بعض درسی فنون کی تاریخ کا سرسری جائزہ:

ہمارے دینی مدارس کے نصاب پر کسی تبصرہ سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جن علوم و فنون پر اس کا خاکہ مشتمل ہے ان کی عصری خصوصیات کا ایک مختصر جائزہ پیش کر دیا جائے جس سے ان علوم کی صحیح افادیت اور حقیقی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بخوبی اندازہ ہو سکے گا کہ ہماری مروجہ نصابی کتب طلباء کی کیسی ذہنی ربیت کر رہی ہیں اور ایسی کتابیں کس حد تک اپنے فنی مقاصد پورے کر سکتی ہیں؟

علومِ عربیہ۔ نحو:

عربوں کو اپنی زبان پر فطری ملکہ ہونے کی وجہ سے نحوی قواعد کی چنداں ضرورت نہ تھی مگر عجمی اختلاط نے لسانی قواعد کے استخراج اور ان کی تدوین کو ناگزیر بنا دیا۔ چنانچہ عرب میں جن قبائل کی زبان زیادہ معروف اور متداول تھی اور نسبتاً عمومی زبان کی حیثیت رکھتی تھی ان کی بولیوں سے عربی قواعد کا استخراج کیا گیا اور اس سلسلہ میں دو مکاتب وجود میں آئے جو ''بصری'' اور ''کوفی'' کے ناموں سے معروف ہیں۔ نحاۃِ بصرہ قیاس اور مماثلت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اس لئے مختلف فیہ مسائل میں کسی جزوی سماع کو الگ حیثیت دینے کی بجائے کسی مناسبت سے حتی الامکان توجیہ و تاویل کر کے کثیر الوقوع صورت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں اسے شاذ قرار دے کر ترک کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس نحاۃ کوفہ جزوی سماع کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں اور نقل و روایت کا پاس کرتے ہوئے اسے مستقل حیثیت سے دینے سے نہیں جھجکتے۔

جب عربی زبان سے نحوی قواعد کے استنباط و استخراج کے بعد ان کی تدوین ہو چکی تو تہذیب و تنقیح کا دور آیا۔ اگرچہ ابتداء ہی سے بعض مخصوص وجوہات کی بناء پر عربی زبان اور متعلقہ علوم کی طرف زیادہ تر توجہ انہی لوگوں نے کی جو فلسفہ یونان سے متاثر تھے جبکہ محدثین اور فقہاء کتاب و سنت کی خدمت میں مصروف رہے لیکن اس دور میں یہ فلسفہ عربی علوم پر چھا گیا۔ اور دوسرے علوم کی طرح نحو میں بھی اس نے اتنا زور پکڑا کہ بالآخر استخراجی قواعد کی محض عقلی بنیادوں پر توجیہ کرنے اور اس میں مہارت کا کام نحو سمجھا جانے لگا۔ ابتداءً تو یہ عقلی توجیہات نکات بعد الوقوع کی حیثیت رکھتی تھیں اور کسی حد تک نحو میں مجتہدانہ بصیرت کا کام بھی دیتی تھیں لیکن بعد میں اصلی فن قرار پا گئیں جبکہ انہیں اصلی فن سے کوئی تعلق تھا نہ اس کی غرض و غایت سے۔ متاخرین خصوصاً اعاجم میں تو نحو میں عقلی موشگافیوں نے اتنا زور پکڑا کہ یہ مضحکہ خیز بن گئیں آٹھویں اور نویں صدی ہجری میں اسی قسم کی نحو کا دور دورہ نظر آتا ہے۔ (ملاحظہ ہو یونانی علوم اور عرب / ص ۱۶۴ تا ۲۶۷ / وغیرہ)

بلاغت:

کلمات کی صوتی خصوصیات، ان کے لغوی معانی اور ان کے استعمال کی نوعیت، مقام کے اعتبار سے ان کی حیثیت کا جاننا، جملوں کے اصناف اور ان کے باہمی ربط، پھر مقام کے اعتبار سے اس ربط کی اہمیت کو پہچاننا، مختلف مواقع کے اعتبار سے اسالیبِ کلام اور طرزِ ادا کی خصوصیت اور ان اثرات کو سمجھنا جن کو وہ پیدا کرتے ہیں، فنِ بلاغت کا موضوع بحث ہے۔

کلام کو بلیغ بنانے کے لئے سامع اور متکلم کی نفسی کیفیات، ماحول کی خصوصیت، کلمات کلام اور طرزِ ادا کے اثرات کا جاننا اور ان سب کے تحت کلام کو مرتب کرنا امرِ ناگزیر ہے۔ اہل زبان میں کسی کلام کے بلیغ ہونے اور اس حیثیت سے اس کی قدر و قیمت کو سمجھنے کا مادہ عموماً فطری طور پر ودیعت ہوتا ہے۔ بلغاء کے کلام اور ان کے اسالب پر نظر رکھنے سے خود بھی بلیغ کلام پر قدرت حاصل ہو جاتی ہے۔ ابتدائی عہد میں فن بلاغت کی تحصیل کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا گیا، بلیغوں کے کلام اور ان پر ادیبوں کے تنقیدی اور تقریظی اشارات جمع کر دیئے جاتے اور اس سلسلے میں مؤلف کو بھی جو کچھ کہنا ہوتا کہہ دیتا تھا۔ اس کے بعد دوسرا دور آیا جس میں کچھ عام اصول جمع کیے گئے لیکن بلاغت کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہمیت خود بلغاء کے کلام کو ہی رہی۔ تقریباً چھٹی ساتویں صدی سے حالت بدلنا شروع ہوئی اور بجائے بلغاء کے کلام کے مستخرجہ اصولوں نے اہمیت حاصل کرنا شروع کر دی۔ بلغاء کے اسالیب اور جملوں نے شواہد و امثلہ کی حیثیت اختیار کر لی اور یہیں سے اس فن میں بھی جمود پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ طویل کلام خواہ وہ نظم ہو یا نثر اس کے اسالیب پر توجہ کرنا گویا متروک ہی ہو گیا۔ بالآخر صرف یہ اصول رہ گئے اور ان میں عقلی موشگافیاں شروع ہو گئیں اور یہ فن بھی اپنی حقیقی حیثیت اور غرض و غایت سے محروم ہو گیا۔ بلاغت محض چند جامد اصولوں کی تلخیص و تشریح اور دو راز کار بحثوں کا نام ہو گیا۔ (مقدمہ ابن خؒدون)

علومِ دینیہ۔ تفسیر:

قرآن عربی زبان اور سر زمینِ عرب میں نازل ہوا۔ صحابہؓ کے سامنے اترا۔ اس لئے وہ قرآنی زبان اور ان واقعات و حوادث سے اچھی طرح واقف تھے جن کے سلسلے میں اس کی آیتیں نازل ہوئی تھیں، علاوہ ازیں پورا قرآنی ماحول بھی ان کے سامنے تھا۔ ان وجوہ کی بنا پر قرآنِ کریم کے معانی سمجھنے میں انہیں کوئی دقت پیش نہ آتی تھی۔ اس وقت قرآن کی تفسیر عموماً ان واقعات و حوادث کا بیان کر دینا تھا۔ جن سے کسی آیت کو تعلق ہو یا اس ماحول کے مطابق جس کسی لفظ، فقرے، جملے یا عبارت کا مفہوم بتانا یا کسی جزئی مثال کے ذریعے اسے واضح کر دینا یا ناسخ و منسوخ کی تصریح و تشریح کر دینا وغیرہ۔ بعد میں حلقۂ اسلام کی وسعت کے پیشِ نظر تفسیر میں مشکل الفاظ کی لغوی تشریح بھی داخل ہو گئی تھی۔ چنانچہ قرنِ اول و دوم کی تفسیروں کی یہی شان ہے۔ ابتدائی تفاسیر میں انہی مختلف روایتوں کو جمع کر دیا گیا ہے جو صحابہؓ یا نبی ﷺ سے منقول ہیں۔ بعض مفسرین نے صحت کا التزام کیا ہے اور بعض نے تمام رطب و یا بس آئندہ کے انتخاب کرنے والوں کے لئے جمع کر دیا ہے۔ قرآن میں بہت سے اسرائیلی واقعات اور تلمیحات ہیں۔ عرب رفع استعجاب کے تحت ان کے متعلق اور ان کے ما سوا ابتداء خلق وغیرہ کے متعلق ان اہلِ کتاب کی طرف رجوع کرتے تھے جو اسلام قبول کر چکے تھے۔ یہ بزرگ اپنی معلومات کے بقدر جو محدود اور بڑی حد تک عامیانہ اور غیر مستند ہوتی تھیں ان واقعات اور تلمیحوں کو یا دوسرے مستفسرہ واقعات کو بیان کر دیتے تھے۔ اس طرح بہت سی اسرائیلی روایتیں تفاسیرِ قرآن میں آگئیں۔ اسی طرح مروجہ بائبل کے وہ واقعات جن کی قرآن نے تصدیق نہیں کی تھی، مسلمانوں میں شہرت پا گئے۔

دوسرے دَور کے مصنفین نے اپنی طبعی مذاق کی بنا پر قدیم تفاسیر یا تفسیری روایتوں سے جو بلا پرکھے انتخاب کر لیا تھا، بعد کے مصنفین ان سے اچھی طرح چمٹے رہے۔ عقلی دور شروع ہونے کے بعد مختلف عقلی مفادوں کی حمایت کی بنا پر تفاسیر بھی فلسفیانہ تخیلات کی آماجگاہ بن گئیں۔ چنانچہ آج کے دَور میں مطالبِ قرآن کو یونانی اوہام سے جدا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اسلام میں غیر عربی عناصر کے داخل ہونے کے بعد تفسیریں لسانی نقطۂ نظر سے بھی لکھنا شروع ہو گئیں۔ ان تفاسیر میں الفاظ کی نحوی، صرفی اور لغوی حیثیت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ بعض کتب تفاسیر میں ما سوا تفسیرِ قرآن کے سبھی کچھ موجود ہے۔ (الغزالی۔ مولانا شبلی نعمانی ص ۸۸ مطبوعہ انجمن حمایتِ اسلام لاہور)

عقائد و کلام:

عربی ذہن بدویّت اور سادگی کی بنا پر خدا تعالیٰ اور اس کی تنزیہی و تشبیہی صفات کو باریک بینی اور توجیہ و تاویل کے بغیر اسی طرح تسلیم کرتا تھا جس طرح وہ ثابت تھیں۔ اس سلسلہ میں ہر دقیقہ سنجی اور غور و خوض بدعت خیال کیا جاتا تھا۔ یہی حالت کائنات کی ان توجیہوں کے سلسلہ میں تھی جو نبی علیہ السلام سے مروی تھیں یا قرآن مجید میں مذکور تھیں۔ جب مختلف قومیں اور طبقے اسلام سے وابستہ ہوئے اور دوسری طرف غالباً اول یونانی علوم و فنون اور پھر ایرانی اور ہندی خیالات مسلمانوں میں جا گزیں ہونا شروع ہوئے تو اسلامی معتقدات کے متعلق اس سادہ اور بددیانہ نقطۂ نظر (جو عملی قوموں کا خاصہ ہے) تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ یہیں سے علمِ کلام کی ابتداء ہوتی ہے اور اعتقادی مسائل میں خالص محدثانہ طرز کی مقبولیت میں فرق آنا شروع ہو جاتا ہے۔ (الغزالی، بحث قدیم علم کلام)

ایسے سوالات پیدا ہونے لگے کہ جو چیزیں بلا تشریح و تفسیر تسلیم کر لی جاتی تھیں ان کی تشریح کرنا پڑی۔ اس طرح بہت سی شریحات نفیاً یا اثباتاً عقائد میں داخل ہو گئیں۔ علوم عقلیہ کی وسعت کے ساتھ ساتھ عقائد کا باب بھی وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ عقائد کی عقلی توجیہوں کی وجہ سے کلامی مباحث میں فلسفیانہ قسم کی الٰہیات شامل ہو گئیں۔ اسی طرح علمِ کلام ایک تجریدی اسلامی فلسفہ بن گیا۔ اور متعدد مکاتب فکر پیدا ہو گئے۔ جن کے منتسبین نے علم کلام میں بھی خالص مکتبی حیثیت پیدا کر دی لیکن بایں ہمہ ایک جماعت ایسی بھی رہی جو عقائد کے باب میں سلف کی بالکل اسی طرح متبع رہی اور ہر قسم کی موشگافیوں، فلسفیانہ توجیہوں کو اثباتاً یا نفیاً تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہی مگر اس عقلی شور و شغب میں اس جماعت کی حیثیت برابر کم سے کم تر ہوتی چلی گئی۔ بالآخر چوتھی پانچویں صدی میں جب علم کلام بالکل خالص الگ الگ مکتبی حیثیت میں مستحکم ہو گیا اور لوگوں نے کسی نہ کسی مدرسۂ خیال سے وابستگی کو ضروری خیال کر لیا تو سلف کے انداز پر کار بند رہنے والوں کی تعداد بہت معمولی رہ گئی۔

اصولِ فقہ:

اصولِ فقہ سے مراد ایسے اصول ہیں جن کی بنا پر دلائل شرعیہ قرآن و حدیث یا قرآن و حدیث اور اجماعِ امّت سے مسائل کا استنباط کیا جاتا ہے۔ مختصر لفظوں میں اصولِ فقہ، اصول اجتہاد کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ جس کسی نے بھی سب سے پہلے کسی مسئلہ کا استخراج کیا ہو گا اس کے لئے اس کے ذہن میں خواہ غیر شعوری طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ کوئی نہ کوئی اصول ضرور ہو گا لیکن جب ضرورتیں بڑھیں اور اصولِ شرعیہ اپنی مختلف اور متضاد صورتوں میں سامنے آئے اور ترجیح، تعارض نیز مختلف محتملاتِ استنباط کی طرف مجتہدین کی نظریں پڑیں اور مختلف مدارسِ اجتہاد نے اس سلسلہ میں اپنے نقطہ ہائے نظر پیش کیے، مجتہدین یا ان کی طرف منسوب علماء نے اپنے اپنے اصولِ اجتہاد مدون کیے تو ہر دائرۂ اجتہاد و مکتبِ خیال کے اصول الگ الگ ہو گئے۔ گو ایسا نہیں ہے کہ ہر دائرہ کے اصول دوسرے کے اصول سے کلیۃً متضاد ہوں تاہم متعدد اصول میں باہم خاصا اختلاف ہے۔ ایسی صورت میں اصول فقہ ایک ایسا فن ہے جس میں ابتداء سے ایک خاص نقطۂ مدرسیت آگیا اور مجتہدین کے استخراجی اصول منتسبین کے لئے اصولِ موضوعہ کی حیثیت اختیار کر گئے۔ (فقہ اور اصول فقہ)

فقہ:

صحابہ بلکہ تابعین تک بھی فقہ میں خاص مدرسی رنگ نہیں آیا تھا رواۃِ حدیث عام ازیں کہ صاحبِ اجتہاد ہوں یا نہ ہوں ایسے مسائل جن کے متعلق ان کی مرویات میں صحیح احادیث موجود ہوتیں، احادیث کی سند پر فتویٰ دے دیتے تھے۔ جن مسائل کے متعلق ان کی مروی احادیث نہ ہوتیں تو اپنے سے زیادہ احادیث جاننے والوں کی طرف رہنمائی کر دی جاتی۔ اور اگر کسی مسئلہ کے متعلق مستند احادیث موجود نہ ہوتیں تو مجتہدین صحابہ منصوص مسائل پر قیاس کر کے فتویٰ دے دیتے تھے۔ سائلین کے نزدیک کسی مخصوص صحابی کی اس معنی میں تقریباً کوئی اہمیت نہ تھی کہ وہ تمام تر پیش آمدہ مسائل میں اسی کی طرف رجوع کریں یا اگر ایک دفعہ کسی مسئلہ میں کسی صحابی کی طرف رجوع کیا ہے تو آئندہ ہمیشہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے بلکہ اتفاق و سہولت کے تحت ہر اہلِ علم کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔ تابعین کے آخر عہد میں مدارس اجتہاد پیدا ہونے شروع ہو گئے جن میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہا۔ تیسری چوتھی صدی تک جب فقہ پر پوری طرح مدرسیت چھا گئی اور مختلف مجتہدین کے اصول و فروع منضبط ہو گئے تو لوگ اپنے آپ کو کسی نہ کسی مجتہد سے وابستہ کرنے لگے۔ تقریباً چھٹی صدی میں عام طور پر مجتہدین ائمہ اربعہ (مالکؒ، شافعیؒ ابو حنیفہؒ اور احمدؒ) کے مدارسِ اجتہاد تسلیم کر لیے گئے اور لوگ اپنے آپ کو ان میں سے کسی نہ کسی کی طرف منسوب کرنا ضروری سمجھنے لگے۔ (مقتبس از تقریر استاذ الاساتذہ حافظ محمد صاحب گوندلوی بتقریب بخاری شریف ۱۹۷۱ء جامعہ سلفیہ لائل پور)

فقہ میں مدرسیت آنے کے بعد فقہی تصانیف میں بھی مدرسیت نا گزیر تھی چنانچہ بالکل ابتدائی تصانیف کو چھوڑ کر عموماً فقہی کتب کسی نہ کسی خاص فقہی مدرسے سے متعلق ہو گئیں اور بالآخر کتب فقہ میں سے اجتہادی نقطۂ نظر بالکل ہی مفقود ہو گیا۔ جب تک فقہی مدارس کی ابتدائی تصانیف نہ ہوں اس وقت تک پڑھنے والے میں اجتہادی تخیل پرورش نہیں پا سکتا۔

علومِ عقلیہ (منطق و فلسفہ):

مسلمانوں میں منطق و فلسفہ کا داخلہ اموی دورِ حکومت میں شروع ہوا اور عباسی دورِ حکومت میں اس کی تکمیل ہوئی۔ شام کے عیسائی، صابی اطباء اور متکلمین ان کے داخلے کا ذریعہ تھے۔ یہ لوگ بالعموم فلسفی نہ تھے اس لئے ان کے تراجم میں فلسفیانہ حیثیت سے صحت بہت ہی مستعبد ہے۔ اکثر خود ان کا ماخذ بھی تراجم تھے یا یونانی فلاسفہ کے خیالات لیکن مخلوط۔ مزید برآں بعض کتابیں غلط طور پر مصنفین کی طرف منسوب۔ بہرحال یہ ذخیرہ تھا جو مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور اس پر انہوں نے اپنی عمارتیں کھڑی کر لیں جو ارسطو اور افلاطون کے سر منڈھ گئیں۔ تاہم ابتداءً فلسفیانہ خیالات ایک حقیقی اور معنوی حٰثیت کے حامل تھے مگر آٹھویں صدی میں آکر ان کی یہ حیثیت بھی ختم ہونے لگی۔ اور لفظی مباحث نے ان کی جگہ لینا شروع کر دی۔ بالآخر ابتدائی مسلم فلاسفہ کے خیالات کو یونانی فلاسفہ کے خیالات کی تشریح کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور انہیں بے چون و چرا تسلیم کیا جانے لگا اور اس کے بعد لفظی دقیقہ سنجیوں کا برابر اضافہ ہوتا رہا۔

(یونانی علوم اور عرب، گیارہواں باب (سیاسی انقلاب ص ۲۶۸) بارہواں باب ص ۲۸۱)

مروجہ نصاب تعلیم پر ایک سرسری تنقیدی نظر:

حدیث و قرآن کو چھوڑ کر پور مدارس عربیہ میں مروجہ نصاب تعلیم پر نظر ڈال لیجئے۔ ان کتابوں کے ایک بڑے حصے کی تصنیف آٹھویں صدی سے چودھویں صدی تک کے عرصہ کی ہے جو حصہ اس دور سے قبل (ساتویں صدی) کی تصنیف کا ہے وہ اکثر زیر درس نہیں ہیں اور جو ہیں ان کی ذاتی حیثیت کچھ نہیں ہے بلکہ ان کی شروح ہی سب کچھ ہیں جو بعد کی صدیوں کی تصانیف ہیں جیسے شرح عقائدِ نسفی وغیرہ۔

اس تقسیم سے حدیث و ادب کو ہم نے قصداً خارج کر دیا ہے۔ متونِ حدیث پر مصنفین کے زمانہ کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ بقول ابن خلدون علیہ الرحمۃ کسی علم میں مہارت پیدا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس علم کے مبادی قواعد اور مسائل پر حاوی ہو جانے کی قدرت اور اس کے اصول سے فروع کو استنباط کرنے کا ملکہ پیدا ہو جائے۔ جب تک یہ ملکہ پیدا نہ ہو اس فن میں مہارت پیدا نہیں ہو سکتی۔ (مقدمہ ابن خلدون۔ الفصل السادس من الکتاب الاول فی العلوم واصنافہا والتعلیم وطرقہ۔ الفصل الثانی ص ۴۳۰)

اگر ہمارے مدرس کے مروجہ نصابِ تعلیم کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ نہ صرف یہ نصاب علمی مہارت پیدا کرنے سے قاصر ہے بلکہ علم کے صحیح مذاق سے آشنا بنانے کے لئے بھی ناکافی ہے۔

ہمارے نصابِ مروجہ مدارس میں نحوؔ میں کافیہ کم و بیش تمام مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ اولاً تو کافیہ تمام نحوی مسائل پر حاوی نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اپنے اختصار کی وجہ سے اس قدر مشکل ہے کہ طلبہ کے دماغ پر محض مطلب سمجھنے سے ہی غیر معمولی بار پڑ جاتا ہے۔ اکثر طلبہ تو اس کے نہ سمجھنے کو اپنی کند ذہنی پر محمول کرتے ہیں۔ جو ان کی ذہنی نشوونما میں بڑی حد تک حائل ہو جاتا ہے اور بالآخر نتیجہ احساس کمتری کی صورت میں نکلتا ہے۔ کافیہ کے بعد بعض مدارس میں شرح جامی داخل نصاب ہے۔ اس دور میں 'شرح' کی تصنیف کا مقصد جیسا کہ ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں مسائل کی وضاحت نہیں ہوتا تھا لہٰذا اس اعتبار سے تو شرح جامی مفید ہے ہی نہیں کہ وہ مسائل نحو پر حاوی ہو، مزید برآں وہ اس اعتبار سے بھی مفید نہیں کہ اس سے نحوی مسائل کی تحقیق اور اخذ و استنباط میں مدد ملتی ہے۔ گویا کہ نہ تو نحو کی غرض و غایت اور اس کے علم آلی ہونے کے اعتبار سے فائدہ بخش ہے اور نہ ہی فنِ نحو کی اصولی اور ذاتی حیثیت کے اعتبار سے۔ اس میں بجائے اس کے کہ مسائلِ نحویہ کے دلائل اہل زبان کی بول چال سے اخذ کرنے کی اہمیت پر زور دیا جائے اور ان کی صحت و ترمیم کو اہلِ زبان سے سماع پر پرکھا جائے عقلی توجیہیں اور موشگافیاں کی گئی ہیں جس سے طلبہ میں ایک فنی ،مذاق کی بجائے ایک غلط اور غیر فنی مذاق جنم لیتا ہے۔

یہی صورت فن بلاغت کی ہے۔ آٹھویں صدی کی صرف ایک کتاب (تلخیص المفتاح) اپنی دونوں شروح کے زیر تدریس ہے اور وہ بھی ناتمام۔ فن بلاغت کا جو سرسری خاکہ ہم نے پیش کیا ہے اس کو اور متاخرین کی خصوصیات کو سامنے رکھ کر غالباً یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ کتابیں کسی حیثیت سے بھی مفید نہیں ہیں۔

مروجہ نصاب میں جو کتبِ تفاسیر شامل ہیں وہ نہایت ہی مختصر ہیں اور صرف ترجمے کی حد تک مفید اور کار آمد ہیں لیکن اصل قرآن فہمی میں (جو تفسیر کا اصل مقصد ہے) ان کتب سے زیادہ مدد نہیں ملتی۔ اس اختصار کے باوجود بھی ان میں اسرائیلیات اور یونانی اوہام مخلوط ہیں۔ صحیح روایات کا التزام نہیں ہے بلکہ اکثر مقامات پر تو یہ سمجھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ اگر اسرائیلی روایات سے قطع نظر کر لی جائے اور یونانی تصورات علیحدہ کر لیے جائیں تو خالص عربی اسلوبِ عبارت اور لسانی اصول و قواعد کے تحت ان کا مفہوم کیا ہو گا؟ اور قرنِ اول میں اس کا کیا مفہوم سمجھا جاتا تھا۔ قرآن کریم میں نہ تو صحیح غور و تدبر کی مشق ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے حقیقی حدود متعین ہوتے ہیں بلکہ بر خلاف اس کے رہے سہے راستے بھی بند ہو جاتے ہیں۔

عقاید و کلام میں جن کتابوں کی تدریس ضروری خیال کی جاتی ہے ان کے ذریعہ اسلام کے ان حقیقی اور بنیادی معتقدات و خیالات تک رسائی حاصل کرنا، جن پر اسلام موقوف ہے، بہت دشوار ہے۔ ان 'عقاید' اور ان کی تشریحات اور عقلی توجیہوں کا ڈھانچہ وہ ہے جو اس دور کی مختلف مذہبی فرقوں کی آویزشوں اور فلسفیانہ خیالات کی ذہنی کشمشکوں کے تحت تیار ہوا ہے لہٰذا اگر وہ کبھی مفید تھا تو اب نہیں رہا۔ اس لئے کہ نہ وہ مذہبی فرق موجود ہیں اور نہ ہی ان فلسفیانہ خیالات کی کشمکش ہے۔

فقہ اور اصولِ فقہ جس صورت میں مروج ہیں اور ان کی جو کتابیں موجودہ نصاب میں شامل ہیں وہ اس اعتبار سے نہایت ہی مایوس کن ہیں کہ ان کی نوعیت محض ایک جامد اور تقلیدی فن کی ہو کر رہ گئی ہے جن سے اجتہاد اور اخذ و استنباط کا ملکہ پیدا ہونا تقریباً ناممکن ہی ہے گویا فقہی مسائل اور اصول مسلمہ حقائق ہیں جن پر مکرر غور و فکر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

منطق و فلسفہ وغیرہ عقلی علوم میں جو کتابیں زیرِ درس ہیں ان کی کیفیت گذشتہ صفحات میں بیان ہو چکی ہے جس سے اجاملی طور پر یہ معلوم ہو گا کہ ان میں سے متون و مسائل پر حاوی ہیں جن میں سے بعض اپنے اختصار کی وجہ سے بہت دشوار ہیں لیکن شروح میں صرف لفظی مباحث اور نکتہ آفرینیاں ہیں۔

علاوہ ازیں ان علوم و فنون میں جو ترمیمیں اور اصلاحات، اضافے اور تنسیخات ہو چکی ہیں (اصولی بھی اور فروعی بھی) وہ قطعاً محتاج تعارف نہیں ہیں۔ ہیئتِ کلیہ بدل چکی، طبعیات بدل چکی، منطق پر تنقیدی تجزیہ ہوا، اضافے ہوئے، فلسفہ کے مختلف شعبے مستقل بن گئے۔ حساب میں متعدد نئے قاعدوں کا اضافہ ہوا اور ان کے عملوں میں متعدد نئی سہولتیں پیدا ہوئیں لیکن ہمارا نصاب ابھی تک ان تمام تبدیلیوں سے بے خبر ہے اور ہم ان فنون سے ان کی قدیم اور جامد شکل میں چمٹے ہوئے ہیں۔ گویا عقلی اور تجرباتی علوم بھی الہامی اور منصوص ہیں جن میں ہر قسم کی ترقی اور حرکت ختم ہو چکی ہے اور یہ تکمیل کے اس نکتہ پر پہنچ گئے ہیں جن میں صرف لفظی مباحث اور عقلی نکات رہ گئے ہیں۔

طرزِ تعلیم پر ایک نظر:

؎ مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے؟ خانقاہوں میں کہیں لذتِ اسرار بھی ہے؟

آج کل ہمارے مدارس کی تمام تر تعلیم کتابی ہے۔ جن فنون کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کی صرف کتابیں ہی پڑھائی جاتی ہیں۔ داخلِ درس کتابوں کو ہی اصل فن خیال کیا جاتا ہے۔ بالعموم اساتذہ کرام کے اپنے معلومات بھی فنی ہونے کی بجائے مخصوص کتب پر ہی منحصر ہوتے ہیں۔ اور وہ خود بھی نئی فنی معلومات اور ارتقائی حرکتوں سے اتنے ہی ناواقف ہوتے ہیں جتنے طلبہ۔ ان کی فنی بصیرت اور علمی مہارت کے معنی مخصوص اور زیرِ درس کتب اور ان کے حواشی کا علم ہے۔ طالب علم زیرِ درس کتاب کو پڑھتا ہے اور استاذ اس مقام پر اپنی تقریر کرتا ہے۔ اس تقریر میں نہ صرف کتاب کی عبارت ہی زیر نظر ہوتی ہے۔ بلکہ وہ تقریر خالص اس عبارت کا ترجمہ ہوتا ہے اور صرفی، نحوی اور بعض اوقات لغوی حیثیت سے اس عبارت پر جو اعتراضات ہوتے ہیںَ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ اساتذہ خود بخود کتاب پر تنقیدی نظر ڈال کر اس پر علمی اعتراضات کریں۔ ہمارے تدریس میں عموماًفن سے غیر متعلق اعتراضات کر کے ان کے جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے، یہ مسئلہ صاحبِ کتاب نے پہلے ذِکر کیوں کیا ہے اور یہ بعد میں کیوں؟ اور اس کی تعریف تقسیم سے پہلے کیوں کر دی ہے؟ وغیر ذالک وکثیر ماھی۔ دورانِ درس طلبہ کو صرف یہی حق ہوتا ہے کہ وہ اساتذہ کی تقریر یا اصل کتاب پر اعتراض کریں جس کا جواب دینا اساتذہ کا فرض ہوتا ہے۔

ذہین طلبہ اپنے اس حق کو استعمال بھی کرتے ہیں جس پر کتاب کی اصل عبارت کے نکات بیان کیے جاتے ہیں اور الفاظ فقروں اور جملوں تک کی توجیہ ہوتی ہے۔ گویا مصنف نے ہر ہر لفظ اور ہر ہر طرزِ تعبیر کو نہایت سوچ سمجھ کر اور عجیب و غریب فوائد کو پیش نظر رکھ کر اختیار کر لیا ہے۔ حالانکہ عام قاری کی نظر کسی ایک کی طرف بھی ان میں سے بآسانی نہیں جا سکتی اور عموماً یہ سب نکات پہیلیاں ہوتی ہیں۔ اسی اثناء میں اس مقام پر اگر کچھ فنی اعتراضات ہوتے ہیں اور ان کے جوابات دیئے جاتے ہیں۔ تو وہ سب بھی قدیم روایات اور متاخرین کی تشریحات کے تحت ہی ہوتے ہیں ورنہ ان کی حقیقی نوعیت بڑی حد تک مشتبہہ ہوتی ہے۔ دوسرے مصنفین کی تشریحات سے جو تعارض پیدا ہوتا ہے۔ اس کی توجیہ کی کوشش تو کی جاتی ہے جو عام طور پر کامیاب باہمی تطبیق پر منتج ہوتی ہے لیکن ان تطبیقات میں اصل مفہوم اوجھل ہوتا رہتا ہے۔

کتاب کی ہر ایک سطر پر اساتذہ کرام اس نوعیت کی تقاریر ہفتوں بلکہ مہینوں تک کر سکتے ہیں جو ان کی قابلیت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ بعض قدیم اساتذہ جو یک فنی ہونے کی بجائے یک کتابی بھی ہوتے ہیں وہ واقعتاً مہینوں تقریر کرتے بھی ہیں۔ ہمارے ایک مشفق اور مہربان شرح جامی کا درس ۳۷ بار دے چکے ہیں اور وہ اس پر بے حد نازاں ہیں۔ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ شرح جامی کے ہر ہر جملے پر کئی کئی روز بلا تیاری تقریر کر سکتے ہیں۔ لیکن اکثر اساتذہ اس قدر ''ماہر'' نہیں ہوتے تاہم بعض مقامات کی تقاریر تو وہ بھی دو دو تین تین روز تک چلا ہی سکتے ہیں۔ اب چونکہ یہ ''مہارت'' کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اساتذہ اور طلبہ دنیا بھر کی شروح اور حواشی نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی اس قدر مطالعہ کر سکتے ہیں اس لئے تقریر میں اختصار بڑھتا جا رہا ہے۔

اگرچہ ایک روشن خیال طبقہ اس طرزِ تدریس سے متنفر ہے۔ ان کی کشش ہے کہ محض کتاب کو اس کے مطالب تک پڑھانے کی کوشش کی جائے۔ گو یہ طریقہ عام طلبہ کے لئے دلکش نہیں ہے اور قدیم اساتذہ کے نزدیک علمی مہارت کے خلاف ہے مگر یہ 'جدت پسند' اساتذہ اس قدر آگے بڑھے ہیں کہ اصلاح کی بجائے محض ترجمے میں آن پڑے ہیں۔ ان کے نزدیک تعلیم کی آخری سیڑھی معمولی تشریحات سے کتاب کا لفظی ترجمہ کر دینا ہے۔ جو طلبہ کے اذہان کے لئے مزید زہرِ قاتل ہے۔ کتب دہی قدیم، طرزِ تعلیم جدت میں ڈھلی ہوئی اور علم سے کرا پن اس تعلیم کی خصوصیات ہیں۔

بہرحال ہمارے قدیم مدارس کا یہ طرز تعلیم اپنی اصل کے اعتبار سے متاخرین کے اس طرزِ تحشیہ سے ماخوذ ہے جن کو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ یہ طریقِ درس (جو اَب کچھ تبدیل ہوتا جا رہا ہے خدا کرے اصل اہمیت کی طرف تبدیل ہو) کسی حیثیت سے بھی مفید اور نفع بخش نہیں ہے۔ نہ تو طلبہ میں فنی بصیرت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی کتاب فہمی کی استعداد۔ نہ مسائل یاد رہتے ہیں اور نہ ہی مباحث، مسائل اور مباحث آپس میں مخلوط ہو جاتے ہیں۔ نیز مباحث اپنے تنوع اور طوالت کی وجہ سے حافظے میں محفوظ نہیں رہ سکتے اور اس طویل مدِ درس میں جو کم از کم استعداد پیدا ہوتی ہے۔ اس کو تکمیل درس کے بعد تاوقتیکہ از سر نو مطالعہ اور کتب بینی سے ترقی نہ دی جائے تو یہ بالکل بے کار رہتی ہے بلکہ کچھ عرصہ بعد ضائع ہو جاتی ہے۔

نصابِ تعلیم کے اثرات طلبہ پر:

طلبہ پر اس طرزِ تعلیم، نصاب اور ماحول کا یہ نتیجہ مرتب ہوتا ہے کہ ان میں قدامت پرستی اور جمود پیدا ہو جاتا ہے۔ کج بخشی، لفظی دیدہ ریزی اور نکتہ چینی کی عادت ہو جاتی ہے۔ تجربہ و استقراء اور عام تفحص کا بلکہ بالکل ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اصل فنون سے قدیم و جدید دونوں حیثیتوں سے بیگانگی پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی شے کو اس کی حقیقی شکل میں دیکھنے کی طاقت چلی جاتی ہے۔ فنون کے اصل ماخذوں کا علم نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو فائدہ اُٹھانے کی مہلت میسر نہیں آتی اور اگر یہ سب بھی ہو و وہ خلاف ذوق واقع ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ذہنی قوتوں کا نشوونما ضرور ہوتا ہے مگر غلط سمتوں میں اور یہ نشوونما تاوقتیکہ صحیح سمتوں کی طرف منعطف نہ ہو جائے، علمی اور عقلی حیثیت سے غیر مفید اور عام حالات میں مضر ہے۔ خصوصاً موجودہ مادی اور عقلی دَور میں۔ (جاری ہے)