صُبَّتْ عَلَی الْأَیَّامِ صِرْنَ لَیَالِیَا

ملک کو جو در پیش سیاسی مصائب ہیں۔ اس لحاظ سے زیادہ آزار دِہ ہیں کہ ان کو ہم خود بھی چیلنج نہیں کر سکتے کہ وہ یہاں سے نکل جائیں۔ کیونکہ وہ اس سر زمین میں خود ہماری  دعوت پر آئے ہیں اور ابھی تک ہمارا اپنا اصرار ہے کہ وہ یہاں سے نہ جائیں اور جب تک بھی آپ پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ ان کو جواب نہیں دیں گے، نہیں جائیں گے۔

سب سے بڑی اور اولین مصیبت، سیاسی قیادت ہے۔ یہ نہ صرف اسلامی کیریکٹر سے عاری ہے بلکہ اس مناسب اور بقدرِ ضرورت سیاسی سوجھ بوجھ سے بھی تہی دامن ہے، جو کسی ملک کو ایک مملکت کی حیثیت سے رکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہمارے وہ عوام کالانعام ہیں جو ملکی مسائل کو اپنے نجی پیمانوں سے ناپتے ہیں اور اپنے شخصی اغراض کے ایماء کے مطابق ''اقتدار کی کھیر'' بانٹتے ہیں۔ اور جب ان پر اس کی افتاد پڑتی ہے، تو ''خود کردہ را علاجِ نیست'' کا احساس کرنے کے بجائے پورے ملک کو لاقانونیت اور انتشار کی بھٹی میں ڈ ال کر فنا کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

ملک کی انتظامیہ جو ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے وہ ہماری نا اہل سیاسی قیادت اور کوتاہ نظر عوام کی مجموعی برائیوں کا مکروہ ''نامۂ اعمال'' ہے اور محض ان دونو کے ہی دم قدم سے ان کے بازار کی رونق قائم و دائم ہے۔ ان تینوں کے مجموعہ سے ملک کی جو فضا اور سرزمین تیار ہوتی ہے، ان کے اندر بیرونی دشمنوں کے لئے بڑی کشش پائی جاتی ہے۔ اس سازگار فضا میں سانپوں نے جو انڈے دیئے تھے، ان کے سپولیے خوب پھلے پھولے ہیں یہاں تک کہ ہزاروں اژدہے پھنکارتے ہوئے آئے اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ہماری ملکی سالمیت، سیاسی عافیت، وقار اور مستقبل کو ڈس کر چلتے بنے۔

ہماارا معاشرتی نظام بھی انتہائی کوڑھی ہے۔ اس کے کسی بھی گوشہ میں صحت کے آثار دکھائی نہیں دیتے، اندرون ملک مختلف افراد اور مختلف طبقات میں ایسی بے رحمانہ ''سرد جنگ'' جاری ہے۔ جس نے مملکت کی بنیادیں تک ہلا ڈالی ہیں، خود غرضی، جنسی بے راہ روی، معاشی استحصال، علاقائی منافرت، سیاسی، نسلی اور لسانی رقابت نے ملک کے اندر ایک ایسی غیر یقینی سی کیفیت پیدا کر دی ہے کہ اعتماد کے ساتھ کچھ کرنا یا کہنا محال ہو گیا ہے۔ جب ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو ایسے وقت خیر و برکت کی توقع کرنا عبث ہوتا ہے۔ یہی وہ موقعہ ہے جس کے متعلق حضور علیہ السلام نے فرمایا:

فبطن الأرض خیر لکم من ظھرھا ''اس زندگی سے مرجانا ہی تمہارے لئے بہتر ہے۔''

اگر آپ چاہتے ہیں کہ، کایا پلٹ ہو جائے تو ظاہری مرہم پٹی کے بجائے اس اندرونی کوڑھ کو پہلے دور کیجئے۔ یہاں ظاہری مرہم پٹی سے شفا نہ ہو گی۔ ہمیں تو اندرونی کوڑھ ہی کھائے جا رہا ہے۔ جس سے غفلت ہمیں تیز رفتاری سے فنا کی طرف بھگائے لئے جا رہی ہے۔

اس وقت عالمی سیاست، روس، امریکہ اور چین کے گرد گھوم رہی ہے، فی الحال بظاہر روس اپنے دونوں حریفوں پر بھاری ہونے کی کوشش میں مصروف ہے، لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ اس لمبی دوڑ میں روس جس طرح سر پٹ دوڑ رہا ہے بہت جلد تھک ہار جائے گا۔ چین بہت ٹھنڈا مگر سخت گیر ملک ہے، جو بالآخر دنیا پر چھائے گا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی میعاد ختم ہونے کو ہے۔

اس عالمی سیاست میں، عالمِ اسلام کا فی الحال اتنا ہی حصہ ہے کہ عالمی طاقتوں کا تختۂ مشق بنا ہوا ہے اور چھوٹے چھوٹے یونٹوں میں تقسیم ہو کر اپنی ملّی وحدت کو کنٹرول کرنے سے عاجز ہو گیا ہے۔ چونکہ ایک عرصہ تک اس کے زیادہ حصہ پر برطانیہ قابض ہو رہا ہے۔ اس لئے اس حصہ میں اس کی معنوی اولاد بھی پائی جاتی ہے اور دروں خانہ جن مصائب کا نزول ہو رہا ہے انہی کی معرفت ہو رہا ہے۔

لندن میں بیٹھ کر نواب بگتی نے، جن اسرار و رموز کا انکشاف کر کے، بھارت + روس کی غلامی کو قبول کر لینے کی جو سفارش کی ہے۔ اس سے اکثر دوست سراسیمہ نظر آتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر آپ ''بگتی یا مجیب'' نہیں ہیں تو پھر ؎
عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں       آوازِ سگاں کم نکند رزقِ گدارا!

پیپلز، نیپ اور جوئی کی کبڈی جاری ہے۔ ''سانپ سے سانپ لڑے، زہر کس کو چڑھے'' والی بات ہے۔ یہ تینوں ایک دوسرے کو خوب سمجھتی ہیں۔ اس لئے یہ فکر نہیں کہ کوئی کسی کو کھا جائے گی۔ ہاں اندیشہ یہ ہے کہ بھینسوں کی لڑائی میں کھُرلی نہ ٹوٹ جائے۔

یہ بات ہم عوام سے کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ تو بے ہوش ہیں، ان سے کوئی کیا کہے؟ ہاں اگر وہ سنتے ہوں تو ہم تو اس پوزیشن میں نہیں کہ ان سے کچھ عرض کر سکیں۔ البتہ اقبال کی زبان میں اتنا ضرور عرض کریں گے کہ:
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے       تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

صوبہ سرحد اور بلوچستان کو مشرقی پاکستان کی راہ پر ڈالنے سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ پہلے ہی وہ پاکستان کے ساتھ پاکستان پر احسان کر کے چل رہے ہیں اور بالکل یہی ذہنیت مشرقی پاکستان کے لیڈروں کی بھی تھی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارت کے سلسلہ میں صدر بھٹو جس قدر وسعتِ ظرف کا مظاہرہ کر رہے ہیں اگر اسی فراخدلی کا نمونہ ملک کے اندر بھی گوارا کر لیں تو مکمل فضا کو آسانی سے خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔
کاش کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

عبوری آئین کی منظوری اور نفاذ سے جن خطرات کی نشاندہی کی جا رہی تھی۔ بنیادی حقوق کی معطلی کے صدارتی حکم نے اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے اور اب ملکی فضا مکدر ہونے لگی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی دشمن تاک میں ہے۔ یار دوستوں کا کہنا ہے، تو پھر مارشل لاء کیوں اُٹھایا؟ بایں ہمہ اگر وہ اُٹھ سکتا ہے تو اندرونِ ملک ہنگامی حالت کی تلوار کا لٹکتے رہنا بھی محبِّ وطن شہریوں کی عزتِ نفس کے خلاف ہے۔ ہاں اگر ملک میں کسی ''میر جعفر'' کے ابھرنے کا اندیشہ ہے تو یقین کیجئے! اس مصیبت میں پوری قوم آپ کے ساتھ ہو گی، جہاں عوامی طاقت کی پوری حمایت حاصل ہو وہاں اکّا دکّا شرارت کا ڈر کا ہے کو؟

ملک کی ساری جماعتیں، خود پیپلز پارٹی کے ذہین لوگ بھی بنیادی حقوق کی معطلی کے خلاف جب یک زباں ہیں تو پھر ہنگامی صورتِ حال کے باقی رکھنے پر اصرار خود پیپلز پارٹی کے مستقبل کے لئے بھی کچھ اچھی فال نہیں ہے۔ خاص کر جمہوری نظام میں یہ ایک بہت بڑی ''گالی'' تصور کی جاتی ہے۔ اس لئے ہم صدر بھٹو سے درخواست کریں گے کہ اگر ہنگامی صورتِ حال کے خاتمہ کا اعلان کر کے ملّی وحدت کو قائم کیا جا سکتا ہے تو یہ سودا کچھ مہنگا نہیں ہے۔

پشاور میں مرکزی وزیر داخلہ اور مرکزی وزیر اطلاعات نے یونیورسٹی میں قدم رنجہ فرما کر تقریر فرمائی مگر ''زن بزن'' کے زیر سایہ نیپ اور جوئی کے نقطۂ نظر سے دونوں وزراء کی تشریف آوری اور تقاریر ان کو چھیڑنے اور دھونس جمانے کے لئے کی گئی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صوبہ سرحد میں حکومت اور نیپ اپنی اپنی سیاسی طاقت کی نمائش کو ضروری سمجھنے لگے ہیں۔ جس کا نتیجہ شاید ہی کسی کے لئے خوش آئند نکلے۔