غنا کے ساتھ شاعری کا بھی تعلق ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ اس کا بھی مختصر تعارف کرا دیا جائے۔ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ شاعری کے متعلق قرآنِ حکیم کا نظریہ کیا ہے؟

شاعری گو کتنی ہی نیچرل کیوں نہ ہو۔ اسے مبنی بر حقیقت نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اسی لئے قرآن کریم نے اس کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کی ہے:

﴿الشُّعَر‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الغاوۥنَ ٢٢٤ أَلَم تَرَ‌ أَنَّهُم فى كُلِّ وادٍ يَهيمونَ ٢٢٥ وَأَنَّهُم يَقولونَ ما لا يَفعَلونَ ٢٢٦﴾... سورة الشعراء

''شاعروں کی اتباع بے راہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہی باتیں کہتے ہیں جو خود نہیں کرتے۔''

بہتر ہو گا کہ یہاں علماءِ احناف کی ان چند تفاسیر کو بھی نقل کر دیا جائے جو انہوں نے اس آیت کے ضمن میں لکھی ہیں۔ چنانچہ مولانا احمد رضا خاں کے ''کنز الإیمان في ترجمة القرآن'' کے تفسیری حاشیہ ''خزائن العرفان في تفسیر القرآن'' میں مولانا سید محمد نعیم الدین لکھتے ہیں:

''ہر طرح کی جھوٹی باتیں بناتے ہیں اور ہر لغو و باطل میں منحن آرائی کرتے ہیں، جھوٹی مدح کرتے اور جھوٹی ہجو کرتے ہیں۔''

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں:

''کافر لوگ پیغمبر کو کبھی ''کاہن'' بتاتے اور کبھی ''شاعر'' سو فرمایا کہ شاعری کی باتیں محض تخیلات ہوتی ہیں۔ تحقیق سے اس کو لگاؤ نہیں ہوتا، اس لئے شاعرانہ باتوں سے بجز گرمیٔ محفل یا وقتی جوش اور واہ واہ کے کسی کو مستقل ہدایت نہیں ہتی، حالانکہ اس پیغمبر (ﷺ) کی صحبت میں قرآن سن سن کر ہزاروں آدمی نیکی اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کر چکے ہیں (یعنی اگر آپ شاعر ہی ہوتے تو ایسا کبھی نہ ہوتا)

شعر پڑھو تو معلوم ہو کہ رستم سے زیادہ بہادر اور شیر سے زیادہ دلیر ہوں گے اور جا کر ملو تو پرلے درجہ کے نامرد اور ڈرپوک یا دیکھنے میں تو ہٹے کٹے اور اشعار پڑھو تو خیال ہو کہ نبضیں ساقط ہو چکیں صرف قبضِ روح کا انتظار ہے۔ حالیؔ نے مسدس میں ان کے جھوٹ کا خوب نقشہ کھینچا ہے۔'' (حاشیہ عثمانی)

مولانا شیراحمد عثمانیؒ نے حالی مرحوم کی مسدس کے جس حصہ کا ذکر کیا ہے۔ قارئین بھی اس کے چند اشعار ملاحظہ فرما لیں:
وہ شعر اور قصائد اور ناپاک دفتر      عفونت میں سنڈاس سے جو ہے بدتر
زمیں جس سے ہے زلزلہ میں برابر     ملک جس سے شرماتے ہیں آسماں پر
ہوا علم و دیں جس سے تاراج ہمارا
وہ ہے ہفت نظر علم انشا ہمارا
برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے      عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے
تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے      مقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے
گنہگار واں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
جو سقے نہ ہوں، جی سے جائیں گزر سب      ہو میلا جہاں، گم ہوں دھوبی اگر سب
بنے دم پہ گر شہر چھوڑیں نفر سب       جو تھڑ جائیں مہتر تو گندے ہوں گھر سب
پہ کر جائیں ہجرت جو شاعر ہمارے
کہیں مل کے ''خس کم جہاں پاک'' سارے

آوارہ شاعری:

روزِ ازل ہی سے شیطان نے اپنے اس پروگرام کا اعلان کر دیا تھا کہ وہ خلقِ خدا کو خیالی دنیا میں غرق رکھنے کی کوشش کرے گا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

﴿وَلَاُضِلَّنَّهُمْ وَلَاٰ مُرَنَّهُمْ﴾

''میں ہر حال میں ان کو بہکاؤں گا اور آرزوؤں میں ان کو غرق رکھوں گا۔''

اور شیطان کا یہ پروگرام آوارہ شاعری کے ذریعے بہ کمال خوبی و سہولت تکمیل پاتا ہے۔ کیونکہ در اصل آوارہ شاعری الہاماتِ شیطان کا چربہ، شیطان کے نزول کا مہبط اور ابلیس کی دل چسپیوں کا مرکز ہوتی ہے چنانچہ قرآن مجید کی یہ آیت ہمارے اس بیان کی خوب خوب تائید کرتی ہے:

﴿هَل أُنَبِّئُكُم عَلىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيـٰطينُ ٢٢١ تَنَزَّلُ عَلىٰ كُلِّ أَفّاكٍ أَثيمٍ ٢٢٢ يُلقونَ السَّمعَ وَأَكثَرُ‌هُم كـٰذِبونَ ٢٢٣﴾... سورة الشعراء

''(اے پیغمبر! ﷺ، ان لوگوں سے)، کہیے، کہ کیا میں تمہیں اس بات کے متعلق بتلاؤں کہ شیطان کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔ یہ (شیطان) انہیں لوگوں پر اترتے ہیں، جو جھوٹے، جعل ساز اور بد کردار ہوتے ہیں، کیونکہ شیطان سنی سنائی بات (ان پر) القا کر دیتے ہیں اور ان میں بہتیرے (تو نرے) جھوٹے ہوتے ہیں۔''

اور یہ جھوٹے، جعل ساز، بدکردار اور سنی سنائی باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے والے آوارہ شاعر ہی ہیں جیسا کہ ابتدائے مضمون کی (پہلی) آیت سے ظاہر ہے۔

آوارہ شاعری جہاں دروغ بے فروغ، جعل سازی وار بدکرداری پر مبنی ہے وہاں یہ انسان کی فطری صلاحیتیوں کے لئے بھی زہر ہل ثابت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے جب آدمی ہوائی قلعے تعمیر کرنے اور خیالی پلاؤ پکانے میں ہر دم مستغرق رہے گا تو وہ دنیائے عمل سے کٹ کر رہ جائے گا۔ چنانچہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جو لوگ دنیائے شاعری کے جام و سبو میں پڑ جاتے ہیں کچھ عرصہ بعد پوستیوں کی سی مفلوج زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ جہاں درد و آلام ان کا مقدر بن جاتے اور دکھوں اور غموں کے پہاڑ ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور جن سے گلو خلاصی پانے کی خاطر یہ دوبارہ اسی افیون (موسیقی) کا سہارا لیتے ہیں۔ کس قدر بے وقوف ہیں یہ لوگ جو شاعری کی محض خیالی دنیا کا سہارا لے کر اور موسیقی کی دھنوں میں سرمست رہ کر آخرت کی تلخیوں پر بھی فتح پانے کی سوچ رہے ہیں۔!

شاعری کے الزام سے براءت:

شاعری قرآنِ حکیم کے نزدیک ''مقامِ عزیمت'' نہیں ہے۔ بعض شرائط کے ساتھ صرف ایک ''مقامِ معذرت'' ہے۔ اسی لئے حق تعالیٰ کو شاعری کے الزام سے اپنے پیغمبر کی برأت کا التزام کرنا پڑا۔ چنانچہ فرمایا:

﴿وَما عَلَّمنـٰهُ الشِّعرَ‌ وَما يَنبَغى لَهُ...٦٩﴾... سورة يس

''اور ہم نے آپ کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ ہی شاعری آپ کے شایانِ شان ہے۔''

اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ:

﴿إِن هُوَ إِلّا ذِكرٌ‌ وَقُر‌ءانٌ مُبينٌ ٦٩﴾... سورة يس

''قرآن مجید( جس کو شاعری قرار دے کر آنحضرت ﷺ کو شاعر قرار دیا گیا) تو صرف ذِکر اور قرآن مبین ہے۔''

یعنی شاعری تو مدہوشی کا نام ہے جبکہ قرآنِ حکیم واضح تعلیمات و حقائق کا ایک مرقع اور عملی دنیا کا بہترین محرک ہے تو پھر تک بندی کو حقائق سے اور غفلت کی مستی کو جہد و عمل کی دنیا سے کیا نسبت؟

شاعر خدا پر کمندیں ڈالتا ہے اور قرآن خود ''کمند خدا'' ہے، جو اس کی گرفت میں آگیا وہ دنیا جہان کی گرفتاریوں سے چھوٹ گیا، لیکن بے چارے شاعر اپنی ہی کمندوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور اپنی ساری زندگی تباہی و بربادی کی نذر کر دیتے ہیں۔ آخرت کا ابھی کچھ پتہ نہیں کہ کیا بنے؟

الغرض شاعری ایسا کلام ہے جس کو غنا کی سان پر چڑھا کر مزید دو آتشہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یعنی کلام بجائے خود ''ہوائی دنیا'' ہے اور ''غنا'' اس کے لئے وہ بال و پر ہیں جو رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے ہیں۔ غنا تو ایک ایسا امرت دھارا ہے جو نثر کو بھی شاعرانہ موزونیت کا جامہ پہنا کر وہ زیرو بم عطا کر دیتا ہے جو ''تان سینوں'' کی بے خدا تانوں کی جان ہے۔ جہاں عالم یہ ہو، وہاں غناء کے سلسلہ میں کسی حسنِ ظن سے کام لینا فریبِ نفس نہیں تو اور کیا ہے؟

اجازت کی ایک صورت:

قرآنِ حکیم نے صرف اس شاعری کی اجازت دی ہے جو:

1. مبنی بر ایمان ہو یعنی محبوب برحق کی توحید (یکتائی) کی غماز ہو۔

2. عمل صالح کی حامل ہو یعنی شمع کے پروانے کی طرح اس کے عمل میں سچی لگن اور لپک ہو۔

3. کثرتِ یاد الٰہی کی موجب ہو جس سے ایسا محسوس ہو کہ کوئی طالب اپنے مطلوبِ برحق و یکتا کی یاد میں جھوم رہا ہے۔

4. جس میں مظلومانہ فریاد ہو، جیسے کوئی راہِ حق میں حائل ہونے والی رکاوٹوں اور مصیبتوں سے بیساختہ تلملا اُٹھتا ہو۔

﴿إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ وَذَكَرُ‌وا اللَّهَ كَثيرً‌ا وَانتَصَر‌وا مِن بَعدِ ما ظُلِموا...٢٢٧﴾... سورة الشعراء

''ہاں! (ان لوگوں کی شاعری مستثنیٰ ہے) جو اہلِ ایمان ہیں، نیک عمل کرتے ہیں اور (اپنے اشعار میں) کثرت سے خدا کو یاد کرتے ہیں اور مظلومی کے بعد (واجبی سا) بدلہ لیتے ہیں۔''

ایمان و عمل صالح کی رعنائیاں اور روح القدس کی تائید:

ظاہر ہے ایسی شاعری جس میں ایمان و عمل صالح جیسی دنیا و آخرت کی لطافتیں اور رعنائیاں موجود ہوں آوارہ شاعری کی حدِ پرواز سے بھی کہیں آگے ہیں۔ ایسی شاعری اپنی ممکنہ مبالغہ آرائی کے باوجود ملاءِ اعلیٰ کی مثالی کائنات سے بھی ورے اور کہیں ورے رہتی ہے۔ یہ وہ مبارک شاعری ہے کہ جس کو روحُ القدس (جبریلِ امین) کی بھی تائید حاصل ہے، چنانچہ حضرت حسان بن ثابتؓ (شاعرِ رسول ﷺ) دشمنانِ رسول کو آپ کی حإایت میں دندان شکن جواب دیا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ خوش ہو کر فرمایا کرتے تھے۔

«إن روح القدس لا یزال يريدك ما نا فحت عن الله ورسوله» (مسلم، فضائل حسّانؓ)

''روح القدس سدا آپ كی تائيد كرتے رہیں گے، جب تک آپ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دفاع کرتے رہیں گے۔''

حضرت حسانؓ بن ثابت کی یہ شاعری رجزیہ تھی جس کی تائید جبریل امینؑ نے فرمائی۔ نمونۃً آپ کے چند اشعار ہدیۂ قارئین کرام ہیں:

۱: ھَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأجَبْتُ عَنْهُ       وَعِنْدَ اللهِ فِيْ ذَاكَ الْجَزَآء

۲: ھَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا تَقِيًّا        رَسُوْلَ اللهِ شِمْحَتُهُ الْوَفَآء
۳: فَإِنَّ أَبِيْ وَوَالِدَتِيْ وَعِرْضِيْ لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِّنْكُمْ وِقَآء
۴: ثكلت بنيتي إِنْ لَّمْ تَرَوْھَا تُثِيْرُوا النَّقْعَ غَايَتُنَا كَدَآء
۵: يُبَارِيْنَ الْاَعِنَّةَ مُصْعِدَاتٍ عَلٰي أَكْتَافِنَا الْاسْلُ الظِّحَآء
۶: تَظَلُّ جِيَادُنَا مُتَمَطِّرَاتٍ تُلَطِّمُھُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَآء

۷: فَإِنْ أَعْرَضْتُمْ عَنَّا اعْتَمَرْنَا وَكَانَ الْفَتْحُ وَانكَشَفَ الْخِطَآء

۸: وَإِلَّا فَاصْبِرُوْا لِضَرَابِ يَوْمٍ يُعِزُّ اللهُ فِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ

۹: وَقَالَ اللهُ قَدْ اَرْسَلْتُ عَبْدًا يَقُوْلُ الْحَقَّ لَيْسَ بِه فِغَآء

۱۰: وَقَالَ اللهُ قَدْ سَيَّرْتُ جُنْدًا ھُمُ الْأَنْصَارُ عِرْضَتُھَا اللِّقَآء

۱۱: لَنَا فِيْ كُلِّ يَوْمٍ مِنْ مَّعَدٍّ سِبَابٌ أَوْ قِتَالٌ اَوْ ھِجَاء

۱۲: فَمَنْ يَّھْجُوْ رَسُوْلَ اللهِ مِنْكُمْ وَيَمْدَحَه وَيَنْصُرُه سَوَآء

۱۳: وَجِبْرِيْلُ رَسُوْلُ اللهِ فِيْنَا وَرُوْحُ الْقُدُسِ لَيْسَ لَه كِفَآء

1. تو نے محمد ﷺ كی برائی بيان کی میں نے اس کا جواب دیا اور اس کا بدلہ اللہ کے پاس ہے۔

2. تو نے محمد ﷺ کی برائی بیان کی جو نیک اور متقی ہیں (وہ) اللہ کے رسول ہیں، ایفاءِ عہد آپ کی عادت و فطرت ہے۔

3. میرے والدین اور میری آبرو محمدی وقار کے تحفظ کے لئے قربان ہے۔

4. اگر کداء گھاٹی کی دونوں اطراف میں گرد و غبار نہ اُڑائے تو میں اپنی جان کو روؤں۔

5. منہ زور گھوڑیاں، کندھوں پر چڑھتے ہوئے برچھے ہیں یا خون کی پیاسی ہیں۔

6. تیز دوڑتے ہوئے ہمارے گھوڑے آئیں گے، جن کے منہ ہماری عورتیں اپنی اوڑھنیوں سے صاف کریں گی۔ (خون و غبار آلود منہ)

7. اگر تم نے ہم سے منہ پھیر لیا (تو) ہم عمرہ کر لیں گے۔ فتح ہو جائے اور پردہ اُٹھ جائے گا۔

8. (نہیں تو) صبر کرو اس دن کی مار کے لئے، جس دن اللہ جسے چاہے گا عزت دے گا۔

9. اللہ نے فرمایا میں نے ایک بندہ (رسول) بھیجا جو حق کی بات کہتا ہے جو شک و شبہ سے بالا تر ہے۔

10. اللہ نے فرمایا میں نے انصار کا یک لشکر تیار کیا جس کا مقصود و مطلوب کفار سے مقابلہ و جہاد کرنا ہے۔

11. ہم ہر روز کسی نہ کسی تیاری میں ہوتے ہیں (کفار کی) گالیوں (کا جواب) یا ان سے جہاد یا (دفاعی) ہجو۔

12. تم میں سے جو بھی اللہ کے رسول کی ہجو کرے اور جو مدح یا مدد کرے سب برابر ہیں۔

13. اللہ کے پیارے جبرئیل اور بے مثل روح القدس ہم میں موجود ہیں۔

یہ وہ شاعری ہے جس کی اسلام میں گنجائش رکھی گئی ہے اور وہ بھی مجاہدینِ اسلام اور عشاقِ رسول ﷺ کے لئے، بازاروں، فٹ پاتھوں اور میلوں کے ہجوم میں چبوتروں پر نہیں بلکہ دینی حرب و ضرب کی فضاؤں اور میدانوں میں۔ زیرِ سایۂ رسول، خانۂ خدا میں یا صدّیقی، فاروقی اور حیدر مجمعوں میں۔ گانے والا حسان بن ثابتؓ جیسا قدسی صفات صحابی ہو اور داد دینے والے محمد رسول اللہ ﷺ اور جبریلِ امیں ہوں۔ کیا آپ اس پاک شاعری اور معصوم سے غنا و سماع سے اس ناپا شاعری، شوخ غنا اور محرک موسیقی کے لئے سندِ جواز کے طالب ہیں جو تماش بینوں، بے خدا اور بے رسول مشٹنڈوں اور بازاری نتھوؤں پتھوؤں کے مجمعوں میں یا سینما ہال اور کلب جیسی عیاش فضاؤں میں، نینا اور ملکہ ترنم جیسی فتنہ پرور مغنیوں کی تانوں میں کہی اور سنی جاتی ہے؟
؎ سخن شاس نہ دلبرا خطا اینجا است

خمارِ غناء و نشۂ موسیقی:

شوخ غنا اور آوارہ موسیقی کے رسیا اس سادہ تفریح سے ذرا آگے بڑھ کر جب ''رنگیلے شاہوں'' کی بستی میں جا پہنچتے ہیں اور نفس و طاغوت کی غلامی میں اپنے تئیں جکڑ لیتے ہیں تو لطف و سرور، دماغی عیاشی اور جنسی کثافتوں سے پیار ان کا مقصدِ حیات بن جاتا ہے۔ جس قدر ان کے اس کیف و خمار کی چاشنی دو آتشہ ہوتی چلی جاتی ہے، اسی قدر وہ خدا سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور نتیجۃً وہ ''ضلاں بعید'' کے اس گڑھ میں جا گرتے ہیں جہاں پہنچ کر وہ نہ صرف احساسِ زیاں کھو بیٹھتے ہیں بلکہ فواحش، منکرات اور نفسِ ہوےٰ کی ضیافتِ طبع کے یہ گندے سامان ان کو ''حسنات'' محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ان کی فکر و عمل کی قوتیں صرف مادی مفاد اور کام و دہن کی لذت آشنائیوں کی مرہونِ منت ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے لئے کسی چیز میں کوئی دل کشی باقی نہیں رہ جاتی، کیونکہ وہ جن بے قابو تانوں اور بے خدا نغموں کی دنیا میں کھو جاتے ہیں وہاں نیکی اور شرافت کی کوئی آواز انہیں سنائی نہیں دیتی، اور نہ ہی اس سے مختلف کوئی حسین تصور ان کے ذہنوں میں سما سکتا ہے۔ ایسے لوگ مادی ترقی اور اڑانوں میں تو وہم و گمان کی حدِ پرواز سے بھی آگے نکل جاتے یا نکل سکتے ہیں لیکن ''قبلۂ دل'' کی طرف سفر تو کجا، اس کی طرف مڑ کر دیکھنا بھی انہیں نصیب نہیں ہوتا۔ (باقی آئندہ)