قارئین کرام محدثین کے چند رحلات علم کے ذکر سے ان کی مشقتوں کا اندازہ فرما چکے ہیں۔ تاریخ امم میں مسلمانوں کے اس عظیم کارنامہ کی مثال نہیں ملتی جس کا اعتراف غیر مسلموں نے بھی کیا ہے۔ واقعی کسی انسان کی پوری زندگی کے اقوال و افعال کا اس طرح جمع ہونا ایک معجزہ ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے محدثین کے ہاتھوں قرآن مجید کی طرح اس کی تفسیر و تعبیر یعنی حدیث بھی محفوظ فرما دی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی انتھک کوششیں صرف سرکار مدینہ ﷺ کی سیرت کی خاطر ہی کی جا سکتی تھیں جو کل دنیائے انسانیت کے لئے ایک کامل نمونہ اور واجب الاتباع ہو۔ ان رحلات کی داغ بیل تو اگرچہ محدثین نے ڈالی لیکن اس سے دوسرے علوم کی تحصیل کے لئے لوگ دور دراز کے سفر کرنے لگ گئے۔ خصوصاً جملہ اسلامی علوم و فنون کے لئے عموماً یہی رواج رہا کہ طالبان علم ہر قسم کے علوم کی تحصیل کے شوق میں علماء اور ان کی مجالس کا رخ کرتے رہے (اور آج بھی جبکہ علماء کی مجالس کی بجائے مستقل مدارس کا رواج چل نکلا ہے، شائقین دور دراز کے علاقوں سے ان مقامات یا مدارس کا رُخ کرتے ہیں جو اس سلسلہ میں مشہور ہوں اور اسے حصولِ علم کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ توریٰت میں بھی حضرت موسیٰ کا یہ قول منقول ہے کہ علم بھوک اور سفر میں ہے جبکہ لوگ اسے شکم سیری اور حضر (وطن) میں تلاش کرتے ہیں) اس لئے اب ہم ان اشخاص کا ذِکر بھی مناسب سمجھتے ہیں جنہوں نے دوسرے علوم کی تحصیل کی غرض سے سفر کئے۔

رحلہ فقہاء:

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ خیر القرون میں علماء کی اکثریت جامع العلوم ہوتی تھی اور شرعی امور میں انہی کے اجتہاد و تفقہ پر اعتماد کیا جاتا تھا اور یہ علماء شرعی علومِ (علوم عالیہ مثل قرآن، حدیث، فقہ اور تاریخ وغیرہ) ہوں یا علومِ عربیہ (علومِ آلیہ) سب کتاب و سنت کی خدمت ہی کی غرض سے سیکھتے تھے اور ان سے کتاب و سنت میں اجتہاد کر کے فتویٰ دیا کرتے تھے۔ اس لئے یہی لوگ فقہاء تھے (جیسا کہ شاہ ولی اللہ کے الفاظ ''فقہاءِ محدثین'' جو انہوں نے اپنی ایک وصیت میں ان کا طریقہ پسند فرماتے ہوئے اسے اختیار کرنے کے متعلق کہے، سے بھی ظاہر ہے) لیکن بعد کے ادوار میں جیسا کہ حدیث اور تفسیر نے علیحدہ علیحدہ فن کی حیثیت اختیار کر لی۔ اسی طرح فقہ و قانون کا شعبہ بھی الگ شمار کیا جانے لگا اور چونکہ اجتہاد اور استنباطِ مسائل کے لئے سفر کی مشکلات کے بجائے حضر کے آرام اور یکسوئی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اس سلسلہ میں وہی لوگ گھر بار چھوڑتے ہیں جو شوقِ علم میں علماء یا مدارس کے متلاشی ہوتے ہیں۔ یا وہ لوگ علماء کرام اور مفتیانِ عظام کی طرف سفر کرتے ہیں جن کو کسی اہم مسئلہ میں ان کی ضرورت ہوتی ہے اور ظاہر ہے یہ ضرورت ایسے ادوار میں بہت کم پیش آتی ہے جبکہ علم کا دور دورہ ہو۔ اس لئے فقہاءِ محدثین کے علاوہ دوسرے فقہاء کے علمی رحلات بہت کم ہیں۔

مثلاً فقہاء میں زیادہ شہرت ائمہ اربعہ کو حاصل ہے لیکن ان میں سے علمی سفر زیادہ تر امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ، جن کا شمار فقہائے محدثین میں ہوتا ہے نے کیے ہیں اور جہاں جہاں گئے وہاں اپنے علمی اثرات بھی چھوڑے، لیکن اس کے برعکس امام ابو حنیفہؒ کا صرف ''سفرِ حجاز'' ہی ثابت ہے لیکن وہ بغرضِ حج بھی ہو سکتا ہے اور امام مالکؒ نے تو مدینہ منورہ کو اس طرح لازم پکڑا کہ وہیں کے ہو کے رہ گئے، وہ اشد ضرورتوں میں بھی وہاں سے نکلنا گوارا نہ کرتے تھے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ حصول علم کے لئے انہیں کسی دوسری جگہ جانے کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ ان دنوں مدینہ میں تابعین علماء کی اک بڑی اکثریت موجود تھی۔

رحلہ مؤرخین:

علومِ شرعیہ میں چوتھا نمبر علمِ تاریخ کا ہے۔ جس میں گزشتہ واقعات و حادثات اور مشاہیر کے حالات بیان کیے جاتے ہیں۔ اس کا ایک مستقل حصہ تو علم اسماء الرجال ہے جس میں راویانِ حدیث کی زندگی زیرِ بحث آتی ہے تاکہ ان کی تعدیل یا جرح سے حدیث کی صحت و ضعف معلوم ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ کام محدثین کا ہے جنہوں نے نہ صرف راویانِ حدیث کے حالات معلوم کرنے کے لئے دور دراز کے سفر کیے بلکہ نقد و جرح کے اصول وضع کر کے ''مصطلح الحدیث'' کا ایک مستقل علم ایجاد کیا۔ علم تاریخ کے اس شعبہ کے لئے تو محدثین کے رحلات کا ذِکر گزر چکا ہے اور متقدمین و متاخرین کی عظیم الشان تصنیفات اس کی عظمت اور اہمیت پر شاہد ہیں۔ باقی رہے دین و دنیا کی ممتاز شخصیتوں کے حالاتِ زندگی تو اس سلسلہ میں بھی بہت بڑا کم محدثین ہی نے کیا کیونکہ علم تاریخ بھی شرعی علم اور قرآنِ کریم کے پنجگانہ علوم میں سے ایک ہے بلکہ محدثین نے اپنے ذوقِ تحقیق سے اس فن کو اتنی ترقی دی کہ انہی کے فیضِ کرم سے اس علم کو اعتماد و وقار حاصل ہوا۔ گویا علم تاریخ میں تحقیق و تنقید کی یہ ریت ڈالنا مسلمانوں کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ لیکن محدثین کے علاوہ کئی دوسرے مؤرخین نے بھی اس سلسلہ میں سفر کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنے اپنے ذوق کے مطابق تاریخ کے مختلف حصوں پر مشتمل معلوماتی مواد اکٹھا کیا۔ اگرچہ یہ لوگ تحقیق و تنقید کا محدثانہ معیار تو قائم نہ رکھتے تھے تاہم علماء نے ان کے کام کی قدر کی اور اسے تاریخ میں شامل رکھا کیونکہ تاریخ کا وہ حصہ جسے کوئی شرعی حیثیت حاصل تھی، اسے تو محدثین نے حدیث ہی کا حصہ بنا دیا تھا جس کی چھان پھٹک بھی محدثانہ معیار پر تھی۔ باقی حصہ کو اسلام کے اصولی مسائل (فقہ اکبر) اور حرام و حلال (فقہ اصغر) کے لئے ناقابلِ استناد قرار دے کر عام تاریخ شمار کیا جس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ واقعات کا کچھ تفصیلی خاکہ ہمارے سامنے آجاتا ہے جو نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے کا مصداق ہے۔ نیز وہ شخصیتیں جو اگرچہ دینی نہیں لیکن اپنی دنیاوی اہمیت کی وجہ سے دین و شریعت پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں ان کا سوانحی خاکہ اگر یقینی حیثیت میں نہیں تو اس تفصیل سے ان کے متعلق اجمالاً اتنا علم ضرور حاصل ہو جاتا ہے جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ اس طرح علم تاریخ سے سابقہ تجربات کا فائدہ بھی ملتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ تاریخ کے لئے باوجود محدثانہ معیار قائم نہ رکھنے کے مسلمانوں نے اصولِ روایت کا اتنا معیار ضرور ملحوظ رکھا ہے کہ تاریخ جاہلیت کی طرح بے سروپا کہانیوں اور بے سند قصوں کا مجموعہ نہ رہ جائے۔ جن علماء نے تاریخ دانی میں ایک مقام حاصل کیا اور کتب تاریخ بھی تصنیف فرمائیں ان میں سے بخاریؒ، طبریؒ، ابن سعدؒ، ابن ہشامؒ، ابن عبد البرؒ، ابن حزمؒ، ابن اثیرؒ، ابن کثیرؒ، ابن حجرؒ، ابن تیمیہؒ، ابن القیمؒ، ابن خلدونؒ ، خطیب بغدادیؒ اور سیوطیؒ کی کتبِ سیر و تواریخ خصوصی طور پر قابلِ اعتماد اور علماء کے ہاں متداول ہیں۔

علمِ تاریخ سے قریبی تعلق رکھنے والا ایک علم، علم جغرافیہ ہے جس میں مشاہیر زمانہ کے بجائے حالاتِ مقام و مکان سے متعلق بحث ہوتی ہے اور مختلف خطوں اور علاقوں کی خصوصیات کا ذِکر ہوتا ہے۔ اگرچہ فی زمانہ اس سلسلہ میں یورپ نے بڑی شہرت حاصل کی ہے لیکن مسلمان سیاحین کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کام کی ابتداء مسلمانوں نے ہی کی اور اپنے ترقی یافتہ دور میں انہوں نے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیئے / مثلاً مشہور مسلمان جہاں پیما ابن بطوطہ کا ایک واقعہ ان کے دور دراز کے سفر اور سیاحت کا پتہ دیتا ہے، وہ یہ کہ جب ابن بطوطہ سکندریہ پہنچے تو شیخ برہان الدین اعرج کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ شیخ نے دورانِ ملاقات اپنے تین بھائیوں کو، جن میں سے ایک فرید الدین نامی ہند میں تھے، دوسرے زین الدین سندھ میں اور تیسرے برہان الدین چین میں تھے۔ سلام پہنچانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ چنانچہ ابن بطوطہ نے ان سب کو فرداً فرداً مل کر ان کا سلام پہنچایا۔ افسوس! کہ آج مسلمانوں کے زوال و انحطاط کے ساتھ ہی اس کام کے امین غیر بن گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے یہ عظیم الشان کارنامے بھی گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔

رحلۂ اُدباء:

مسلمانوں کی الہامی کتاب ''قرآن'' اور ان کے پیشواء محمد رسول اللہ (ﷺ) کی زبان چونکہ عربی تھی اس لئے کتاب و سنت کے فہم و سنت کے فہم و بصیرت کے لئے عربی زبان کی واقفیت نہایت ضروری ہے مسلمانوں نے اس کا احساس کرتے ہوئے اور عربی ادب کو دین سمجھتے ہوئے اس کی بڑی خدمت کی اور اسے نہ صرف سیکھا سکھایا بلکہ اس کے لئے بڑے بڑے علوم ایجاد کیے۔ صرف و نحو، بلاغت، عروض و قوافی، لغت وغیرہ بیش بہا قیمتی علوم مسلمانوں ہی کے وضع کردہ ہیں۔ جہاں تک اصل عربی ادب و زبان کا تعلق ہے۔ اس کے لئے دورِ جاہلی صدرِ اسلام اور اموی دور بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران شعر و شاعری اور لغت و ادب کا مرکز زیادہ تر حجاز ہی رہا اور باقی قبائل کی حیثیت ثانوی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بھی لغتِ حجاز ہی میں نازل ہوا اور اسی لیے کتاب و سنت کے فہم کے لئے بطور استناد اسی دور کی زبان پیش کی جا سکتی ہے۔ لیکن بعد میں مؤلدین کی کثرت کی وجہ سے اور شہری ماحول اور قوموں کے کثیر اختلاط کی وجہ سے زبان کا وہ معیار قائم نہ رہ سکا۔ تاہم اس تبدیلی کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کا ایک جمِ غفیر عربی زبان کے تحفظ کے لئے میدان میں نکل آیا جن کی کوششوں سے بیسیوں نئے علوم معرضِ وجود میں آئے۔

بقول علامہ فرید وجدی (صاحب دائرۃ المعارف) سب سے پہلے جس نے اس سلسلہ میں سفر اختیار کیا وہ یونس بن حبیب (متوفی ۱۸۳ھ) تھے۔ ان کے بعد مشہور شاعر خلف الاحمر تھے جنہوں نے صرف عربوں کی شعر و شاعری اور ان کے اصلی حالات معلوم کرنے کے لئے بدوؤں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے ہاں رہے۔ انہوں نے ۱۸۰ھ میں وفات پائی۔ ان کے بعد مشہور نحوی خلیل بن احمد نے قبائل عرب سے مل کر ان کی مادری اور اصلی زبان کی چھان بین کی۔ ان کا سن وفات ۱۷۵ھ ہے۔ ان کی پیروی میں ابو زید انصاری (متوفی ۲۱۵ھ) نے عرب علاقوں کا سفر کیا اور بدوؤں سے بہت زیادہ استفادہ کیا۔ یہ سلسلہ چوتھی صدی ہجری تک چلتا رہا۔ پھر عرب دیہات کی زبان بھی دست بردِ زمانہ سے نہ بچ سکی۔ نیز عربی زبان اور اس کے متعلقہ علوم مدون ہو کر عربی ادب اس قدر محفوظ ہو چکا تھا کہ پھر بغرضِ تدوین رحلہ کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اگرچہ بعد میں علیم و تعلّم کی غرض سے یہ سلسلہ جاری رہا لیکن اس کے لئے کوئی علاقہ مخصوص نہ رہا۔

اِس دور میں اس بات کا ذِکر فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ عربی زبان و ادب میں احتیاط کا یہ عالم تھا (مثلاً بعض ادباء سے منقول ہے) کہ جو ادباء زبان کی تعلیم کی غرض سے شہروں میں آتے تو علماء پہلے ان کا امتحان لیتے۔ اگر وہ شہری زبان سے ناواقف ہوتے تو ان سے اخذ علم کرتے ورنہ ان سے نقل کرنا احتیاط کے منافی سمجھتے۔ پھر جب شہریوں کے ساتھ اختلاط سے یہ لوگ شہری زبان سے خوب واقف ہو جاتے تو ان سے عربی زبان سیکھنا بند کر دیتے۔ جاہلی شراء کا کلام حفظ کرنے والے تو بہت ہیں لیکن یہاں رحلہ کے اعتبار سے ان کا ذِکر غیر متعلق ہے۔ ہاں رحلۂ تعلیم و تعلّم کی چند ایک مثالوں کا ذِکر مناسب رہے ا۔

حماد بن راویہ (متوفی ۱۵۵ھ) جنہیں ولید بن یزید نے ۲۹۰۰ قصائد از بر ہونے پر کامیابی کی سند دی تھی، کا ذِکر ہے کہ ایک دفعہ ہشام ابن عبد الملک کو ایک شعر کے قائل کا علم نہ ہو سکا۔ وہ شعر یہ تھا:

ودعوا بالصبوح یوما فجاءت

قينة في عينھا إبريق

تو اس نے حماد الراویہ کو کوفہسے دمشق بلا بھیجا۔ چنانچہ حماد نے اس کے پاس جا کر اس قصیدہ کے باقی اشعار سنائے اور بتلایا کہ یہ شعر قصیدۂ عدی بن زید سے ہے۔ عربی ادب کے علم کی غرض سے جو لوگ ادباء کی مجالس میں دور دراز کے سفر طے کر کے حاضر ہوتے تھے اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ جب مشہور ادیب الفرّاء نے اپنی کتاب المعانی لکھوائی تو حاضرین طلبہ کی کثرت کی وجہ سے ان کا شمار مشکل تھا۔ اس مجلس میں صرف قاضیوں کی تعداد اسی تھی۔

رحلۂ اطباء:

انصاف نہ ہو گا اگر میں رحلات کے سلسلہ میں اطباء کا ذِکر نہ کروں۔ اگرچہ علم طب کا براہِ راست دین سے کوئی تعلق نہیں لیکن نبی ﷺ کی طبی ہدایات علم حدیث کا ایک زرّیں باب ہیں۔ اور اسی کی فضیلت کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے نقل کرتے ہیں:

«العلم علمان علم الأبدان وعلم الأدیان» یعنی علم دو ہیں علمِ طب اور علم دین۔

اس بحث سے قطع نظر علم طب کی اہمیت بہت ہے کیونکہ یہ انسان کے جسم و روح سے بحث کرتا ہے اور انسانی صحت زندگی کی لا بدی ضروریات سے ہے۔ انسانی امراض اسے نہ صرف دنیاوی طور پر ناکارہ کر دیتی ہیں بلکہ اس کے شرعی فرائض کے سلسلہ میں بھی خلل انداز ہوتی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے:

«المؤمن القوي خیر من المؤمن الضعیف»

یعنی قوی مسلمان اللہ کے ہاں کمزور مسلماں سے زیادہ پیارا ہے۔

کیونکہ وہ دین کے ایسے کام سرانجام دیتا ہے جن سے کمزور محروم رہتا ہے نیز رحلات کے بارے میں اطباء کی محنتیں بہت قابل قدر ہیں۔ انہوں نے جڑی بوٹیوں، معدنیات اور مختلف چیزوں کی تلاش اور خواص کے لئے انتھک محنتیں کیں اور اس کے لئے علاقوں کے علاقے اور دشت و دریا چھان مارے اور مختلف تجربات کے لئے انہیں بیش بہا قربانیاں دینی پڑیں۔ مسلمان اطباء نے اس کے لئے دور دراز کے سفر کیے اور اس فن کے لئے بڑی مشقتیں اُٹھائیں اور ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیئے کہ رہتی دنیا تک ان کی یادگار رہیں گے۔ آج کی سائنسی دنیا اپنے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود جن مشکلات کا کوئی حل تلاش نہ کر سکی، مسلمانوں نے اپنے دور میں ان کو حل کیا۔ بطور مثال آج سب ڈاکٹر صاحبان اور سائنسدان ''الکوحل'' کے مضر اثرات کا اعتراف کرتے ہیں لیکن اس کا متبادل نہ پانے کے سبب اس کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتے۔ حالانکہ مسلمان اطباء قرنوں پہلے ان مقاصد کے لئے دوسری تدابیر پیش کر چکے ہیں۔ گویا آج کی ترقی یافتہ طب نے مسلمانوں ہی کے فیض کرم سے ترقی کی منزلیں طے کیں۔ یورپ کے ماہرینِ طب زیرِ لب اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ موجودہ طب مسلمانوں کی کوششوں کی رہینِ منت ہے۔

مسلمانوں نے اسلامی قرونِ وسطیٰ میں طب کی اس قدر خدمات انجام دی ہیں کہ ان کی طب کو طبِّ یونانی کی بجائے طبِّ اسلامی کہنے کو جی چاہتا ہے۔ اس دور کے اکثر علماء دینی علوم کے ساتھ ساتھ طب کے بھی ماہر ہوتے تھے اور اسے دینی علوم ہی کی طرح اہتمام سے سیکھتے تھے۔ غزالیؒ و رازیؒ بلند پایہ عالم اور ماہر طبیب بھی ہیں جبکہ کئی علماء نے تو خاص طب نبوی کے نام سے کتابیں لکھیں۔ امام ذہبیؒ کی کتاب ''الطب النبوی'' اور امام سیوطیؒ کی ''کتاب الرحمة في الطب والحکمة'' کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ امام شافعی متبحر عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر طبیب بھی تھے۔ اسی طرح مشہور مورخ ابن اصیبعہ بیک وقت علامۃ الدہر اور طبیب حاذق تھے اور ان کی طرح اس فن میں ان کی ایک بہن اور بیٹی بھی یدِ طولیٰ رکھتی تھیں۔

علامہ سید شریف کو ایام طالب علمی میں شوق ہوا کہ وہ امام رازیؒ کی کتاب شرح مطالع خود ان سے پڑھیں چنانچہ اس دُھن میں وہ ہرات پہنچے، اس وقت امام کی عمر دسویں منزل کی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی اور قویٰ مضمحل ہو چکے تھے۔ اس لئے اس کہن سالی میں انہوں نے جواں ہمت سید کو اپنی طاقت سے باہر سمھتے ہوئے اپنے شاگرد مبارک شاہ کے پاس قاہرہ جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس کا پڑھانا میرا پڑھانا ہی ہے اور ایک سفارشی رقعہ لکھ دیا۔ اس سفارش سے سید شریف حلقہ رس میں شامل تو کر لئے گئے لیکن انہیں نہ تو جماعت میں قرأت کا موقع ملتا اور نہ ہی ان کا مستقل سبق شروع ہو سکا۔ لہٰذا وہ صرف سماع پر قناعت کرتے تھے۔ ایک شب مبارک شاہ صحن مدرسہ میں چہل قدمی کر رہے تھے کہ ایک جانب سے کسی کی آواز کان میں پڑی۔ متوجہ ہو کر سنا تو میر سید شریف کہہ رہے تھے۔

''مصنف یوں کہتے ہیں، استاد کا یہ ارشاد ہے اور میرا خیال اس طرح ہے۔''

اس ذہانت سے مبارک شاہ بڑے متاثر ہوئے اور انہیں طلباء میں ایک نمایاں مقام دینے لگے ۔

رحلۂ نابینا علماء:

بصارت اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ حصول علم کے لئے تو تقریباً لا بدی چیز ہے لیکن ان مسلمان علماء کے تبحرِ علم اور اس کے حصول پر تعجب ہوتا ہے جنہوں نے نابینا ہونے کے باوجود علمی سمندروں میں غوطے لگائے اور بیناؤں پر بھی سبقت لے گئے اگرچہ ان علماء کا ذِکر بھی سابقہ عنوانوں میں سے کسی کے ما تحت کافی تھا لیکن ان کی اس معذوری کے پیش نظر خصوصاً جبکہ دور دراز کے سفر کسی مونس و غمخوار کے بغیر کیے ہوں، علم کا حصول ایک نہایت حیرت انگریز امر ہے۔

حدیث کے مشہور نابینا راوی قتادہ بن دعامہ سدوسی نے طلبِ حدیث کے لئے حجاز، بصرہ اور واسط وغیرہ کا سفر کیا۔ حجاز میں مشہور تابعی (سرخیل اہل الحدیث) امام سعید بن المسیبؒ سے پڑھنا شروع کیا تو طلب اور شوق علم میں انہیں اس طرح لازم پکڑا کہ وہ گھبرا اُٹھے اور تیسرے روز ہی فرمانے لگے کہ اے اللہ کے بندے تو یہاں سے نکل، تو نے تو مجھے نچوڑ لیا ہے۔ بصرہ میں علماء کے ہاں اس قدر آنا جانا تھا کہ ہموار نا ہموار جگہ کی پروا نہ کرتے تھے اور بغیر رہبر کے ہر جگہ پہنچ جاتے تھے۔

۱۱۸ھ میں شہر واسط میں مبتلائے طاعون ہو کر وفات پائی۔

امام بخاریؒ کا تحصیل علم کے دوران دوبارہ نابینا ہونے کا قصہ قارئین پہلے مطالعہ فرما چکے ہیں۔ اس دوران میں بھی ان کا شوق تعلیم و تعلم جاری رہا۔

صحاح ستہ کی مشہور کتاب جامع ترمذی کے مصنف امام محمد بن عیسیٰ ترمذیؒ مادر زاد نابینا تھے۔ تاہم ان کی وسعتِ معلومات اور جلالتِ علمی ان کی ''جامع'' سے ظاہر ہے۔ انہوں نے اس علم کی خاطر حجاز عراق، خراسان وغیرہ کے سفر کیے اور علماء سے کسبِ فیض کیا۔

مادر زاد نابینا حافظ الحدیث ابو العباس رازی نبی پاک ﷺ کے اقوال و افعال سے شیفتگی میں بلخ بخارا، نیشا پور اور بغداد پہنچے (واضح رہے کہ بلغ سے بغداد تقریباً ۱۳۶۵ میل دور ہے)۔

اِسی طرح صائن الدین مکی آٹھ نو برس کے تھے جب نابینا ہو گئے، باپ کا سایہ سر سے اُٹھ چکا تھا۔ وارثوں میں ایک ماں اور ہمشیرہ تھی۔ ماں اپنے نابینا بیٹے کو نہ سنبھال سکی۔ لہٰذا آپ نے تحصیلِ علم کے لئے اپنا علاقہ چھوڑا اور موصل چلے آئے، جہاں قرآن مجید حفظ کیا اور ادب کی تعلیم حاصل کی پھر بغداد چلے گئے۔ یہاں عربی ادب میں مہارت پیدا کی اور علمائے حدیث سے حدیث کا سماع کیا، پھر وہاں سے وطن لوٹے، پھر دوبارہ موصل کا رخ کیا، پھر یہاں سے شام پہنچے، بیت المقدس گئے، وہاں سے حلب اور حلب سے پھر موصل آگئے اور وہیں پیوند خاک ہوئے۔ یہ سب علمی رحلات تھے۔

رحلۂ ملائکہ و جنات:

تکمیل بحث کی خاطر دل چاہتا ہے کہ رحلۂ علماء کے بیان میں خاکی مخلوق کے ساتھ نوری اور ناری مخلوق یعنی ملائکہ اور جنات کے رحلاتِ علم کا بھی کچھ ذِکر کر دیا جائے۔ اللہ کی مخلوق میں سے یہ دونوں بنی نوع انسان کی طرح ذوی العقول ہیں۔ فرشتے تو مقصدِ عبودیت میں انس و جن کے معاون اور جن انسان کی طرح شریعت کے مکلف ہیں۔

علم ایسی چیز ہے کہ ہر کوئی اس کے حصول کے لئے بے قرار ہے اور اللہ تعالیٰ نے علم کی برتری کی بنا پر ہی آدم کو ملائکہ و جنات (جن کا سردار ابلیس تھا) پر فضیلت دی اور انہیں آدم کو سجدۂ احترام و تعظیم کرنے کا حکم فرمایا۔ فرشتوں نے تعمیلِ حکم کی اور وہ انسان کے معاونِ ابدی قرار پائے جبکہ جنوں کے سردار ابلیس نے تکبر کیا اور سجدہ سے انکار کیا لہٰذا وہ ملعون و مردود قرار پایا لیکن عام جنات تو صرف مکلف رہے لیکن ہمیشہ کے لئے ان سے نبوت چھین لی گئی اور ان کے انبیاء و پیغامبر انسان ہی قرار پائے۔ کیونکہ یہی علمِ الٰہی کے امین، مسجود الملائکہ اور خیر البریہ (افضل المخلوقات) تھے۔ اب آپ الگ الگ ملائکہ اور جنات کے رحلات تعلیم و تعلم کا مختصر حال سنیے:

رحلہ ملائکہ:

فرشتے اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان علمِ الٰہی کا واسطہ اور محافظ ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے:

﴿وَما كانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلّا وَحيًا أَو مِن وَر‌ائِ حِجابٍ أَو يُر‌سِلَ رَ‌سولًا فَيوحِىَ بِإِذنِهِ ما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِىٌّ حَكيمٌ ﴿٥١﴾... سورة الشورىٰ

یعنی کسی بشر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے خطاب کی تین ہی صورتیں ہیں کہ یا تو براہِ راست القاء کریں یا پس پردہ بات کریں یا اپنا قاصد بھیجیں جو اللہ کے احکام ویسے ہی بتلائے جیسے اللہ تعالیٰ چاہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ علم والے حکمت والے ہیں۔

اس آیت کریمہ میں فرشتوں کا (عموماً اور حضرت جبریل کا خصوصاً) اللہ اور بندوں کے درمیان اسطہ بننے کا ذِکر ہے۔ یہ فرشتوں کے رحلاتِ علم ہی ہیں جن کی زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔ احادیث میں فرشتوں کا عام طور پر انسان کی شکل میں اور گاہے اپنی شکل میں انبیاء کے پاس آنے جانے کا ذِکر موجود ہے۔ مشکوٰۃ کے شروع میں ہی ہے کہ جبریل امین تعلیمِ دین کی غرض سے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اہم باتوں میں سے کئی کے متعلق مکالمہ کیا۔ ابتداءِ وحی کے وقت غارِ حرا میں بھی جبریل امین اپنی اصلی شکل میں آئے تھے جب کہ سورۃ العلق نازل ہوئی۔ پھر سورۃ المدثر کے وقت بھی جبریل اُفق میں دکھائی دیئے تھے وغیرہ وغیرہ۔

وحی اور علمِ الٰہی کے تحفظ اور نگرانی میں حبر الامت عبد اللہ بن عباسؓ کا قرآنی لفظ ''رصدا'' کی تفسیر میں یہ قول کافی ہے کہ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو شیاطین سے حفاظتِ وحی کے لئے نازل ہوتے ہیں۔ (رواہ ابن مردویہ وابن أبی حاتم في تفسیریھما)

ابن مردویہ میں اسی آیت کی تفسیر میں یہ بھی مذکور ہے۔

«ما أنزل اللہ علی نبیه اية من القراٰن إلا وسعھا أربعة من الملائكة يحفظونھا حتي يؤديھا إلي رسول الله ﷺ»

یعنی اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی ہر آیت کے نزول کے وقت حفاظت کے لئے چار فرشتے بھیجتے ہیں۔ (فتح القدیر ص ۳۱۴۔ جلد ۵)

فرشتوں کے یہ سب سفر تعلیمِ انسانی کی غرض سے ہیں۔ علاوہ ازیں فرشتوں کا مجالسِ قرآن و ذِکر اور مختلف مواقعِ خیر میں زمین پر اترنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

رحلہ جنات:

جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ فرشتے انسانی تعلیم کی غرض سے اترتے ہیں۔ اسی طرح جنات انسانوں سے علم سیکھنے کے لئے پاس آتے جاتے ہیں۔ گویا ملائکہ کا رحلۂ تعلیم ہواتو جنات کا رحلۂ تعلم، خواہ بہ نیت فاسد ہو یا بخیر، کیونکہ وحی کے علاوہ جتنے مزعومہ غیبی علوم ہیں مثلاً سحر، جفر، رمل، کہانت، نظر اور شعبدہ بازی، موجودہ مسمریزم اور ہپناٹزم وغیرہ، ان سب میں جنات کا عمل دخل ہوتا ہے۔ ان علوم میں حقیقت صرف اتنی ہوتی ہے جتنی جنات آسمانی وحی سے اچک لیتے ہیں۔ باقی اس میں نناوے فی صد جھوٹ ہوتا ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں نبی ﷺ کا تفصیلی فرمان مذکور ہے۔

قرآن کریم میں آسمانی علوم کے حصول کے لئے جنات کا آسمانوں پر جانا ثابت ہے۔ بعثتِ محمدیہ ﷺ سے پہلے تو وہ بلا روک ٹوک جاتے تھے لیکن سلسلہ وحی کے شروع ہو جانے کے بعد سے آسمانی دروازے ان پر بند ہو گئے ہیں اور ان پر فرشتے اور ستارے پہریدار مقرر ہو گئے ۔ اب بھی جنات اللہ تعالیٰ کی (آسمانِ دنیا پر) ملائکہ سے دنیاوی امور کے متعلق بات چیت سننے کے لئے اوپر جاتے ہیں لیکن انہیں فرشتے آگ مارتے ہیں۔ گاہے کوئی نہ کوئی بات (بطور آزمائش) انہیں بھی مل جاتی ہے ۔ جس میں یہ ننانوے فی صد جھوٹ ملا کر اپنے اولیاء مذکورہ بالا یعنی کافرانہ علوم کے عاملین کے پاس جا کر بتلاتے ہیں۔ جو وہ اپنے مریدین کو بتلاتے ہیں۔ اس طرح دنیا کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہ رحلات تو بہ نیتِ فاسد ہوئے لیکن ان کا بہ نیت خیر یعنی حصولِ علم شریعت کے لئے بھی انبیاء اور علماء کے پاس آنا جانا بہت ہے ۔ یہ عام علماء، صلحاء کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کے پاس بھی ان کا آنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ چند جنات جو تہامہ سے آئے اور عکاظ کے میلہ کی طرف جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے نمازِ فجر کے وقت مقامِ نخلہ میں ملے (جبکہ آپ طائف سے فریضۂ تبلیغ ادا کرنے کے بعد لوٹ رہے تھے۔) اور قرآن سن کر متعجب ہوئے اور ایمان بھی لائے ۔ (البخاری ص ۷۳۲، ج ۲) (باقی آئندہ)

حاشیہ

لغت میں فقہ ''فہم'' کو کہتے ہیں اور اس لفظ یا اس کے مشتقات سے قرآن و حدیث میں ''فہم'' ہی مراد لیا جاتا ہے لیکن بعد کی اصطلاحات میں کتاب و سنت سے مستنبطہ مسائل و احکام کو ''فقہ'' دے دیا گیا۔ ہمارے ہاں مروجہ فقہ مذاہب مکتب فکر (School OF Thought) کے اختلاف کے اعتبار سے الگ الگ شمار ہوتی ہیں۔

شاہ صاحب کے نزدیک فقہیہ کی دو قسمیں ہیں۔ فقہائے اہل حدیث اور فقہائے اہل الرائے، مثلاً ائمہ اربعہ میں سے مالک، شافعی اور احمد (رحمہم اللہ) پہلی قسم یعنی اجتہاد و استنباط کے ماہر محدثین ہیں اور امام ابو حنیفہؒ دوسری قسم کے فقیہ ہیں۔ (ادارہ)

پنجگانہ علوم کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفوز الکبیر اور دیگر کتب اصول التفسیر نیز واضح رہے کہ ہمارا مروجہ فن تاریخ بعینہٖ قرآنی علوم میں سے نہیں ہے کیونکہ قرآنِ کریم میں جن قصص کا بیان ہے اس سے مقصود فقط عبرت و موعظت ہے نہ کہ انبیاء یا اممِ سابقہ کے حالات۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر مناسبتِ مقصد سے ایک ہی واقعہ کو کم و بیش کر کے بیان کیا ہے اور حالات میں نہ تو زمانی ترتیب کا لحاظ رکھا ہے اور نہ ہی انہیں اکٹھا بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ البتہ ان قصص سے جن حالات کا پتہ چلتا ہے وہ فنِ تاریخ کا مستند ترین باب ہے۔ البتہ ان دوسرے علوم کی طرح فن تاریخ کے لئے تحقیق و تنقید کے اصول قرآن ہی نے بتائے ہیں۔

حضرت عمرؓ کا مشہور فرمان ہے: تعلموا العربية فإنھا من دینکم۔ عربی زبان سیکھو یہ تمہارے دین سے ہے۔

عربوں کی وہ اولاد جو غیر قوموں کے اختلاط سے پیدا ہوئی۔

شاہ ولی اللہ نے اپنی مشہور تصنیف ''حجۃ اللہ البالغہ'' میں علمِ طب کو دنیاوی امور سے شمار کیا جن کا دار و مدار تجربہ پر ہے اور اس سلسلہ میں نبی ﷺ کی ہدایات کو آپ کے فرمان

إنما أنا بشر إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به وإذا أمرتكم بشيء من رأيي فإنما أنا بشر پر محمول کیا ہے۔ (واللہ أعلم) ملاحظہ ہو حجۃ اللہ البالغہ ص ۱۲۸ ج۱۔

یہ مقولہ ہے حدیث نبوی ﷺ نہیں ہے۔

روح سے مراد طبّی روح ہے۔

علمائے سلف و نابینا علماء بحوالہ عیون لا بناء ص۲۱۹ ج ۲

ابلیس کو نافرمانی کی وجہ سے ملعون قرار دیا گیا تھا لیکن چونکہ عام جنات نے کوئی نافرمانی نہ کی تھی اس لئے وہ انسان کی طرح مکلف ہی رہے لیکن اللہ تعالیٰ کی امانتِ علمی کا امین بننے کی وجہ سے خیر البریہّ انسان ہی قرار پایا اور نبوت اس کا خلاصہ بنی واضح رہے کہ انسان سے قبل جنات کے انبیاء انہی میں سے ہوتے تھے لیکن آدم کے بعد یہ نبوت آدم کے حصہ میں آئی۔ نبوت کا چھیننا کوئی ان کے لئے سزا نہ تھا بلکہ یہ اللہ کا فضل ہے اللہ جسے چاہے دے۔ ان کے سردار ابلیس کی نافرمانی کی وجہ سے اگر اپنا کوئی جزوی فضل و احسان ان پر نہ کیا یا اگر انسان کی افضلیت کی وجہ سے انسان ہی اللہ تعالیٰ کا نمائندہ (نبی) قرار پایا تو اس پر کوئی اعتراض نہ ہونا چاہئے۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے سورۃ البقرہع ۴ اور سورۃ الاحزاب کے آخری رکوع میں غور فرمائیں۔

حضرت سلیمان کی تو ان پر حکومت بھی تھی اور یہ آپ کے بہت سے کام سر انجام دیتے تھے۔ قرآن کریم (سورۂ سبا) میں ان کا بیت المقدس کی تعمیر کرنے کا ذِکر ہے۔ لیکن اب سلیمانی کی دعا کی وجہ سے انہیں محکوم بنانا ممنوع ہے۔

قرآن کریم میں بھی قرآن کو سن کر جنوں کا ایمان لانا مذکور ہے: وإذ صرفنا إليك نفرا من الجن يستمعون القراٰن  أولئك في ضلٰل مبين (سورۃ الاحقاف: آیت ۲۹ تا ۳۲)