عالمِ اسلام نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ صرف اس لئے ہیں کہ وہ بیرونی خطرات کے نرغہ میں ہے بلکہ اس اعتبار سے کہ اس نے خود بھی ایسے حالات پیدا کر لئے ہیں جو نزولِ مصائب اور خارجی فتنوں کے لئے اپنے اندر بلا کی کشش رکھتے ہیں۔ اس لئے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جس کردار اور ذہنیت کا اس نے مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے بعد اسے کسی بھی غیر کی ستم ظریفی کا شکوہ نہیں ہونا چاہئے۔

﴿إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ‌ ما بِقَومٍ حَتّىٰ يُغَيِّر‌وا ما بِأَنفُسِهِم...١١﴾... سورة الرعد

جو (نعمت) کسی قوم کو (خدا کی طرف سے) حاصل ہو، جب تک وہ (قوم) اپنی ذاتی صلاحیت کو نہ بدلے خدا اس (نعمت) میں کسی طرح کا تغیر (و تبدل) نہیں یا کرتا۔

مشکل یہ ہے کہ یہ مدعی اسلام، نہ اسلام میں پختہ ہے نہ کفر میں خالص۔ اس لئے دونوں حیثیتوں سے اس کے ساتھ جو معاملہ ہونا چاہئے تھا نہیں کیا گیا اور نہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف دنیا کا دستور نہیں، بلکہ خدا کے ہاں بھی یہی دستور ہے کہ ہر جائی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ مطلب کی یاری، خدا کے ہاں کفر سے بھی بد تر چیز ہے۔ کیونکہ کفر تو ٹھوس اور لگی لپٹی رکھے بغیر ایک ''انکار'' کا نام ہے، لیکن مطلب کی یاری ایک گونہ انکار بھی ہے اور ایک گونہ مخول بھی، جو ظاہر ہے بہت بڑا سنگین جرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے نزدیک ایک منافق، کافر سے بدتر ہوتا ہے۔

حد یہ ہے کہ یہ نام کا مسلمان بے یقینی، بے عملی اور معصیت کوشی میں دنیا کے کسی بھی بے عمل اور بد کردار سے پیچھے نہیں رہا۔ اس لئے اس کے پلے میں تقریباً تقریباً ہر قسم کی پسپائی اور ہر رنگ کی رسوائی کے نمونے جمع ہو گئے ہیں۔

دعوائے ایمانی کے ساتھ اس کی ''بے یقینی'' سر فہرست ہے۔ اس لئے بے عملی رنگ لا رہی ہے۔ جب اس بے عملی کے ساتھ بد عملی کا پیوند بھی لگ جائے تو اس وقت جو نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ ان کی سنگینی کا اندازہ خود ہی فرما لیجئے۔ یعنی اسلام اور نظریۂ حیات کے سلسلہ میں بے یقینی کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اس کا کچھ کرنے کو جی ہی نہیں چاہتا۔ لیکن جب کیے بغیر گزارہ نہیں ہتا تو پھر ''ہیرا پھیری'' کے ذریعے چام کے دام چلانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ ظاہر ہے فریب دہی کا یہ بازار زیادہ دیر گرم نہیں رہ سکتا۔ اور آپ دیکھ بھی رہے ہیں کہ اب دنیا میں عالم اسلام کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، چار سُو ایک سناٹا اور ہُو کا سماں بندھ گیا ہے اور ہر طرف وحشت، ہر اس اور بے اطمینانی کی فضا طاری ہو رہی ہے۔ اور ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کل تک اور کیا کیا ہونے کو ہے۔

مسلمانانِ عالم پر جو افتاد پڑ رہی ہے، وہ کسی بیرونی دھاندلی سے زیادہ ان کی اندرونی بنیادی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ اپنی شخصی زندگی کی حد تک ناگفتہ بہ صورت حال سے دو چار ہیں۔ خدا خوفی، نیک عملی، مسنون طرزِ حیات اور اخلاص پورے معاشرہ سے رخصت ہو چکے ہیں۔ بے خدا زندگی، آوارہ سفر حیات اور غیر اخلاقی اور غیر اسلامی نقوش زندگی پر اصرار، ان کی گھٹی میں پڑ گیا ہے۔ خاص کر مسلم عوام کو ایک طویل عرصہ سے جس ناسازگار فضا اور قیادت سے پالا پڑ رہا ہے۔ اس نے ملت اسلامیہ کے مستقل کو خاصہ نقصان پہنچایا ہے۔ ان کی قیادت، غیر دیندار لوگوں میں چلی گئی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ:
خدا نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں!
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟

اس نااہل قیادت نے علاقائی عصبیت کو گرما کر، پورے عالمِ اسلام کو دو دو بالشت کی ٹکڑیوں میں تقسیم کر دیا ہے جس سے مسلمانوں کا ملی اتحاد تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب اربابِ اقتدار عملی لحاظ سے ''ننگ دیں'' ہوں تو دینی قیادت ان کے لئے مشکل نہیں ناممکن ہوتی ہے اس لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ پوری قوم ان کی ہم مشرب اور ہم نوا بن جائے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ مسلم عوام کے ساتھ کچھ اسی طرح کا کھیل کھیلا گیا ہے جس سے وہ بہک گئے ہیں۔ اس بد عملی اور بے راہ روی کے بعد نظریۂ حیات اور منزل کی بات باقی تھی۔ اس کا علاج یہ سوچا گیا کہ عوام کالانعام کو ''پیٹ'' کے گرد جمع کر دیا جائے تاکہ ان کے سامنے پہلے روٹی کی بات رہے، پھر ایمان کی، چنانچہ پچھلے دنوں میں ایک رہنما نے پوری قوم کو اسی فکر میں پختہ کرنے کے لئے یہ دلیل مہیا کی کہ حدیث کی رو سے اگر بھوک لگی ہو تو پہلے پیٹ پوجا کر لی جائے، پھر نماز پڑھی جائے۔ ظاہر ہے اس سے منزل بھی بدل گئی اور نظریۂ حیات بھی ایک تابع مہمل ہو کر رہ گیا۔ اس سے بڑھ کر دین پر اور کیا ظلم ہو سکتا ہے کہ دین کو ہی اس سے غافلِ دنیا بنانے کے لئے استعمال کیا جانے لگے؟ سیاسی کھلنڈروں نے اس گمراہ کُن نعرہ کے ذریعے عوام کا جو استحصال کیا،ردعمل کے طور پر اس کا یہ قدرتی نتیجہ برآمد ہوا کہ عوام کا خد اسلام سے بھی اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ اس لئے اسلامی فکر و عمل سے مزید دور ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص کر نئی نسل۔

ان گزارشات سے غرض یہ نہیں کہ سارا قصور ہمارا اپنا ہے۔ بیرونی شرارتوں کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے بلکہ یہ ہے اور صرف آتا ہے کہ وہ ایسا چاہتے بھی تھے اور ہمارے اندرونی معاملات اور داخلی فضا بھی ان کے لئے سازگار تھی اور بس۔ پھر آہی گئے۔

یوں سمجھئے کہ اندرونی طور پر ہم نے اپنے اغراض، ذہنیت اور کردار کا ایک ایسا دستر خواں تیار کر چکے ہیں جس پر دشمنانِ اسلام بھوکوں کی طرح ٹوٹ پڑے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث تقریباً تقریباً یہ ساری تفصیل بیان کی گئی ہے۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

«یُوْشِکُ الْاأمَمُ أَنْ تَدَاعٰي عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَي الْأَكَلَةُ إِلٰي قَصْعَتِھَا فَقَالَ قَائِلٌ وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ بَلْ يَوْمَئِذً كَثِيْرٌ وَلٰكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كُغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَينْزِعَنَّ اللهُ مِنْ صُدُوْرِ عَدُوِّكُمْ الْمَھَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِ فَنَّ اللهُ فِيْ قُلُوْبِكُمُ الْوَھْنَ۔ قَالَ قَائِلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَ مَا الْوَھَنُ؟ قَالَ حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاھِيَةُ الْمَوْتِ»

وہ وقت قریب ہے کہ مختلف قومیں تمہیں کھانے کو ایک دوسرے کو بلا کر لائیں گی جیسا کہ کھانے والے، کاسۂ طعام کے گرد جمع ہونے کے لئے ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہیں۔ اس پر کسی نے پوچھا:

''حضور ﷺ! کیا اس دِن ہم تھوڑے ہوں گے؟

فرمایا:۔ ''نہیں! بلکہ اس دن تم کہیں زیادہ ہو گے لیکن جیسے پانی پر جھاگ یا کوڑا کرکٹ۔

ان کے سینوں سے اللہ تعالیٰ تمہارا رعب کھرچ ڈالے گا اور خود تمہارے اندر وہن (کمزوری) پیدا کر دے گا۔''

کسی نے عرض کیا: ''جناب ﷺ! وہن کیا شے ہے؟''

فرمایا: ''دنیا کا پیار اور موت سے نفرت۔''

حدیثِ بالا کے سیاق سے محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان ایک ایسا دلچسپ شکار بن جائیں گے۔ جن کے شکار کو دنیا ایک دلچسپ تفریح اور محبوب شغل بنا لے گی اور نہایت بے تکلفی کے ساتھ ہنسنے کے لئے ان کے مقدر کے ساتھ کھیلے گی۔ وجہ؟ فرمایا: دنیا کا پیار اور موت سے نفرت۔

دنیا کا پیار: عظیم ملّی مقاصد اور مقامِ عزیمت سے بے توجہی اور فوائدِ عاجلہ کے لئے سرمدی مکارمِ حیات کو بیج کھانے سے دریغ نہ کرنا، دنیا کا پیار کہلاتا ہے۔

موت سے نفرت کے معنی ہیں۔ بزدلی، اخروی نوامیس سے عدم دلچپسی، عظیم ملی اقدار کی راہ میں سر فروشی سے کترانا، سستی شہرت، سستی نجات اور سستی فلاح و بہبود کے خوابوں میں مست اور چور رہنا۔

قرآنِ حکیم کی نگاہ میں یہ یہودیت ہے۔

﴿يَوَدُّ أَحَدُهُم لَو يُعَمَّرُ‌ أَلفَ سَنَةٍ...٩٦﴾... سورة البقرة

ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اے کاش! اس کی عمر ہزار سال کی ہو۔

دنیا کے پیار کی ایک بدترین مثال ہے۔ کیونکہ جسے خدا سے تعلق ہوتا ہے وہ اس کے ہاں مہمان ہونے کے لئے مضطرب رہتا ہے یا کم از کم اتنا تو ضرور کہتا ہے کہ ''الٰہی جب تک میرا جینا میرے دین و دنیا کے لئے مفید ہو، زندہ رکھیو اور جب مضر ہ تو بس اپنے ہاں بلا لیجئو۔

قرآن مجید کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اس حد تک اندھے ہو گئے تھے کہ وہ خدا کے نام پر تہمتیں بیچتے تھے۔

﴿يَكتُبونَ الكِتـٰبَ بِأَيديهِم ثُمَّ يَقولونَ هـٰذا مِن عِندِ اللَّهِ لِيَشتَر‌وا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا...٧٩﴾... سورة البقرة

اپنے ہاتھوں سے كتاب لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (اتری) ہے تاکہ اس طرح تھوڑے سے دام کھرے کر لیں۔

آخرت فراموشی کا منظر اور ہی درد ناک ہے، ہو سکتا ہے کہ یہودی ایسے بھی ہوں، جن کو قیامت بھی کبھی یاد آجاتی ہو لیکن آج کل یہاں تو یہ بھی ملاؤں کا ایک ڈھکو سلہ سمجھا جانے لگا ہے۔

وہ عظیم فاقتیں جو اس وقت اَنَا وَلَا غَیْرِیْ کے ناقوس بجا رہی ہیں۔ سب کی سب کفر و جحود کی راہ پر گامزن ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ کفر کو کفر سے کوئی کھٹکا نہیں۔ اس لئے ان میں سے کسی چھوٹی سی چھوٹی ریاست کو بھی ان سے کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی یہ ان کے اندرونی معاملات میں کچھ زیادہ دخل دیتی ہیں، لیکن عالمِ اسلام کو بالکل معاف نہیں کر رہیں کیونکہ وہ ان سے اس امر میں خائف ہیں کہ اگر یہ قوم بیدار ہو گئی تو کفر کی چودھراہٹ ختم ہو جائے گی کیونکہ اس قوم میں جنون کی حد تک تبلیغ کا جذبہ ہے اور تبلیغ و اصلاح کا یہ جوش جنوں نسل اور جغرافیہ کی حدود سے بالکل بے تعلق اور اس سے بالاتر ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ ائمۂ کفر و شرک کو پھر کبھی دبانے کے قابل ہو جائیں۔ ان دساوس کی بنا پر، پورے عالمِ اسلام کے سلسلہ میں وہ سب گہری سازشوں میں مصروف ہیں اور جب داؤ لگتا ہے، گھاؤ لگانے سے نہیں چوکتے۔ آثار بتاتے ہیں کہ جد کانفرنس کے بعد ان کی سازشیں اور تیز ہو جائیں گی۔ یہ آپ کو کبھی متحد نہ ہونے دیں گی اور نہ ہی یہ اسلامی طرزِ حیات کو آپ کے لئے برداشت کریں گی۔ یہ وہ حالات ہیں، جن کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس برے حال میں بھی عالمِ اسلام اپنی بگڑی بنانے کے لئے خدا کی طرف رجوع کرنے کی بجائے انہی منکریں، خدا کی راہ دیکھے جا رہے ہیں۔ اس لئے خدا کے قہر و غضب کی بھٹی بھی گرم سے گرم تر ہوتی جا رہی ہے۔ مادی اسباب اور وسائل کی اہمیت سے انکار نہیں، لیکن یہ خدا بھی نہیں ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے وسائل آپ کے لئے رحمت اور خیر و برکت کا موجب بنیں تو خدا کو دھوکا دینا چھوڑ دیں، بے یقینی پر نظر ثانی کریں، اپنے اندر خود اعتمادی، وحدت اور زندہ قوموں کی طرح نگاہ میں آفاقیت اور ولولوں میں ہمہ گیری پیدا کریں۔

اب وقت ہے کہ آپ اپنی شخصی اور اجتماعی اصلاح حال کے لئے پوری درد مندی کے ساتھ ایک دوسرے کو تھامیں، ان حرکات اور اعمال سے پرہیز کیا جائے جن سے اللہ میاں ناراض ہوتے ہیں، افتراق اور انتشار کی راہیں، بہت بڑی لعنتیں ہیں، ان سے خود بھی بچئے اور دوسرے بھائیوں کو بھی بچائیے۔ ملی وحدت کے احیاء اور صالح قیادت برپا کرنے کے لئے متحد ہو کر کوشش کریں۔ یہ بہت بڑی رحمتیں ہیں بس ان کا دامن تھام لیں۔

یقین کیجئے! کفر کو اپنے بد نتائج کا مزہ چکھنے کے لئے تو مہلت مل جاتی ہے لیکن بے عملی، بے یقینی اور بد عملی کے روح فرسا نتائج کے ظہور دیر نہیں ہوا کرتی۔ خدا کے ہاں اس سلسلہ میں مہلت کا کوئی جواز مذکور ہی نہیں ہے۔ اس لئے اگر باوقار جینا ہے تو آنکھیں کھولیں۔ غلط طرزِ حیات سے توبہ کریں۔ خدا ضرور آپ کی مدد کرے گا۔ ان شاء اللہ۔
حوالہ جات

ابو داؤد۔ باب فی تداعی الأمم علی الإسلام