قرآنِ مجید کا پہلا نو مسلم انگریز مترجم

قرآنِ مجید کا پہلا انگریزی ترجمہ ۱۶۴۸ء سے ۱۶۸۸ء کے درمیانی عرصہ میں شائع ہوا۔ یہ ترجمہ، لاطینی ترجمے سے کیا گیا تھا۔ دوسرا ترجمہ جارج سیل کے قلم سے ۱۷۳۴ء میں اشاعت پذیر ہوا اور ڈیڑھ صدی تک اسی ترجمے سے انگریز دنیا قرآن مجید کی تعلیمات سے آگاہ ہوتی رہی۔ جارج سیل نے عیسائی نقطہ نگاہ سے قرآن مجید کے مفہوم میں تبدیلی کرنے کے لئے بیضادی اور کشاف کے حوالوں سے من مانے حواشی لکھے۔ ڈیڑھ صدی کے طویل عرصے میں انگریزی زبان کے اسالیبِ بیان میں اس قدر تبدیلیاں واقع ہوئیں کہ ترجمہ فرسودہ ہو گیا۔ ۱۸۶۱ء میں کیمبرج یونیورسٹی کے استاد جے۔ ایم راڈ ویل نے سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا۔ زبان و بیان میں اصلاح کی اور ایک دوسری جدّت یہ برتی کہ قرآن کریم کی سورتوں کو نزولی ترتیب سے ترجمہ کیا۔ یعنی آغاز سورۂ علق اور اختتام سورہ مائدہ پر کیا۔ بعد ازاں جرمن مستشرق میکس موسر اور پادری و ہیری کے تراجم و تفاسیر شائع ہوئیں۔

یہ تما م تراجم انگریز مشنریوں نے اپنے مخصوص مقاصد کے پیش نظر کیے تھے اور ان میں معنوی قطع و برید بھی موجود تھی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ کوئی مسلمان اہلِ علم قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ کرتا۔ اس کا شدید احساس غلام ہندوستان کے مسلمانوں کو ہوا۔ انہوں نے پے در پے انفرادی طور پر کئی ترجمے کیے۔ بعض شائع نہ ہو سکے۔ بعض نامکمل رہے اور چند ایک زیور طبع سے آراستہ ہو کر اہل نظر کے ہاتھوں کی زینت بنے۔ تاہم ان ترجموں میں وہ زورِ بیان، سلاست اور روانی پیدا ہونا ناممکن تی جو اہلِ زبان کی خصوصیت ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ایک نو مسلم انگریز مار میڈیوک پکتھال کو بخشی جس نے پہلے اسلام قبول کیا اور پھر سالہا سال کے غور و تعمق، تدبر و تفکر اور جگر کاوی کے بعد قرآن مجید کا ترجمہ نہایت پاکیزہ زبان میں کیا۔ آج یہ ترجمہ دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہے۔ صرف امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں چھپ چکا ہے۔

مار میڈیوک پکتھال نے ترجمۂ قرآن کے دیباچے میں لکھا ہے:

''اس ترجمہ کا مقصد انگریزی خواں طبقے کے سامنے یہ بات پیش کرنا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان قرآن کے الفاظ سے کیا مفہوم لیتے ہیں اور قرآن کی ماہیت کو موزوں الفاظ میں سمجھانا اور انگریزی بولنے والے مسلمانوں کی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔ معقولیت کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ کسی الہامی کتاب کو ایک ایسا شخص عمدگی سے پیش نہیں کر سکتا جو اس کے الہامات اور پیغام پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ یہ پہلا انگریزی ترجمہ ہے جو ایک ایسے انگریز نے کیا ہے جو مسلمان ہے۔ بعض تراجم میں ایسی تفسیریں کی گئی ہیں جو مسلمانوں کے لئے دل آزار ہیں اور تقریباً سب میں زبان کا ایسا اندازِ بیان اختیار کیا گیا ہے جسے مسلمان غیر موزوں سمجھتے ہیں۔ قرآن کا ترجمہ ناممکن ہے ۔ یہ قدیم شیوخ کا اور میرا عقیدہ ہے۔ میں نے اس کتاب کو علمی انداز میں پیش کیا ہے اور اس کے لئے کوشش کی گئی ہے کہ موزوں زبان استعمال کی جائے۔ لیکن یہ ترجمہ قرآن مجید نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو بے مثل و بے عدیل ہے۔ اس میں اتنی ہم آہنگی ہے کہ لوگ اسے سنتے ہی رونے لگتے ہیں اور وجد میں آجاتے ہیں۔ یہ تو قرآن کے مفہوم کو انگریزی زبان میں پیش کرنے کی محض ایک کوشش ہے اور اس کے سحر کی قدرے عکاسی۔ یہ عربی قرآن کی جگہ نہیں لے سکتا۔ نہ میرا یہ مقصد ہے۔ الخ''

نو مسلم فاضلہ مریم جمیلہ اس ترجمے کے بارے میں رقم طراز ہیں:

''مجھے اس کے مقابلے میں کوئی ترجمہ نہیں مل سکا۔ کسی ترجمے میں وہ فصاحت و بلاغت اور اندازِ بیان نہیں جو اس میں موجود ہے۔ بہت سے دوسرے تراجم میں ''اللہ'' کے لئے گاڈ (God) کا لفظ استعمال کرنے کی غلطی کی گئی ہے لیکن پکتھال نے ہر جگہ ''اللہ'' ہی استعمال کیا ہے۔ اس سے اسلام کے پیغام میں مغرب کے قاری کے لئے بڑا تاثر پیدا ہوتا ہے۔''

مولانا عبد الماجد دریا آبادی پکتھال کے زبان و بیان کے بارے میں لکھتے ہیں:

''پکتھال اپنی زبان کا ادب اور اہلِ قلم تھا۔ اس کی زبان کی خوبی و شستگی کا کیا کہنا۔ اصلی قرآن کی جاذبیتِ زبان و بیان ایک حد تک ترجمہ میں منتقل ہو آئی ہے۔''

ایک دوست مسٹر ڈولنگ فلسطین چلا گیا۔ اس وقت فلسطین سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا۔ ڈولنگ فلسطین میں انگریزی سفارت خانے میں ملازم تھا۔ مار میڈیوک سیر و سیاحت کی غرض سے اپنے دوست کے پاس فلسطین چلا گیا اور یہی سفر اسے اتھاہ تاریکیوں سے نور کی طرف لے آیا اور ڈیوک کی زندگی بدل گئی۔

مار میڈیوک کئی سال تک فلسطین، شام، مصر اور عراق میں گھومتا رہا اور آخر میں ترکی چلا گیا۔ اس سیاحت میں مار میڈیوک نے عربی ''اور ترکی زبانوں میں اتنی مہارت پیدا کر لی کہ ان زبانوں میں اپنا ما فی الضمیر احسن طریقے سے ادا کر لیتا تھا اور ان زبانوں کے اعلیٰ لٹریچر کا مطالعہ کر سکتا تھا۔ عربی زبان اور اندازِ معاشرت سے اس قدر متاثر ہوا کہ انگریزی لباس چھوڑ کر عربی قبا و عمامہ استعمال کرنے لگا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب خلافتِ عثمانیہ میں اندرونی خلفشار پیدا ہو چکا تھا اور استعماری طاقتیں سلطنتِ عثمانیہ کی قوت توڑنا چاہتی تھیں۔ جنگِ طرابلس اور جنِگ بلقان میں خلافت عثمانیہ کو شکستیں ہو رہی تھیں۔ مار میڈیوک کا خیال تھا کہ عیسائی طاقتیں مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا بدلہ لینا چاہتی تھیں اور مذہبی تعصب کی بناء پر خلافت عثمانیہ کو شکستیں ہو رہی تھیں۔ مار میڈیوک کا خیال تھا کہ عیسائی طاقتیں مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا بدلہ لینا چاہتی تھیں اور مذہبی تعصب کی بنا پر خلافت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی تھیں۔ مار میڈیوک کے تمام اہم ترک لیڈروں سے دوستانہ مراسم تھے۔

۱۹۱۲ء میں مار میڈیوک انگلستان واپس چلا گیا اور اینگلو عثمانیہ سوسائٹی قائم کی۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ ترکوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جائے اور ترکوں کے ساتھ کیے جانے والے مظالم انسانی ضمیر کے سامنے پیش کئے جائیں۔ مگر استعماری طاقتوں کا ''ضمیر'' سویا ہوا تھا لہٰذا اس کی کوششیں بے اثر ثابت ہوئیں۔ ۱۹۱۴ء میں جنگِ عظیم اوّل چھڑ گئی اور انگریز کھل کر ترکی کے خلاف ہو گئے اور خلافتِ عثمانیہ کو تباہ کرنے کے لئے میدانِ جنگ میں اُتر آئے۔

عرب ملکوں کی سیاحت کے دوران اور اس کے بعد مار میڈیوک اسلام کا مطالعہ کرتا رہا۔ جب ''اسلام'' کی صداقت پوری طرح اس پر آشکار ہو گئی تو دسمبر ۱۹۱۴ء میں اس نے لندن میں قبولِ اسلام کا اعلان کر دیا اور مار میڈیوک پکتھال سے ''محمد مار میڈیوک پکتھال'' بن گئے۔ پکتھال کہا کرتا تھا کہ:

''اس کی زندگی کا پُر امن اور عافیت بخش دور حلقہ اسلام میں داخل ہونے سے شروع ہوا۔''

۱۹۱۷ء میں پکتھال کی ملاقات لندن میں خواجہ کمال الدین سے ہوئی۔ خواہ کمال الدین نے شاہجہان مسجد دو کنگ میں اسلامی مشن قائم کر رکھا تھا۔ اور جب خواجہ صاحب ۱۹۲۰ء میں ہندوستان چلے آئے تو ان کی غیر حاضری میں شاہ جہان مسجد کی خطابت کی ذمہ داریاں پکتھالؒ نے ادا کیں اور اسلامی مشن کے آرگن ''اسلامک ریویو'' (Islamic Review) کی ادارت بھی کرتے رہے۔

۱۹۲۰ء میں پکتھالؒ کو ہندوستان کے مشہور قوم پرست اخبار ''بمبئی کرانیکل'' کی ادارت پیش کی گئی، اور انہوں نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ دراصل '' بمبئی کرانیکل'' کے انتظامی معاملات میں سو بانی خاندان کو اثر و رسوخ حاصل تھا۔ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی کے اس خاندان سے دیرینہ مراسم تھے۔ چنانچہ ان حضرات کے توسط سے ''بمبئی کرانیکل'' کی ادارت کا قرعۂ فال مار میڈیوک پکتھالؒ کے سر پڑا۔

۱۹۲۰ء میں تحریکِ خلافت شروع ہوئی اور ساتھ ہی تحریکِ ترکِ موالات چل پڑی۔ اس پُر آشوب اور ہنگامہ خیز دَور میں مار میڈیوک پکتھالؒ نے قوم پرست طبقے کی خوب نمائندگی کی۔ پُر زور اداریے لکھے۔ زورِ قلم سے اپنا موقف اعلیٰ طبقے میں منوایا۔ پکتھال نے خود بدیشی کپڑے پہننا ترک کر دیئے تھے اور کھدر پوش بن گئے تھے۔

۱۹۲۴ء میں مار میڈیوک پکتھال کو اعلیٰ حضرت نظام دکن نے محکمۂ تعلیم میں ملازمت پیش کی اور وہ چادر گھاٹ سکول کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ اس زمانے میں ڈاکٹر یوسف حسین خان نے ان سے ملاقات کی۔ وہ لکھتے ہیں:

''وہ انگریزی کے اعلیٰ درجے کے ادب اور عربی زبان سے بخوبی واقف تھے۔ پکتھال بڑے پکے اور راست باز مسلمان تھے۔ اسلام کے متعلق جب بھی ان سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے ہمیشہ اس کی اخلاقی برتری کو نمایاں کیا۔ اسلامی تعلیم میں جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ گرویدہ کیا وہ اس کا علمی اور اخلاقی پہلو ہے۔

ایک دفعہ کہتے تھے کہ انسانی مساوات اور عالمگیر اخوت کے اصول اسی کے مظاہر ہیں، جو آج بھی اتنے ہی قابلِ قدر ہیں جتنے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تھے۔ ان کی بدولت اسلام کا پیغام سدا بہار ہے۔ ابھی اس کی اثر آفرینی ختم نہیں ہوئی ہے۔''

چادر گھاٹ سکول کے فرائضِ منصبی کے ساتھ ساتھ انہوں نے بلند پایہ سہ ماہی علمی رسالہ ''اسلامک کلچر'' (Islamic Culture) جاری کیا۔

نظامِ حیدر آباد دکن کی سرپرستی میں مار میڈیوک پکتھال نے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ شروع کیا جب ترجمہ مکمل ہو گیا تو سرکارِ نظام کی طرف سے ان کو دو سال کی رخصت عطا کی گئی کہ مصر جا کر جامعۂ ازہر کے علماء سے مشورہ کریں تاکہ ترجمہ میں ہر ممکن اصلاح ہو سکے۔ بالآخر ۱۹۳۰ء میں یہ ترجمہ زیورِ طبع سے آراستہ ہوا۔

۱۹۳۵ء میں مار میڈیوک کو سرکارِ نظام نے پنشن دی تو وہ ہندوستان سے واپس وطن چلے گئے۔ انگلستان میں انہوں نے تبلیغِ اسلام کا کام جاری رکھا۔ تقریریں کرتے اور کتابیں لکھتے رہے۔ مار میڈیوک پکتھال نے ترجمۂ قرآن کے علاوہ دس بارہ اعلیٰ درجہ کے ناول بھی لکھے۔ ۱۹؍ مئی ۱۹۳۶ء کو حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کیا۔


حاشیہ

مشہور مستشرق ایم۔ اے۔ آر۔ گب۔ (H.A.R.GIBB) لکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسے کسی بلند پایہ نظم کا ترجمہ ناممکن ہے۔ وحی کی زبان ہی مختلف ہوتی ہے۔ قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ میں ترجمہ کرنے سے اس سے زیادہ کیا ہو گا کہ عربی زبان کے تراشے ہوئے نگینوں کے گوشے جامع طور پر سامنے لانے کے بجائے مترجم اپنے وضع کردہ الفاظ استعمال کریگا جو اصل الفاظ کی جامعیت اور وسعت کو محدود کر دیں گے۔ ایسی آیات جن میں واقعات یا احکام و قوانین مذکور ہوں۔ ترجمہ کا یہ نقص شاید ان میں زیادہ نہ ہو۔ لیکن با ایں ہمہ جو لطافتیں اور رنگینیاں اصل کتاب میں ہیں وہ ہرگز ترجمہ میں منعکس ہو نہیں سکتیں۔ مثال کے طور پر اس سادہ سی آیت پر غور کرو۔ ''اِنَّا نَحْنُ نُحْی وَنُمِیْتُ وَاِلَیْنَا الْمَصِیْرُ'' (۵۰/۴۳) انگریزی ہی نہیں دنیا کی کسی زبان میں بھی اس کا ترجمہ ناممکن ہے۔ اس کے ''چھ الفاظ'' میں پانچ بار ''ہم'' کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ پانچ بار ''ہم'' کی ضمیر کو کونسی زبان اس خوبی، لطافت اور جوش و خروش سے ادا کرے گی۔ Modern Trends in Islam. P.4