قال رسول اللہ ﷺ: (4)

یعنی اس پاک اور عظیم ہستی کی باتیں جو سماع، قرآن سے اشک بار ہوئی، رجزیہ کلام سنا تو ولولۂ جہاد میں سرشار ہوئی، لطف و سرور کی معصوم سی گھڑیاں آئیں تو تفریح کی اس سادہ سی تقریب کو عموماً حرب و ضرب کی یادگار بنا ڈالا یا پیش آمدہ پروگرام میں دل آویزی پیدا ر کے اس کو ''اتمام کار'' کا ذریعہ بنا دیا۔ مثلاً ایامِّ عید آئے تو خون کو گرما دینے والی تاریخی رزمگاہوں کے بول سنے (بخاری) شادی بیاہ کی تقریب پیدا ہوئی تو عائلی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے صرف اس حد تک تفریحی پروگرام کے اختیار کرنے کی ترغیب دی جو یہاں سے گھر تک پہنچا دے نہ یوں کہ گھر سے بھی آگے کہیں دور لے جا کر گھروندے کو بھی ویران بنا دے۔ یہ وہ کلیہ اور فارمولا ہے اگر سمجھ لیا جائے تو اس سلسلہ کی ان تمام روایات کے سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی جن سے یارو دوستوں نے میخانے تعمیر کیے یا کر رہے ہیں۔

اب آپ اسی ذاتِ گرامی کی چند وہ باتیں ملاحظہ فرمائیں جن سے ''میخانہ بردوش'' موسیقی کے سلسلہ میں ہمیں رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔

ایسے بد لوگ بھی آئیں گے:

«عن الأشعري سمع النبي ﷺ یقول لیکونن من أمتي أقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف»

حضرت اشعری فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ فرماتے سنا کہ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو بدکاری، ریشم، شراب پینے اور گانے بجانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کریں گے۔ (بخاري باب ما جاء فیمن یستحل الخمر ویسمیه بغیر اسمه)

اس روایت کے آخر میں ان کے روح فرسا اور حوصلہ شکن نتائجِ بد کا ذِکر آیا ہے جو اب ہم شب و روز مشاہدہ کر رہے ہیں۔

بعض بزرگوں نے اس حدیث کی روایتی حیثیت سے بحث کی ہے، مگر محدثانہ نقد و نظر کے مطابق بالآخر یہ طے پایا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، خود صحیح بخاری کا نام اس کی صحت کی ضمانت کے لئے کافی ہے۔

اس حدیث میں جن چار امور کا ذِکر کیا گیا ہے۔ محل و موقعہ کے لحاظ سے ان کا علی الانفراد جائزہ حدیث کے خطاب اور اس کی روح کے سمجھنے میں کچھ زیادہ مفید نہیں ہے۔ اصل بات یہ بتائی جا رہی ہے کہ ان چاروں میں قدرتی تلازم پایا جاتا ہے۔ ایک کا رسیا دوسری تینوں سے بالکلیہ بے تعلق نہیں رہ سکتا۔ اگر بعض عوارض اور مواقع کی وجہ سے ایک آدھ کا تخلف ہو جائے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کے قلب و نگاہ میں بھی اس کی کسک باقی نہیں رہی۔ ایک بدکار جس طرح لطیف بھڑکیلے لباس، شراب اور رقص و سرور کے لئے اپنے اندر قدرتی تحریک محسوس کرتا ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔ یہی حال موسیقی کے رسیا اور پُرکشش آتشیں کپڑوں اور شرابِ ناب کے متوالوں کا ہے۔ گو بات کڑوی ہے تاہم اگر ایسے لوگ گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ بات پتے کی ہے۔ ہمارے اس نظریہ کی تائید ابن ابی الدنیا کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں ان آفات و بلیات کا محرک بیان کرتے ہوئے فرمایا:

«قالت عائشة یا رسول اللہ وھم یقولون لا إلٰه إلا الله؟ فقال إذا ظھرت القيان وظھرت الربا وشربت الخمر ولبس الحرير كان ذا عند ذا»

ان کلمہ گوؤں میں یہ فتنے اس وقت اُبھریں گے جب پیشہ وارانہ غنیٰ، ربا، شراب اور ریشمی کپڑوں کا دور چلے گا۔

اسی مضمون کی ایک اور روایت عن ابن عباس امام احمد و ابو داؤد میں اور ابو امامہ سے مسند احمد میں مروی ہے۔

ریشم کا استعمال عورتوں کے لئے جائز ہے، جب محض لطافت پسندی اور ذوقِ نفاست اس کا محرک ہو لیکن یہ عورتوں کو نمود و نمائش کے لئے جلوہ نمائی پر بھی مائل کر دے تو ان کے لئے بھی حرام ہے۔ اسی لئے دَور میں حضرت عمرؓ نے عورتوں کے لئے لباسِ فاخرہ کی حوصلہ شکنی کی ترغیب بایں الفاظ دی تھی۔

«(قال عمر) استعینوا علی النساء بالعری إن أحدھن إذا کثرت ثیابھا وحسنت زینتھا أعجبھا الخروج» (ابن ابی شیبہ۔ عن عمر)

''یعنی عورتوں کو بکثرت لباس فاخرہ نہ دیا کرو اس سے ان کو باہر نکلنے کا شوق چراتا ہے۔''

حدیث میں لفظ ''یستحلون'' آیا ہے جس کے معنی عموماً ''حلال'' کیے جاتے ہیں جو محل نظر ہیں۔ کیونکہ ان کو حلال بہ ایں معنی کوئی نہیں تصور کرتا کہ وہ شرعاً اخلاقاً جائز بھی ہیں بلکہ اس کے صحیح معنے ''کوئی حرج نہ محسوس کرنا'' ہیں یعنی لوگ ان کا ارتکاب کریں گے مگر ان کی سنگینی کا احساس نہیں کریں گے۔ مثلاً یوں کہیں گے چلو! دیکھا جائے گا۔

اب یہ آپ کی دیانت اور تجربہ پر منحصر ہے کہ حدیث میں جن امور کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے متعلق فیصلہ کریں کہ وہ کہاں تک صحیح ہیں؟ ہم کہیں گے تو آپ کو اس میں ایک گونہ تکلف محسوس ہو گا۔

دو بد نہاد آوازیں:

«عن جابر عنه ﷺ قال ولکني نھیت عن صوتین أحمقین فاجرین، صوت عند نغمة ولھو ومزامیر شیطان ،الحدیث»

''مجھے دو احمقانہ اور بد نہاد آوازوں سے منع کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک آواز گانے، شغلِ بے قابو اور شیطانی مزامیر کی آواز ہے۔'' (ترمذی۔ حدیث حسن)

(امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ''حسن'' ہے یعنی قابلِ حجّت اور مستند ہے)

احمق اس لئے فرمایا کہ گویوں کے راگ و رنگ کا جو مسرفانہ تکلف ہوتا ہے کوئی سنجیدہ رنگ نہیں ہوتا۔ فاجرین و بد نہاد اس لئے کہا کہ اس سے قلب و نگاہ میلے ہو جاتے ہیں۔

چنگ و رباب کو مٹانا بعثت کے فرائض میں سے ہے:

«عن أبي أمامة عن النبي ﷺ إن اللہ بعثني رحمة وھدي للعالمين وأمرني أن أمحق المزامير والكبارات يعني البرانط والمعازف» (رواه أحمد وفيه علي بن يزيد وھو ضعيف)

''مجھے میرے اللہ نے ساری دنیا کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا اور یہ حکم دیا کہ سرود و چنگ و رباب کو مٹاؤں۔''

ابن غیلان نے حضرت علیؓ سے بھی یہ نقل فرمایا ہے:

بعثت بکسر المزامیر (نیل الاوطار) مزامیر کو توڑنے پھوڑنے کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔

«عن ابن عباس أن النبي ﷺ أمرت بھدم الطبل والمزمار»

''حضور کا ارشاد ہے کہ مجھے خدا نے ڈھول اور مزامیر کے توڑنے کا حکم دیا ہے۔'' (دیلمی)

اس کی نمازِ جنازہ جائز نہیں:

«عن علی أن النبيﷺ قال من مات وله مغنية فلا تصلوا علیه» (رواہ الحاکم والدیلمی بسند ضعیف)

''جو مرا، در آنحالیکہ اس نے مغنیہ لونڈی بھی رکھی ہوئی تھی۔ تو اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھا کرو۔''

گانے بجانے والی کی بیع و شراء ناجائز:

«عن أبي أمامة أن النبي ﷺ لا تبيعوا القينات ولا تشتروھن الحديث» (ترمذي)

''مغنیہ لونڈیوں کی خرید و فروخت سے باز رہو۔''

گویہ روایت تنہا محل نظر ہے لیکن اس سلسلہ میں اتنی کثرت سے روایات آئی ہیں کہ حضرت امام شوکانیؒ کو کہنا پڑا کہ:

«النھي عن بیع القینات المغنیات فإنھا ثابتة من طرق کثیرة» (نیل)

''مغنیہ لونڈیوں کی خرید و فروخت کی ممانعت کی روایات کی روایات ثابت ہیں اور بکثرت مروی ہیں۔''

الغرض موسیقی سے ممانعت کی روایات حضرت ابن عمرؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت عمران بن حصینؓ، حضرت ابن مسعودؓ وغیرہم سے منقول ہیں۔ گو علی الانفراد سب سے بحث کی جا سکتی ہے۔ لیکن مجموعی لحاظ سے روایات حسن لغیرہ کے درجہ کی ہیں۔ یعنی باہم مل کر قابل توہ اور استدلال ہو گئی ہیں۔ امام شوکانیؒ ان کے متعلق لکھتے ہیں:

فاتل أحوالها أن تکون من قسم الحسن لغیرہ (نیل ص ۸۶،۸)

''کم از کم یہ حسن لغیرہ کے درجہ کی ہیں''

سماع جنسی تحریک کا باعث ہے:

کچھ بزرگوں کے ارشادات اور تجربات بھی ملاحظہ فرمائیں۔ خلاصہ ان سب کا یہ ہے کہ سماع جنسی تحریک کا باعث ہے۔

1. «ابن مسعود: عن ابن مسعود الغناء ینبت النفاق في القلب» (بیھقی موقوفا) وقال ابن الطاھر أنه من قول إبراھیم)

''سماع دل میں کڑھ پیدا کرتا ہے۔''

بعض نے کہا ہے کہ یہ قول حضرت امام نخعی کا ہے۔ بہرحال دونوں بزرگ ہیں مگر بات جو کہی ہے، وہ لا جواب ہے۔ دل کا یہ کوڑھ کیا ہے؟ سب پر واضح ہے۔ ہمارے نزدیک یہ قول در اصل حضرت ابنِ مسعودؓ کا ہے جس کو ابراہیم نخعی کبھی اپنے الفاظ میں بیان کر دیتے اور کبھی روایت کر کے بات بتا دیتے۔ حضرت ابن مسعودؓ سے یہ قول حضرت محمد بن عبد الرحمٰن بن یزید اور ابو وائل نے بھی روایت کیا ہے۔

2. فضیل بن عیاض: ابن ابی الدنیا نے حضرت حسین بن عبد الرحمٰن سے روایت کی ہے کہ حضرت فضیل بن عیاض فرمایا کرتے تھے:

''الغناء رقیة الزنا'' (کتاب ذم الملاہی ابن ابی الدنیا) ''کہ گانا زنا کے لئے جادو ہے۔''

3. سلیمان بن عبد الملک: خالد بن عبد الرحمٰن سلیمان بن عبد الملک کے لشکر میں ایک فوجی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رات کو ایک شخص کو گاتے ہوئے سنا تو صبح کو اس کو بلوا بھیجا اور کہا:

''گھوڑا ہنہناتا ہے تو مادہ اسپ تازی مل جاتی ہے۔ اونٹ بڑ بڑاتا ہے تو اونٹنی اس کے لئے اپنی گودی پھیلا دیتی ہے۔ بکرا آواز نکلاتا ہے تو بکری حاضر ہو جاتی ہے وان الرجل لتغنی فتشتاق الیه المرءۃ (مرد گاتا ہے تو عورت اس کی طرف لپکتی ہے) پھر حکم دیا اخصوھم (ابن ابی الدنیا) اس کو خصی کر دو۔''

4. یزین بن عبد الملک: حضرت ابو عثمان لیثی فرماتے ہیں کہ یزین بن عبد الملک آل بنی امیہ کو وعظ کرتے ہوئے کہا کرتے تھے:

«إیاکم والغنا فإنه ینقص الحیاء ویزید في الشھوة ویھدم المروءة وإنه لينوب عن الخمر ويفعل ما يفعل السكر»

کہ گانے سے بچو، یہ حیا کو کم کرتا ہے جنسی خواہش کو بڑھاتا ہے۔ آدمیت تباہ ہو جاتی ہے۔ گانا شراب کے قائم مقام ہے اور نشہ کا کام دیتا ہے۔

پھر کہا: ''اگر باز نہیں رہ سکتے تو کم از کم عورتوں سے پرے رکھو۔ فإن الغنا داعية الزنا ''گانا، زنا کا داعی ہے۔''

محمد بن ازدی حطیۂ شاعر کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک عرب کے ہاں اپنی بیٹی کے ساتھ مہمان ہوا۔ جب رات ہوئی تو گانے کی آواز سنی تو ہا ''چپ رہیے'' پوچھا، اس میں کیا ناپسندیدہ بات ہے؟ کہا:

إن الغنا رائد من رادة الفجور (کتاب ذم الملاہی ابن ابی الدنیا)

5. حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ: آپ غنیۃ الطالبین میں لکھتے ہیں:

ثم یکفی في کراھة ما في ذلك من ثوران الطبع وھيجان الشھوة

''یعنی (اس کی حرمت و کراہت کے لئے) یہ کافی ہے کہ حیوانی مزاج کو گرماتا ہے اور جنسی تحریک پیدا کرتا ہے۔''

حضور علیہ الصلوٰۃ واسلام نے رنجشہ غلام سے جو صحابی بھی تھے، جب گانے لگے تو کہا:

یا رنجشة رویدا بالقواریر (مشکوٰۃ) ''اے رنجشہ! ان آبگینوں کو جانے دیجئے!''

مقصد یہ ہے کہ گانا بجانا بہیمی میلانات میں شدید تحریک اور ہیجان پیدا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان عموماً جنسی خواہش کی بھینٹ چڑھ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ ؎
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

ایک امام لکھتے ہیں کہ یہ مفاسد تو تنہا غنا (گانے) کے ہیں اور جب اس کے ساتھ دوسرے آلات موسیقی بھی مل جائیں جیسے دف، بانسری وار پھر اس میں رقص اور جھومنا لہکنا بھی شامل ہو جائے تو اگر کوئی عورت کسی گانے سے حاملہ ہو سکتی تو اس سے ضرور ہو جاتی:

«فأما إذا اجتمع إلي ھذه الرقية الدف واشبابة والرقص بالتخنت والتكسر فلو حبلت المرءة من غنا لجعلت من ھذه الغناء»

اس کے آخر میں موصوف لکھتے ہیں:

«فبعمر اللہ کم من حرة صارت بالغنا من البغايا وكم من حر أصبح به عبدا للصبيان أو الصبايا وكم من غيور تبدل به اسما قبيحا بين البرايا»

کہ بخدا بہت سی شریف خواتین گانے سنتے سنتے فاحشہ ہو گئیں اور بہت سے شریف مرد گانے سنتے سنتے لڑکوں اور لڑکیوں کے غلام بے دام بن گئے اور بہت سے غیور لوگوں نے اس کی وجہ سے دنیا میں بڑی شہرت حاصل کی۔

ایک دلچسپ کہانی:

اس سلسلہ میں بعض کتابوں میں ایک عجیب قصہ درج کیا گیا ہے، گو اس کی روایتی حیثیت کچھ ایسی نہیں ہے تاہم قرائن بتاتے ہیں کہ جس بات کی نشاندہی کی گئی ہے، بالکل صحیح اور بجا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب خدا نے ابلیس کو دھتکار دیا تو ابلیس نے کہا، الٰہی!تو نے مجھے دھتکار تو دیا ہے۔ اب میرے کام کیا ہوں گے؟ فرمایا، شعبدہ بازی اور جادوگری، پھر ابلیس نے پوچھا اور میرا قرآن؟ فرمایا اشعار۔ پھر اس نے پوچھا، میری کتاب؟ فرمایا، گودنا! پھر پوچھا اور میرا کھانا؟ جواب ملا، ایسا مردار جس پر خدا کا نام نہ پڑھا گیا ہو۔ پھر ابلیس نے پوچھا اور میرا پینا؟ فرمایا ہر نشہ آور شے! پھر پوچھا اور میرا ٹھکانا؟ فرمایا، بازار۔ فما صوتی قال المزامیر قال فما مصائدی قال النساء یعنی پوچھا کہ میری (خصوصی) آواز؟ فرمایا، مزامیر۔ کہا، میرا شکار؟ فرمایا عورتیں۔

حرمتِ مزامیر اور غنا کے سلسلہ میں کچھ صحیح روایات موجود ہیں جو کمزور روایات کی تقویت کا باعث ہیں۔ اس لئے کمزور روایات کو اس مضمون کی مجموعی حیثیت سے الگ نہیں رکھنا چاہئے بلکہ دونوں کو ملا کر مطالعہ کرنا چاہئے۔ اس کے بعد اسلامی تعلیم و تربیت کے مقاصد اور ملتِ اسلامیہ کے مزاج اور فرائض کے آئینہ میں رکھ کر ان کا جائزہ لینے کی کوشش فرمائیں۔ ان شاء اللہ جو بات ہم کہنا چاہتے ہیں۔ آپ کی سمجھ میں ضرور آجائے گی۔

غنا،قرآن کی راہ مارتا ہے:

حضرت امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر ایک مضمون تحریر فرمایا ہے جس کا نام ''ترجیح ذوق القراءة والصلوٰة علی ذوق السماع وأصوات القینات'' ہے۔ اس مضمون پر اتنی جامعیت، جاذبیت اور واقفیت شاید ہی کہیں اور ملے۔ اسے پڑھنے کے بعد ایک دفعہ ضمیر اور روحانیت ضرور بیدار ہو جاتی ہے۔ ہم یہاں اس کی تلخیص پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم ایک بات پیش کرتے ہیں کہ ضروری اور مناسب حال ہے:

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی لڑکی سے (جو مسلمان ہو چکی تھی) نکاح کرنا چاہا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

«لا تجتمع بنت رسول الله وبنت عدو الله عند رجل واحد» (ترجیح)

''کہ ایک ہی شخص کے عقد میں رسول اللہ کی بیٹی اور عدو اللہ کی بیٹی جمع نہیں ہو سکتیں۔''

یہاں پر امام ابن القیم نے اسی تلمیح کو استعمال کیا ہے کہ ذوقِ قرأتِ قرآن اور ذوقِ غنا بھی کسی ایک فرد میں جمع نہیں ہو سکتے۔ جس کو قرآن کی تلاوت کی حلاوت حاصل ہے وہاں نغمہ و غنا کی بات نہیں رہے گی اور جہاں نے نوازی اور سماع کی بادشاہی ہو گی وہاں قرآن کا گزر نہیں ہو ا۔

فما اجتمع واللہ الأمر ان في قلب إلا وطر واحدھما الآخر ولا تجتمع بنت رسول اللہ وبنت عدو اللہ عند رجل واحد أبدا (ترجیح، ذوق القراءۃ)

(کہ) بخدا! ایک دل میں یہ دونوں(تلاوت قرآن اور غنا) جمع نہیں ہو سکتے مگر ایک دوسرے کو بھگا دیتا ہے (جیسا کہ) رسول اللہ کی بیٹی اور عدو اللہ کی بیٹی ایک شخص کے عقد میں کبھی بھی جم نہیں ہو سکتیں۔

امام ابن القیم بات کیا کہہ گئے ہیں؟ اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جو باذوق بھی ہیں اور اہلِ دل بھی۔ بخدا! ہم نے تو جب سے ان سطور کا مطالعہ کیا ہے دل ہار بیٹھے ہیں اور اس کے بعد واقعۃً کسی اور دلیل و برہان کی ضرورت ہم محسوس نہیں کرتے۔

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے جو اولیاء اللہ میں اپنا ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ سماع کے روّ میں ایک نئی راہ پیدا کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ سماع پر لٹو ہو رہے ہیں ان کی مثال ان اسرائیلیوں کی سی ہے جنہوں نے من و سلوٰی کے مقابلہ میں پیاز اور مسور کی دال مانگی تھی۔ یعنی قرآن کے ہوتے ہوئے سماع اور غنا کا شوق رہنا یوں ہے جیسے حلوا اور پلاؤ کے بدلے دال مانگنا۔

ولا ینبغي للفقیر أن یتقاضي القارئ ولا القوال۔ إن استبدل القول الذي ھو أدني بالذي ھو خير يعني الأبيات بالقراٰن علي ما ھو عادة أھل الزمان اليوم (غنية الطالبين)

یعنی سالک کے لئے مناسب نہیں کہ وہ قاریٔ قرآن یا قول سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ چیز لائے یعنی قرآن کے بدلے اشعار۔ جیسی حالت آج کل ہے۔

حضرت جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ اگر قرآن کے سلسلہ میں یہ لوگ سنجیدہ ہوتے تو وہ سماع قرآن کے بغیر کسی او طرف متوجہ ہی نہ ہوتے۔

فلو صدقوا في قصدھم وجردھم و تصرفھم ما انزعجوا في قلوبھم وجوارحھم بغیر سماع کلام اللہ عزوجل إذھو کلام محبوبھم ومفتر'' (غنیہ)

ایک اور بزرگ کا ارشاد ہے:

وادمانه یثقل القراٰن علی القلب کہ سماع پر مداومت، قرآن کو دل پر بوجھ بنا دیتی ہے۔

حضرت شبلی کا تبصرہ اور بھی جاندار ہے۔ ان سے کسی نے سماع کے بارے میں پوچھا:

أحق ھو؟ قال لا، فقیل ما ذا؟ قال فما ذا بعد الحق إلالضلال'' (غنیہ)

کہ کیا وہ برحق ہے؟ فرمایا نہیں۔ تو پھر وہ کیا ہے؟ فرمایا حق کے بعد تو ضلالت ہی رہ جاتی ہے۔

زہر آمیختہ شہد:

حضرت مجددّ الف ثانیؒ نے سماع کو ذہر آمیختہ شہد سے تعبیر فرمایا ہے۔ مکتوبات، مکتوب نمبر ۳۴، ص ۶۴، ۳ میں لکھتے ہیں:

''و بر سرود و نغمہ رغبت نہ کنند و بالتذاذ آں فریضۃ نہ گردند کہ آں سمجھے است عسل آلودہ زہریست شکر اندودہ۔''

یعنی سرود و نغمہ سے دل چسپی نہ رکھیں اور نہ ہی ان سے لطف اندوزی پر فریفتہ ہوں۔ کیونکہ یہ شہد آلود اور شکر آمیختہ زہر ہے۔

اس زہرِ شیریں نے جو تباہی مچائی، نوخیز نسل کے مستقبل کو جس طرح غارت کیا، قلب و نگاہ کی کائنات کو جس قدر اس نے ویران کیا۔ شیطانی اثر و نفوذ کے امکانات اس کے زیر سایہ کس طرح اور کس قدر بڑھے، رحمانی اثرات اور ربانی ملکات جس طرح مسخ ہوئے وہ محتاجِ بیان نہیں ہے۔ الغرض یہ داستاں جس قدر درد ناک اور شرمناک ہے اتنی ہی واضح اور عیاں بھی ہے۔

سدِّ باب کا تقاضا:

امام ابن القیم اور حضرت امام شاطبی رحمہم اللہ نے ان ذرائع اور وسائل سے خاصی بحث کی ہے جو حصولِ مقصد کے لئے ذریعہ اور وسیلہ کا کام دیتے ہیں، یعنی اگر شارع کسی کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس کے حصول کا زریعہ بھی مقصود و مطلوب کی طرح مشروع سمجھا جائے گا اور جس کام سے منع کرتا ہے تو اس ممنوع تک پہنچنے کا جو سبب اور وسیلہ ہوتا ہے وہ بھی اسی طرح ممنوع تصور کیا جائے گا۔

حضرت امام ابن تیمیہؒ (متوفی ۲۰؍ ذوالقعدہ ۷۲۸ھ، ۱۳۳۷ء نے اقامة الدلیل علی إبطال التحلیل میں، حضرت امام ابن القیم (ف ۷۵۱ھ) نے اعلام الموقعین میں اور حضرت امام ابو اسحٰق ابراہیم بن موسیٰ الغرناطی المالکی (ف ۷۹۰ھ) نے الموافقات میں بڑی نفیس بحث کی ہے۔ ان مباحث کا اصل اور قانونی ماخذ دراصل قرآن و حدیث ہے۔ مثلاً فرمایا ''لا تقربوا الزنا'' یا لا تقربا ھذہ الشجرة وغیرهما سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نزدیک نہ جانے کا یہی مطلب ہے کہ اس راہ پر قدم بھی نہ رکھو جو ممنوعات کی طرف جاتی ہے گویا کہ وسیلہ اور ذریعہ بھی ممنوع ہے۔ حضور ﷺ نے اس کی مثال یوں بیان فرمائی:

«کالراعي یرعي حول الحمٰی یوشك أن یرتع فیه» (بخاری)

جیسا کہ چرواہا جو رکھ کے اردگرد چراتا ہے ہو سکتا ہے کہ (اس کے چرنے والے جانور) رکھ میں بھی جا چریں۔

گویا ممنوعہ علاقہ سے کما حقہ بچنے کے لئے ضرور ہے کہ وہ اس کی باڑ سے بھی پرے رہے ورنہ اس میں جا پڑنا عین ممکن ہوتا ہے۔

الغرض ''سدِّ باب'' کے طور پر ضروری ہے کہ جن محارم تک پہنچنے کے لئے غنا اور سماع کی مہمیز وسیلہ اور سبب بن سکتی ہے وہ بھی شرعاً اسی طرح حرام و ممنوع سمجھی جائیں جیسے وہ امورِ ممنوعہ۔ باقی رہا یہ سوال کہ موسیقی کی فتنہ سامانیاں کیا واقعی اتنی ہی سنگین ہیں جن کا احساس کیا جا رہا ہے تو ہم پوری شرحِ صدر کے ساتھ یہ عرض کریں گے کہ وہ بالکل بجا اور صحیح ہیں اور جن کو اس میں شک ہے وہ شاید فرش پر نہیں عرش پر رہتے ہیں۔

حضرت امام شوکانیؒ (ف ۱۲۵۵ھ) نے کیا خوب لکھا ہے کہ:

''مانا کہ وہ حرام نہ ہو لیکن اشتباہ کے دائرہ سے خارج نہیں ہے اور مومن کا خاصہ ہے کہ مقام اشتباہ آجائے تو ٹھٹھک کر رہ جاتے ہیں۔ خاص کر جب کسی حور وش کے قدوقامت، خدوخال، حسن و جمال، نازواوا، ہجر و وصال کا تذکرہ بھی ہو تو ظاہر ہے کہ وہ ابتلاء سے بچ نہیں سکے گا۔ اس شیطانی سلسلہ نے کتنی جانیں ضائع کر دیں اور کتنوں کو عشق کی زنجیروں میں نکڑ ڈالا۔'' (مختصراً۔ نیل الاوطار)

ان کے اصل الفاظ یہ ہیں:

فلا یخفی علی الناظر أن محل النزاع إذا خرج عن دائرة الحرام لم یخرج عن دائرة الاشتباہ والمؤمنون وقانون عند الشبھات۔۔۔۔۔ ولا سیما إذا کان مشتملا علی ذکر القدور الخدود والجمال والدلال والھجر والوصال معاترة العقار وخلع العذار والوقار بأن سامع ما کان کذلك لا یخلو عن بلية ۔۔۔۔۔۔۔ علم لھذہ الوسیلة الشیطانية من قتیل دمه مطلول وأسیر بهموم عزامه وھایمه لکبول نسأل اللہ السداد والثبات'' (نیل الاوطار ص ۸۷، ۸ باب ما جاء في اٰلة اللھو)

قارئین کرام! یہ ساری رام کہانی اس غنا اور سماع کی ہے جو پاک لوگوں کے ہاں مروج تھا نہ کہ اس دور کی جواب موسیقی کے نام پر مچل رہا ہے۔ پاک دَور میں اس کی شکل ''شعر گوئی'' کے قریب تھی اور اگر دف یا کوئی ساز بھی ساتھ تھا تو وہ بھی درجہ سادہ ہوتا تھا۔ یقین کیجئے! اسلاف کے ہاں جو سماع متنازع فیہ رہا ہے۔ ہمارے عہد کے فتنہ بردوش نظامِ غنا، سماع، دستور رقص و سرود سے اس کا قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ اسلاف کے ہاں جو رنگ تھا وہ منقبض طبیعت کے لئے انشراح کی ایک کوشش تھی تاکہ بریک کھل جائے اور قافلۂ حیات فرصت میں بھانپ گئے اور وہ یہ کہ انقباض کی گرہ کشائی ایک خاص دلچسپی اور مبلغ علم کی نشاندہی کرتی ہے۔ گویا کہ ان کے جذبات میں سفلیات کا ابھی دخل تھا۔ اس لئے انہی سے اپنے اخلاق کی دوا بھی کرتے تھے۔ لیکن جو لوگ مائل بہ پرواز تھے وہ اپنے طبعی انقباض کی دوا آسمانی نسخۂ شفا سے کرتے تھے۔ یعنی نغمہ و سرود کے بجائے تلاوتِ قرآن، نماز اور ذکر و ثناء سے کیا کرتے تھے، کیونکہ جس ذات پاک کے قرب و وصال کی تڑپ ان کو بے چین رکھتی تھی۔ اسی پاک ذات کے کلام، عبادت اور اس کی حمد و ثنا میں وہ چین پاتے تھے۔ چنانچہ حضرت شیخ جیلانیؒ نے ان اہل سماع پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ ذوقِ جام کے مریض ہیں ورنہ وہ یقیناً تلاوتِ قرآن میں ترقی کرتے۔ صاحبِ عوارف المعارف نے بھی کتاب کے ۲۳ ویں باب میں اس امر کا سخت گلہ کیا ہے کہ اسلاف میں جو سماع کی مثالیں ملتی ہیں۔ ان سے یہ لوگ اپنے دور کے مسرفانہ سماع کے لئے استدلال کرتے ہیں۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ:۔

''اگر ایک صاحبِ انصاف، انصاف کی بات کرے اور اپنے دور کے اہلِ سماع کے اجتماعات کا بغور جائزہ لے اور موسیقار کی خصوصی (فنی قسم کی) نشست اور بانسری بجانے والے کا انداز دیکھے اور پھر وہ سوچے کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے حضور میں کبھی یہ رنگ ڈھنگ دیکھنے میں آئے؟ کیا آپ کے دور میں قوالوں کو جمع کر کے سماع کے لئے ان کے گردیوں مجتمع ہو کر لوگ بیٹھے؟ تو یقیناً وہ بول اُٹھے گا کہ ہرگز نہیں۔''

ان کے الفاظ یہ ہیں:

وإن أنصف المنصف وتفکر في اجتماع أھل الزمان وقعود المغني بدفه والمشبب بشبابته وتصور في نفسه ھل وقع مثل ھذا الجلوس والھيئة بحضرة الرسول ﷺ وھل استحضروا قوالا وقعدوا مجتمعين لاستماعه لاشك ينكر ذلك من رسول الله ﷺ وأصحابه (العوارف باب ۲۳)

پھر فرماتے ہیں کہ ''اگر اس میں کچھ منقبت ہوتی تو وہ کبھی اس کو نہ جانے دیتے۔ اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو پھر یہی کہنا پڑے گا کہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، صحابہ کرام اور تابعین کے حالات سے ناواقف ہے۔ ولو كان في ذلك فضيلة ........ ما أھملو لھا فمن يشير بأنه فضيلة تطلب ويجتمع لھا لم يحظ يذوق معرفة أحوال رسول الله ﷺ وأصحابه والتابعين (ايضاً)

وجہِ مغالطہ:

کچھ روایات میں مختلف محل و موقعہ پر ''غنا'' گانے کا ذِکر آیا ہے۔ اس کی توجیہ اس قسط کے شروع میں بیان کر دی گئی ہے۔ ہاں بعض صحابہ اور تابعین کے بارے میں کچھ واقعات ایسے بیان کئے جاتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سماع کیا کرتے تھے مثلاً:

• حضرت عبد اللہ بن جعفر اپنی لونڈیوں سے خوش الحانی کے ساتھ گانے طنبورے کے ساتھ سنا کرتے تھے (اسماع للاستاذ)

• اسی طرح حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ اپنی لونڈیوں سے ساز کے ساتھ گانے سنا کرتے تھے۔ (ایضاً)

• حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت عمرو بن العاصؓ نے حضرت عبد اللہ بن جعفر کے ہاں ساز سنا تھا۔

• حضرت حسانؓ بن ثابت نے عزہ سے ساز کے ساتھ ان کے شعر سنے۔

الغرض ابن حزم نے اپنی کتاب ''سماع'' میں اوفوی نے، قتیبہ نے، ابو طالب مکی نے، ابن طاہر ابن النمون نے بہت سے ایسے واقعات نقل کیے ہیں جن سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ سبھی کچھ جائز ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ روایات مستند نہیں ہیں۔ اگر بعض روایات تسلیم بھی کر لی جائیں تو ان کی حیثیت نجی ہے اجتماعی نہیں۔ کیونکہ انہوں نے سماع بھی اپنی لونڈی یا خریدی جانے والی لونڈی سے کیا، چونکہ اپنی لونڈی ہر طرح مباح ہوتی ہے اور اسی کی آواز، اسی کو ہی دلآویز بنانے کا سبب بن سکتی ہے تو انہوں نے سمجھ لیا کہ اب کوئی حرج نہیں ہے۔

تاہم ہمارے نزدیک یہ تاویل اور توجیہ بھی کچھ زیادہ وزنی نہیں ہے کیونکہ صحت صرف کتاب و سنت کی ہے جس کے خلاف کسی کا عمل معتبر نہیں۔ لا طاعة لمخلوق فی معصعة الخالق (بخاری) نیز صاحب العوارف نے ذکر کیا ہے کہ ان کا سماع اتنا سادہ تھا کہ ہمارے عہد کے اعتبار سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لئے اب شکل ہی بدل گئی ہے اور دورِ حاضر میں موسیقی کی جو تخلیقات سامنے آئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ان سے بگڑے تو لاکھوں ہیں لیکن کسی کی بگڑی بن بھی گئی ہو، ابھی تک دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگر انجام اور مآل سب سے بڑا قاضی ہے تو قاضیٔ شہر کو یہ کہنا پڑے گا کہ اب نظامِ غنا حرام ہے اور لاکھ فتنوں کو جنم دیتا ہے۔ اس نے بہیمی میلانات کو رام نہیں کیا بلکہ ان کو سرکش بنا کر ابن آدم کو جنسی تحریکات اور سفلی جذبات کا صید زبوں بنا کر رکھ دیا۔ اس لئے بہتر ہے کہ مجوزّین اپنے مفروضات اور اغلوطات پر نظر ثانی فرمائیں جو دراصل ان کی استدلالی لفظ پرستی یا واقعہ شماری ہے۔ حقائق کی نقاب کشائی نہیں ہے۔ ہم تو اب چاہتے ہیں کہ آئیے مل کر دلائل کتابی سے ہٹ کر نظام موسیقی کی تخلیقات کی عدالت کی طرف رجوع کریں۔ ہمارے نزدیک مجوزین کے قاضیٔ شہر سے بھی یہ بڑا قاضی ہے مگر ہمیں یقین ہے کہ لوگ جارح ہیں۔ یہ راہِ انصاف کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔

پرویزی حلقہ میں یہ آواز بھی گونج رہی ہے کہ ''اگر ایک آواز انسانی حلق سے نکلے تو جائز اور اگر وہی کسی ساز کے تاروں سے ابھرے تو ناجائز۔ آخر اس سے کیا فرق پڑ جاتا ہے؟ دراصل یہ بھی کم فہمی ہے۔ اگر دونوں ایک ہی چیز ہیں تو ساز کی ضرورت کیوں اور اگر ایک نہیں تو آپ کا فلسفہ غلط۔ اس کے علاوہ ہمارا یہ دعویٰ ہی نہیں کہ حلق سے نکلے تو بجا اور ساز سے نکلے تو حرام (بلکہ یہ تو ایک تیسری چیز پیش کی جا رہی ہے) ہم تو آواز اور ساز دونوں کو ناجائز سمجھتے ہیں اور اگر کہیں آواز اور ساز دونوں کا امتزاج ہو جائے تو خدا فراموش سرشاری کی ایسی بارش ہوتی ہے جس میں یہ سوختہ ساماں سب بہہ جاتے ہیں اور ہزاروں بہہ گئے ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد مرحوم لکھتے ہیں:

''دہلی اور لکھنؤ کی سلطنتیں انہی خر مستیوں کی نذر ہو گئیں۔'' (کتاب الاخلاق ص ۲۵۶)