ایمان کی جب دل میں حرارت نہیں رہتی       حق بات کے اظہار کی جرأت نہیں رہتی
جب پاس کسی کے بھی یہ دولت نہیں رہتی      پھر حال پہ کیوں اپنے قناعت نہیں رہتی
جب اپنی خطاؤں پہ ندامت نہیں رہتی       پھر کوئی بھی اصلاح کی صورت نہیں رہتی
آجاتے ہیں جب اپنے گناہ اپنی نظر میں      پھر دل میں کسی سے بھی کدورت نہیں رہتی
بڑھتا ہے اگر مال تو بڑھ جاتے ہیں اشغال      بڑھ جاتے ہیں اشغال تو راحت نہیں رہتی
کر لیتا ہے اصلاح جو اعمال کی اپنے      اس شخص پہ پھر کوئی ملامت نہیں رہتی
عریانی و فحاشی دکھائی نہیں دیتی      جب نورِنگہ، دل کی بصیرت نہیں رہتی
صحت ہو کہ بیماری فقیری کہ امیری       انسان کی قائم کوئی حالت نہیں رہتی
ہو جائے بشر مرضیٔ مولا پہ رضا مند      پھر کوئی مصیبت ہو مصیبت نہیں رہتی
انسان کی صورت میں درندہ ہے وہ انساں       انسان سے جس انساں کو محبت نہیں رہتی
گھِر جاتا ہے ہر ایک برائی میں وہ عاجزؔ
نیکوں کی میسر جسے صحبت نہیں رہتی