نصیحت گوش کُن جاناں کہ از جاں دوست تردارند
جوانانِ سعادت مند پندِ پیرِ دانارا!!

حضرت خواجہ شمس الدین حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کا کلام حقیقت التیام صوفیانہ حقائق و رموز کی تشریح و جدانی کیفیات کا ترجمان خیال کیا جاتا ہے۔ نشہ و سرور میں ڈوبے ہوئے الفاظ، صوفیانہ حسن اسلوب، وجد انگیز بندش، دل نشیں تاثرات کی خوشنما تنظیم نے ان کے کلام میں ایک معجز نما تاثیر پیدا کر دی کہ ہر مصرعہ ذہن میں آتے ہی دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ میں جب کلامِ حافظؔ کا مطالعہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی پر اثر جذبہ دل سے ابھر ابھر کر ان کیفیات کو اپنے دامن میں سمیٹ رہا ہے جو تاثیر شعر سے ذہن کو مسرور کرتی ہوئیں دل میں سما جانا چاہتی ہیں۔

حافظؔ کا کلام روح و وجدان کا مجموعۂ گفت و شنید ہے۔ اس کے مصرعہ مصرعہ سے عرفان و حقیقت کی تجلیاں چھن رہی ہیں۔ وہ عشق و محبت کے دریا میں غوطہ لگا کر زبانِ شعر کو حرکت میں لاتا ہے۔ اس کا کلام ان ہی لوگوں کے ضمیر پر دامنِ اثر پھیلاتا ہے جو توحید و معرفت کے رموز و اسرار بے نقاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ بایں ہمہ اس دریائے کیفیات کے سینہ میں حکمت و بصیرت کے بھی ہزاروں موتی چمک رہے ہیں لیکن ان کی لمعانی سے اس لئے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ ناقدینِ فن نے آج تک حافظ کو صرف ترجمانِ عشقِ الٰہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے عام فہم شعر کو بھی فلسفیانہ کھینچ تان سے تصوف کے کسی نہ کسی مسئلہ پر لا کر چھوڑا ہے ورنہ حافظ ایک قادر الکلام اور جامع الشروط شاعر کی حیثیت سے جہاں نکاتِ تصوف کی تشریح کا حق ادا کرتا ہے وہاں انسانی زندگی کے نفسیاتی پہلوؤں پر بھی ہلکی سی روشنی ال رہا ہے۔

اس حقیقت سے تو کسی شخص کو انکار نہیں کہ حافظ اس عشق کے حقائق و معارف کا بوجوہِ تمام شارح ہے۔ جس کی پرورش آغوشِ روحانیت میں ہوتی ہے۔ لیکن یہ نظریہ حافظ کو شاعرِ کامل کی خلعت عطا نہیں کر سکتا کیونکہ شاعرِ کامل ان تمام انسانی حقیقتوں سے ناواقف ہوتا ہے جو کفِ پا سے لے کر موئے سر تک حاوی ہیں۔ اسی طرح اس کی نگاہ احساسات و کیفیات کی دنیا سے ان کا نظارہ کیے بغیر نہیں رہتی۔ وہ علمِ بصیرت کی بنا پر انسانی فطرت کے تمام اندروی و بیروی واقعات پر فیصلہ کن بحث کر سکتا ہے۔ وہ اس کیفیت کے اسرار سے واقف ہوتا ہے جو ذی روح اور امرِ روح کے درمیان ذریعۂ گفتگو ہوتی ہے۔ اس کی آنکھیں ان نگاہوں سے بھی بے خبر نہیں جو نفسانی خواہشوں کی تحریک پر قابلِ احترام ہستیوں کو دعوتِ سیہ کاری دیتی رہتی ہیں۔ وہ نظروں کو آئینہ بنا کر اس میں خلوت کی چھپی ہوئی عیش افروزیوں کا عکس دیکھ لیتا ہے۔ اسی طرح جب انسانی زندگی کے نقائص کی طرف اس کو متوجہ کیا جاتا ہے تو وہ عقل و فکر پر تول تول کر ایسے حکیمانہ نظریات پیش کرتا ہے جن میں اصلاح و تہذیب کی روح پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ تمام خوبیاں حافظؔ کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔ اس کو صرف تصوف و الٰہیات کا شارح قرار دینا بد ترین بے انصافی ہے۔ میں اس کی تائید میں اپنی طرف سے کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا کیونکہ
''آفتاب آمد دلیلِ آفتاب''

حافظؔ کا کلام ہی حافظ کو شاعرِ کامل ثابت کر رہا ہے۔ ذیل میں دیوانِ حافظ سے وہ اشعار پیش کرتا ہوں جن کا ہر ہر مصرعہ زندگی کی خطرناک راہ میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے جو حضرات سعدیؒ و صائبؒ کے حکیمانہ اقوال کو دلیلِ راہ بنا چکے ہیں وہ حافظ کے حکیمانہ اور بصیرت افروز اشعار سے بھی اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو روشن کرنے کی کوشش کریں خواجۂ مرحوم فرماتے ہیں:
آسائشِ دو گیتی تفسیر ایں دو حرف است
بادوستاں مروت بادشمناں مدارا!

فلسفۂ جدید کے نزدیک بہشت مطمئن زندگی کا دوسرا نام ہے لیکن اطمینان کی نوعیت اور اس کے ذریعۂ حصول کے متعلقہ زبانِ فلسفہ سے جو کچھ کہا گیا ہے۔ اس کے افہام و تفہیم کے لئے ہزاروں حلقہ ہائے فکر سے دلائل مانگنے پڑتے ہیں۔ یہ خواجۂ مرحوم کے عقل و فکر کا معجزہ ہے کہ انہوں نے نہایت سادہ اور عام فہم الفاظ میں ایک ایسی حقیقت پیش کر دی جس کی وسعت ہزاروں صفحات پر حاوی ہے۔

اگر انسان مروت و مدارا سے دوست و دشمن کے دل مٹھی میں لے لینے کی صلاحیت پیدا کر لے تو اس کی توقعات میں خطرہ کی سیاہی کے بجائے اطمینان کی تجلیاں چمکنے لگ جاتی ہیں۔ یہ وہ نعمت ہے، جس کو 'آسائش دو گیتی' سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور غزل میں خواجہ صاحبؒ فرماتے ہیں:
اے دل شباب رفتہ نہ چیدی گلے زعمر
پیرا نہ سرمکن ہوسِ ننگ و نام را!

زمانہ شباب میں آفتابِ زندگی نصف النہار پر ہوتا ہے۔ اس عمر میں حیوانی قواء کو قابو میں رکھنا خوش سیرتی کے لئے ضروری ہے لیکن آتش فشاں ولولے ضبط و تحمل کا پردہ پھونکے بغیر نہیں رہتے۔ جوش آلود امنگیں ہزاروں مجبوریوں کے باوجود قصرِ جوانی میں شمع ہوس جلا ہی دیتی ہیں۔ اس زمانہ میں جو شخص حقوق اللہ و حقوق العباد کی دیوار نہیں پھاندتا اس پر نفسِ زہد کو بھی ناز ہے ورنہ بڑھاپے میں تو قواء کی افسردگی انسان کو جبری زہد کی طرف راغب کر لیتی ہے، چنانچہ سعدیؒ فرماتے ہیں:
درجوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری ست
وقت پیری گرگ ظالم مے شود پرہیز گار

خواجہ صاحبؒ بھی اس شعر میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب جوانی کو جو عمر کا بہترین عملی حصہ ہے لہو و لعب میں برباد کر دیا گیا تو بڑھاپے میں مجبورانہ زہد و ورع کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔

خواجہ صاحبؒ قناعت کا سبق دیتے ہیں کہ:
ملکِ آزادگی و کنجے قناعت گنجے ست
کہ بشمشیر میسّر نشود سُلطان را!!

دامنِ امارت جس قدر وسیع ہوتا ہے، اسی قدر ہوس استعمار دِل میں پریشانیوں کو بھی لا داخل کرتی ہے۔ اس لحاظ سے طماع امیر پردہ صابر و شاکر مفلس فوقیت رکھتا ہے جو تھوڑی سے تھوڑی آمدن پر قناعت کر کے دل کو سکون و اطمینان کا درس دیتا ہے۔ یہ امرِ محتاج بیان نہیں کہ دیا میں وہی انسان آزادانہ سکون سے زندگی بسر کر سکتا ہے جس کی ضروریات محدود ہیں اور خواہشوں میں حرص و طمع کی جھلک کی بجائے قناعت کی روشنی ہے۔ لیکن یہ روشنی عام طور پر غریبوں کے جھونپڑوں میں ہوتی ہے۔ امیروں کے محل اس سے محروم ہیں جب تک امراء میں دولت و پیداوار کی صحیح تقسیم کا احساس پیدا نہیں ہوتا جب تک بادشاہوں کی حرصِ ملک گیری آتش و خون سے چمکتی ہوئی فضا کی تلاش ترک نہیں کرتی وہ گنج قناعت سے بہرہ ور نہیں ہو سکتے لیکن یہ دولت مفلسوں کے پاؤں پر سجدے کرتی رہتی ہے کیونکہ ان کی ضروریات اور خواہشیں اس قدر وسیع نہیں جن کے پورا کرنے میں قناعت سوز مشکلات حائل ہوں۔ ان کو جو کچھ میسر آجائے وہی ان کی ضروریات کا مرکزِ تکمیل ہے۔
حافظا مے خورو رندی کن و خوش باش ولے
دامِ تزویر مکن چوں دگراں قرآن را!

اس شعر میں مے نوشی اور رندی کو اس زہد سے بہتر قرار دیا گیا ہے جس کی بنا عوام فریبی اور ذاتی اغراض کے ذریعہ تکمیل پر ہے۔ شراب نوشی بد ترین جرائم میں سے ہے۔ رندی و شاہد بازی کرنا خود اللہ سے متجاوز ہونے کی دلیل ہے۔ لیکن یہ سیاہ کاریاں نفسانیت کے مقتضا پر کی جاتی ہیں۔ اس میں انسان کا ذاتی نقصان مضمر ہے جس کی تلافی اس کو جسمانی یا روحانی صورت میں ایک دن کرنا پڑے گی۔ شخصی گناہ عقوبت و نتائج کے اعتبار سے کتنا ہی خطرناک ہو۔ لیکن اس فریب کاری کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا جو سوسائٹی کے مفاد کو انفرادی اغراض کے ماتحت لانے کے لئے کی جاتی ہے اور وہ بھی خدا کے نام پر مذہب کے تقدس پر اور قرآنی نصوص کی امداد سے اس قسم کا گناہ جس کی وجہ جواز آیات قرآنی کی غلط تاویلات پر مبنی ہو اللہ اور کلام اللہ ہی سے روگردانی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس سوسائٹی کے لئے بھی پیغامِ ہلاکت ہے جو حقیقتِ قرآن پر ایمان رکھتی ہے۔

خواجہ صاحبؒ کی اس شعر سے یہ مراد ہے کہ شراب نوشی درندی انفرادی گناہ ہے جس کا خمیازہ بھی ایک ہی شخص کو بھگتنا ہو گا لیکن قرآن کو ''دام تزویر'' بنانے سے ساری سوسائٹی گمراہ ہو کر عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اس لئے اول الذکر گناہ ثانی الذکر جرم پر بلحاظ نتائج قابلِ ترجیح ہے۔ اسی قبیل کا ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیے:
فقیہِ مدرسہ دی مست بود و فتوائے داد
کہ مے حرام و لے بہ زمالِ اوقاف است

اس شعر کے معانی و مطالب میں فلسفیانہ حسن کلام کی جھلک پائی جاتی ہے۔ فقیہ کا ذریعۂ معاش مالِ اوقاف تک محدود تھا۔ اسی مال سے وہ شکم پری کرنے کے بعد ہجومے کرتا تھا۔ اس کو مالِ اوقاف کی تحریم کا خیال تو تھا لیکن ذاتی فائدہ کے پیش نظر اظہارِ صداقت سے گریز کرتا رہا۔ کل کسی طریقہ سے اس نے شراب پی لی اور عالمِ مستی میں اس کو اپنے مفاد کا خیال نہ رہا۔ مالِ اوقاف تو اس کا ذریعہ معاش تھا ہی، شراب بھی اس نے پی لی۔ اب دونوں چیزوں کی عقوبت کے تصورات پر عقل دوڑانے کے بعد اس نے فتویٰ دے دیا کہ شراب حرام تو ہے لیکن اوقاف کے مال سے اچھی ہے۔

فقیہِ مدرسہ نے مستی سے پہلے اس لئے فتویٰ نہ دیا کہ کوئی دنیا پرست احترامِ شریعت کے لئے ذاتی اغراض کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اس تشریح سے شعر کا تعلیمی پہلو خود بخود سامنے آجاتا ہے۔
عیبِ رنداں مکن اے زہدِ پاکیزہ سرشت
کہ گناہِ دگرے بر تو نہ خواہند نوشت

جہاں تک لفظی معنی کا تعلق ہے اس شعر میں کوئی خوبی نہیں جو ''حافظیت'' کی آئینہ دار ہو لیکن تعلیمی اعتبار سے شعر کا ہر لفظ اپنے اندر شمع بصیرت روشن کیے ہوئے ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ زید کے گناہ کا خمیازہ کسی قانون کے مطابق عمرو نہیں بھگت سکتا لیکن عمرو اگر زید کے گناہوں پر تبصرہ کرتا ہے تو بجائے اصلاحِ اعمال کے غیبت کا مرتکب ہوتا ہے۔ شعر کا تعلیمی پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی گناہ گار کے ساتھ عقوبتِ گناہ میں شامل نہیں ہو سکتا تو اس کو لازم ہے کہ گناہ گاری پر تنقید کر کے اپنے تکبر کا ثبوت نہ دے۔ اس مسئلہ پر استاد ذوقؔ کا کتنا اچھا شعر ہے کہ:
رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو!
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو!

خواجہ صاحبؒ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ:
زاہد غرور داشت سلامت نہ برد راہ
رندازرہِ نیاز بدار السلام رفت

زاہد کو اپنی پارسائی اور زہد و تقویٰ پر غرور تھا اور درگاہِ الٰہی میں غرور پسند لوگوں کی رسائی نہیں۔ رند گناہ گار تھا لیکن وہ اپنی سیہ کاریوں پر نادم ہو کر عفو و لطف کا طالب تھا۔ درگاہِ الٰہی میں ندامت ہی سے بدکاریوں کی تلافی ہو سکتی ہے۔ شعر کا تعلیمی پہلو یہ ہے کہ انسان کو غرورِ عمل کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
چوبا حبیب نشینی و بادہ پیمالیٔ
بیاد آرمحبانِ بادہ پیمارا!

کتنا دل پذیر شعر ہے۔ ''یادرفتگاں'' کا درس اس سے زیادہ مؤثر انداز میں نہیں دیا جا سکتا۔ ٹیگور اپنے فلسفیانہ جادوئے بیان سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر چکا ہے کہ دنیا کسی کا ساتھ نہیں دیتی لیکن خواجہ مرحوم اس مسئلہ کو جس سادہ اور مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ:
مجو درستیٔ عہد از جہانِ سُست نہاد
کہ ایں عجوزہ عروس ہزار و اماد است

ایک اور جگہ اسی مسئلہ کو دوسرے انداز میں پیش کرتے ہیں۔
برواز خانۂ گردوں بد روناں مطلب
کایں سہ کاسہ ور آخر بکشد مہماں را

ایک اور غزل میں اربابِ ہر کی بے مروتی کے پیش نظر خود اعتمادی کا درس دیتے ہیں کہ:
مرو بخانۂ اربابِ بے مروّت دیر       کہ کنجِ عافیت در سرائے خویشتن است

اسی مفہوم کو دوسرے رنگ میں یوں پیش کیا گیا ہے۔
حافظا آب رخت برورِ ہر سفلہ مریز
حاجت آں بہ کہ برِ قاضی حاجات بریم

خود اعتمادی، خود داری اور قناعت کا اس درجہ روشن اور واضح الفاظ میں شاید ہی کسی نے سبق دیا ہو بلکہ اس مسئلہ کی تمام جزئیات بھی مکمل صورت میں پیش کر دی گئی ہیں۔ یہ ہے کمالِ فن
مباش در پئے آزار ہر چہ خواہی کن!
کہ در شریعتِ ما غیر ازیں گناہی نیست

مذاہب عالم اور اہل اللہ نے گناہ کا جو تخیل مناسب اصلاح کے بعد پیش کیا ہے اس کی روح معنی یہ ہے کہ خدا کے نزدیک وہ سب سے بڑا گناہ ہے جس کی بنا خلقِ خدا کی دل آزاری پر ہو اسی طرح وہ نیکی بلحاظ جزا تمام نیکیوں سے بڑھ کر ہے جس کے نتائج سوسائٹی کے لئے انفرادی یا اجتماعی طور پر سود مند ہوں۔ شب زندہ داری، نماز روزہ، تقویٰ و پارسائی، زہد و عبادت یہ سب افعال انسان کے آئینہ اخلاق کو منور کرنے اور انسانی زندگی کو سود مند بنانے کا موجب ہیں لیکن اصولی طور پر یہ صرف انسانی سیرت کو روشن کرتے ہیں ان سے خدا کی ذات کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔ لیکن جو شخص غرباء کی پرورش اور یتیم کی امداد کرتا ہے۔ ننگے کو کپڑا دیتا ہے۔ بھوکے کو روٹی کھلاتا ہے۔ مظلوم کو پنجۂ ظالم سے چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ نادانستہ طور پر قدرت کو اس کے فرائض کی ادائیگی میں مدد دے رہا ہے کیونکہ حاجت روائی کی ذمہ داری پر عائد ہوتی ہے گویا خدمتِ عامہ کرنا خدا کی مدد کرنا ہے۔ اگرچہ اس کی قادریت کسی امداد کی محتاج نہیں لیکن وہ ان اعمالِ حسنہ کو بھی مسترد نہیں کرتا جو خلوصِ دل اور حسنِ نیت کی تحریک پر ظہور پذیر ہوتے ہیں چنانچہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

''خلقِ خدا کی خدمت کرنے والا ہی سردارِ قوم ہے۔''

اسی طرح جو لوگ اپنی زندگی کو خلقِ خدا کے لئے شرِ محض بنا لیتے ہیں وہ صرف سوسائٹی کے لئے بھی وجہِ ننگ نہیں بلکہ قدرت کے فرائض میں بھی ناجائز اضافہ کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔ اس لئے دل آزاری سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
مے خورو مصحف بسوز و آٹش انر کعبہ زن
ہرچہ خواہی کن ولیکن مردم آزاری مکن

غرضیکہ خواجۂ مرحوم نے چند دل پذیر اور مؤثر الفاظ میں گناہِ اکبر کی جو تفصیلی تصویر پیش کی ہے۔ اس کا دامنِ معنی انسان کے تمام تصوراتِ حسنہ پر حاوی ہے۔ فلسفیانہ حقائق کی اس درجہ سادہ اور مختصر توضیح شاعری جزو ویست از پیغمبری کا روشن ثبوت ہے۔
نزاع بر سر دنیائے دوں کسے نہ کند
بآشتی ببراے نور دیدہ گوئے فلاح

جو لوگ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی مکی زندگی سے قطع نظر کرنے کے بعد ''آہنسا اور شانتی'' کے فلسفہ کی باریکیاں، ٹالسٹائیؔ یا گاندی کے آئینۂ افکار میں دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں، ان کے لئے خواجہ صاحبؒ کا یہ شعر سرمایۂ استدلال ہے جس کے پہلے مصرعہ میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ دنیائے دوں میں کوئی طالبِ فلاح جھگڑا نہیں چھیڑتا۔ دوسرا مصرعہ شعر کا تعلیمی پہلو ہے جس میں آشتی سے گوئے فلاح لے جانے کی تلقین کی گئی ہے۔ اگرچہ شعر دعوائے بے دلیل کا آئینہ ہے لیکن تعلیمی لحاظ سے ذہنیت افروز ہے تاہم میں ایک دنیا دار کی حیثیت سے اس تعلیم کی تائید نہیں کر سکتا کیونکہ فلاح کے ذرائع پر عام طور پر ان ظالمانہ قوتوں کا قبضہ ہوتا ہے جو تمام دینی و دنیوی ترقیوں کو اپنے اغراض کے ما تحت چلانا چاہتی ہیں اور ظالم جنونِ قوت میں صلح و آشتی سے ان چیزوں سے دست بردار نہیں ہو سکتا جن پر وہ غاصبانہ قبضہ جما چکا ہے۔ اس حالت میں طالبانِ فلاح کے لئے دو ہی رستے ہیں یا تو اپنی خواہشوں کو نذرِ نامرادی کر دیں یا ظالمانہ طاقتوں کو فنا کر دیں جو ان کی رفتارِ ترقی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں لیکن تعدیم ظلم صلح و آشتی سے نہیں ہو سکتی۔ یہ مقصد آگ اور خون کی بارش ہی سے پورا ہو سکتا ہے۔ ان حقائق کے پیشِ نظر خواجہ صاحبؒ کا نظریہ مخصوص حالات میں قابلِ قبول ہو تو ہو لیکن استمراری تعلیم کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔

اب میں طوالت کے خوف سے خواجہ صاحبؒ کے اشعارِ نا صحانہ صرف تشریحی عنوانات کے تحت پیش کرتا ہوں۔ اگرچہ اس طرح تنقید و تبصرہ کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا، لیکن اربابِ بصیرت کے سامنے صرف فانوس پیش کرنے کی ضرورت ہے، شمع کی لمعانی پر وہ خود بخود نگاہ ڈال لیتے ہیں۔ اعمالِ الحہ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ منشائے خدا وندی کا خیال رکھنا چاہئے۔
برعمل تکیہ مکن خواجہ کے دو روزِ ازل
توچہ دانی قلمِ صنع بنامت چہ نوشت
ہر چیز کی بنا خلل پسند ہے لیکن بنائے محبت بے خلل ہے۔
خلل پذیر بود ہر نبنا کہ مے بینی مگر بنائے محبت کہ خالی از خلل

دنیا کی مخالفت کی پروا نہ کر اور رضائے خداوندی کا خیال رکھ اگر تو دنیا سے لڑے گا تو دنیا بھی ترے ساتھ جنگ کرے گی۔
برآستانۂ تسلیم سربنہ حافظ اگر ستیزہ کنی روزگار بستیزد!

اسی نظریہ کو اظہر امرت سری نے دوسرے رنگ میں پیش کیا ہے جو خواجہ صاحبؒ کے مصرعہ ثانی کی شرح کی حیثیت رکھتا ہے۔
زمانہ میرے موافق نہیں تو کس کا قصور؟
کہ میں نے بھی تو نہ مانی کوئی زمانے کی!
تنگ دستی میں بھی خدا کا شکر کر، کہیں یہ حالتِ بد، بدتر نہ ہو جائے۔
روزی اگر غمی رسدت تنگ دل مباش       روشکر کن مبادکہ از بدبتر شود
ایامِ مصیبت میں صبر کر کیونکہ برے دن ہمیشہ نہیں رہتے۔
اے صبور باش مخور غم کہ عاقبت       ایں شام صبح گرود ایں شب سحر شود
برے لوگوں کی صحبت انسان کو خراب کرتی ہے۔
زاہد از کوچۂ رنداں بسلامت بگذر     کہ خرابت نکند صحبتِ بدنامے چند
عقل و دانش کی بات جاہلوں کو نہیں بتانا چاہئے۔
پیر میخانہ چہ خوش گفت بدر دی کش خویش      کہ مگو حالِ دلِ سوختہ باخامے چند!
تکلیف اُٹھائے بغیر راحت نہیں ملتی۔
مکن زعفہ شکایت کہ در طریقِ ادب      براحتے نہ رسید آنکہ زحمتے نہ کشید
ناجنس کی صحبت سے پرہیز لازم ہے۔
نخست موعظۂ پیر مے فردش ایں است    کہ از مصاحبِ ناجنس احتراز کنید

قابلیت اوصافِ ذاتی پر مبنی ہے کوئی شخص قابل لوگوں کا بہروپ بھر لینے سے قابل نہیں ہو سکتا۔
نہ ہر کہ چہرہ برا فروخت دلبری داند      نہ ہر کہ آئینہ ساز و سکندری داند!
نہ ہر کہ طرف کلہ کج نہاد و تند نشست     کلا ھداری و آئینِ سروری داند
ہزار نکتۂ باریک ترزموا ینجاست     نہ ہر کہ سر نہ تراشدقلندری داند

ریاکاری شریفانہ شیوہ نہیں۔ سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا۔''
ورسماع آں رسر خرقہ بر انداز و برقص     ورنہ در گوشہ نشیں دلقِ ریا در برگیر

کینہ ور لوگوں کو رازِ دل نہیں بتانا چاہئے۔
حکایتِ شب ہجراں بدشمناں مکنید کہ نیست سینۂ ارباب کینہ محرم راز

گرفتارِ مصیبت ہو کر صبر و تحمل کا رشتہ چھوڑنا نہ چاہئے کیونکہ یہ عقل مندی کے خلاف ہے۔
اے دل اندر بندِ زلفش در پریشانی منال مرغِ زیرک چو بدام افنذ تحمل بایدش
واقفِ راز ہونے کے باوجود کسی شخص کے عیوب منظرِ عام پر نہ لائے جائیں۔
احوال شیخ و قاضی و شرب الیہود ساں کردم سوال صبحدم از پیرمے فروش

گفتانہ گفتنی است سخن گرچہ محرمی درکش زبان و پردہ نگہدارومے بنوش
تجھے پرائی پیڑ میں پڑنے سے کچھ نہیں مل سکتا ہر شخص اپنے مقصد کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
رموزِ ململکت خوشی خسرواں دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخردش
دنیا کے لئے غم کھانا فضول ہے۔

گوش کن پند اے پسراز بہر دنیا غم مخور گفتمت روشن حدیثے گرتوانی دار گوش
یہ امر پایہ تحقیق کو پہنچ چکا ہے کہ دنیا اور کارِ دنیا فانی ہے۔
جہاں وکارِ جہاں جملہ ہیچ در ہیچست ہزار بار من ایں نکتہ کردہ ام تحقیق
غم و شادی اگر گذشتنی ہیں تو بہتر یہی ہے کہ ہر وقت دل کو خوش رکھا جائے۔
حافظا چوں غم و شادیٔ جہاں درگذر است بہتر آنست کہ من خاطرِ خود خوش دارم

میں اپنے کمزور بازوؤں کی وجہ سے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ان میں مردم آزاری کے لئے زور نہیں۔
من ازبازوئے خود وارم بسے شکر کہ زور مردم آزاری نہ دارم!!
دوستوں کے ظلم کا شکوہ دشمنوں سے نہیں کرنا چاہئے۔
آشنایانِ رہِ عشق گرم خوں بخورند کافرم گر بشکایت برِ بیگانہ روم!

اس مضمون کو اساتذۂ اردو نے بھی غلو آمیز رنگینی کے ساتھ پیش کیا ہے چنانچہ
شکوہ اک بت کا ہے محشر میں خدا کے سامنے
آشنا کا ہے گلہ نا آشنا کے سامنے! (ناسخؔ)
ہم نہیں وہ کہ کریں خون کا دعویٰ تجھ پر
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مُکر جائیں گے (ذوقؔ)

ذوقؔ کے شعر کی امتیازی خوبیاں حافظؔ و ناسخؔ کے شعروں پر غیر جانبدارانہ نظر ڈالنے سے معلوم ہوتی ہیں۔ جان سے ہاتھ دھو لینا آسان ہے لیکن ولی دوستوں سے قطع تعلق مشکل ہے۔
از جاں طمع بریدن آساں بود و لیکن از دوستانِ جانی مشکل تواں بریدن
راز پوشی ذریعۂ نجات ہے۔
بہ پیر میکدہ گفتم کہ چیست راہِ نجات؟
بخواست جامِ مے و گفت راز پوشیدن

جن لوگوں کے اقوال میں اعمال کی روشنی نہیں ان کی باتوں سے پرہیز لازم ہے۔
عناں بمیکدہ خواہیم تاخت زیں مجلس! کہ وعظِ بے عملاں واجب ست نشنیدن
بوڑھوں کی نصیحت بختِ جوان سے بھی اچھی ہے۔
جوانا سر متاب از پند پیراں کہ رائے پیر از بخت جواں بہ
زمانہ کی آنکھیں نہیں کہ وہ علم و جہل کے حسن و قبح پر نظر ڈال سکے۔
جہل من و علمِ تو فلک راچہ تفاوت آنجا کہ بصر نیست چہ خوبی و چہ زشتی
انسان کا رشتۂ اختیار دستِ قدرت میں ہے۔
در دائرۂ قسمتِ ما نقطۂ پرکاریم لطف آنچہ تو اندیشی حکم آنچہ تو فرمائی
دوست کیمیائے سعادت ہے۔
دریغ درد کہ تا ایں زماں نہ دانستم کہ کیمیائے سعادت رفیق بود رفیق
طریقِ عشق میں خود بینی و خود آرائی کفر ہے۔
فکرِ خود و رائے خود در عالمِ رندی نیست
کفر است دریں مذہب خود بینی و خود رائی

یہ ہیں وہ جواہر ریزے جن کی لمعانیاں محفلِ فکر و عقل میں شمعِ بصیرت جلا رہی ہیں۔ لیکن دل دادانِ تصوف ان نصیحت آمیز شعروں میں دستِ فکر ڈال کر الٰہیات کے رموز و اسرار نکالنے کی فکر میں تھے۔
حاشیہ

زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ بھی معاشرتی گناہ ہیں لیکن اول الذکر اعتقادی فساد پیدا کرتا ہے جبکہ ثانی الذکر عملی بگاڑ کا موجب ہے۔ اس لئے پہلا زیادہ سنگین ہے کیونکہ عقیدہ کا فساد عملی فساد سے بد تر ہے۔ (مدیر)