سابق ناظم اعلیٰ اوقاف مغربی پاکستان مسعود احمد سی۔ ایس۔ پی کے دور میں محکمہ اوقاف نے ایک کتابچہ چھپوا کر تقسیم کیا تھا جس کا نام تو ''اسلامی پاکٹ بک '' رکھا گیا تھا لیکن در پردہ اس میں سوشلزم کی تبلیغ مقصود تھی۔ اس میں بہت سی دیگر غلط بیانیوں کے ساتھ جس دیدہ دلیری اور بے باکی سے بعض موضوع احادیث نبی اکرم ﷺ سے منسوب کر کے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ حد درجہ افسوس ناک ہے۔ طرہّ یہ کہ ان احادیث کو حدیث کے حد درجہ معتبر اور مقبول ترین مجموعہ جات سے ماخوذ بتایا گیا۔ چنانچہ اس کتابچہ کے ص ۱۴ پر ایک حدیث یوں درج ہے:

''علم حاصل کرو خواہ وہ چین ہی میں کیوں نہ ہو۔'' (بخاری)

اس قول کو جہاں رسول اللہ ﷺ سے منسوب کرنا ایک بہت بڑا افتراء ہے وہاں اسے بخاری کی روایت بتانا بڑی جرأت ہے۔ جو شخص کسی موضوع بات کو حدیثِ رسول ﷺ کہنے سے نہیں ڈرتا اس سے اس کو کسی بڑے امام کی روایت کہنے پر کوئی حیرت نہ ہونی چاہئے لیکن اگر کتاب و سنت سے یہ مذاق چلتا رہا تو عام مسلمانوں کے دین و ایمان کا خدا ہی حافظ ہے۔

دراصل مصنف کا مطلوب سوشلزم کا پروپیگنڈا ہے۔ روس کا لفظ تو کسی روایت سے ملا نہیں، ایک موضوع روایت میں ''چین'' کا لفظ مل گیا تو غنیمت جان کر نقل کر دیا اور تصدیق کے لئے امام بخاریؒ کی کتاب 'الجامع الصحیح' کا حوالہ دے دیا۔ حالانکہ یہ روایت بخاری تو کجا صحاح ستہ میں بھی نہیں ہے ہاں 'موضوعات شریف' میں اس کا ثبوت ضرور ملتا ہے جو درج ذیل ہے۔

1. امام ابن الجوزیؒ مذکورہ بالا حدیث نقل کر کے لکھتے ہیں:

''اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف صحیح نہیں ہے۔ اس کے راوی حسن بن عطیہ کو ابو حاتم الرازیؒ نے ضعیف کہا ہے۔ بخاریؒ اسے منکر الحدیث بتاتے ہیں۔

ابن حبانؒ نے کہا ہے کہ یہ روایت باطل ہے جس کی کوئی اصلیت نہیں۔''

2. امام سخاویؒ نے بھی اس حدیث کو مردود کہا ہے اور لکھا ہے کہ ابن حبانؒ اس کو باطل کہتے ہیں اور ابن جوزیؒ نے اسے موضوعات سے شمار کیا ہے۔

3. حوت بیروتی لکھتے ہیں:

''ابن حبانؒ نے اس کو باطل کہا ہے اور ابن جوزیؒ نے اس کو موضوع قرار دیا ہے۔

حاکم نیشا پوریؒ اور ذہبیؒ کہتے ہیں کہ اس کی کوئی سند درست نہیں۔''

4. امام منذریؒ نے ائمہ حدیث کے تفصیلی بیانات کی روشی میں اسے روکیا ہے۔

5. سب سے مفصل بحث اس پر دورِ حاضر کے نامور محدث ناصر الدین البانی نے کی ہے۔ آپ اسے مردود قرار دے کر آراء ائمہ اور دیگر دلائل سے اس کا بطلان ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔

''یحییٰ بن معین نے کہا کہ میں اس کے راوی ابو عاتکہ کو نہیں جانتا۔ احمد بن حنبلؒ نے اس کا انکار بڑے شدومد سے کیا ہے۔۔۔۔ ابن حبانؒ نے اس کو باطل کہا ہے اور سخاوی نے اس کی تائید کی ہے۔ عقیلی نے اپنی کتاب ''الضعفاء'' میں لکھا ہے کہ ''ولو بالصین'' کے الفاظ سوائے ابی عاتکہ کے کسی نے روایت نہیں کیے جبکہ معلوم ہے کہ شخص متروک الحدیث ہے۔ عقیلیؒ نے اس کو بہت ہی ضعیف کہا ہے۔ بخاریؒ نے منکر الحدیث کہا ہے نسائی نے کہا ہے کہ ثقہ نہیں ہے۔ ابو حاتمؒ نے ذاہب الحدیث کہا ہے اور سلیمانیؒ نے کہا کہ اس کا وضعِ حدیث کرنا معروف ہے۔ دوسری سند کے ایک راوی یعقوب کو ذہبیؒ نے کذاب کہا ہے اور تیسری سند کے راوی عبد اللہ الجویباری کو سیوطیؒ نے وضاع کہا ہے۔''

مذکورہ بالا محدثین اور ناقدین کی توضیحات سے معلوم ہو گیا کہ یہ حدیث کسی شخص کی وضع کردہ ہے اور جن دو تین سندوں سے یہ حدیث مروی ہے۔ سب میں سخت ضعیف بلکہ وضاع راوی موجود ہیں جن کی بنا پر اس کا موضوع (بناوٹی) ہونا ظاہر ہے۔

اس حدیث کو روایتاً مردود ثابت کرنے کے بعد ہم اس کا وہ مطلب بھی عرض کیے دیتے ہیں جو مختلف ائمہ نے بیان فرمایا ہے۔ منذری لکھتے ہیں:

''أی فیھا مبالغة في البعد یعنی ''ولو بالصین'' سے مقصود دوری میں مبالغہ ہے۔''

چونکہ چین عربوں سے بہت دور تھا اور اس ملک سے ان کا کوئی خاص بلا واسطہ تعلق بھی نہ تھا اس لئے دوری میں مبالغہ کے لئے 'چین' کا لفظ استعمال کیا گیا۔ مثلاً امام نوویؒ کہتے ہیں کہ:

''ابو حامد اسرائینیؒ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص چین تک تفسیر طبری حاصل کرنے کی خاطر سفر کرے تو یہ بھی کچھ زیادہ نہیں۔''

ظاہر ہے کہ چین میں تو تفسیر طبری ملتی ہی نہ تھی۔ یہ صرف دوری ظاہر کرنے کے لئے کہا جاتا ہے، جیسے اردو میں مقولہ ہے۔ ''ہنوز دلی دور است۔''

اس سای بحث سے مقصود یہ ہے کہ اس قول سے اگرچہ مراد صحیح لی جا سکتی ہے لیکن اسے رسول اللہ ﷺ کا فرمان دکھانا انتہائی جرأت ہے۔ صحیحین میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ''جس نے میری طرف سے بات نسبت کی جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بناتا ہے۔''


حوالہ و حواشی

[1] اسلامی پاکٹ بک کے اوپر کسی مصنف یا مرتب کا نام درج نہیں۔ البتہ اس کے شروع میں مسعود احمد صاحب ناظم اعلیٰ اوقاف کی طرف سے بطور پیش لفظ ایک پیغام درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تیاری کے سلسلہ میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ واقعی اوقاف کی آمدنی کا بہت اچھا استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے پر حال رحم کرے۔ آمین

[1] کتاب الموضوعات ص ۲۱۶ جلد ۱

[1] المقاصد الحسنہ ص ۶۳

[1] اسنی المطالب فی احادیث مختلفۃ المراتب ص ۴۲

[1] فیض القدیر شرح جامع الصغیر ص ۵۴۲۔ ۵۴۳

[1] سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ ص ۲۴ تا ۲۷ ج ۱ (۵)