میں آپ کی مدد کرے، اگر صرف فیاضی ہی مدّ نظر ہے تو آپ اپنی اس فیاضی پر اس کو بھی قیاس کر لیجئے، جس کا آپ نے شیخ مجیب کو چھوڑ کر مظاہرہ کیا تھا۔

(۴)

خبر آئی ہے کہ پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ علماءِ اسلام (ہزاروی) میں تعاون کے اصول پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ افہام و تفہیم سے مرکز اور صوبوں میں مخلوط حکومتیں قائم ہو سکیں گی۔ بر سرِ اقتدار جماعتیں کاروبارِ حکومت کے علاوہ سیاست میں بھی مل جل کر کام کریں گی۔ مفتی محمود نے مزید کہا کہ بر سرِ اقتدار جماعتوں میں دراصل اختلاف نہیں بلکہ محض عدم اعتماد کی فضا موجود ہے۔ (نوائے وقت)

بر سرِ اقتدار جماعتوں کا یہ وفاق اگر دیرپا ثابت ہو تو ہمیں یقین ہے، خوش آئند ثابت ہو گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ بر سر اقتدار جماعتیں اس دائرہ کو اور وسعت دیں تاکہ دائیں بازو کی دوسری جماعتیں بھی مشترک اقدار میں کم از کم ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھ سکیں۔ ہرحال ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں بشرطیکہ یہ ''دو ملاؤں میں مرغی حرام'' ہونے والی بات پر منتج نہ ہو۔ جیسا کہ قوی اندیشہ ہے۔ کیونکہ تینوں کی راہیں اور دلچسپیاں جدا جدا ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سامنے اپنے اقتدار کو طول دینے کے سوا جماعتی حیثیت میں اور کوئی متعین منزل نہیں ہے۔ جمعیت کے سامنے منزل ہے لیکن حنفیت کے فروغ اور مرکز میں شرکت کی حد تک، رہی نیپ، سو اس کے پاس سوشلزم کی درانتی ہے۔ بہرحال درانتی کا کھیت کبھی بھی ہرا نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ اس اشتراک سے پیپلز پارٹی گھاٹے میں رہے گی۔ کیونکہ نیپ کے دونوں صوبوں میں پیپلز کی کھپت کے امکانات کم ہیں۔ ہاں پنجاب اور سندھ میں ولی خاں کے پنپنے کے امکانات زیادہ ہیں، گویا کہ یہ اشتراک پیپلز پارٹی کی موت کے پروانے پر دستخط ہیں۔ ہاں اگر اس اشتراک کے ذریعہ دوسری جماعتوں کو دبانے یا شکار کرنے کا ذریعہ بنایا گیا تو ہو سکتا ہے کہ ان کو ذاتی فائدہ حال ہو لیکن مزعومہ جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکے گی۔

گرفتاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ رہنما گرفتار ہو گئے ہیں کچھ تیار بیٹھے ہیں۔ غور فرمائیے۔ ایک جمہوری ملک کے آزاد شہریوں اور رہنماؤں کا اگر یہ تاثر اور احساس ہو کہ سدا تیار رہو تو وہ جمہوریت کیا ہوئی، جمہوریت کا واہمہ ہے۔

جو بھی پارٹی بر سرِ اقتدار آئی ہے اس نے اپنے تحفظ کے لئے مخالفوں کی ناکہ بندی کو ہی دوا تصور کیا ہے حالانکہ یہ دوا نہیں بد پرہیزی ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی مثبت اور عوامی پروگرام ہے تو اس کی بسملّہ کیجئے! دیکھنے کے بعد عوام کسی کی ہوائی تقریروں کے بھرے میں آئیں، نا ممکن ہے بلکہ مشاہدہ کے بعد عوام آپ کی طرف سے خود ہی دفاع کریں گے۔ گھبرائیں نہیں۔ ہمت سے کام لیں۔ اگر آپ مخلص ہیں اور کچھ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں تو پہلے اپنے ''کان'' دیکھ لیجئے! کسی کے کہنے پر لٹھ لے کر کوے کے پیچھے نہ دوڑ پڑئیے۔

ان گرفتاریوں میں زیادہ تر صدر بھٹو کے کارکنانِ قضا و قدر کا ہاتھ ہے۔ بہتر ہے کہ صدر موصوف اپنے ان مشیروں کے ''بسم اللہ کے گنبد'' سے نکلنے کی کوشش کریں ورنہ کل پچھتائیں گے۔ کیونکہ گناہ ان کا ہو ا۔ قصور وار آپ ٹھہریں گے۔

جن اکابر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں عوام کے اندر کافی حسنِ ظن پایا جاتا ہے اور یہ بلا وجہ بھی نہیں کیونکہ ان کی سیاسی خدمات ایسی ہیں کہ ان کو بھلانا مشکل ہے۔ اس لئے شدید ردِّ عمل کا اندیشہ ہے جو بہ حالاتِ موجودہ مناسب نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی حکمران تشریف لائیں۔ وہ آنکھوں کا تارا بن کر رہیں۔

(۶)

اوکاڑہ ۲۰؍ اگست۔ لیڈی پارک میں ''کل پاکستان تحفظِ اسلام'' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شاہ احمد نورانی نے بعض باتیں تو نہایت ہی معنی خیز اور غیرت مندانہ کہی ہیں جو بلا تبصرہ ہدیۂ قارئین ہیں۔ آپ نے کہا:

پاکستان کو اقتصادی اور معاشی طور پر تباہ کر کے اسے اسرائیل بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سوشلسٹوں، کمیونسٹوں اور اسلام دشمن عناصر کے لئے کوئی جگہ نہیں اور ہم اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں محمدِ عربی ﷺ کے اعلیٰ و ارفع نظام کو نافذ کرانے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا:

آج ''بھٹو جاوے ای جاوے'' کے نعرے لگنے شروع ہو گئے ہیں مگر ہم بھٹو کو ایسے ہی نہیں جانے دیں گے، ان سے ۹۰ ہزار جنگی قیدیوں کا حساب لیا جائے گا۔ ان سے غریبوں اور مزدوروں کا ناحق خون کا بھی حساب لیا جائے گا۔

مولانا نورانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی چونکہ قوم سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، اس لئے صدر بھٹو مستعفی ہو جائیں۔ اس موقع پر مولانا نے حاضرین سے پوچھا کہ آپ کو پیپلز پارٹی پر اعتماد ہے، سب نے ہاتھ اُٹھا کر واشگاف الفاظ میں ''نہیں نہیں'' کے نعرے لگائے۔'' (نوائے وقت ۲۱؍ اگست)

(۷)

سعودی عرب کے شاہ فیصل نے عالمی رائے عامہ کی شدید مذمت کی ہے کہ اس نے لبنان اور شام میں معصوم پناہ گزینوں کے کیمپوں میں معصوم بچوں اور بوڑھوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت نہیں کی، نیز انہوں نے کہا کہ:

''یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ میونخ کے واقعہ پر تو ساری دنیا نے رنج و الم کا اظہار کیا، لیکن عربوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور عربوں کے کیمپوں پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کی توفیق کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی رائے عامہ انتہائی بے حس ہو چکی ہے۔ خصوصاً اسلامی اور عرب ملکوں کے بارے میں یہ بے حسی دشمنی سے کم نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے دشمنوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو متحد ہونے کی اپیل کی اور یہ امید ظاہر کی کہ ان کی اس اپیل پر مسلمان لبیّک کہیں گے۔'' (نوائے وقت ۱۵؍ ستمبر ۷۲ء)

لبیّک لبیّک! صدر بار لبیّک! شاہِ فیصل نے جو بات کہی ہے ہم حرف بہ حرف اس کی تائید کرتے ہیں۔ نہتے اور پُر امن شہریوں پر اسرائیلیوں نے جو بزدلانہ حملے کیے ہیں ہم ان کی پرزور شدید مذمت کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ عرب جب آواز دیں گے، ہم پاکستانیوں کو ان شاء اللہ اپنے پاس پائیں گے اور پوری غیرت اور ہمت کے ساتھ شانہ بشانہ ہو کر دشمنوں سے لڑیں گے۔

باقی رہا یہ شکوہ کہ عالمی رائے عامہ بے حس ہو چکی ہے، بالکل بجا ہے۔ اس وقت بد قسمتی سے عالمی قیادت جن سپر طاقتوں کے ہاتھ میں ہے وہ ایک گہری سازش کے تحت مسلمانوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک طرف قومِ یہود کی پشت پناہی کر کے حملے کرا رہی ہیں، دوسری طرف قومِ ہنود کو شہ دے کر ایک عظیم اسلامی طاقت کے بخئیے ادھیڑنے میں مصروف ہیں اور تیسری طرف سے عالمِ اسلام کے اندر کچھ نام نہاد مسلمانوں کو استعمال کر کے اسلامی برادری میں افتراق اور انتشار کو ہوا دے رہی ہیں تاکہ عالمِ اسلام کی ہوا اکھڑ جائے اور چوتھی اور بنیادی بات ہماری ''نا مسلمانی'' ہمارے لئے وبالِ جان بن رہی ہے۔ یہ ناپاک ہاتھ جو پسِ پردہ ڈور ہلا رہے ہیں اگر ان کو اسلامی برادری نے بھانپنے کی کوشش نہ کی تو ہو سکتا ہے کہ خاکم بدہن، ہمارا حال کل اس سے بھی برا ہو۔ عوام مسلمانوں کو چاہئے کہ ان خواص کو کانوں سے پکڑ کر نکال باہر کریں جن کی حماقتوں اور بے تدبیریوں سے دشمنانِ اسلام کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں۔ اور روز افزوں ہمارا ملّی مستقبل تاریک تر ہوتا جا رہا ہے۔

(۸)

''گورنر پنجاب ملک غلام مصطفےٰ کھر نے صوبائی وزراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ چند روز کے لئے صوبے کے مختلف حصوں میں پھیل جائیں اور ذاتی طور پر وہاں کے جرائم کی صورتِ حال کا جائزہ لیں۔''

ہمارے نزدیک گورنر موصوف کا یہ ایک تجاہلِ عارفانہ اور تکلف ہے۔ ورنہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قائدِ عوام کی عوامی حکومت کے ان عوامی غنڈوں کی یہ کارستانیاں ہیں اور ان کی سرپرستی اور مشکل کشائی بھی انہی کے عوامی کارندے کر رہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ لوگوں نے خود ہی ان کو اس راہ پر ڈالا ہے تو اس میں قطعاً مبالغہ نہ ہو گا۔ خود پولیس اس امر کی شاکی ہے کہ ہر علاقہ میں ان کے عوامی ''رسہ گیر'' ان کو قانون کے تقاضے پورے کرنے نہیں دیتے۔

دراصل یہ ساری کم بختی اور قصور ان تہی دامن سیاستدانوں کا ہے جنہوں نے حصولِ اقتدار کے لئے سماج دشمن عناصر کو سینہ سے لگایا، ان کی پشت پناہی کی اور جرائم کے باب میں ان کی خوب ناز برداریاں کیں ورنہ ''چوری اور سینہ زوری''! ایک چور کے لئے آسان بات نہیں ہوتی۔

اگر پولیس کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ جن کو داد گر سمجھا گیا ہے، اصلی ستم گر ہیں۔

ہمارے نزدیک ایک حکومت کی بدنامی اور ناکامی کے لئے یہ بات ثبوت ہے کہ ملک کے پُر امن شہریوں کی عزت و آبرو اور مال و جان کو تحفظ مہیا کرنے میں وہ ناکام رہے۔ غور فرمائیے کہ جو روٹی کپڑے کی امیدیں باندھ رہے تھے ان کو اب جان کے لالے پڑ گئے ہیں اور جو لوگ اربابِ اقتدار کو کرسیاں مہیا کر کے خوش حالی کی راہ دیکھ رہے تھے، اب
؎ آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

والا قصہ ان کا بن گیا ہے۔ اس لئے مؤدبانہ التماس ہے کہ جنابِ کھر صاحب! قوم سے مذاق نہ کیجئے۔ دھ درد ہے تو دوا دیجئے! ورنہ دعا ہی کیجئے! ہم اسے ہی سہارا بنا لیں گے۔

(۹)

مرکزی وزیر تعلیم جناب عبد الحفیظ پیرزادہ نے قومی اجلاس کے دوران بتایا کہ:

جنوری سے جولائی تک کل ۴۱ ہزار روپے کی شراب در آمد کرنے کے لئے لائسنس جاری کئے گئے اور جماعتِ اسلامی کے غفور احمد کے سوال کے جواب میں کہا کہ:

''۱۹۶۹ء میں ۱۲ لاکھ ۵۹ ہزار اور ۱۹۷۱ء میں ۲۹ لاکھ ۵۸ ہزار روپے کی غیر ملکی فلمیں درآمد کی گئیں اور یہ بھی بتایا کہ سالِ رواں کے پہلے چھ ماہ میں ۳۱ لاکھ ۵۲ ہزار روپے کی فلمیں درآمد کرنے کے لئے جو لائسنس جاری کئے گئے۔ ان کے علاوہ اسی سال ۳۷ لاکھ روپے کی الگ ادائیگی بھی کی گئی جو ان غیر ملکی فلموں کے سلسلہ میں تھی جو کرایہ کی بنیاد پر حاصل کی گئیں۔''

غور فرمائیے! یہ ان مسلمان عوام اور معاشرہ کی خدمت ہو رہی ہے جن سے کہا گیا تھا کہ روٹی، کپڑا اور مکان بھی دیں گے اور ایمان بھی۔ اصل بات یہ ہے کہ روٹی کپڑا اور مکان کا جو حشر ہوا، ایمان کا بھی اس سے مختلف نہیں ہو سکتا تھا۔ اور نہ ہوا۔ بس ؎
نہ خدا ہی ملانہ وصالِ صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

(۱۰)

پنجاب کے گورنر کھر نے اعلان کیا ہے کہ راولپنڈی سے واپسی پر دو نئے وزراء کا تقرر کریں گے، اس پر معاصر لکھتا ہے کہ:

''جب سے عوامی حکومت بر سرِ اقتدار آئی ہے، ملازمت یا مزدوری ملے یا نہ ملے، وزارتوں کے دروازے کھل گئے ہیں۔ وزیروں، مشیروں، وزراءِ مملکت اور سپیشل اسٹنٹوں کی فوج ظفر موج سارے ملک میں نمایاں دکھائی دیتی ہے، ملک نصف رہ گیا ہے لیکن وزیروں اور مشیروں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، ملک کو چلانے کے اخراجات بڑھ گئے لیکن کاروبارِ حکومت ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ اتنے وزراء کے باوجود سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہوتا۔ مسائل حل نہیں ہو رہے۔ ہم کسی کے رزق کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے نہ ہم کسی کے ارمانوں کا خون کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ غریب ملک ہے۔ یہ غریب صوبہ ہے۔ ہم اس غریب صوبے کے عوامی گورنر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے وزراء کی تعداد میں دو (۲) کا اضافہ کرنے کے بجائے دو چار کی کمی کر کے کفایت شعاری کی مثال قائم کریں۔ موجودہ دور میں وزراء کا تقرر دروازے پر ''سفید ہاتھی'' باندھ لنے سے کم نہیں، پنجاب آخر کتنے سفید ہاتھی پالنے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کارخانے بند، کاروبار ٹھپ۔۔۔ آخر یہ وزیروں کے ٹھاٹھ باٹھ کیسے پورے ہوں گے۔''

اصل بات یہ ہے کہ وزراء کہ یہ تقرریاں نہ تو صرف محکمانہ اور دفتری ضرورت کی بنیاد پر ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کی ذاتی صلاحیتوں سے عوام کو مستفید کرنے کے لئے۔ بلکہ صرف ''سیاسی رشوت کی کھیر'' بانٹنے کے لئے ہوتی ہیں۔ اگر اربابِ اقتدار یہ جوا کھیلنا چھوڑ دیں تو ان کی دیوارِ اقتدار شام سے بھی پہلے دھڑام سے نیچے آرہے۔ یقین کیجئے، ان کی یہ دیوارِ اقتدار، دیوار گریہ نہیں ہے کہ اس پر بارانِ رحمت کا نزول ہو۔ یہ ایک قحبہ خانہ ہے، ہاں کام، دام سے چلتا ہے۔ جن کی جیب دام سے خالی ہے وہ یہاں بھی خالی وہ یہاں بھی خالی رہتا ہے اور وہاں بھی۔

معاصر موصوف وزراء کی بے جا تقرریوں کا رونا رو رہے ہیں، یہاں تو بیشتر دفاتر میں بھی افسروں اور کلرکوں کی کثیر تعداد کی کیفیت دروازے پر سفیدہاتھی باندھنے کے مترادف ہے۔ اصل روگ یہ ہے کہ صالح اور اہل حکمران نہیں رہے۔ اس لئے وہ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔