نام کتاب: سیرت سید العالمین ﷺ

مصنف: مولانا احمد دین گکھڑوی

ناشر: سکول بک ڈپو، اردو بازار، گوجرانوالہ

ضخامت: ۱۷۶ صفحات

قیمت: ایک روپیہ ۵۰ پیسے

مولانا احمد دین گکھڑوی کا نام مناظر اسلام کی حیثیت سے دینی حلقوں میں خاصا معروف ہے۔ انہوں نے قیامِ پاکستان سے پہلے عیسائیت کے علاوہ شرک و بدعت کے خلاف اسلام کی ترجمانی اور دفاع میں بڑے معرکہ آراء مناظروں میں حصہ لیا ہے اور اسلام کی حقانیت کا پرچم بلند کرنے میں بڑھ چڑھ کر کام کیا۔ ''سیرت سید العالمین'' (ﷺ) ان کی مناظرانہ انداز کی تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے پادری ٹھاکر داس کی رسوائے زمانہ کتاب ''سیرۃ المسیح'' کا تحقیقی جائزہ لے کر رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ گرامی پر کیے جانے والے اعتراضات اور بہتانات کا مدلل اور معقول جواب دیا ہے، کہ عشقِ محمدی ﷺ اور غیرتِ دینی کا یہی تقاضا تھا۔

پادری ٹھاکر داس نے اپنی کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام اور مرتبہ کو اولیٰ و ارفع ثابت کرنے کے لئے نہ صرف یہ کہ سرور کائنات صلی اللہ ﷺ پر الزامات و بہتانات کے زہریلے تیر برسائے بلکہ اندازِ بیاں اور انتخابِ الفاظ ایسا ناشائستہ اور غیر مہذبابہ ہے کہ خون کھول اُٹھتا ہے۔

مولانا احمد دین صاحب نے اپنی مذکورہ کتاب میں جہاں حضور پاک پر کئے جانے والے اعتراضات و اتہامات کو دلائل و براہین سے غلط ثابت کیا ہے۔ وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام اور مرتبہ کا بھی پورا پورا خیال رکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ:

''ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی برحق نبی اور رسول مانتے ہیں۔ ان کی عزت بھی دوسرے رسولوں کی طرح کرتے ہیں۔ ان کی توہین یا کسی دوسرے نبی کی توہین صریح کفر سمجھتے ہیں۔ معاً ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کل مخلوق بلکہ تمام انبیاء اور ملائکہ سے افضل و اشرف، سرورِ کائنات، فخر، موجودات، جامع کمالات اور ارفع الدرجات ہیں۔'' پوری کتاب میں یہی روح کار فرما نظر آتی ہے۔

آج جبکہ عیسائی مشنری نے اپنی مہم کو پاکستان میں تیز تر کر دیا ہے۔ اور بازاروں، چوراہوں میں عیسائی مرد اور عورتیں بلا روک ٹوک اپنا لٹریچر تقسیم کر رہے ہیں، اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس کتاب کو عیسائی حلقوں میں پہنچانا بھی اسلام اور انسانیت کی بہترین خدمت ہے تاکہ ان کو عیسائیت کے موجودہ محرف و مبدل، غیر مستند بائبل پر مبنی ہے، کے صحیح صحیح خدوخال معلوم ہو سکیں۔

''سیرت سید العالمین'' (ﷺ) کو مقتدر عالم دین حافظ محمد یوسف گکھڑوی نے شائع کیا ہے اور سکول بک ڈپو اردو بازار گوجرانوالہ سے ڈیڑھ روپیہ میں حاصل کی جا سکتی ہے۔

نام کتابچہ: مغالطاتِ مرزا عرف الہامی بوتل

مصنف: منشی محمد عبد اللہ (ثالث) معمار امرتسری

ناشر: سکول بک ڈپو، اردو بازار گوجرانوالہ

ضخامت: ۴۸ صفحات

قیمت: ۵۰ پیسے

اس مختصر سی کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے عجیب و غریب مغالطات، پُر ازدجل و فریب الہامات، مخفی در مخفی چالوں اور متناقض و متخالف بیانات کا انکشاف کر کے ان کی مفصل و مدلل تردید کی گئی ہے۔

مرزائیت ایک ایسا فتنہ ہے جسے انگریز سرکار نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے بطور خاص اُٹھایا اور اس کی پرورش کی۔ اسلام اور مسلمانوں کو جس قدر نقصان موجودہ زمانے میں مرزائیت سے پہنچا ہے وہ ظاہر و باہر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی جسے انگریز سرکار نے اس فتنہ کا بانی ہونے کا موقع فراہم کیا، اس کا کردار اتنا عجیب ہے کہ عقل حیران ہے کہ یہ شخص ہے کیا؟ اور کیا کہنا چاہتا ہے؟

اس شخص کی تحریر ایسی گنجلک اور پیچیدہ ہے کہ قاری سر پیٹ کر رہ جائے، باتیں ایسی گول مول کہ عقل چکرا جائے۔ اس کی خاکساری ایسی کہ خود کو آدمی کی شرمگاہ قرار دیا ہے۔ سخت کلامی ایسی کہ مخالفین کو سور، کتے ، بے ایمان، بد ذات، خبیث اور ولد الحرام کے دشنام سے بے تکلف نوازتا چلا جائے۔

اسی شخص کے بارے میں منشی محمد عبد اللہ صاحب معمار امرتسری نے ''مغالطاتِ مرزا عرف الہامی بوتل'' کے عنوان سے یہ رسالہ مرتب کیا ہے۔ کتاب مفید ہونے کے ساتھ ساتھ خاصی دل چسپ بھی ہے۔ مرتب نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تحریروں کو جمع کیا ہے جن میں وہ ایک جگہ کسی بات کا اعلان و دعویٰ کرتے ہیں تو دوسری جگہ اس سے انکار و تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ مرزائیت کو خود اس کے بانی کے الفاظ میں سمجھنے کے لئے ہم اس کتابچے کے مطالعہ کی پرزور سفارش کرتے ہیں۔