اصولِ حدیث کا کون سا طالب علم ہے جو امام ابن الصلاحؒ اور آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف ''علوم الحدیث'' المعروف بہٖ ''مقدمہ ابن الصلاح'' سے ناواقف ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جو شرفِ قبولیت ''علوم الحدیث'' کو حاصل ہوا، اس فن کی کسی دوسری کتاب کو حاصل نہ ہو سکا۔ قبل اس کے کہ ''علوم الحدیث'' کے ساتھ علماء کے اعتناء، اس کی اہمیت و عظمت اور اس پر نقد و تبصرہ کو پیش کیا جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس شاہکار کے مصنف کی حیاتِ علمیہ کی چند جھلکیاں پیش کر دی جائیں۔

نام و نسب:

آپ کا اسمِ گرامی عثمان، لقب تقی الدین اور کنیت ابو عمرو ہے۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے:

''أبو عمرو تقي الدین عثمان بن عبد الرحمان بن عثمان بن موسی الکردي الشہر زوري الشرخاني''

آپ کے والدِ محترم عبد الرحمان کا لقب چونکہ صلاح الدین تھا اس لئے ان کی طرف انتساب کے پیشِ نظر آپ ابن الصلاح کے نام سے علمی دنیا میں معروف ہیں۔

ولادت و نشأت:

حضرت الامام شیخ الاسلام ابن الصّلاح ۵۷۷ھ بمطابق ۱۱۸۱ء کو شہر زور کے قریب ایک بستی شرخان میں پیدا ہوئے۔ کسے خبر تھی کہ جنم لینے والا یہ بچہ بعد میں شیخ الاسلام، مفتی الانام، الامام، الحافظ، المحدث، الحجۃ، الفقیہ اور الاصولی جیسے معزز القاب سے نوازا جائے گا اور فلکِ رشد و ہدایت پر ماہِ شبِ چہار دہم بن کر چمکے دمکے گا؟

خوبیٔ قسمت کہ آپ نے خاندانِ علم و فضل میں آنکھ کھولی، آپ کے والدِ ماجد ایک جلیل القدر فقیہ اور متجر عالم تھے۔ فقہ شافعی میں تو آپ کو یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ امام ابن الصّلاحؒ نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے مشفق والد سے ہی تربیت کے ساتھ تعلیم کی بھی ابتداء کی اور چند ہی سالوں میں فقہِ شافعی میں عبور حاصل کر لیا، ابھی آپ کی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں کہ فقہِ شافعی کی مشہور اور متداول کتاب 'المہذب'' از بر کر لی۔ پھر والدِ محترم نے مزید اکتسابِ علم و ضیاء کے لئے آپ کو سوئے موصل روانہ فرما دیا۔ وہاں آپ نے شب و روز ایک کر کے مختلف انواع و اقسام کے علوم و فنون کی تحصیل کی اور بہت جلد اس عبقریٔ زماں اور نابغۂ عصر شخصیت نے فقہ، اصول، تفسیر، حدیث اور لغت میں مہارتِ تامہ حاصل کر لی۔

اس کے بعد علمی تشنگی کو مزید تسکین بخشنے کے لئے آپ نے بغداد، خراسان اور شام کے صافی چشموں کا رُخ کیا اور بہت سے جلیل القدر علماء سے علوم و فنون میں استفادہ کیا۔ ان رحلات کے دوران آپ نے حدیث اور علومِ حدیث میں خصوصی دل چسپی لے کر بہت زیادہ رسوخ حاصل کر لیا۔

اساتذۂ کرام:

آپ نے جب جلیل القدر علماء سے کسبِ فیض کیا، ان کی ایک مختصر سی فہرست پیش کرتے ہوئے علامہ ذہبی فرماتے ہیں:

''آپ نے موصلؔ میں عبید اللہ بن سمین، نصر بن سلامہ، محمود بن علی اور عبد المحسن بن طوسی، بغدادؔ میں ابو احمد بن سکینہ اور عمر بن طبرزد، ہمدانؔ میں ابو الفضل بن معزم، نیسا بورؔ میں منصور اور مؤید، مردؔ میں ابو المظفر بن سمعانی اور دیگر، دمشقؔ میں جما الدین عبد الصمد، شیخ موفق الدین مقدسی اور فخر الدین بن عساکر، حلبؔ میں ابو محمد بن علوان، اور حسران میں حافظ عبد القادر سے علم حاصل کیا۔

علوم و فنون میں رسوخ حاصل کرنے کے بعد خلق خدا کی خدمت کے لئے آپ نے دمشق میں علوم و فنون کی نشر و اشاعت شروع کر دی اور اس کے بعد مسندِ تدریس کو رونق بخشی اور مدینہ قدس کی مشہور درسگاہ ''الناصریہ'' میں جو بادشاہ الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب کی طرف منسوب ہے، درس دینا شروع کیا۔ ایک مدت تک یہاں فروکش رہے اور علماء و طلبہ کے ایک جم غفیر نے آپ سے فیضان حاصل کیا، بعد ازیں آپ نے پھر دمشق کو قدومِ میمنت لزوم سے نوازا اور مدرسہ روحیہ میں علم و فضل کے دریا بہانے شروع کر دیئے۔

جب بادشاہ اشرف بن عادل نے دمشق میں ایک ''دار الحدی'' کی تاسیس و تشکیل کی تو اس میں تدریس کے فرائض سر انجام دینے کے لئے ان کی نگاہِ انتخاب آپ ہی پر پڑی۔ چنانچہ آپ نے کچھ عرصہ یہاں بھی علمِ حدیث کا درس دیا۔ چنانچہ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں:

ودرس بالرواحية وولي شیخة دار الحدیث ثلاث عشرة سنة

اس کے علاوہ ایک دو اور درس گاہوں میں بھی آپ نے تعلیم و تدریس کے فرائض سر انجام دیئے، غرضیکہ آپ جس مقام پر بھی رونق افروز مسندِ تدریس ہوئے۔ تشنگانِ علوم اس شمع فروزا کی طرف پروانوں کی طرح لپکتے چلے آئے۔

تلامذہ:

جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے ایک خلقِ کثیر اور انبوہِ کبیر نے آپ سے اکتسابِ علم کیا۔ مشتے نمونہ ازخروارے چند ایک تلامذہ کے اسماء گرامی لکھنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے جو کہ درجِ ذیل ہیں:

کمال الدین سلار، کمال الدین اسحاق، تقی الدین بن رزین عبد الرحمان بن نوح، شیخ تاج الدین عبد الرحمان، شیخ زین الدین فاروقی، قاضی شہاب الدین، خطیب شرف الدین فخر الدین الکرجی، مجد الدین بن المہتار، احمد بن عفیف، قاضی ابو العباس احمد بن علی اور بہت سے دیگر حضرات۔''

وفاتِ حسرت آیات:

حضرت امام ابن الصّلاحؒ پوری زندگی شمع علم و رشد کو روشن رکھنے کے بعد بوقت صبح بروز بدھ مؤرخہ ۲۵؍ ربیع الاوّل ۶۴۳ھ بمطابق ۱۲۴۵ء کو اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر کے راہی ملکِ عدم ہوئے۔ دمشق میں باب النصر کے باہر مقا بر صوفیہ میں آپ کا مرقد ہے۔ سقی اللہ ثراہ وجعل الجنة مثواہ۔

تالیفات و تصنیفات:

آپ نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیں جو ہمیشہ کے لئے آپ کا صدقۂ جاریہ اور یاد گار ہیں۔ موضوع کے اعتبار سے ان میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ نیز سب تالیفات تحقیقاتِ راسخہ اور فوائدِ نافعہ پر مشتمل ہیں۔ آپ کی تصنیفات میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں۔

(۱) شرح الوسیط في فقه الشافعیة (۲) فوائد الرحلہ

(۳) صلة الناسك في صفةالمناسك (۴) الإمالی

(۵) أدب المفتي والمستفتي (۶) شرح صحیح مسلم

(۷) الموتلف والمختلف (۸) طبقات الفقهاء الشافعیة

(۹) الفتاوی (۱۰) علوم الحدیث

موخر الذکر آپ کی جملہ تصنیفات میں سے اہم ترین ہے۔ لہٰذا اس کے متعلق ہم قدرے تفصیل سے کچھ عرض کرتے ہیں:

علوم الحدیث:

حافظ ابن الصلاحؒ سے پہلے بھی بہت سے ائمہ کرام نے علومِ حدیث میں خامہ فرسائی فرمائی تھی۔ ان میں سے اکثر نے تو اپنی تالیفات کی تدوین کتبِ حدیث کے طریقے پر کی۔ یعنی ایک عنوان قائم کر کے ہر مسئلہ کے متعلق ائمہ فن کے اقوال کو اسانید سمیت ذکر کیا اور بعض نے فن کے قواعد کو ضبط تو کیا لیکن وہ احسن پیرایہ میں عبارتوں کی تنقیح و تہذیب نہ کر سکے۔ اول الذکر کی مثال علامہ خطیب بغدادی کی کتاب 'الکفایہ'' اور ثانی الذکر کی مثال کے طور پر امام حاکم کی کتاب ''مقدمہ علوم الحدیث'' کا نام لیا جا سکتا ہے۔

حافظ ابن الصّلاح نے ان علمی ذخائر کا عمیق نظر سے جائز لیا، کتابوں کی عبارتوں کو اصول کے میزان میں تولا اور تعریفات و قواعد کو فہم و استنباط کی کسوٹی پر پرکھا اور سا طرح فن کے منتشر موتیوں کو احسن انداز میں سلک مرد ارید میں پرو کر ایک نئے انداز بیان کی طرح ڈالی۔ او فن میں دلچسپی رکھنے والوں کی ایک شدید ضرورت کو پورا فرما دیا۔ چنانچہ علوم الحدیث کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:

فحین کاد الباحث عن مشکله لا يلفي له كاشفا والسائل عن علمه لا يلقي به عارفا من الله الكريم تبارك و تعاليٰ علي وله الحمد أن أجمع بكتاب معرفة أنواع علم الحديث، ھذا الذي باح بأسراره الخفية وكشف عن مشكلاته الأبية

اس کے بعد آپ نے ان پینسٹھ انواع کا ذِکر کیا ہے جن کے متعلق کتاب میں بحث کی ہے۔ یہ گویا کتاب کے مضامین کی فہرست ہے۔ اس طرح وہ امتیازات و خصوصیات جو آپ کی کتاب کو دیگر کتب سے ممتاز کرتی ہیں، درج ذیل ہیں:

1. آپ نے فن کے مسائل کی تعریفات کے ضبط کا اہتمام کیا اور کچھ ایسی تعریفات کا اضافہ بھی کیا جو سابقہ ائمہ سے منقول نہ تھیں۔

2. سابقہ علماء کی عبارات کی تہذیب و تنقیح فرمائی اور محل نظر مقامات کی نشاندہی کی۔

3. علومِ حدیث کے مسائل میں ائمہ حدیث سے منقول نصوص و روایات سے قواعد کا استنباط کیا۔

4. اپنی تحقیق اور اجتہاد سے علماء فن کے اقوال پر تعاقب کیا۔

چنانچہ انہی خصوصیات کے پیشِ نظر علماء کرام نے آپ کی اس تصنیف پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کیے ہیں۔ چنانچہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

واعتني بتصانيف الخطيب المتفرقة فجمع شتات مقاصدھا وضم إليھا من غيرھا نخب فوائدھا فاجتمع في كتابه ما تفرق في غيره فلھذا عكف الناس عليه (نزھة النظر ص ۳)

حافظ برہان الدین ابناسیؒ فرماتے ہیں:

إنّ كتابه ھذا أحسن تصنيف فيه يعني علوم الحديث

علامہ حافظ عراتیؒ رقم طراز ہیں:

فإن أحسن ما صنف أھل الحديث في معرفة الاصطلاح كتاب علوم الحديث لابن الصلاح (فتح المغيث)

عناية العُلماء:

علماء کرام نے جس قدد ''علوم الحدیث'' کے ساتھ عنایت و اعتناء سے کام لیا۔ اس فن کی اس سے پہلے یا بعد کی کوئی کتاب اس کی سہیم و شریک نہیں۔ چنانچہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

فلھذا عكف الناس عليه وساروا بسيره فلا يحصي كم ناظم له ومختصر ومستدرك عليه ومقتصر ومعارض له ومنتصر

شیخ ابن حجرؒ کے اس اجمالی قول کی تفصیل یہ ہے کہ علوم الحدیث پر علامہ عراقیؒ، علامہ زرکشیؒ اور خود حافظ ابن حجرؒ نے نکت لکھے ہیں۔ علامہ عراقیؒ کا نکت التقیید والإیضاح لما أطلق وأغلق من کتاب ابن الصلاح کے نام سے موسوم ہے اور مطبوع ہے اور حافظ ابن حجرؒ کا نکت الافصاح عن نکت ابن الصلاح کے نام سے مشہور ہے اور تاحال غیر مطبوع ہے۔ پاکستان میں اس کے چند قلمی نسخے موجود ہیں۔ ایک نسخہ حضرت پیر بدیع الدین صاحب پیر آف جھنڈا۔ سندھ، کے گراں قدر کتب خانہ میں موجود ہے اور اس کی ایک ایک کاپی ہمارے دوست مولانا ارشاد الحق صاحب فاضل (اثری) اور مولانا عبد الحمید صاحب فاضل اثری کے پاس بھی موجود ہے۔ اے کاش اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق بخشے کہ وہ اس مبارک کتاب کو زیورِ طباعت سے آراستہ کر سکے۔

حافظ بلقینیؒ نے علوم الحدیث کو مختصر کیا اور کچھ اضافے بھی کیے اور اس کا نام ''محاسن الاصطلاح و تضمین کاب ابن الصّلاح'' رکھا۔ امام نوویؒ نے اپنی کتاب ''الارشاد'' میں اس کا اختصار کیا اور اس کا نام رکھا۔ ''التقریب والتیسیر لمعرفة سنن البشیر النذیر۔'' امام سیطی نے ''تدریب الراوی فی شرح تقریب النووی'' کے نام سے اس اختصارِ کی شرح کی۔ اسی طرح علامہ عراقیؒ، سخاویؒ اور مقدسیؒ نے بھی اس کی شروحات لکھیں۔ امام سیطیؒ نے ایک اور کتاب لکھی جس کا نام ''التهذنیب في الزائد علی التقریب'' ہے۔

امام بدر بن جماعہؒ نے بھی اس کا اختصار کیا اور ''المنهل الروي في الحدیث النبوي'' نام رکھا۔ عز الدین محمد بن جماعہ نے بھی''المنهج السوي في شرح المنهل الروي'' کے نام سے اس کی شرح لکھی۔ حافظ ابن کثیر نے بھی اپنی کتاب ''الباعث الحثیث'' میں اس کا اختصار کیا۔ اسی طرح علامہ علاؤ الدین المار دینی اور بہاء الدین اندلسی وغیرہ بہت سے علماء نے بھی اس کا اختصار کیا۔

علامہ عراقیؒ نے اسے اپنے ايضہ ميں منظوم کیا اور اس کی مطول و مختصر دو شرحیں لکھیں۔ مختصر کا نام ''فتح المغیث بشرح ألفیة الحدیث'' ہے۔ اس شرح پر بہان الدین بقاعیؒ اور قاسم بن قطلو بنانے حواشی بھی لکھے۔ اول الذکر کے حاشیہ کا نام النکت الوفية بما في شرح الألفية ہے۔ یہ مکمل نہیں بلکہ نصفِ کتاب ہے۔

اسی طرح علامہ سخاویؒ نے بھی الفیہ عراقی کی شرح لکھی اور اس کا نام بھی ''فتح المغیث في شرح ألفیة الحدیث'' ہے۔ اس کے متعلق حاجی خلیفہ فرماتے ہیں: وھو شرح حسن لعله أحسن الشروح

الشیخ زکریا انصاریؒ نے بھی الفیہ کی شرح لکھی اور اس کا نام ''فتح الباقي بشرح ألفیة العراقي'' ہے۔ اس شرح پر علی بن احمد عدوی کا حاشیہ بھی ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بھی الفیہ کی شرح ''قطر الدرر'' کے نام سے لکھی ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے علامہ عراقیؒ کے مقابلہ میں ایک اپنا الفیہ بھی لکھا ہے اور اس کو انہوں نے ۵ روز میں منظوم کیا تھا اور پھر انہوں نے ''البحر الذي زخر في شرح ألفیة الأثر'' کے نام سے اس کی شرح لکھی۔ نیز اس کی ایک شرح محمد محفوظ ترمسی نے بھی لکھی ہے جس کا نام ''منهج ذوي النظر في شرح منظومة علم الأثر'' ہے۔

الفیہ عراقی کی ایک شرح قطب الدین خیفری نے ''صعود المراتي'' کے نام سے لکھی۔ اسی طرح علامہ زین الدین عینی، ابراہیم بن محمد حلبی اور ابو الفداء اسمٰعیل بن جماعہ نے بھی اس کی شروحات لکھیں۔ ''علوم الحدیث لابن الصلاح'' کے گرد گردش کرتے ہوئے کتابوں کے اس انبار سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کتاب کس قدر عظمت اور اہمیت کی حامل ہے۔ (باقی آئندہ)
حوالہ جات

تذکرۃ الحفاظ۔ ج ۴، ص ۲۱۴

العبر ج ۵ ص ۱۷۸

علوم الحديث ص ۴

مقدمہ تدریب الراوی ص د۔ ھ۔

کشف الظنون