ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اگست
1972
ادارہ
صدرِ پاکستان مسٹر بھٹو ۲۸؍ جون کو تقریباً گیارہ بجے قبل وپہر لاہور سے چندی گڑھ، پھر وہاں سے ''پاک بھارت سربراہی کانفرنس'' میں شمولیت کے لئے ۸۷ افراد کی ٹیم کے ہمراہ شملہ پہنچے جہاں موصوف کا استقبال نہ صرف نہایت سرد مہری سے کیا گیا بلکہ فاتحانہ خمار کے ساتھ، کم ظرف ہندو نے اپنی کم ظرفی کی نمائش بھی ضروری سمجھی۔
  • اگست
1972
اکرام اللہ ساجد
فرد اور معاشرہ باہم لازم و ملزوم ہیں، جس طرح فرد معاشرے سے الگ ہو کر ایک بے حقیقت اکائی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، اسی طرح معاشرہ سے افراد کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ دوسرے لفظوں میں افراد کی مجموعی حیثیت کا نام معاشرہ ہے۔ اس لحاظ سے فرد کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح پر منتج ہو گی اور فرد کا بگاڑ پور معاشرہ کے بگاڑ کا باعث بنے گا۔ اسی لئے اسلام نے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح کا اہتمام کیا ہے۔
  • اگست
1972
عبدالرشید اظہر
قارئین کرام پہلی دو قسطوں میں دینی مدارس میں زیرِ تدریس علوم و فنون کا تاریخی ارتقاء و انحطاط اور ان کی مروجہ نصابی حیثیت پر ہمارا ناقدانہ تبصرہ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اب میں اسلامی تعلیم کے صحیح مقصد کی روشنی میں چند بنیادی اصلاحی تجاویز پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اربابِ فکر اور اصحابِ مدارس ان کا ماہرانہ جائزہ لے کر انہیں عملی جامہ پہنانے کی سعی مشکور کریں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو! آمین
  • اگست
1972
عبدالرحمن عاجز
پہلو میں درد قلب میں ہے اختلاج آج        کرنا ہے اے نگاہِ کرم کر علاج آج
شاید نہ اس کے بعد کوئی ہاتھ اُٹھ سکے            رکھ لے کسی کے دستِ دعا کی تو لاج آج
اک حسن منتظر ہے کہ کل کل پہ ہے بضد        اک عشق منتظر ہے کہ کہتا ہے آج آج
  • اگست
1972
اختر راہی
ڈاکٹر عبد الوہاب عزام بے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے عالمِ عرب کو اقبال کے نغمۂ شوق سے باخبر کرنے کے لئے دن رات ایک کر رکھا تھا۔ ان ہی درد مند اور باہمت افراد کی کوششیں ہیں کہ آج عالمِ عرب کی علمی مجالس کلامِ اقبال سے گونجتی ہیں۔ اہلِ نظر اقبال کے نغمۂ شوق سے فیض پاتے ہیں اور عوام مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کے مبلّغ کے مجاہدانہ افکار سے ولولۂ تازہ حاصل کرتے ہیں۔
  • اگست
1972
عبدالمنان راز
نام کتاب: جائزہ مدارسِ عربیہ، مغربی پاکستان

سائز: ۱۷x۲۷/۸

ضخامت: ۸۰۳: صفحات
  • اگست
1972
ادارہ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام علي نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين، وبعد فقد ورد إلي سؤال، صورته: وقع بين شخصين نزاع، ھل يجوز لشخص أن ينوي السفر لمجرد زيادة قبر النبي ﷺ دون المسجد؟ أفتونا، والله يحفظكم. (والجواب) أن زيادة القبر كان منهيا منعها في أول الاسلام لقرب الناس آنذاك من عبادة الأصنام ثم نسخ ذلك بقوله ﷺ: (كنت نھيتكم عن زيادة القبور فزوروھا فانھا تذكركم الآخرة.)