لغوی تشریح:

لفظِ ''رحلت'' رَحِلَ۔ يَرْحَلُ رَحْلًا۔ تَرْحَالًا۔ رِحْلَةً سے ہے جس کا مادہ ر، ح، ل یعنی رحل ہے جس کے معنی سفر اور کوچ کرنے کے ہیں، جب اس کا صلہ ''عن'' آئے تو معنی کسی جگہ سے روانہ ہونے، کوچ کرنے، چلے جانے، ترکِ وطن کرنے، ہجرت کرنے اور نقل مکانی کے ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں اس لفظ ''رحلت'' کا استعمال عموماً ''موت'' کے معنی میں ہوتا ہے، یعنی دنیا سے آخرت کی طرف کوچ کرنا۔ اردو میں اس لفظ کا خاص معنی میں استعمال دوسرے بہت سے عربی الفاظ کی مانند ہے۔ مثلاً ''انتقال'' عربی میں صرف ''ایک حالت سے دوسری حالت میں جانے'' کے لئے ہے لیکن اردو میں موت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح لفظ ''وفات'' عربی میں ''پورے ادا کرنے'' کے معنی میں ہے لیکن اردو اور فارسی میں ''جاں بحق آفرین'' کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

اصطلاحی معنی:

محدثین کی اصطلاح میں لفظِ ''رحلت'' رحلۂ علم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور وہ اس سے وہ سفر مراد لیتے ہیں جو حصولِ علم کی خاطر کیا جائے۔ ان کے ہاں سند عالی کی تلاش، علمی مقامات کی جستجو اور علوم و فنون کی طلب کے لئے سب سفر ''رحلت'' ہیں۔ وہ ''رُحلہ'' اس عالم ربانی کو کہتے ہیں جس کے پاس اخذِ علم کے لئے اطراف، اکناف سے علم کے پیاسے حاضر ہوں۔

رحلۃ کا مقام:

لفظِ ''رحلت'' میں ایک عالم کی عجیب و غریب داستانیں، دل سوز حکایتیں اور نصیحت آموز لعل و گوہر پنہاں ہیں، گویا اس میں اسلامی تاریخ کا ایک عظیم باب مضمر ہے۔ یہ لفظ بذاتِ خود کوئی باعث کشش و برکت نہیں لیکن اس کا جلال و جمال، تقدس و توقیر اس مبارک گروہِ محدثین کے مقدس مشن کا رہینِ منت ہے جن کی وجہ سے یہ مقبولِ خلائق ہوا۔
بدو گفتم گلِ ناچیزے بودم       ولیکن مدتے باگُل نشستم

خیر القرون اور ان کے مابعد اسلامی ترقی و کمال کے ادوار میں علوم دینیہ سے عام مسلمانوں کو خاص شغف تھا۔ ان کا حصولِ علم کے لئے ولولہ و شغف، اس سے دل چسپی بلکہ شیفتگی جنون کی حد تک پہنچی ہوئی تھی۔ کیا حاکم اور کیا محکوم! کیا ادنیٰ اور کیا اعلیٰ سب امیر و غریب اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے علاقوں کے علاقے چھان مارتے۔ کتنی بھی دور انہیں کسی چیز کے مل جانے کی امید ہوتی جا پہنچتے اور اس سلسلہ میں بڑے سے بڑے مصائب و مشکلات کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے۔ اس دور میں یہ مقولے زبان زد عام تھے۔

كلمة الحكمة ضالة المؤمن أينما وجدھا فھو لھا

علم و حکمت کی بات مومن کی گم شدہ متاع ہے جہاں اس پائے پکڑ لیتا ہے۔

لوگوں کے اسی شوق و ذوق کو دیکھتے ہوئے بعض نا عاقبت اندیش لوگوں نے نبی ﷺ کی طرف نسبت کر کے ''اطلبوا العلم ولو بالصین'' (علم حاصل کرو خواہ چین میں ہو) جیسے مقولے بھی مشہور کر دیئے۔ غرض اس ظرف میں تشنگانِ علم و ہدایت کے لئے آب شفاف اور تریاقِ عراق موجود ہے۔ اس کی جتنی بھی تاریخ دیکھیں اتنے ہی عجیب و غریب انکشافات ہوتے ہیں۔ خدا غریقِ رحمت کرے۔ ان بزرگانِ دین و ملت کو جن کے بلند گفتار و کردار اور ولولہ و شوق سے سفر جیسا کٹھن امر جس کے متعلق کہا جاتا ہے السفر سقر ولو كان ميلا مرجع الخلائق بنا۔

یہ تو ان لوگوں کا حال تھا جو علومِ نبوت کی تلاش میں سرگرداں ہوئے لیکن خود وہ انبیاء جن کے علم و رشد کے یہ لوگ وارث ہوئے، بھی تلاش علم میں حکم ربانی سے دور دراز کے سفر کرتے رہے۔ گویا یہ رحلۂ علم اسوۂ انبیاء بھی ہے۔ اس سے اس لفظ کی شان اور اس سفر کا مقام کتنا بلند ہو جاتا ہے اور ہمارے لئے دستور العمل کا ایک زریں باب کھولتا ہے۔ مگر افسوس! اس غربتِ اسلام کے زمانہ میں جہاں اس لفظ کے اندر کوئی چاشنی نہیں رہی وہاں سفر علم کے لئے مسلمانوں میں کوئی حرکت نہیں رہی جس کا نتیجہ دن بدن مسلمانوں کی پستی و ادبار ہے۔ اسی کے نتیجہ میں آج مسلمان ہر جگہ اپنی سیادت و قیادت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

رحلہ انبیائے کرام:

1. رحلہ انبیاء کے سلسلہ میں سب سے پہلے میں ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذِکر کرتا ہوں، جن کو اللہ تعالیٰ نے پہلے تو ایک چٹان پر کھڑا کر کے زمین و آسمان کی بادشاہی کی سیر کرائی جو گویا ایک خاص طویل ذہنی سفر ہے جس کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے:

﴿فَلَمّا جَنَّ عَلَيهِ الَّيلُ رَ‌ءا كَوكَبًا ۖ قالَ هـٰذا رَ‌بّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لا أُحِبُّ الءافِلينَ ﴿٧٦﴾... سورة الانعام

ہم ابراہیم کو زمين و آسمانوں کی بادشاہی دکھاتے رہے تاکہ وہ یقین کرنے والوں سے ہو جائے۔

پھر خانہ کعبہ کی تعمیر اور احکام حج سکھانے کے لئے ابراہیم اور ان کی ام الولد حضرت ہاجرہ کو بمعہ لخت جگر اسماعیل کے دور دراز کا سفر کرایا۔ اس طرح سے اقامتِ دین کے لئے ہجرت ہوئی پھر وہاں جب ابراہیم اور حضرت اسماعیل اللہ کے گھر کی تعمیر مکمل کر چکے تو دونوں نے اللہ سے مناسکِ حج سیکھنے کی درخواست کی۔ جس کو قرآن مجید وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا (اے اللہ ہمیں احکام حج سکھا) کے الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ انہی کی عملی تعلیم کے لئے پھر انہیں کم از کم سترہ اٹھارہ میل کا سفر کرنا پڑا۔ کیونکہ حج کے لئے مقاماتِ حج کے درمیان اتنا فاصلہ طے کرنا ہی پڑتا ہے۔

2. حضرت ابراہیمؑ کے بعد بنی اسرائیل کے جلیل القدر نبی حضرت موسیٰؑ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پہلے تو بظاہر فرعون سے نجات اور جان کے خوف کی وجہ سے لمبا چوڑا سفر کرایا جو درحقیقت نبوت کے حصول کا سفر تھا اور اسی کے نتیجہ میں مدین سے واپسی پر راستہ میں پہاڑ طور پر نبوت ملی پھر ان سے حصولِ علم کے قصد و ارادہ سے دوبارہ سفر کرایا اور طور پر بلا کر کتابِ شریعت ''تورات'' عطا فرمائی۔ اس موقع پر آپ کے ساتھ ستر ساتھیوں نے بھی سفر کیا جس کا ذکر قرآن مجید میں تفصیل سے موجود ہے ۔ پھر جب موسیٰ کی زبان سے ایسے کلمے نکل گئے جو اللہ کو پسند نہ تھے تو عملی تربیت کے لئے بحرین تک کا سفر کرایا جس میں آپ کی ملاقات اللہ کے بندے خضر سے ہوئی۔ اس موقع پر آپ کے ساتھ، یوشع بن نون بھی تھے۔ اس سفر میں اگرچہ بالآخر آپ کو خضر نے ان حیران کن افعال کے اسباب بھی بتا دیئے جن پر آپ صبر و سکوت نہ اختیار کر سکے لیکن اس سفر میں علمی اضافہ سے زیادہ عملی تربیت ہوئی۔ جس سے آپ کے جوش و خروش میں اعتدال پیدا ہوا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ آپ جابر نبی تھے۔ اسی جوشِ طبع کی بنا پر آپ سے قبل از نبوت ایک قبطی بھی قتل ہو گیا تھا ۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا تزکیۂ نفس کیا تاکہ یہ تزکیہ منصب نبوت کو جلا بخشے ۔

حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے ذکر کے بعد میں سید المرسلین امام المتقین حضرت محمد ﷺ کے رحلات علم کا ذِکر کرتا ہوں۔ آپ ﷺ جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ دونوں کے صفات و کمالات کا مجموعہ تھے۔ اسی طرح آپ نے دونوں طرح کے وہ علمی سفر کیے جن کا ہر ایک الگ الگ ابراہیم اور موسیٰ نے کیا تھا ۔ یعنی ایک حضرت ابراہیم کی ہجرت اور دوسرا حضرت موسیٰ کا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے کوہِ طور کا سفر جس میں آپ نے بالمشافہ اللہ سے کلام کی۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دادا حضرت ابراہیم (نیز اپنے والد حضرت اسماعیل) کے اسوہ کے طور پر مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرح اپنے حبیبﷺ کو بھی ملاقات کے لئے معراج پر بلایا اور بالمشافہ شرفِ کلام بخشا اور عماد الدین نماز ودیعت فرمائی۔ (باقی آئندہ)
حاشیہ و حوالہ جات

ملاحظہ ہو المعجم الأعظم ج ۲۔ منتہی الارب۔ اساس البلاغہ۔ المصباح المنیر۔ مصباح اللغات وغیرہ۔

ملاحظہ ہو سورۃ الاعراف رکوع ۱۷ تا ۱۹

اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ سورۃ القصص۔ رکوع ۲

حضرت موسیٰ اور اللہ کے بندے خضر کی ملاقات اور دونوں کا سفر قرآن مجید نے تفصیلاً بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ الکہف از آیت ۶۰ تا ۸۲۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک بادشاہ ذوالقرنین سکندر کو مشرق سے مغرب تک کا سفر کرانے کا ذِکر کیا ہے جس سے بے شمار علمی فوائد حاصل ہوئے۔

واضح رہے کہ جس حدیث میں موسیٰ کی سختی کا ذِکر آیا ہے۔ اس میں حضرت ابراہیم کی نرم دلی کا بھی ذکر ہے کہ آپ کے باپ نے سنگسار کرنے کی دھمکیاں دیں، لیکن آپ جواب میں اللہ سے بخشش کی دعائیں کرنے کا وعدہ فرماتے رہے۔ جس کا ذِکر قرآنِ مجید نے بھی کیا ہے:

قَالَ سَلٰمٌ عَلَيكَ ط سَاَسْتَغْفِرُ لَكِ رَبِّي اِنَّه كَانَ بِي حَفِيا

یعنی باپ کی دھمکیوں کے جواب میں فرماتے رہے:

''اے باپ! تجھ پر سلامتی ہو۔ میں تیرے لئے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا۔ کیونکہ میرا رب مجھ سے بہت شفیق ہے۔

اپنی ہجرت گا مکہ کو ابراہیم نے حرم ٹھہرایا تو نبی اکرم ﷺ نے حکم ربی سے مدینہ کو حرم ٹھہرایا۔