کثرتِ مرتحلین:

اسلامی قرونِ اولیٰ، وسطیٰ اور متاخرہ ہر زمانہ میں یہ رواج رہا ہے کہ علم کے شائقین کثیر تعداد میں علمی مراکز میں آس پاس سے جمع ہوتے تھے۔ دورِ خلافتِ راشدہ تک تو حجاز میں زیادہ رونق رہی۔ بعد ازاں عراق، خراسان شام، بلخ، بخارا وغیرہ بھی علمی مراکز بن گئے جہاں سے یہ علمی دولت مشارق الارض و مغاربہا میں پھیلی۔ یہاں اس عنوان کے تحت صرف چند ایک مقامات کا ذِکر کیا جاتا ہے جس سے قارین یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ یہ لوگ کس قدر علم کے شوق میں ہر طرف سے کھنچے چلے آتے تھے۔ چنانچہ مولانا حبیب الرحمٰن شروانیؒ اپنی تالیف ''علماء سلف و نابینا علماء'' کے ص ۵ میں لکھتے ہیں:

''امام بخاریؒ کے شاگرد فربریؒ سے تقریباً نوے ہزار شاگردوں نے صحیح بخاری پڑھی۔''

یحییٰ بن جعفر بیکندیؒ فرماتے ہیں کہ شیخ علی بن عاصم کی مجلسِ درسِ حدیث میں تیس تیس ہزار نفوسِ قدسیہ پروانہ وار سر دُھن کر تقریر سنتے تھے اور ہمہ وقت علوم و معارف کا غلغلہ اور تذکرہ رہتا تھا۔''

یزید بن ہارونؒ نے جب بغداد میں درسِ حدیث دیا تو اس میں ستر ہزار حاضرین کا تخمینہ کیا گیا۔ ایک مرتبہ سلیمان بن حربؒ کے لئے بغداد میں قصرِ خلافت کے قریب ایک مرتفع جگہ مثل منبر تیار کی گئی تاکہ اس پر بیٹھ کر حدیث لکھائیں۔ اس مجلس میں امیر المومنین مامون الرشید اور تمام امرائے خلافت حاضر تھے۔ جو لفظ امام ممدوح کے منہ سے نکلتا تھا اس کو امیر المؤمنین اپنے قلم سے لکھتے جاتے۔ جب کل حاضرینِ درس کا تخمینہ کیا گیا تو چالیس ہزار نفوس اندازے میں آئے۔ امام عاصم بن علی املائے حدیث کے لئے بغداد سے باہر نخلستان میں ایک بلند چبوترے پر بیٹھتے تھے۔ ان کے مستملی (جو استاد سے سن کر شاگردوں کو اونچی آواز سے لکھائے) ہارون نے اپنے کھڑے ہونے کے لئے ایک خم دار کھجور کا درخت پسند کر رکھا تھا۔ خلیفہ معتصم باللہ نے ایک بار اپنا معتمد اس مجلس کے شرکاء کا اندازہ کرنے کے لئے بھیجا۔ معتمد نے ارشادِ خلافت کی تعمیل کی تو ایک لاکھ بیس ہزار حاضرین کی تعداد شمار میں آئی۔ ذرا قیاس کیجئے کہ جس قوم کے افراد ایک ایک مجلس علمی میں سوا سوا لاکھ کی تعداد میں جمع ہو جائیں اس قوم کے سینے میں کتنا شوقِ علم بھڑک رہا ہو گا اور پھر اس امر کا بھی اندازہ کیجئے کہ جو شہر اپنے سوا سوا لاکھ باشندے ایک علمی جلسہ میں بھیج دے وہ کس قدر آباد ہو گا۔ (بحوالہ عیون الانباء، ج ۲ ص ۶)

رحلہ کی مشکلات:

موجودہ زمانے میں حصول علم کے لئے جس قدر سہولتیں میسر ہیں، اس زمانے میں موجود نہیں تھیں بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ علم حاصل کرنے کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں حائل تھیں۔ لیکن علم کی خاطر یہ لوگ ان رکاوٹوں کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتے تھے۔ گویا کہ انہوں نے خود کو مندرجہ ذیل ارشادِ الٰہی کا پورا مصداق بنایا:﴿يـٰأَيُّهَا الإِنسـٰنُ إِنَّكَ كادِحٌ إِلىٰ رَ‌بِّكَ كَدحًا فَمُلـٰقيهِ ٦﴾... سورة الانشقاق" یعنی اے انسان تو اپنے رب کی طرف محنت کرنے والا ہے۔ پھر تو اسے ملے گا۔

اور مسلمان کی شان بھی یہی ہے کہ اپنے رب سے ملاقات کی امید میں جب وہ کوئی کام کرتا ہے تو اس سے اکتاہٹ یا بے صبری تو کجا، اس رستہ کی تکالیف کا زبان سے اظہار بھی مناسب نہیں سمجھتا۔ یہی وجہ ہے کہ سفری مصائب کے سلسلہ میں جو علم کی خاطر پیش آئے بہت کم واقعات ان لوگوں سے منقول ہیں اور جو ہیں وہ بھی اتفاقًا، بر سبیل تذکرہ یا کسی خاص اعلیٰ مقصد کے تحت بیان کئے گئے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں موسیٰؑ کا یوشعؑ بن نون سے یہ کہنا بیان ہوا ہے،﴿ءاتِنا غَداءَنا لَقَد لَقينا مِن سَفَرِ‌نا هـٰذا نَصَبًا ٦٢﴾... سورة الكهف" کہ کھانا لاؤ، اس سفر سے تو ہم بہت تھک چکے ہیں۔

موسیٰؑ کا یہ قول اگرچہ تکان وغیرہ کا اتفاقاً ذکر تھا لیکن قرآن نے اس کا ذِکر اس لئے کیا ہے کہ اس (تکان اور بھوک) کے احساس سے بعد میں بڑے بڑے واقعات ظہور پذیر ہوئے۔

بہرحال طالب علم کی خاطر ان لوگوں نے جس قدر مصیبتیں جھیلیں، اگر آج کل کی طرح ان دنوں علماء میں ڈائریاں لکھنے کا رواج ہوتا اور وہ اپنے سوانحی واقعات کو جمع رکھنے کا اہتمام فرماتے تو آج یقیناً تاریخ انہی صعوباتِ سفر کے ابواب سے پُر ہوتی۔ تاہم جو واقعات ملتے ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ علم کی خاطر ان لوگوں نے کس قدر محنتیں کیں اور تکالیف اُٹھائیں۔ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جو گھنٹوں بڑے صحابہ کے دروازوں پر مسئلہ پوچھنے کی غرض سے کھڑے رہتے، لیکن دستک دیتے نہ بلاتے، کہ کسی کام کی غرض سے یا نماز وغیرہ کے لئے خود ہی باہر نکلیں گے تو مسئلہ پوچھ لیں گے اور صحابہ جب آپ کو اپنے دروازے پر کھڑے ہوئے پاتے تو معذرت کرتے لیکن آپؓ ثواب کی نیت سے اسے ٹال جاتے۔ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البّر)

ذیل میں ہم ابو حاتم رازیؒ کے ایک دو قصے نقل کرتے ہیں جو ان کے صاحبزادے نے اپنی کتاب جرح و تعدیل کے مقدمہ میں رج کئے ہیں۔ جن سے یہ اندازہ ہو سکے گا کہ محدثین کرام کو اپنے رحلات کی کتنی قیمت ادا کرنی پڑتی تھی اور کس قدر شدائد اور تکالیف کا سامنا کر کے یہ لوگ پروان چڑھتے تھے۔ ابن ابی حاتمؒ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں:

''میں ۲۱۴ھ میں آٹھ ماہ بصرہ میں رہا۔ یہاں میرا ایک سال کا پروگرام تھا لیکن خرچ ختم ہو گیا تو میں ایک ایک کر کے اپنے کپڑے بیچنے لگا حتیٰ کہ تمام کپڑے ختم ہو گئے تاہم میں حسبِ دستور اپنے ایک دوست کے ساتھ اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شام تک سبق میں مشغول رہا۔ شام کو واپس اپنی قیام گاہ پر آگیا۔ کھانے کے لئے کوئی چیز نہ تھی اور میں صرف پانی پی کر لیٹ گیا۔ دوسرے روز پھر وہی دوست آگیا جس کے ساتھ میں سخت بھوک کے باوجود شام تک شریکِ سبق رہا اور پھر ہم اپنی قیام گاہ پر آگئے۔ جب تیسرا روز ہوا تو میرا دوست پھر مجھے بلانے آیا تو میں نے معذوری ظاہر کی کہ مجھ میں کمزوری کے باعث ہلنے کی طاقت نہیں، اس نے وجہ پوچھی تو میں نے اسے صاف صاف بتا دیا کہ میں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ اس کے پاس ایک اشرفی تھی۔ آدھی اس نے مجھے دے دی اور آدھی کرایہ کے لئے بچا لی اور ہم بصرہ سے واپس آگئے۔''

اس واقعہ سے جہاں طالب علم میں مصائب کا اندازہ ہوتا ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ طلبِ علم کے لئے اپنا ذاتی خرچہ کرتے تھے۔ حکومت کی طرف سے وظائف یا عوام کی طرف سے کوئی خاص معاونت انہیں حاصل نہ تھی۔ آج طلباء کو سفری سہولتیں حاصل ہیں۔ مدارس میں کھانے پینے اور رہائش کا مفت بندوبست ہے۔ کوئی فیس بھی نہیں، بلکہ کتابیں تک مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود لوگ علم حاصل کرنے کو عار اور دنیا سے فرار سمجھتے ہیں۔ ابو حاتم کا دوسرا واقعہ یوں منقول ہے کہ:

''ایک دفعہ ہم سمندر میں سفر کر رہے تھے کہ رات کو مجھے احتلام ہو گیا، نہانے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ تیرنا آتا نہیں تھا کہ سمندر میں غسل کر لیتا۔ بہ حالتِ مجبوری اپنے ساتھیوں سے ذکر کیا تو انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہم تمہیں رسہ سے باندھ کر سمندر میں لٹکا دیتے ہیں، تم غسل کر لینا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔'' وہ کہتے ہیں: ''میں نے پہلے اچھی طرح وضو کیا اور پھر غسل کرنے کے بعد انہیں باہر نکالنے کو کہا اور انہوں نے مجھے اوپر کھینچ لیا۔''

اندازہ کیجئے کہ لمبے سفروں خصوصاً بحری راستوں میں اس قسم کی معمولی چیزیں بھی کس قدر پریشانی کا باعث ہو جاتی ہیں۔ اس کتاب سے حاتم رازیؒ کا ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیں:

''ہم مدینہ منورہ سے جب داؤد جعفریؒ سے پڑھ کر نکلے تو جار کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم تین آدمی تھے۔ مَینِ ابو زہیر مروزی بوڑھا اور ایک نیشا پوری۔ ہم تینوں کشتی میں سوار ہوئے۔ لیکن تین ماہ تک بادِ مخالف چلتی رہی۔ زادِ راہ تقریباً ختم ہو چلا تھا۔ ہم خشکی پر اترے تو بچا کھچا راشن بھی ختم ہو گیا۔ ہم بغیر کچھ کھائے پئے چلتے رہے۔ دو دن اسی طرح گزر گئے۔ ہم شام تک اپنا سفر جاری رکھتے اور پھر نمازیں پڑھ کر رات کو سو جاتے۔ بھوک اور پیاس سے نڈھال تو تھے ہی۔ تیسرے روز پہلے تو بقدرِ طاقت چلتے رہے اور پھر طاقت بالکل جواب دے گئی پہلے ابو زہیر بوڑھا بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ ہم نے اسے اُٹھانا چاہا لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ ہم اسے وہیں چھوڑ کر آگے چل پڑے لیکن تقریباً ایک فرسخ دور جا کر میں بھی بے ہوش ہو گیا۔ تیسرا ساتھی آگے نکل گیا۔ تھوڑی دور جا کر اسے ایک کشتی نظر آئی تو اس نے رومال ہلا ہلا کر کشتی والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس پر کشتی والے برتن میں پانی لے کر اس کے پاس آئے اور اس کو پانی پلایا۔ پانی پی کر اس کے اوسان بحال ہوئے تو اس نے انہیں ہمارے بارے میں بتایا کہ میرے دو ساتھی بے ہوش پڑے ہیں۔ یہ سن کر ان کے چند آدمی ہماری طرف بھاگے۔ مجھے اس وقت ہوش آیا جبکہ ایک آدمی میرے منہ پر پانی کے چھینٹے مار رہا تھا۔ ہوش میں آنے پر میں نے ان سے بوڑھے کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ چند آدمی اسے بھی لینے گئے ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ان کی مدد سے بوڑھا بھی ہم سے آملا۔ اور پھر انہوں نے چند روز تک ہماری خوب خاطر تواضع کی حتیٰ کہ ہماری طاقت بحال ہو گئی۔ پھر انہوں نے ہمیں کچھ کیک اور ستو دے کر رخصت کر دیا اور ساتھ ہی ایک رقعہ رایہ نامی شہر کے حاکم کے نام دے دیا۔ ہم دوبارہ منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن زادِ راہ جلد ہی ختم ہو گیا۔ کھانے پینے کو اور تو کچھ نہ ملا، راستے میں ہم نے ایک کچھوا دیکھا جس کی پیٹھ ہم نے پتھر مار مار کر پھوڑ دی۔ اس میں سے ایک زردی مائل سفیدی دکھائی دی اور اس کو ہم نے سمندر کے کنارے پڑی ہوئی سیپیوں سے بطور چمچ استعمال کرتے ہوئے کھالیا۔ کچھ جان میں جان آئی تو دوبارہ چل نکلے یہاں تک کہ رایہ نامی شہر میں پہنچ گئے۔ ہم نے وہ رقعہ حاکم شہر کو دیا۔ اس نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ وہ ہمیں روزانہ کدُّو کھلاتا رہا۔ ایک روز ہمارے ایک ساتھی نے اپنی زبان فارسی میں دوسرے سے کہا کہ ''تم اپنے لئے بھنا گوشت کیوں نہیں منگواتے۔'' حاکم شہر اسے سمجھ گیا اور کہنے لگا کہ میں فارسی جانتا ہوں کیونکہ میری دادی ہرات کی رہنے والی تھی۔ پھر اس نے ہمارے لئے گوشت منگوایا۔ ہم چند دن وہیں ٹھہرے۔ پھر اس نے ہمیں زادِ راہ دے کر رخصت کر دیا اور ہم بخیریت مصر پہنچ گئے۔

تو یہ ہیں وہ واقعات جو ابو حاتم کی زبان سے کھل گئے ہیں ورہ اکثر یہ لوگ اپنے اسفارِ علمی کی مشکلات وغیرہ بیان کرنے سے گریز ہی کرتے۔ ائمہ محدثین میں سب سے زیادہ شہرت صحاح ستہ کے مصنفین کو ہے اور ان کے علاوہ اور دوسرے محدثین بھی کئی بار ایسے دشوار گزار راستوں سے گزرے۔ تاہم انہوں نے زیادہ اہمیت اسی مقصد کو دی جس کی خاطر وہ گھر سے نکلے تھے یعنی علم کی خاطر عموماً اور احادیثِ نبویہ کی خصوصاً تلاش ان کی تدوین، راویوں کے حالات اور ان کی چھان بین وغیرہ۔ ڈائریاں وغیرہ لکھنے پر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی کیونکہ اگر کہیں یہ لوگ ڈائریاں اور اپنی سوانح عمریاں لکھنے بیٹھ جاتے تو ان کا مقصد فوت ہو جاتا اور ہمیں دین کی یہ محفوظ اور مامون شکل شاید ہی دیکھنی نصیب ہوتی۔ شائقین علم، علم کی پیاس بجھانے کے لئے ہزار ہا صعوبتیں اُٹھا کر نظر انداز کر دیتے اور صرف علمی معلومات کا اظہار کرتے تھے اور ان مشکلات کو برداشت کرنے والے افراد چند ایک نہیں بلکہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں موجود تھے جو قرون اولیٰ میں علم کی صحبت کی خاطر مارے مارے پھر رہے تھے۔

خاتمہ کلام:

اسلامی تاریخ نادر روزگار اور عظیم شخصیات کی سرگزشتوں سے مخمور و معمور ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ ان اسفار، رحلات اور سیاحت میں کیسی کیسی ناقابلِ برداشت مشقتیں ان لوگوں کو اُٹھانا پڑیں کہ ایک طرف تو ریگستانوں، کوہستانوں اور سنگریز علاقوں کا پیادہ پا سفر طے کرنا اور پھر افلاس و قلاشی اس پر مستزاد ایک ایک گھونٹ پانی کے لئے سفر میں تڑپنا، بھوک کی وجہ سے ہوش و حواس تک کھو بیٹھنا۔ ہر طرف افلاس کے آدم خور دیو کی منحوس صورت کا سامنے ہونا اور قوتِ لا یموت کے حصول کی ادنیٰ سے ادنیٰ صورت کا بھی معدوم ہونا، کبھی جڑی بوٹیوں کے پتوں پر زر اوقات کرنا اور کبھی کسی نانبائی کی دوکان پر صرف بوئے طعام پر قانع ہونا اور اس پر طرہ یہ کہ حوصلوں کو پست کر دینے والی محنت اور مشقت کے مقابلے میں انواع و اقسام کے ناز و نعم اور نفسانی خواہشات کا اپنی طرف کھینچنا اور ان سے مقابلہ کر کے ان کو تج کر صرف مقصدِ حصولِ علم کے لئے وقف ہو جانا بلاشبہ ایسے صبر آزما مراحل ہیں کہ ہمارے لئے تو ان کا تصور بھی محال ہے۔ لیکن ان لوگوں نے محض سچی طلب کی خاطر ان صعوبات پر قابو پایا اور بالآخر منزلِ مراد کو پہنچے ان کے قدم کہیں نہیں ڈگمگائے بلکہ ہر مشکل اور ہر مصیبت نے ان کے سمیندِ عزم پر تازیانہ کا کام کیا اور ہمت ہارنے کے بجائے ان کے عزائم اور زیادہ مستحکم اور حوصلے اور زیادہ بلند ہوتے چلے گئے۔ مرحباً صد ہا مبارکبادی کے مستحق ہیں یہ بزرگانِ دینِ متین، اسلافِ صالحین اور نفوس قدسی جن کی مشقتوں اور محنتوں کے ثمرہ میں ہم جیسے احسان فراموش، ناعاقبت اندیش اور غافل کیش لوگ متمتع ہو رہے ہیں۔ لیکن ہم نے بھول کر بھی ان کی قدر نہ کی، بیگانے تو خارج از بحث ہیں، ہم نے اپنوں تک کو معاف نہیں کیا، بجائے ان کے ممنونِ احسان ہونے کے ہم نے ان کی ذاتوں کو ہدفِ تنقید بنایا اور ان پر اس حد تک لعن طن کیے کہ جو منہ میں آیا خرافات بکتے چلے گئے۔ ان کی تابناک زندگی کو داغدار بنانے کی ناپاک جسارت کی اور ان کے کارناموں پر پانی پھیر دینے کی شرمناک حرکت کے مرتکب ہوئے لیکن یہ ہماری اپنی ہی بد بختی ہے۔ چمگادڑ کو اگر سورج نظر نہ آئے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے نہ کہ سورج کا۔ بلاشبہ محدّثین کی خدمات اظہر من الشمس اور احاطۂ تحریر سے باہر ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو نورِ حمت سے روشن فرمائے۔

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد۔